Salma Awan کی تحاریر

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/ پیرانِ پیر عبدالقادر جیلانی میرے خوابوں کا ایک دیومالائی کردار تھے۔(آخری قسط24)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اچھی چائے کا ایک کپ،اچھی کتاب اور سیر سپاٹا کوئی ان کے بدلے ہفت اقلیم بھی دے تو نہ لوں۔ قہوے کی خوشبو کمزوری کِسی گلی محلے سے گزرتے ہوئے یہ مہک باورچی خانے کی کھڑکی سے اُچھلتی کُودتی باہر←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/ایران عراق جنگ نے دنیا کو تماشا دکھا یا-دو ابھرتے ہوئے مسلمان ملک تباہ ہوئے(قسط23)۔۔۔سلمیٰ اعوان

جی تو چاہا تھاپُوچھوں اور پھر پُوچھ بھی لیا۔ ”میاں ہم تو ابھی اِسی راستہ سے گزرے تھے۔کوئی زیادہ دیر کی بات تھوڑی ہے۔ یہی کوئی گھنٹہ بھر ہوا ہوگا۔بے شک چیزوں اور منظروں کا کھلارا بے حدو حساب سا←  مزید پڑھیے

افغان عورتوں کی مزاحمتی اور رومانوی شاعری۔۔سلمیٰ اعوان

افغانستان میں عورتوں کی شاعری کبھی قابل قبول نہیں رہی ۔اِسے ماننا یا سراہنا یا اسکی حوصلہ افزائی کر نا تو بہت دور کی بات ٹھہری یہ اُن کیلئے شجر ممنوعہ ہی نہیں اسے ایک جرم اور گناہ گردانا جاتا←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/ڈاکٹر ندال جمعہ سے ملنا میرے لیے بہت اہم تھا(قسط22)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ڈاکٹر ندال جمعہ سے ملنا بھی دلچسپ اور خوبصورت یادیں دینے والا تجربہ تھا۔ مگراِس سے بھی پہلے ایک اور مسرورکن تجربے سے دوچار ہونا پڑا۔کرنل بصیر الحانی کے گھر سے چلے توپونے دو بج رہے تھے۔سیدھی شفاف سڑک پر←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/نہ شیعہ،نہ سنی اور نہ کُرد-سب گروپوں اور گرہوں میں بٹے ہوئے ہیں(قسط21)۔۔۔سلمیٰ اعوان

تو وہ منحوس گھڑی آگئی۔آنکھوں میں آنسو، لب پر دُعائیں۔اور جب بغداد جل رہا تھا میں خود سے پوچھتی تھی۔”وہ آخر اتنی فوجیں کیا ہوئیں؟ ڈھائی کروڑ آبادی والے مُلک کی باقاعدہ فوج کوئی چار لاکھ کے قریب ری پبلیکن←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/صدرسٹی میں عراقی فوج کے کرنل سے ملاقات(قسط20)۔۔۔سلمیٰ اعوان

کمرے میں بِچھے گہرے سُرخ خوش رنگ پھولوں سے سجے قالین پر وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب قریب بیٹھے تھے۔ڈھلتی عمروں میں بس تھوڑا ہی فرق ہوگا۔ دونوں اپنی عمروں کے حسابوں بڑے خوبصورت تھے۔سُرخ و سفید چہروں پر←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/اپنے وقت کا ایک عظیم کلاسیکل شاعر ابونواس مجھ سے ہمکلا م تھا (قسط19)۔۔۔سلمیٰ اعوان

پھر جیسے وہ خوابناک سی آواز میں بولنا شروع ہوئے۔ ہمارا نوجوان زُلزل عود Oudبجاتا تھاتو گلیوں میں چلتے لوگوں کے قدموں کو زمین جکڑ لیتی تھی استادوں کا استاد جس نے بے شمار راگنیوں کو ایجاد کیا۔اسحاق اُسی کا←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/اپنے وقت کا ایک عظیم کلاسیکل شاعر ابونواس مجھ سے ہمکلا م تھا (قسط18)۔۔۔سلمیٰ اعوان

بغداد کی رات کے اِس پہلے پہرجب میں دجلہ کے پانیوں میں ڈوبی روشنیوں کے عکس، کہیں اُن سے بنتے کہکشاں جیسے راستے، کہیں چمکتے دمکتے چھوٹے چھوٹے گولے سے پانیوں میں مستیاں کرتے، کہیں قریبی ہوٹلوں کی روشنیاں ستاروں←  مزید پڑھیے

رابندر ناتھ ٹیگور کا بچپن۔۔سلمیٰ اعوان

۱۹۶۹ اور۱۹۷۰ میں جب میں ڈھاکہ یونیورسٹی کی طالبہ تھی ٹیگور سے میری محبت کا آغاز ہوا تھا۔ٹیگور بارے میں نے کسی ایک سے کسی ایک وقت میں نہیں بلکہ مختلف اوقات میں مختلف لوگوں سے مختلف ٹکڑوں میں سنا۔←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/بغداد عہد ساز اور صاحبِ علم و فن ہستیوں سے بھرا پڑا ہے۔ (قسط17)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ان کے جانے کے بعد میں نے فلافل کھایا،کولا پیااور چاہا کہ تھوڑی دیر لیٹ جاؤں۔ تبھی ایک ادھیڑعمر کے انتہائی خوش شکل اور سمارٹ سی شخصیت کو میں نے تین نوجوانوں کے ساتھ اندر آتے دیکھا۔دیوار کی غربی سمت←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/دنیائے اسلام کے ایک عظیم فقیہہ امام ابوحنیفہ سے ملاقات (قسط16)۔۔۔سلمیٰ اعوان

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/دنیائے اسلام کی ایک عظیم فقیہہ امام ابوحنیفہ سے ملاقات/میرا بچپن تضادات کے ماحول میں گزرا تھا۔سارا گھر عجیب چُوں چُوں کا مربّہ ساتھا۔ننہال مسلک کے اعتبار سے پکا پیٹھا وہابیت کا علمبردار،کمبخت مارا منشی عالم اور منشی فاضل کی سان پر چڑھا ہوا،تنگ نظر پر لڑکیوں کی نوعمری میں شادیوں کی بجائے اُن کی اعلیٰ تعلیم کا سرگرم حامی←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/بغداد یونیورسٹی کے اساتذہ سے ملاقات(قسط15)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اسی دوران افلاق کا فون آیا اُس نے کہا تھا۔”تم سیدھے بغداد یونیورسٹی آجاؤ۔“ میں گھونٹ گھونٹ دودھ پیتی باہر منظروں کو دیکھتی تھی۔گاڑی اُسی راستے پر بھاگی جاتی تھی جس پر گزشتہ دنوں سے بار بار گھوم رہی تھی۔اب←  مزید پڑھیے

فاسٹ یونیورسٹی کے زمینی پھولوں کو شاخو ں میں سجانے والا ڈاکٹر ایوب علوی۔۔ سلمیٰ اعوان

جون 1870ڈھاکہ یونیورسٹی کے ویسٹ پاکستانی سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے اجلاس میں ایک نئے نوجوان کو سُنا جس نے بڑے مدلل انداز میں ہم طلباء کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ ایسے نازک حالات میں ہمیں کیا کردار اداکرنے کی←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/ہارون الرشید کی زبیدہ سے ملاقات(قسط14)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ہمارے لئیے زبیدہ ہمیشہ سے تاریخ میں نور جہاں کی ٹکر کی رہی۔نور جہاں کی کہانیوں نے اگر مسحور کیا تو ہارون کی چہیتی زبیدہ بھی کِسی سے پیچھے نہیں تھی۔اُس انجینئر کی آنکھوں کی چمک اور لہجے سے چھلکتا←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/کل یہ صدام کا بغداد تھا آج امریکیوں کی کالونی ہے(قسط12)۔۔۔سلمیٰ اعوان

کچھ نام عجیب سی رومانیت،ایک پرفُسوں سا سحر اور بے نام سی اپنایت کی خوشبو اپنے اندر لئیے ہوئے ہوتے ہیں۔منصور نام بھی کچھ ایسا ہی ہے۔میں توسمجھتی تھی کہ میں ہی اس کے عشق میں مبتلا ہوں۔مگر نہیں جی←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/مستنصریہ یونیورسٹی علمی درسگاہ سے زیادہ سیاسی داؤ پیچوں میں اُلجھی ہوئی ہے۔(قسط11)۔۔۔سلمیٰ اعوان

مستنصریہ میں داخل ہونا گویا ایک عہد میں داخل ہونا تھا۔ عباسی خلفاء نے محل مینار ے بنائے۔ تجارتی منڈیوں اور مرکزوں پر توجہ دی۔ فصیلوں کو کھڑا کیا۔ نظم و نسق کو مضبوط اور امن و امان کی صورت←  مزید پڑھیے

مجلس ترقی اردو ادب اور منصور آفاق کے عزائم۔۔ سلمیٰ اعوان

شہر کی مرکزی شاہراہ پربلندوبالا درختوں سے گھری بوسیدگی کی طرف تیزی سے سفر کرتی کلاسیکل طرز کی عمارتوں کا چھوٹا سا جھنڈ آج بھی اسی انداز میں کھڑا تھا۔جیسا ہم اِسے اسی نوے کی دہائی میں دیکھتے آئے تھے۔←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/سُنّیوں اور شیعوں کے ازلی جھگڑوں نے معصوم شہریوں کے ساتھ انسانیت سوز تاریخ منسلک کردی ہے۔(قسط10)۔۔۔سلمیٰ اعوان

میری بھی بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا تھی کہ نبیوں،ولیوں اور خدا کے برگزیدہ بندوں کی سرزمین پر تھی اور سب سے پہلے ان کے درباروں،مزاروں اورمقامات مقدسہ پر جانے، وہاں نفل پڑھنے، خُدا کے حضور سجدۂ شکر بجا←  مزید پڑھیے

ہندوستان کی چیخ و پکار اور افغانستان کے نئے چیلنجز۔۔سلمیٰ اعوان

لگتا ہے جیسے ہندوستان کی شہ رگ کو کِسی نے آ ہنی انگوٹھے سے دبا دیا ہے کہ اس کی تو چیخیں نکل گئی ہیں۔ ”ارے بھئی صبر سے سکون سے۔“چھوٹے چھوٹے چینلز اور یو ٹیوب والوں نے ٹاک شوز←  مزید پڑھیے

سفر نامہ:عراق اشک بار ہیں ہم/44سو سال پرانے مجسموں کے چور زیادہ امریکی تھے۔(قسط9)۔۔۔سلمیٰ اعوان

چلو افلاق نے مدد کر دی تھی۔ سمیرین ہالSumerian Hallکو سب سے پہلے دیکھیں اور جانیں کہ سمیرین تہذیب 3000 سال قبل مسیح کِس عروج پر تھی۔زراعت اور آب پاشی میں ہل اور شادفShaduf بار برداری کیلئے پہیہ، انتظامی اصلاحات←  مزید پڑھیے