بابا جی کے‘ ‘اگوال’’/قمر رحیم خان

یہ ایک روشن اور خوبصورت دن تھاجب ہم بابا جی کے مکان کے پچھواڑے بڑی ‘‘ہل’’ یا ‘‘لڑ ’’ (بڑا کھیت)پر اُترے ۔ بیضوی شکل کی اس‘‘ ہل ’’ کا شمالی کوناجہاں سے ایک ہالی بیلوں کو موڑ رہا تھا، مکان سے کافی فاصلے پر تھا۔زور آوربیلوں کی صحت اورطاقت قابل دید و قابل داد تھی۔ان کی سانس پھولی ہوئی تھی ، وہ بُری طرح ‘‘تہانس’’ رہے تھے اور ان کے منہ او رنتھنوں سے جھاگ اُڑ رہی تھی۔ انہوں نے ہمیں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا مگر پہچان نہیں پائے۔ہم ذرا فاصلہ رکھ کر ان کے پیچھے پیچھے چل دیے۔دو آدمی کھیت سے پتھر چُن چُن کر منڈیر پر پھینک رہے تھے۔ایک آدمی کے ہاتھ میں ‘‘پَیل’’ تھی جس کے ‘‘پِنّے ’’ سے وہ بڑے بڑے ڈھیلوں کو ہموار کر رہا تھا۔ہم چلتے چلتے مکان کے پچھواڑے پہنچ چکے تھے لیکن ‘‘ہل’’ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ بلکہ مکان سے گزرنے کے بعد اس نے اپنا رخ جنوب مشرق کی طرف موڑ لیا تھا ۔ پہاڑی سے لپٹی ہوئی یہ ‘‘ہل’’ دور جاکر ایک کونے پر ختم ہوتی نظر آتی تھی۔اس کی لمبائی سلیمان چوک (راولاکوٹ) سے کچہری چوک تک ہوئی ہو گی۔ابھی ہم بیلوں کے چمکتے اور تھرتھراتے جسموں کو دیکھ ہی رہے تھے کہ ایک آدمی سفید گھوڑی کی باگ لیے نیچے مکان کے صحن سے اوپر کی طرف آتا ہوا دکھائی دیا۔ گھوڑی کیا تھی، برف کا ایک بڑا گالا تھا،کالی بڑی آنکھوں،لمبی ، سفید پلکوں، چمڑے کی بھوری چمکتی زین اور کالے سُموں کے ساتھ برف کا یہ گالا ایک پری معلوم ہوتی تھی۔وہ رقص کرتی ہوئی چڑھائی چڑھ کر اوپر آئی ‘‘ہل’’ کی منڈیر پررُکی اور پورے وقار کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ کالے اور ہٹّے کٹّے آدمی نے باگ اس کے گلے میں ڈالی اور کمر پر رکھے کپڑے سے پہلے اس کی ٹانگیں پھر سُم صاف کیے۔ اتنے میں مکھیوں کا ایک غول جمع ہو کر گھوڑی کو تنگ کرنے لگا۔ وہ آدمی نیچے کی طرف بھاگتا ہوا گیا اور منّوں کے درخت سے ایک گھنی ٹہنی توڑ لایا۔وہ اس ٹہنی سے گھوڑی کو پنکھا جھلاکر مکھیوں کو بھگانے لگا۔

اسی اثنا میں ہماری نظر نیچے مکان کے جنوبی صحن پر پڑی ،برف کا لباس پہنے، درمیانے قد کا ایک آدمی ہاتھ میں لاٹھی لیے اوپر کی طرف آرہا تھا۔ اس کی سفید پگڑی شکل میں ہُدہُد کے تاج کے  جیسی تھی اورجوتے جتنے کالے تھے اتنے ہی چمک دار تھے۔ہم سب نے فوراً اپنی بہتی ہوئی ناکیں ، جنہیں ہم پہلے زبان سے چاٹ لیتے تھے، آستینوں سے صاف کیں اور چھپنے کی جگہ تلاش کرنے لگے۔ ہم انجیر کے پرانے درخت کی اوٹ میں چلے گئے اور وہاں سے چوری چوری دیکھنے لگے۔ کھیت سے پتھر اٹھانے والے، ‘‘پَیل’’ سے ڈھیلے ہموار کرنے والا اورگھوڑی کا خدمت گار، سبھی باباجی کے سامنے حاضر ہو گئے۔ وہ ان سے کچھ باتیں کر رہے تھے جو ہم تک نہیں پہنچ پا رہی تھیں۔باباجی کی ہدایات پر بیلوں کو کھول دیا گیااور وہ پہاڑی پر اُگی ہری ہری گھاس چرنے لگے۔ ہل چلانے والا ہل اور جندرا اٹھائے نیچے مکان کی طرف اتر گیا۔ گھوڑی کے خدمت گار نے ایک فوجی بیگ گھوڑی کی زین کے ساتھ باندھا اور باگ تھام کر کھڑا ہو گیا۔ مالک گھوڑی پر سوار ہوا ، باگ ہاتھ میں لی اور روانہ ہو گیا۔

