• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ریورس لرننگ، وزیراعظم کا شاندار طریقہ تعلیم۔۔۔۔۔ڈاکٹر عمران آفتاب

ریورس لرننگ، وزیراعظم کا شاندار طریقہ تعلیم۔۔۔۔۔ڈاکٹر عمران آفتاب

وزیر اعظم نے ٹیگور کا جملہ جبران سے کیا منسوب کیا کہ سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا۔ کپتان کو کوئی کچھ بھی کہے، میری نظر میں وہ اس قوم کی تعلیم کا سبب ہیں۔ دشمنوں  سے  اکثر آپ نے ایک گھسا پٹا جملہ دنیا کی اس ذہین ترین قوم کے بارے میں سنا ہو گا۔ کہ جس قوم میں کتابیں تھڑے پر ملتی ہوں اور جوتے شو کیس پر ،تو اس قوم کو کتابوں کی نہیں جوتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پس جوتوں کے فراوانى اور علم کى کمى کے ستر برسوں کے بے سمت سفر کے بعد بالآخر اس ہجوم کو قوم بنانے والا ایک میر کارواں میسر آ گیا۔ جس کے پاس عصائے کلیمی بھی ہے اور تخت سلیمانی بھی۔ نوری، ناری، خاکی، سب اس کے مطیع و تابع۔ یہاں تک کہ خلائی مخلوق،( اوہ، غلط تشریح سے گریز کریں) یعنی کہ جنات بھی بنی گالوی سرکار کے مرید ہیں۔

یہ وہ سالار ہے جو سکندر بنا۔ سالار سکندر وہی جس کا آئی کیو ، پیش گوئیوں والے نعمت شاہ ولى کے بعد دور حاضر کے پسندیده ناولوں کے مطابق کائنات کا بہترین آئی کیو ہے ۔ اس سالار سکندر کے دور سے قبل یہ ہینڈ سم کپتان ہی تھا جو سرحد کے دونوں اطراف کی خواتین کا ہیرو تھا۔ جس کا فسوں ان پر بھی چلا جو نا قابل تسخیر سمجھے جاتے تھے۔ چاہے وہ افراد ہوں یا ادارے۔

نوبیل انعام یافتہ سربراہان مملکت و حکومت۔۔۔۔۔تحریر و تحقیق:ڈاکٹر عمران آفتاب
جس کے آنے سے جہاں ایک طرف چہار سو ارب ہا ارب ، اور عرب ہا عرب برکات و دراہم و ریالیات کی بارش شروع ہو گئی۔ وہیں علم کے صدیوں سے خشک پڑے سوتے بھی بہہ نکلے۔ اقبال اور جناح کا یہ شاہین جب قوم کی تقدیر بدلنے کو تخت نشین ہوا تو چشم ناز نے وہ منظر بھی دیکھا کہ کیسے نوری سالوں پر محیط فاصلے چشم زدن میں مٹ گئے۔ قوم کی علمی بے بضاعتی پر پہلا تازیانہ بارگاہ خاکی میں پہلی مرتبہ حاضری کے موقع پر پڑا۔ آمر کے علاوہ کسی عامر ، یاسر، ناصر کو گھاس نہ  ڈالنے والوں نے جب کپتان کو خود قصر خاکی کے دروازے پر آکر نا صرف سلیوٹ کیا بلکہ شعبہ تعلقات والوں کی جانب سے باقاعدہ مسکراہٹوں والی تصاویر کا اجرا ہوا، تبھی دانشوران ملت سمجھ گئے تھے کہ جہل کی اندھیرى سرنگ ختم ہوئی ۔ علم کا اجالا طلوع ہوا۔ گزرے دس ماہ میں شاید ہی کوئی دن ایسا جاتا ہو کہ قوم اپنے محبوب قائد کے علم سے فیض یاب نہ ہوتی ہو۔ دانشوروں کی سیاپا فروشی کے دن ہویدا ہوئے۔ اب سرکار کے ایوانوں سے براه راست قوم کی تعلیم کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

