• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • دس روپے میں عزتِ نفس دیں(وباء کے دنوں میں سخیوں کو ایک فضول مشورہ)۔۔۔اعظم معراج

دس روپے میں عزتِ نفس دیں(وباء کے دنوں میں سخیوں کو ایک فضول مشورہ)۔۔۔اعظم معراج

SHOPPING
SHOPPING

میرے ایک دوست نے مجھ سے اپنی چھوٹی سی کہانی شیئر  کی ،اچھی لگی،آپ بھی سُنیے!

میرا یہ دوست مسیحی ہے،اور معاشرے میں مناسب سی معاشی سماجی و معاشرتی حیثیت رکھتا ہے۔لیکن میلے ٹھیلوں سے دور بھاگتا ہے۔کچھ دن پہلے اس سے برطانیہ میں مقیم کچھ  مسلمان نوجوان دوستوں نے رابطہ کیا اور کہا  کہ  آپ کے ذمہ ایک چھوٹا سا کام لگانا ہے۔ یہ نوجوان پاکستان بھر میں وبا کرونا کے متاثرین کی اپنی بساط کے مطابق مدد کر رہے ہیں ،نوجوانوں کے اس گروپ نے پاکستان کے ہندوؤں اور مسیحیوں کے لئے بھی پیسے مخصوص کیے ہیںِ ۔انہوں نے میرے اس دوست سے کہا  کہ آپ کو کچھ پیسے بھیج رہے ہیںِ۔جس سے  آپ مستحق مسیحی گھرانوں میں راشن تقسیم کر دیں۔بقول میرے دوست کے، میرے تو ہاتھ پاؤں پھول گئے کیونکہ خود بندہ اپنی جیب سے جو مرضی کسی کی مدد کرلے، لیکن امانت تقسیم کرنا جان جوکھم کا کام ہے۔یہ صاحب اس معاملے میں انتہائی بزدل اور خود غرض ہیں بقول ان کے
” بھائی ایسی نیکی جس میں کوئی الزام لگنے کا اندیشہ ہو،اس سے معذرت کر لینی چاہیے۔کیونکہ عزتِ بچا کر خدمت خلق کے ہزاروں راستے ہیں۔ ”

اور اس نے ایسے کئی راستے اپنائے بھی ہوے ہیں۔ یاد رہے پاکستانی مسیحیوں میں شعبہ صفائی کے بعد پچھلی دو تین دہائیوں میں سب سے بڑے دو روزگارایمرج ہوئے ہیں۔ایک مذہب کا کاروبار دوسرا سوشل ورک کا بیوپار۔لہذا ایسے ماحول میں شرفاء سکہ بند سوشل ورک سے بہت گھبراتے ہیں،کیونکہ مسیحیوں میں سوشل ورک کا (جو کہ مسیحیت کی روح سمجھا جاتا تھا)اب بغیرِ مفاد کے تصور ناپید ہوچلا ہے۔