گھوڑی پتھریلی زمین پراس توازن کے ساتھ چل رہی تھی کہ اگر انسان چلے تو اس کی دنیا اور آخرت سنور جائے۔جب تک گھوڑی اور سوارہماری نظروں سے اوجھل ہوتے، ہم انہیں دیکھتے رہے۔ اس کے بعد ہم ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ہمارے کپڑے خراب ہوگئے تھے، ان پرسبز گھاس اور مٹی کے داغ لگ چکے تھے۔یہ داغ ہم آج تک نہیں دھو پائے۔

بابا جی کا سفراپنے حلقے(سدھنوتی، راولاکوٹ اور باغ) تک تھا یاوہ اسمبلی اجلاس کے لیے سری نگر چلے گئے ، ہمیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہو سکا۔گو ہمیں کسی قدر اطمینان بھی تھا کہ ان کی نظر ہماری میل سے چمکتی آستینوں تک نہیں پہنچ پائی لیکن ان کی غیرموجودگی ایک ایسا خلا تھا جس میں ہم بالکل بے وزن ہو کررہ گئے تھے۔ ہمارے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور ہمیں اپنا آپ شاہ دولے کے چوہوں جیسا لگنے لگا۔

بڑے کھیت سے ایک پتلا راستہ چھوٹی سی گھاٹی سے نیچے کو جاکر مکان کے جنوبی صحن، جسے مکان کا ‘‘کُھنبہ’’ بھی کہا جاتا ہے، میں داخل ہوتا تھا۔ ہم بھی راستے کے ساتھ ساتھ مکان کے ‘‘کُھنبے’’ پہنچ گئے۔لیکن بے وزنی کی اس حالت میں ہمارے پاؤں زمیں پر تھے نہ نظر راستے پر۔ ‘‘کُھنبے مُنڈ’’ ایک کونے پر یوکلپٹس کادیوہیکل درخت کسی عظمت رفتہ کی یادگار معلو م ہوتا تھا۔اس کے آٹھ بڑے بازو اوپر کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے تھے ۔ہم چھوٹے چھوٹے بونوں کی طرح سر اٹھائے اورمنہ کھولے ان ہاتھوں کی بے شمار انگلیوں کو دیکھتے رہ گئے۔اس درخت کے وسیع اور بارعب تنے کے ساتھ اگر مورتی رکھ دی جائے تویہ ہندو ہو جائے گا۔ اور اگر پتھر کی جائے نماز رکھ دی جائے تو مسلمان۔ لیکن اس درخت کا کوئی مذہب نہیں تھا۔ حتیٰ کہ درخت سبز رنگ کی جھنڈیوں سے بھی محروم تھا۔ہم کُھنبے سے سامنے ہوئے ، ایک خاتون ‘‘ڈب’’ یا ‘‘بانڈی’’ کی چھت پر لپائی کر رہی تھی۔ وہ لپائی وہیں چھوڑ کر نیچے چلی گئی۔جبکہ دوسری خاتون صحن میں بچھی چارپائی کے ایک بازو سے لٹکے تھیلے سے ایک عدد بچہ نکال کر نیچے ‘‘بانڈی’’ میں چلی گئی۔دوپٹے کا تھیلا چارپائی کے ساتھ بندھا رہ گیا۔ ہم اس حسنِ ترتیب سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔یہ چارپائی مکان کے بالکل سامنے صحن کے وسط میں پڑی تھی جسے خاتون نے جانے سے پہلے ایک لڑکے کی مدد سے صحن کے ایک کونے میں رکھ دیا۔ میرا گمان تھا کہ یہ خواتین ناخواندہ ہوں گی، لیکن مجھے اپنے گمان پر شرمندہ ہونا پڑا۔یہ ایک فیملی ہے جو نیچے بانڈی میں رہتی ہے ۔

ہماری نظر جب تھیلے سے نکالے گئے بچے سے ہٹی تو مکان پر جارُکی۔نوے ، سو سال پرانا یہ مکان آج بھی ایک ‘سٹیٹ آف دی آرٹ’ عمارت ہے۔ یہ دو منزلہ مکان ہے۔ جو دوحصوں میں تعمیر ہوا ہے۔ایک حصہ پرانا اور زیادہ نفیس و خوبصورت ہے۔دوسرے حصے کی تعمیر بعد میں ہوئی ہے۔اس حصے میں ایک آرچ کا اضافہ کیا گیا ہے جو دوسری آرچوں سے چھوٹی اور الگ ہے۔مکان کی نچلی منزل تین پرانی اور ایک نئی پتھروں کی آرچ سے بنی ہے۔ یہ ہلکا بھورا یا ہلکا سلیٹی رنگ کا مقامی پتھر ہے۔جسے سفید چونے کے مصالحے سے جوڑا گیا ہے۔ آرچ کے سبھی پتھر سائز میں برابر اورنہایت خوبصورتی سے تراشے ہوئے ہیں۔ دیواروں کے پتھروں کا سائز مختلف مگرسب کی تراش خراش ایک جیسی ہے۔سفید چونے کامصالحہ پتھروں کوایک دوسرے کے ساتھ جوڑتا بھی ہے اور انہیں ایک دوسرے سے الگ اور منفرد بھی دکھاتا ہے۔ پتھرمستطیل یا مربع شکل کے ہیں اور یوں ہلکے بھورے رنگ کی دیواروں پرسفید چونے کی لکیریں دیواروں کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں۔مکان کے چاروں طرف نالی کی بجائے پتھر لگائے گئے ہیں۔لیکن ا س کے باوجودکسی دیوار میں دراڑ نہیں ہے۔مکان کا پلنتھ ہمیں نظر نہیں آیا۔ برآمدے کا فرش پتھر کا ہے اور سطح صحن کے برابر ہے۔ برآمدے میں دو دو پٹ کے دو دروازے اور دو چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں ہیں۔لکڑی کی ایک سیڑھی اوپر کی منزل کو جاتی ہے۔ سیڑھی کی دوسری جانب کی عمارت ایکسٹینشن ہے ۔ اس میں غالبًا دو کمرے ہیں۔ اوپر والی منزل میں تین دروازے اور تین ہی چھوٹی کھڑکیاں کھلتی ہیں۔ دروازوں کے درمیان دراز لگائے گئے ہیں جن پر‘‘جندرے’’ (تالے) لگے ہوئے ہیں جو سوسال پرانے ہیں۔ دروازوں کے نچلے حصے پر ‘‘سنگل’’ (زنجیر) بھی لگی ہوئی ہے۔ ایکسٹیشن والے حصے کے دروازے کا دراز پرانے دراز کی نئی جنریشن ہے ۔ البتہ یہ دروازہ اندر سے بند ہے اس لیے اس پر تالہ نہیں ہے۔

دروازوں اور کھڑکیوں کا رنگ ڈارک براؤن ہے۔برآمدے میں لکڑی کی بارہ آرچ بنی ہوئی ہیں۔اور آرچ کے ستونوں کے ساتھ لکڑی کی فینس لگائی گئی ہے۔آرچ اور فینس کاکام آج بھی بہت نفیس اور دیدہ زیب ہے۔مکان کی چھت ٹین کی ہے ۔ جو یقینا تبدیل کی گئی ہے۔مکان کے دائیں طرف شمال کی جانب بھی ایک چھوٹا صحن ہے ۔ صحن کے بعد ایک کھیت اور کھیت کے اس پار کسی پڑوسی کا مکان ہے۔ سامنے کا صحن بڑ ا اور کشادہ ہے۔ جس میں پلاسٹک کی سفید کرسیاں اور میز رکھی ہے۔ صحن کے سامنے ذرا بائیں طرف ‘‘بانڈی ’’ہے جو تقریباً تین کمروں پر مشتمل ہو گی۔اس کی ‘‘بَلیاں’’ پتھر کی ہیں اور چھت مٹی کی جس پر لپائی کاکام ہماری آمد کے بعد رک گیا تھا۔

ہم جونہی مکان کے اوپر والے حصے میں گئے ایک کالا کتا صحن کے کونے میں بگوگوشے  کے درخت کے نیچے بیٹھ کرہماری نقل و حرکت کا بغور مشاہدہ کرنے لگا۔لیکن اس نے ہلکی سی ‘‘بخ’’ بھی نہیں کی۔ ابھی ہم اوپرہی تھے کہ ہمارے میزبان نے شربت لا کر میز پر رکھ دیا۔سبز لان ،سفید میز اورکرسیاں ، شیشے کے جگ گلاس اور لال رنگ کاشربت ۔ٹھنڈے اور میٹھے شربت سے تازہ دم ہو کرہم یوکلپٹس کے بڑے درخت کو سلام کر کے  جنوب کی طرف ایک ‘‘پڑی’’ پر جا بیٹھے ۔‘‘پڑی’’ کے دائیں طرف مکئی کے کھیت اور تھوڑا نیچے ‘‘کس’’ بہہ رہا تھا ۔‘‘کس ’’کا شفاف پانی دھوپ میں چمک رہا تھا اوراس کے بہنے کی ‘‘شر شر’’ ہمارے کانوں میں رس گھول رہی تھی۔ یہ ہمارے بچپن کے ان حسین ترین مناظر میں سے ایک تھا جن کے سہارے ہم روزافزوں بگڑتی ہوئی اس دنیا کو برداشت کیے ہوئے ہیں۔میں اس منظر کو دیکھ کر ‘‘پڑی’’ پر ڈھیر ہو گیا۔ اور دل چاہا کہ وہی بچپن والا جن آئے اور شہزادے کی مانند مجھے بھی ایک پھونک مار کر اسی ‘‘پڑی’’ کا پتھر بنا دے۔‘‘قہو’’ کا درخت بنا دے، ‘‘کس’’ میں بہتا ہوا پانی بنادے، دور اوپر ‘‘کس’’ کے کنارے ابلنے والا چشمہ بنادے،کچا ایک راستہ بنا دے،زمین کو آباد کرنے والا ایک ‘‘ہل’’ بنادے، مٹی کا ایک ڈھیلا بنا دے، مکئی کاایک کھیت بنا دے ۔ ایسا کھیت جس سے سروں کی فصلیں اگتی رہیں، کٹتی رہیں، اگتی رہیں،کٹتی رہیں۔میں خوابوں اور خیالوں کی انہی حسین وادیوں میں ایک زخمی ہرن کی طرح پڑا تھا کہ مجھے ایک لات پڑی۔ساتھ ہی ایک آواز آئی‘‘چلو سفر لمبا ہے’’۔

میں نے سوچا جن آگیا۔ لیکن وہ میرا دوست زاہد خان تھا۔ میں نے افراز خان کی طرف دیکھا ۔وہ بھی اپنے بچپن میں کھڑا تھا۔ اس کی آنکھیں لال تھیں اور آنسو ناک سے بہہ رہے تھے۔ ہم تھوڑی دیر رکے رہے۔ مگر زاہد خان کے اسرار اور اعجاز خان کی ہدایات سے مجبور ہو کر اٹھ گئے۔اٹھتے ہی اوپر کھیت کے کنارے ‘‘اَٹ ’’پر نظر پڑی۔ دو بڑے پتھروں کے درمیان پتھر کا چھوٹا سا ایک ٹکڑا دبا ہوا تھا۔ ہماری مثال اس ٹکڑے کی جیسی ہے۔ میں نے سوچا اور آگے بڑھ گیا۔ ‘‘پڑی’’ کے اوپر والے سرے پر چھوٹا سا ایک قبرستان ہے۔ جس میں ایک زیارت بھی ہے جو ایک پکے کمرے پر مشتمل ہے۔جس کی دیوار میں دراڑ پڑ چکی ہے۔اس کے ارد گرد پرانے درخت ہیں۔ ایک درخت کے ساتھ سبز رنگ کے کپڑے لٹک رہے تھے۔ یہ کپڑے ہر زیارت پر لٹکائے جاتے ہیں۔ ساتھ دو قبریں ہیں۔ پہلی قبر مائی جی کی ہے۔ مائی جی کانام دل جان بیگم تھا اور وہ 27ستمبر 1973ء کو فوت ہوئیں۔ ان کے پہلو میں بیٹے، سردار عبدالقیوم خان آرام فرما ہیں۔عبدالقیوم 24اگست 1942ء کو پیدا ہوئے اور15 جولائی 1987ء کوانتقال کر گئے۔قبروں کے ارد گرد سفید سنگ مرمر لگایا گیا ہے جبکہ درمیان سے قبریں کچی ہیں۔دل چاہتا تھا ، کچھ دیرمائی جی کے پررونق اور بڑے گھرپر ان کے مہمان بنیں ۔اور راولاکوٹ کے اسلاف کی سنت کو تازہ کریں۔ لیکن جمعہ کی نماز بھی سر پر تھی اور سفر بھی باقی تھا ۔اس لیے چل دیے۔ مگر خیال کی سوئی ایک ہی جگہ پر اٹکی رہی کہ انسان مر کر کتنا تنہا ہو جاتا ہے اور گھر کے کُھنبے میں واقع قبرستان تک کا سفر کتنا مشکل ہے۔واپسی کے لیے ہم پھر اسی بڑے کھیت( ‘‘ہل’’ )میں پہنچ گئے۔ دل کا وزن بڑھتا جا رہا تھااور پاؤں الٹے پڑ رہے تھے۔

بوڑھاگھر افسردہ چہرہ لیے اوپر والی منزل پر بارہ دری میں لکڑی کی آرچ کو اوپر سے پکڑے کھڑا تھا۔اس کے چہرے کی جھریاں زیادہ نمایا ں ہو گئی تھیں اوراس کی آنکھیں تقریر کر رہی تھیں۔ہم کھیت کی منڈیر پر کھڑے اس بزرگ گھر کو الوداع کہتے ہوئے عجیب کیفیت کا شکار تھے۔ وہ اوپر والی منزل سے نیچے اترہمارے پاس آگیا اور کہنے لگا۔
‘‘ تم لوگ غم نہ کرو۔ بانڈی میں رہنے والوں کی وجہ سے میں اکیلا نہیں ہوں۔یہ ہرے بھرے کھیت، درخت، پھل پھول اور کچے راستے سب مجھ سے بڑے ہیں اورابھی تک آباد ہیں۔ ساتھ ہی بہنے والے ‘‘کَس’’ کی موسیقی ہر وقت میرا دل بہلائے رکھتی ہے۔میں اس ماحول میں خوش ہوں اور اپنے مالکوں سے بھی خوش ہوں۔ان کا مجھ پر احسان ہے کہ انہوں نے مجھے تقریباً اسی حالت میں رکھا ہے جیسا میں سو سال پہلے تھا۔ میری طرف آنے والے راستے کچے ہیں اورمیرے ‘‘اگوال ، پِچھوال’’کو انہوں نے سیمنٹ ، بلاک، اور ریت بجری سے آلودہ نہیں کیا۔ کہیں سیمنٹ کی سیڑھیاں بنائیں ، راستوں پر ٹف ٹائل لگائی، میرے برآمدوں پرسنگ مرمرکا بوجھ ڈالا نہ دیواروں کی خوبصورتی کو ٹائلوں سے خراب کیا، نہ کوئی اور ‘‘ٹُچّا ’’کام کیا۔ ہاں کہیں کہیں دیواروں کی دراڑوں کو جو عام سیمنٹ سے مرمت کیا ہے، یہ مجھے اچھا نہیں لگا۔ دیکھو تو انہوں نے وہ ‘‘جندرا’’ بھی نہیں بدلا جواب نایاب ہو چکا ہے۔ میں اپنے مالک کی اولاد کا اپنے ساتھ اس حسن سلوک پر بہت خوش ہوں۔ میں تم لوگوں سے بھی خوش ہوں کہ تم نے یہاں پر گندگی تو دور، کاغذ کا ایک ٹکڑا تک نہیں پھینکا۔ ہاں تمہارا سگریٹ پینا مجھے اچھا نہیں لگا’’۔ یہ کہہ کر وہ مسکرا دیا۔

‘‘اے بزرگ گھر!’’ میں نے اس کے چہرے کی طر ف دیکھتے ہوئے پوچھا‘‘ تمہارا دل نہیں کرتا کہ کوئی تمہیں روزانہ کی بنیاد پر آباد کرے؟بچوں کی ہنسی اور کھیل تماشوں سے تمہارا سونا پن ختم ہو جائے؟صبح صبح پراٹھوں کی خوشبو اور چائے کی مہک سے تمہاری روح تازہ ہو جائے؟ لوٹے سے گرتے وضو کے پانی کی آواز سے تمہاری آنکھ کھلے؟پھر کوئی تمہارا مکین خدا سے ہم کلام ہو اور تم سنو؟تم اپنے فرش پہ کسی کو سجدے میں گرے ہوئے اور دور پیر پنجال کے مشرقی افق پہ ، جہاں زمین اور آسمان ‘لب کنار ’ ہوتے ہیں ،خدا کومسکراتے ہوئے دیکھو۔۔’’؟

بزرگ گھر نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ، چند لمحے غور سے مجھے دیکھنے کے بعدخلا کو گھورتے ہوئے بولا‘‘اے میرے اجنبی ہمدرد ! وقت بہت تیزی سے بدلا ہے۔ جس کا شاید تمہیں اندازہ نہیں۔ جن لوگوں نے مجھے بنایا اور بسایا ہے اور جن کا اخلاق و اخلاص اور جن کی تہذیب اور کلچر آج بھی میرے درودیوار سے ٹپک رہی ہے، تم کیا سمجھتے ہو ویسے لوگ دوبارہ دنیا میں آئیں گے؟اور مجھے پھر سے آباد کریں گے؟میں ان لوگوں کی محبت کا تاج محل ہوں۔میں تمہارے ماضی کی ہزار داستان ہوں۔ مجھے اس کی فکر نہیں کہ میں آبادہوں یا غیر آباد۔ اندیشہ اس بات کاہے کہ آج کے انسان کی آبادی مجھے برباد نہ کر دے۔اس لیے میں اپنے ہاں کسی کی مستقل سکونت سے گھبراتا ہوں۔ مجھے لوگوں سے ڈر لگتا ہے۔ خصوصاً جب کوئی یہ سوچتا ہے کہ اس بوڑھے گھر کو اپ ڈیٹ کرنا چاہیے۔ تب میں کانپنے لگتا ہوں۔ جانے کل کا مستری میری شکل و صورت کو کتنا بگاڑ کر رکھ دے گا۔ تم جو شہر سے چل کر یہاں تک آئے ہو ، تمہارے بس میں ہو تو کسی جنگل میں چھپ جاؤ’’۔
اتنا کہہ کر وہ مسکرانے لگا۔ہم سب خاموش اسے دیکھتے اور سوچتے وہاں سے چل دیے۔

Advertisements
julia rana solicitors

شربت پلانے والاسانولا اور سنجیدہ لڑکا ہمیں الوداع کرنے ہمارے ساتھ چل رہا تھا۔ افراز خان کے پوچھنے پر جب اس نے اپنا نام بتایا تو میں چونک گیا۔اس کا نام ‘‘دائم اقبال ’’ تھا ۔اس کا باپ شاید کسی دفتر میں چپڑاسی ہے۔اور وہ دسویں جماعت کا طالب علم ہے۔ کیا اس کا باپ اسے اپنی جگہ بھرتی کروانے کے لیے پڑھا رہا ہے؟ اور اگر یہ اسے اس لیے پڑھا رہا ہے تو اتنا بڑا نام رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور جس نے اس کا نام رکھا ہے کیا وہ اس کی رہنمائی بھی کر رہا ہے؟اس کے ساتھ چند باتیں کرنے کے بعد میری آواز رندھ گئی ۔ 16 ستمبر 2022ء کی دوپہر بڑے کھیت کے آخری کونے سے جب میں نے آخری بار اس بزرگ گھر کی طرف دیکھا تویوں لگا کہ بابا جی کے دوران سفرانتقال کی خبر ابھی ابھی مجھ تک پہنچی ہے۔ ہالی ہل پر گر گیا ہے۔ کھیت سے پتھر چُننے والے پتھر کے  پُتلے بن گئے ہیں۔درختوں کی سانس رک گئی ہے ، بیل زارو قطار رو رہے ہیں اور بابا جی کا ‘‘اگوال’’ ویران ہو گیا ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply