پشاور روڈ سے آیون کسی ایسی دُلہن کی طرح نظر آتا ہے جس کا ایک ایک انگ حُسن دلربائی کی تصویر ہو۔ پر جونہی نیچے اُتر کر نقاب کشائی ہوتی ہے تو ایک بھدا بے رونق اُجڑا پُجڑا چہرہ دیکھنے← مزید پڑھیے
شام پانچ بجے قراقرم رائٹرز فورم کے ساتھ ایک نشست تھی۔ میں نے شفقت کو بھی چلنے کے لئے کہا۔ ‘‘معافی دو مجھے’’ اس نے دونوں ہاتھ میرے سامنے جوڑ دئیے۔ کھال کے پانی سے نہائے۔ سچی بات ہے نہا← مزید پڑھیے
میونسپل پبلک لائبریری کے دروازے پر جن دو اصحاب نے استقبال کیا ان میں سے ایک معمر اور دوسرا نوجوان تھا اول الذکر محمد اشرف اور موخر الذکر شیر باز علی برچہ تھے۔ پبلک لائبریری کے گیسوؤں کی آرائش و← مزید پڑھیے
تقریباً ایک گھنٹہ یہ تماشا ہوتا رہا۔ پھر دو مضبوط نوجوان وہاں آئے۔ دانیال ان کے کندھے پر بیٹھا اور محفل سے چلا گیا۔ جیپ میں بیٹھ کر میں نے اکبر سے پوچھا۔ ‘‘ان پیشین گوئیوں میں کچھ سچائی بھی← مزید پڑھیے
یہ نکہت و نور میں ڈوبی ہوئی ایک دل آویز سحر تھی۔ صبح صادق کا اجالا ابھی پھیلا ہی تھا۔ جب میں چھت پر چڑھ گئی تھی اور اس وقت کائناتی حسن کے عشق میں پورم پور غرق تھی۔ ہمارے← مزید پڑھیے
‘‘یہ نلت ہے۔’’ ویگن ہمیں ابھی اس آہنی سٹینڈ کے قریب اُتار کر آگے بڑھ گئی ہے۔ جس پر خوبصورت انداز میں لفظ ‘‘نلت’’ لکھا ہوا ہے۔ ہمارے قدموں کے نیچے شاہراہ ریشم ہے اور داہنے ہاتھ وہ ہرا بھرا← مزید پڑھیے
صبح بہت خوبصورت تھی۔ ہنزہ ہلکے نیلے دھوئیں کے غبار میں لپٹا ہوا تھا۔ ڈرائیور لڑکا وقت پر پہنچ گیا تھا۔ سفید ویگن اچھی حالت میں تھی۔ اگلی نشست پر ایک نوجوان بیٹھا ہوا تھا۔ من و عین یونانی شہزادہ← مزید پڑھیے
بڑی خوشگوار ٹھنڈک تھی۔ ستارے جگمگ جگمگ کرتے تھے۔ نیچے سے آئے ہوئے لوگ گھومتے پھر رہے تھے۔ ہم بھی ٹامک ٹوئیاں مارتے مارتے مطلوبہ جگہ پہنچ گئیں۔ مخصوص روائتی گھر جسے مقامی زبان میں مِمشاسِکی حَہ کہتے ہیں۔ سامنے← مزید پڑھیے
آسمان کسی پرہیز گار کے دامن کی طرح شفاف تھا۔ دھوپ میں ماں کی گود جیسی نرمی اور ملائمت تھی۔ یوربی ہوائیں کسی چنچل دوشیزہ کی مانند اداؤں سے تھم تھم کر چلتی تھیں۔ لوہے کی تاروں‘ سرئیے اور لکڑی← مزید پڑھیے
دن کا پروگرام میں نے اپنی مرضی سے ترتیب دیا۔سرفہرست کار گاہ نالہ کی سیر تھی۔ شفقت نے چپ چاپ پیچھے چلنے میں عافیت خیال کی۔ ذرا بھی انتظار کی زحمت نہیں کرنا پڑی۔ سڑک پر قدم رکھے اور ویگن← مزید پڑھیے
اکبر حسین اکبر کے ساتھ دوسری ملاقات اس صبح ہوئی جب میں صدر روڈ پر ہنس راج کی طرح پر پھیلائے پی آئی اے کی عمارت کے ایک چھوٹے سے کیبن میں میز پر ہاتھ پھیلائے جناب زیدی صاحب کے← مزید پڑھیے
میری واپسی قدوائی فیملی کے ساتھ ہوئی۔ مشہ بروم ٹورز کی بس میں بیٹھے جس نے آٹھ بجے شب چلنا شروع کیا۔ باہر گُھپ اندھیرا تھا۔ میں نے الو کی طرح آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔ بڑا خوفناک منظر تھا فوراً← مزید پڑھیے
‘‘ایسا تو ہوتا ہے۔ معاشی انقلاب جب کسی معاشرے میں جگہ بنائیں تو پہلی زد اقدار پر پڑتی ہے۔ یہ فطری امر ہے۔ اس سے فرار نہیں۔’’ راحیل میرے ساتھ ہی پرانا محل دیکھنے چل پڑی۔ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر← مزید پڑھیے
سات آٹھ سیڑھیاں اترنے میں میں نے خاصی دیر لگائی تھی۔ پوڈے کافی اونچے اور چھوٹے سے زینے کی ترتیب تقریباً سیدھی تھی۔ گر پڑنے کا خطرہ تھا۔ فوراً بعد ایک چھوٹا سا کمرہ دیکھنے میں آیا۔ اس سے آگے← مزید پڑھیے
ہم صدر بازار سے گزر رہے تھے جہاں ریستوران اور ہوٹل تھے۔ ڈور کھن کے بعد گنش جا کر گاڑی رک گئی۔ میں اتر کر یادگار دیکھنے لگی۔ اب کریم آباد جانے کا مسئلہ تھا جو راستے میں ہی حل← مزید پڑھیے
علی مدد اور ہنزہ ان دو ناموں سے میرے کان پہلی بار ۱۹۵۸ء کی اس ٹھنڈی شب کو آشنا ہوئے تھے۔ جب میرے ماموں علی حسن غضنفر نے بڑے کمرے میں رضائیوں اور کمبلوں میں لپٹے افراد خانہ کے درمیان← مزید پڑھیے
ایک شور مچا تھا۔ رخصتی کا سمے آن پہنچا تھا۔ مان روتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ اندر باہر کے چکر کاٹ رہی تھی۔ باہر سازندوں نے ‘‘چلاہو’’ کی دردناک دھنیں چھیڑ دی تھیں۔ میری چچیوں’ پھوپھی اور دیگر رشتہ دار← مزید پڑھیے
یامین نے دس ہزار کے نوٹوں کی گڈی بابو کی گود میں ڈال دی یہ کہتے ہوئے: ‘‘ہمارا مذہب اگر شراب پینے کو حرام کہتا ہے تو اسے بنانے اور بیچنے کے عمل کو کیسے پسند کر سکتا ہے’’؟ بابو← مزید پڑھیے
گزشتہ اقساط کا لنک میرا گلگت و ہنزہ(سفرنامہ) یُورمس اگر شنا زبان کے نامور شاعر رحمت جان ملنگ کی محبوبہ تھی تو تاجور خان میرا محبوب تھا۔ یورمس کا چہرہ چاند کی کرنوں جیسا تھا تو تاجور خان کی پیشانی← مزید پڑھیے
گزشتہ اقساط کا لنک سفرنامہ”گلگت و ہنزہ” برآمدے میں ایک سرخ و سفید باریش معمر مرد چارپائی پر بیٹھا تھا۔ صاحب خانہ اس سے باتوں میں مصروف تھے۔ سبز اوڑھنی والی دوشیزہ پر چھائیوں کی طرح انگنائی اور برآمدے میں← مزید پڑھیے