لیکن اس کے ذمے  یہ کام لگانے والے نوجوان سے اسکا شفقت محبت اور احترام کا ایسا رشتہ ہے، کہ انہیں وہ منع نہ کرسکا۔خیر رقم آگئی ،اتفاق سے ایک دن پہلے ہی اسکی بیوی کو کاتھولک چرچ کی کسی قابل بھروسہ انجمن نے پندرہ سو والے راشن کے تھیلوں کی ضرورت کا بتایا تھا۔جہاں سے وہ خود گروسری خریدتا ہے۔ وہاں سے اسے جتنے ریڈی دستیاب تھیلے ملے وہ پہنچا دیئے۔۔اس دوران بیوی نے کہا ، یہ ہمارے گھر کی ملازمین بھی تو ضرورت مند ہیں۔انھیں بھی یہ راشن دے دیں۔اس نے بیوی سے کہا  پیسے بھیجنے  والوں نے یہ مسیحیوں کے لئے بھیجے  ہیں۔۔اور اگر یہ مسیحی بھی ہوتی تو یہ ہماری ذمہ داری ہیں۔ اتفاق سے اسکے گھر ہاؤس کیپنگ کے لئے آنے والی دونوں خواتین مسلم ہیں۔ لہذا، ان دونوں کو ان صاحب نے اتنے ہی پیسے اپنی جیب سے دیے۔ضرورت مند رشتے داروں کو رازداری کے باوجود بھنک ملی، تو انہیں بھی اتنے اتنے پیسے جیب سے دینے پڑے،کہ آپ کا مجھ پر حق ہے۔اس امانت پر نہیں۔۔خیر تھوڑے پیسے بچ رہے۔ کیونکہ انہوں نے  اس بات کو پبلک کیا اور نہ کسی ایک سکہ بند سوشل ورکر کو   امانت دے کر اپنی جان چھڑائی۔دس ہزار ایک بھروسے کے سوشل ورکر کو کراچی کے ایک دور دراز پسماندہ علاقے میں بجھوا دیے۔چند دن پہلے انہیں ایک سفید پوش جاننے والے نے فون کیا،اور حکومت کی  ایپ کے فعال نہ ہونے کا گلہ کیا اور ساتھ ہی ایک مشترکہ جاننے والے سکہ بند سوشل ورکر کے اس کے  ہاں راشن نہ پہنچانے کا گِلہ کیا۔بقول ان صاحب کے یہ سن کر میں پریشان ہو گیا کہ ان صاحب کو میں کیسے یہ آفر کروں وہ صاحب کہتے ہیں۔فون رکھنے کے بعد انھوں نے ان صاحب کو فون کیا اور کہا کہ مجھے کچھ  مسلمان دوستوں نے آپ کے بچوں کے لئے تحفہ بجھوایا ہے۔ساتھ ہی انھوں نے گھر میں پڑے ہوئے شادی بیاہ پر دینے والے لفافے میں رقم ڈالی اور ان صاحب کو بار بار یہ کہا کہ یہ تحفہ ہے جیسے ہم شادی بیاہ پر بیماری میں عیادت کے لئے دیتے ہیں ۔لہذا، اس کا کسی سے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ساتھ ہی وہ اس بات پر پکے ہوگئے کہ دور دراز علاقوں میں جہاں راشن کی قلت ہے،وہاں تو راشن ٹھیک ہے ۔ورنہ بڑے شہروں میں یہ دس روپیہ کا خوب صورت لفافہ خاموشی سےاور یہ کہہ کر دینا کہ یہ آپ کے بچوں کے لئے تحفہ ہے۔ کا جملہ پورے احساسات اور ماحول کو بدل دیتا ہے۔۔ اور پھر وہ تحفہ لینے والا اپنی ترجیحات کے مطابق استعمال کرے۔اور جو ہر سخی اور مخیر راشن خریدنے نکل پڑا ہے۔اس سے بنیادی اشیاء خورونوش کی قلت بھی ہورہی ہے۔اگر لگے کہ اس دس روپے کے  لفافے سے آپ اپنے جاننے والے ضرورت مندوں کی عزت نفس کا بھی تحفظ کرسکتے ہیں، تو یہ طریقہ اور یہ جادوئی جملہ۔ ” یہ آپ کے بچوں کے لئے تحفہ ہے۔”استعمال کرکے دیکھیں بہت بہتر محسوس ہوتا ہے۔ کیونکہ راشن اٹھا کر کسی کے دروازے پر آپ جائیں، اسے اپنے گھر بلائیں،یا چوک پر میلہ لگائیں ہر انسانیت کی تذلیل کا پہلو نکلتا ہے۔ بڑے شہروں میں اس عمل سے بچا جا سکتا ہے۔اگر آپ چاہیں تو اس سلسلے میں حکومت کا لوگوں کو انکے گھروں میں پیسے بجھوانے کے  منصوبے اگر کامیاب ہو گئے تو راشن دیتے ہوئے تصویروں کا کلچر بھی شاید ختم ہو۔ ہاں میرا دوست اس بات پر پریشان ہے بھائی مجھے تو اس خدمت خلق کا  اچھا خاصا نقصان ہو گیا۔ وہ سخاوت بھی کرنا پڑی ،شاید جو میں نہ کرتا۔
کمال جینئس ہیں وہ لوگ جو ایسے موقعوں پر بھی مال بنا لیتے ہیں۔

SHOPPING

تعارف:اعظم معراج پیشے کے اعتبار سے اسٹیٹ ایجنٹ ہیں ۔13 کتابوں کے مصنف ہیںِ جن میں  ، پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار۔دھرتی جائے کیوں پرائے،شناخت نامہ،اور شان سبز وسفید نمایاں ہیں۔

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *