ہمارانظام ِحکومت اور معاشرہ ایک خارش زدہ کُتا ہے۔اس کی جِلد ختم ہو گئی ہے اور گوشت نکل آیا ہے۔ دھوپ سے گوشت جلتا ہے تو اس کی بدبو ہر طرف پھیلنا شروع ہو جاتی ہے۔مکھیاں اس پہ بھنبھنا رہی← مزید پڑھیے
انفارمیشن کے دور میں پہنچ کر ہم ایک دوسرے سے بہت دور ہو گئے ہیں۔سوشل میڈیا پر جس انداز میں ہم اپنے مسائل اور دیگر معاملات کو زیر بحث لاتے ہیں اس سے خاطرخواہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ہمیں ایک← مزید پڑھیے
5اگست2019ء کو بھارت نے دفعہ 370اور 35Aکی منسوخ کر کہ اپنے زیر قبضہ ریاست کو دوحصوں میں تقسیم کر تے ہوئے اسے یونین ٹیریٹری بنادیا۔اس فیصلے پر ممکنہ ردعمل سے بچنے کے لیے بھارت نے کشمیر کی جملہ آزادی پسند← مزید پڑھیے
کشمیر میں شال بافی کی تاریخ کے بارے میں مختلف آرا ء پائی جاتی ہیں۔معلوم تاریخ میں اس کے شواہد گیارہویں صدی عیسوی میں ملتے ہیں۔ لیکن یہ صنعت زیادہ پرانی ہے۔بعض مورخین کا ماننا ہے کہ کشمیری شالیں تیسری← مزید پڑھیے
یہ مارچ2023 ء کی 30تاریخ ہے۔ موسم ابر آلود ہے اورہاتھ پاؤں 12ڈگری ٹمپریچر پر چل رہے ہیں۔الیکٹریشن زاہد کو احمقانہ ہدایات دینے کے ساتھ میں کھڑکی سے باہر کا نظارہ بھی کر رہا ہوں۔گھر کے صحن میں گھاس کاقالین← مزید پڑھیے
آپ نے اگر کشمیری سیب نہیں دیکھا تو راشد عباسی کو دیکھ لیں۔19,18,17فروری 2023ء کو پاکستان نیشنل آرٹس کونسل اسلام آبامیں مادری زبانوں کے میلے کی میزبانی کرتے ہوئے وہ اس قدر خوش تھے، لگتا تھا مادری زبانوں کا میلہ← مزید پڑھیے
ثوبیہ کا نام پہلے لکھوں یا عمران کا؟ اس سوال کا جواب تب ہی مل سکتا تھا جب یہ معلوم پڑتا کہ ثوبیہ عمران کے سا تھ ہے یا عمران ثوبیہ کے ساتھ۔لوگ انہیں ایک عرصے سے اکٹھے دیکھ رہے← مزید پڑھیے
دنیا کی بے وفائی کو دیکھا حسرت صاحب؟ آپ کو یہاں سے گئے ابھی کچھ ہی سال گزرے ہیں۔ لیکن میں آپ کے جانے کی تاریخ تو کیا، سال بھی بھول گیا ہوں۔ ابھی جاوید کشمیری کو میسج کیا ہے۔تین← مزید پڑھیے
پہاڑی زبان میں لکھے گئے ایک سفر نامے کا تذکرہ ہمارے پڑوس میں دوبوڑھے میاں بیوی رہتے تھے۔بوڑھی نیک پرہیز گار جبکہ بوڑھا ایک لبرل آدمی تھا۔ان کے درمیان اکثر نوک جھونک لگی رہتی تھی۔ بوڑھی اس کی بے دینی← مزید پڑھیے
آزادکشمیر میں آخری بلدیاتی الیکشن 1991ء میں ہوئے۔ پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔پیپلزپارٹی کی حکومت (2011ء تا2016ء)نے الیکشن کے انعقاد کا وعدہ کیا مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو جائے۔خواجہ فاروق حیدر صاحب کی قیادت میں ن← مزید پڑھیے
شہر کے پہلے راؤنڈ اباؤٹ میں بائیں طرف ایک پرانی جیپ کئی مہینوں سے کھڑی اپنی بیتی جوانی پر آنسو بہا رہی ہے۔اوّل اوّل تو لوگوں کو اس کا یوں بیچ چوراہے ماتم کرنااچھا نہیں لگا۔مگر دھیرے دھیرے یہ گاؤ← مزید پڑھیے
یہ ایک روشن اور خوبصورت دن تھاجب ہم بابا جی کے مکان کے پچھواڑے بڑی ‘‘ہل’’ یا ‘‘لڑ ’’ (بڑا کھیت)پر اُترے ۔ بیضوی شکل کی اس‘‘ ہل ’’ کا شمالی کوناجہاں سے ایک ہالی بیلوں کو موڑ رہا تھا،← مزید پڑھیے
آہ ! مولانا یاسین صاحب بھی عازم سفر ہوئے اب ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک کا کوئی ساماں نہیں رہا یونس ایمرے ، جنہیں لوگوں نے یونس درویش کا نام بھی دیا، تیرہویں صدی میں ترکی زبان کے بڑے شاعر، عالم← مزید پڑھیے
ابھی ہمارے بھتیجے کی جرمن شیفرڈ ‘‘سُوزی’’ کو فیس بک یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لیے چند ہی ماہ گزرے تھے کہ ہمارا بلّا ‘‘چارلس’’بھی ایک دن ہمیں ‘‘چلَٹ ’’ کے پاس سکّہ بند دانشور کے حلیے میں خود کلامی← مزید پڑھیے
کشمیر کوہم نے سات رنگوں والی آنکھوں سے بھی دیکھا لیکن اس کے رنگ شمار نہ کرسکے۔اس کے جھرنوں کے موتیوں کو کوئی مصور بنا سکا نہ کسی کیمرے کی آنکھ انہیں دیکھ سکی۔اس کے آنسوؤں کی جھیلوں میں لوگ← مزید پڑھیے
5اگست 2019ء کو ریاست جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے سے قبل ہی بھارت نے ریاست کی ڈیمو گرافی تبدہل کرنے اور آزادی کی تحریک کو کچلنے کی مکمل منصوبہ بندی کر لی تھی۔حریت قیادت کو پابند سلاسل← مزید پڑھیے
نیکی کر دریا میں ڈال’۔ پہلی بار جب پتن پر دریا دیکھا تو خیال آیا، نیکی کرنے کے لیے کتنا دور آنا پڑتا ہے۔ خیر یہ تو بڑوں کاکام ہے ۔ چلو پہلی بار نیکی دیکھنے کا موقع تو ملے گا۔ میرا خیال تھا لوگ اپنی اپنی جیبوں سے نیکیاں نکال نکال دریا میں پھینکیں گے← مزید پڑھیے
جاوید خان ایک پریشان روح ہے۔ کس کی ہے؟ کم ازکم میری تو نہیں ہے۔یہ ‘‘پکّی پروہڑی’’ روح ہے۔جواپنے ہم عصروں کی تلاش میں بھٹک رہی ہے۔ اس کا رخ شمال اور شمال مغرب کی طرف ہے← مزید پڑھیے
‘‘مولاچھ’’-ایک خوبصورت پہاڑ ی ناولٹ۔۔قمر رحیم خان/انسان نے کم و بیش تین ساڑھے تین ہزار قبل مسیح میں مٹی سے اعدادو شمارکی باقاعدہ شکلیں بنانے کا آغاز کیا۔پھر ان شکلوں کو مٹی کی تختیوں پر منتقل کیااورایک وقت ایسا آیا کہ ان شکلوں نے حروف تہجی کی معراج حاصل کر لی۔← مزید پڑھیے
جموں کشمیر لبریشن سیل میں نئے سربراہ کی تعیناتی۔۔قمررحیم خان/چھوٹی سی الماری میں رکھی ’بے پڑھی‘ کتابوں کوشب و روز حسرت بھری نظروں سے دیکھتے وہ وقت یاد آتا ہے جب برفانی،چمکیلی دھوپ میں آستین سے ناک صاف کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوتا تھا۔ایک تہائی زندگی صرف کتابوں میں گزرنی چاہیے۔← مزید پڑھیے