کینیڈا والے شیخ الاسلام جو بطریق منام ، اسلاف کی شاگردی کا دعوی کرتے تھے۔ ان کے سیاسی کزن کا طریقہ تعلیم ان سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ کپتان جو اپنے دور کرکٹ میں ریورس سوئنگ کا ماہر القادری سمجھا جاتا تھا۔ اپنے دور حکومت میں وہ ریورس لرننگ کی تکنیک کا موجد قرار پایا ۔ مستقبل کے مورخ کى تاریخ میں جہاں ایک طرف کپتان کی جانب سے بلاد اسلامیہ کے شیوخ کی بے لوث مہمان نوازی کا چرچا ہو گا، وہیں علم و حکمت کی اس بے بہا ترسیل پر اس کا نام سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا۔
اس فدویانہ تمہید میں اگر آپ کو اصل بات کی سمجھ نہیں آ رہی تو اس میں آپ کا قصور نہیں۔ راقم کے جذبات کی وارفتگی اس کا سبب ہے۔ راقم کا تعلق خود شعبہ تدریسِ طب سے ہے ۔ لہذا میں یہ سمجھتا ہوں کہ مشکل سے مشکل تھیوری پڑھانی ہو یا عملی مثال سمجھانی ہو، یہ کپتانی طریقہ کار ہر لحاظ سے موزوں ترین ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اس طریق کار سے کیسے دنیائے تعلیم میں ایک انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔

اللہ میاں واٹس ایپ پہ آؤ ۔۔۔۔۔ڈاکٹر عمران آفتاب

مجوزہ کپتانی طریقہ تعلیم، جسے ہم نے ریورس لرننگ کا نام دیا ہے ۔ اس میں ایک مشکل ترین کانسپٹ کو طلبا ، یا پھر بعض صورتوں میں جہلا کے سامنے متضاد یا مجہول کانسپٹ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ ایک سگریٹ نوش فرد یا گروہ کو لاکھ سمجھاتے رہیں کہ سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔ لیکن وہ نہیں مانیں گے۔ چاہے آپ کتنی ہی خوفناک ترین تصویریں خود مظروفِ سگریٹ پر چھاپ دیں۔ لیکن کپتانی ریورس لرننگ طریقہ تعلیم کے تحت آپ کو صرف کسی موقر ذریعے سے سگریٹ نوشی کے طبی فوائد بیان کرنے ہیں۔ مثلاً کسی میڈیکل سیمینار میں کہہ دیجئے کہ روزانہ تین سگریٹ پینے سے کولیسٹرول کم ہوتا ہے، ہارٹ اٹیک کا خطرہ نصف رہ جاتا ہے ، نظر تیز ہوتی ہے، اور ہاں ، قوت باہ میں اضافہ بتلانا تو قطعاً مت بھولیے۔
اب رد عمل کا انتظار کریں۔
چند ہی گھنٹے میں سوشل میڈیا پر آپ ایک نیا ٹرینڈ بن چکے ہوں گے۔ آپ کی جہالت کے ہیش ٹیگ قومی سطح پر سرفہرست ٹرینڈ ہوں گے۔ نا صرف طبی ماہرین، بلکہ ہر وہ شخص جو سوشل میڈیا پر ہے ، آپ کو سگریٹ نوشی کے وہ نقصانات بھی بتا ڈالے گا جو اب تک کسی طبی جریدے میں شائع بھی نہ  ہوئے ہوں گے۔ چاہے بتانے والا خود سگریٹ کے ساتھ حسب توفیق چرس یا کوکین کا عادی ہی کیوں نہ  ہو۔ یوں جلد ہی پوری قوم کو سگریٹ نوشی کے طبی نقصانات پر وہ معلومات حاصل ہوں گی جو کسی بھی آگہى مہم سے حاصل نہیں ہوئی ہوں گی۔ اگرچہ مخالفین آپ کا تمسخر اڑا رہے ہوں گے مگر آپ کسی بھی تنقید سے لاتعلق ہو کر اپنا علمی مقصد پورا ہونے پر تنہائی میں مسکرا رہے ہوں گے۔ امید ہے اس مثال سے آپ کپتان کی تدریسی خدمات کو سمجھ گئے ہوں گے۔

ٹھیک اسی طریق کار پر گزشتہ دس ماہ کے دوران بانئ نیا پاکستان اس ملت کی رہنمائی میں مصروف ہیں۔ نا صرف کپتان خود ،بلکہ ان کی ٹیم کے کھلاڑی بھی کسی سے کم نہیں۔ مشکل سے مشکل کلیہ کا معکوس نظریہ پیش کر کے وہ کتابوں سے بُعد رکھنے والے بیس بائیس کروڑ لوگوں کو لائبریریاں، کتب اور انٹرنیٹ کھنگالنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

پاکستانی خواتین اول اور مرد اول۔۔۔ڈاکٹر عمران آفتاب
ایک مؤقر سائیٹ کے دیرینہ قارئین اس ویب سائٹ کے کرتا دھرتا کرم فرماؤں کے مابین جاری لسانی جنگ و جدل سے بخوبی واقف ہیں۔ لسانی فسادات میں کبھی صرف و نحو کے قوانین نشانہ بنتے ہیں تو کبھی غیر زبانوں سے درآمد شدہ الفاظ پر طبع آزمائی کی جاتی ہے۔ مگر تلفظ کا تحفظ سب سے زیادہ تختہ مشق بنتا ہے۔ ایک جانب سے جانے مانے استادوں کا شعری و نثری کلام اپنی تائید میں پیش کیا جاتا ہے تو دوسری جانب کے دوست مستند ذخیرۂ لغات سے اپنا موقف مضبوط کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ اسی پس منظر میں جینئس وزیر اعظم نے اپنے اقتدار کا آغاز ہی قوم کا تلفظ درست کرانے سے کیا۔ اب بھلا کنٹینر پر چار ماہ مسلسل بنا اٹکے تقریر کرنے والے کے لیے الفاظ ہاتھ باندھے کھڑے نا ہوتے ہوں گے کیا؟ تو حلف جیسے زندگی کے اہم ترین موقع پر الفاظ کی ادائیگی کون سا مشکل امر تھا۔

لیکن ادھر الفاظ میں ذرا سا الجھاؤ آیا ، ادھر پوری قوم لغت لیے نکل کھڑی ہوئی۔ اب بچے بچے کو معلوم ہو گیا کہ کس قیامت کی قیادت ہمیں نصیب ہوئی جو روز قیامت کو روز قیادت بول گئی۔ اسی طرح قوم کا عقیدہ ختم نبوت پر ایمان مزید مستحکم ہوا جب ہر فرد نے وزیر اعظم کی تصحیح کی خاطر خاتم النبیین ص کا درست تلفظ ادا کرنا شروع کر دیا۔ اسی طرح روحانیت اور رعونیت کے مابین باریک سی صوتی لکیر بھی کچھ عرصہ پہلے واضح طور پہ سامنے آئی۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی جناب وزیر اعظم نے اپنی خدمات پیش کیں جب نظریہ اضافت سے مکمل طور پر نا بلد قوم کو روشنی کی رفتار والی ٹرین کا مژدہ سنایا۔ آئن سٹائن کے نظریہ کے تحت روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والی ٹرین مادے کی کمیت سے آزادی پا جاتی۔ یوں مادہ کی نفی کر کے مادہ پرستی میں مدہوش خوابیدہ قوم کو جگانے کی کوشش کی گئی۔ اسی میدان میں سائنس و ٹیکنالوجی کے موجودہ وزیر نے بھی 55 روپے فی کلومیٹر کی سستی مگر برق رفتار ہیلی کاپٹر سواری سے متعارف کروایا۔ جس کے جواب میں مخالفین کو ایک مرتبہ پھر گوگل پر خرافات کی بجائے پڑھائی کرنی پڑی۔

وہ جو مایا تھی۔۔۔۔۔محمد اقبال دیوان

دوسری جانب دینیات کے مضمون کو صرف ضیائی تحفہ سمجھ کر سر سے اتارنے والی قوم پر ہر چند روز کے بعد ایسی معکوس معلومات کا انکشاف کیا جاتا ہے کہ کیا لبرل، کیا بنیاد پرست، سب کو ہی تفاسیر و تواریخ کے بنیادی ماخذ سے مراجعت کرنی پڑتی ہے۔ کسے معلوم تھا کہ تاریخ کے دو کمرے ہیں۔ ایک قبل از مسیح اور ایک بعد از مسیح ۔ خان احساس نا دلاتا تو حضرت عیسىٰ علیہ السلام کی تاریخى حیثیت سے نا واقفیت ہى رہتى۔

خدا لگتی کہیں ، کیا اب سے چند روز قبل آپ کو غزوات کی تاریخ مکمل یاد تھی۔ جنگ عظیم دوئم میں جاپان اور جرمنی کی بات بھی اسی جذبہ تعلیم کو جگانے کی خاطر کی گئی تھی۔ کسی نے گوگل میپ پر دونوں ممالک کے درمیان فاصلہ ناپا تو کسی نے وکی پیڈیا پر اتحادی افواج اور متحارب قوتوں کی صف بندی کا مطالعہ کیا۔ اسى طرح گولان، فلسطین اور شام کے اسرائیل کے ساتھ تعلق پر بھی کسى معلوماتی پروگرام پر جناب وزیر اعظم کے جادوئى فقرے بھارى ہیں ۔ جغرافیہ اور تاریخ کی تدریس کا محض ایک جملے میں ایسا حسین امتزاج آج سے پہلے دنیا کی کس عسکری یا سویلین حکومت نے پیش کیا ہو گا۔

معاشیات کے میدان میں تو علم و حکمت کا ایک سیل رواں ہے جو سونامی کی طرح فرزندان ملت کو بہائے لیے جا رہا ہے۔ ٹکے کے سامنے روپے کی کم قدری سے پہلے بھلا کس کو معلوم تھا کہ ٹکے ٹکے کے لوگ جیسا محاورہ کیونکر معرض وجود میں آیا تھا۔ ڈالر مہنگا ہونے سے معیشت پر کیسے کیسے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ چینی محض چار روپے بڑھنے سے کس طرح محسن کے اربوں احسانات کا بدلہ چکایا جاتا ہے۔ محسن کتنا ہی جہاں گیر ہو اور امیر ترین ہو، ایک دن تو احسانات کا قرض اتارنا ہی ہوتا ہے۔ چاہے چار چار روپے کر کے ہی۔

یہاں تک کہ جس قوم کو معلوم تک نہیں تھا کہ گزشتہ قیادت کے مصنوعی اقدامات سے کیسی کھوکھلی معاشی ترقی دکھائی جا رہی تھی۔ آج یہ عالم ہے کہ ہر کس و ناکس اپنا پیٹ کاٹ کر نوزائیدہ مملکت نیا پاکستان کی تعمیر و ترقی اور حقیقی معاشی نمو کی خاطر پورے جوش و خروش سے بر سر پیکار ہے۔
گویا صرف علمی ہی نہیں عملی میدان میں بھی خان نے اپنا سکہ جما دیا ہے۔

عمران خان: بس کردو اب۔۔۔رمشا تبسم

رہ گیا ہمارا آپ کا مشترکہ مگر متروک اثاثہ، ادب ۔ ۔ تو حالیہ ٹویٹ سے وزیر اعظم کا یہی مقصد تھا جو پورا ہوا۔ کراچی سے پشاور تک کس شہر میں معدودے چند کے علاوہ کسی کو ٹیگور یا خلیل جبران کا معلوم تھا۔ لیکن آج دیکھ لیجئے ، پوری دنیا میں ان دونوں فراموش کردہ ہستیوں کے افکار پر غور و فکر کیا جا رہا ہے۔
مخالفین لاکھ طنز کرتے رہیں کہ وزیراعظم ہاؤس کو یونیورسٹی نہیں بنایا جا سکا۔ مگر ناچیز کی رائے میں اس کی ضرورت ہی کیا ہے۔ جب وزیر اعظم خود اپنی ذات میں دنیا کی موثر ترین یونیورسٹی ہیں۔
اور یہی علمی انقلاب اس تبدیلی کا حاصل وصول ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *