حسان عالمگیر عباسی کی تحاریر

مشترکات/حسان عالمگیر عباسی

اوّل تو موازنہ بنتا ہی نہیں ہے۔آفت یا قدرتی آفت اور مذہبی جنگ کی نفسیات مختلف ہی نہیں انتہائی مختلف ہے۔ دیگر یہی کہ عام لوگ دنیا کے کسی بھی کونے میں ظالم طبیعتیں ہوتی ہی نہیں ہیں بلکہ منفرد←  مزید پڑھیے

وائب/حسان عالمگیر عباسی

کرسمس کی تقریبات جوبن پر ہیں۔ ہر تقریب کی ایک وائب (vibe) ہوتی ہے لیکن نشانیاں اور علامتیں (signs and symbols) ہمیشہ ان کے لیے ہیں جو غور کرتے ہیں اور عقل کا استعمال (reasoning) کرتے ہیں۔ عقل مندی ایک←  مزید پڑھیے

معنویت/حسان عالمگیر عباسی

جنگلات یا اس کی اہمیت کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔ ایک جگہ لکھا تھا کہ ہر وہ شے جو موجود ہے اہمیت سے خالی نہیں ہے۔ یوں تو روز سورج نکلتا ہے غروب ہو جاتا ہے۔ اس کا ایک←  مزید پڑھیے

انوکھیاں/حسان عالمگیر عباسی

جمہوریت کا مطلب دنگا فساد نہیں ہوتا اور جمہوریت کا مطلب ریاستی تشدد بھی نہیں ہوتا۔ جمہوریت سیاسی کارکنان کی قربانیوں کا مذاق اڑانا بھی نہیں ہے اور جمہوریت کارکنان کا بنا کسی ایجنڈے اور باقاعدہ قیادت کے نکل کھڑے←  مزید پڑھیے

سَرما سُر/حسان عالمگیر عباسی

بارشیں سالہا سال ہوتی رہتی ہیں لیکن سرما کی پہلی بارش ایک خاص حیثیت رکھتی ہے۔ تنکا تنکا پیغام رسانی کا ذریعہ ہے۔ اول اول یہ اداسی کا سبب بھی بنتی ہے۔ برف برستی ہے تو آہٹ دھیمی رہتی ہے←  مزید پڑھیے

اصل دراصل/حسان عالمگیر عباسی

کسی چیز کی اصل اور اصل کی حالات و واقعات کے پیش نظر اثر پزیری دو مختلف معاملات ہیں۔ اصل دراصل کچھ نہیں ہے۔ اصل مغلوب ہے۔ یہی وجہ ہے تہذیب مذہب اور دیگر فورس مشینریز جب ثقافتی و سماجی←  مزید پڑھیے

بیانیہ/حسان عالمگیر عباسی

ایک ویڈیو دیکھی جو پذیرائی پکڑ رہی تھی۔ بتا رہی تھی فلاں ابن فلاں کا ڈھابہ بہت اعلی ٰہے۔ پذیرائی مل رہی ہے کیونکہ بریانی بہت زبردست ہے۔ بریانی کھائی تو چائے کا تقاضا ہوا جو بھی بہترین تھی جس←  مزید پڑھیے

رنجشیں تھیں بہت/حسان عالمگیر عباسی

زبان ایک پیغام رسانی کا ذریعہ ہے لیکن کبھی کبھی زبان بھی دھکم پیل کا شکار ہو جاتی ہے جب پیغام ‘حد ہے اور بے حد ہے’ کے مانند ہو اور الفاظ کا انتہائی محدود ذخیرہ یا لا متناہیت بر←  مزید پڑھیے

انوکھا رنگ/حسان عالمگیر عباسی

ایک پرندہ میرے آشیانے پہ آیا اور درخت کی ایک باریک سی  ٹہنی پہ اس نے چند سانسیں لیں اور اڑ گیا۔ قریب میں پسندیدہ ترین درخت کی گولائی والی ٹہنی پہ لمبے ناخنوں کی مدد سے پنجے جمانے لگا۔←  مزید پڑھیے

اداس نسلیں/حسان عالمگیر عباسی

دنیا بے رحمی اور بے حسی کی نظر ہو جائے کا مطلب یہی ہے کہ انسانوں نے اتنی زندگیاں گزار لیں لیکن ابھی تک یہ بندوبست نہ کر پائے یا شعور ترقی و ارتقائی مراحل کامیابی سے طے کرنے کی←  مزید پڑھیے

مکالمہ مبارک ہو/حسان عالمگیر عباسی

مکالمہ؟! مکالمہ چھ حروف پہ مشتمل ایک لفظ ہے لیکن زبان اتنے ترقیاتی منصوبوں پہ کام کر چکی ہے یا ترقی کے اتنے منازل طے کر چکی ہے کہ ایک حرف باقی حروف سے یکجا ہو چکنے کے بعد ایک←  مزید پڑھیے

سچ/حسان عا لمگیر عباسی

سچ کی کھوج ہی سچ ہے۔ سچ کبھی بادل میں نظر آجاتا ہے اور یہی سچ کبھی کبھی سورج کی کرن بن کر سنبھال لیتا ہے۔ تردید سچ نہیں ہے چونکہ تردید کا مطلب انکار ہے اور انکار کا مطلب←  مزید پڑھیے

چائے چہ معنی/حسان عالمگیر عباسی

میرے نزدیک بہترین تجربہ اور سیکھنا فطری ماحول سے منسلک ہے کیونکہ فطرت سے منسلک حضرات ہزاروں رنگوں اور نظریات سے واقف ہوتے ہیں۔ ہمیں صرف بنگاہ محترم فطری وائبز کو بہترین انداز سے مدعو کرنے کی دیر ہے اور←  مزید پڑھیے

آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا/حسان عالمگیر عباسی

ایک بچے نے بتایا، پاس میں ایک چڑیا کا گھونسلا ہے،وہ چوٹی پہ ہے۔ اس چوٹی تک پہنچنا بھی محال ہے چونکہ یہ درخت گولائی میں کھڑا ہے اور گولائی بالکل چٹ پٹ جٹ ہے۔ سیدھا، پھسلن لیے، گول مول،←  مزید پڑھیے

کرشمہ سازی/حسان عالمگیر عباسی

ایک درخت بالکل نظر کے سامنے ہے۔ عرصہ قریب میں اس پہ ناشپاتیوں کا ڈھیر ہو گا۔ آخری قرب میں اس میں توجہ کھینچنے کا رجحان بہت کم تھا کیونکہ کشش، جاذبیت اور دلکشی (attraction) اب سامنے آئی ہے۔ لمحہ←  مزید پڑھیے

جڑ/حسان عالمگیر عباسی

آج کل شیراز کی دھوم ہے۔ دھوم دھڑکے ہیں۔ قطع نظر اس سے کہ وہ لاہور کراچی یا دیگر شہروں میں آ گیا ہے اور میمز بن رہی ہیں اور واہ واہ ہو رہی ہے اور ٹی وی سکرین پہ←  مزید پڑھیے

خاموشی/حسان عالمگیر عباسی

آج دن کو سن رہا تھا کہ وائبز یہ ہوتی ہیں کہ آپ جہاں موجود ہیں اور وہاں موجودین کی موجودگی سے پیدا ہونے والا جیسا بھی احساس اس تعریف میں آتا ہے۔ فطرت سے ملنے والی خبریں بھی اسی←  مزید پڑھیے

پھیکا پن/حسان عالمگیر عباسی

انسانیت اس وقت متزلزل ہے۔ تعصبات اوڑھے ہوئے ہے۔ ہزاروں سمجھوتے کیے جاتے ہیں اور گاڑی چل پڑتی ہے لیکن جب لاش گر جائے تو سکوت طاری ہونا بنتا ہے اور جب لاشوں کی لاشیں گرا دی جائیں اور حقارت←  مزید پڑھیے

تسلسل/حسان عالمگیر عباسی

مرضی ہی کرنی ہے تو الیکشن کے بغیر بھی ہو سکتی ہے اور مرضی کا نام جمہوریت تو نہیں ہو سکتا۔ انتخابات ایک جمہوری سوچ کا نام ہے اور انتخابات ہوتے رہنا بھی ایک جمہوری تسلسل ہے لیکن یہاں جمہوریت←  مزید پڑھیے

قدرتی رنگ اور سیاہی/حسان عالمگیر عباسی

قدرت کے ڈھیروں رنگ ہیں۔ یہاں موسموں کی فراوانی ہے اور یہ بدلتے موسم ہی دراصل قلم کو سیاہی فراہم کرتے ہیں اور وہ سیاہی پھر قلم کی نوک مطلب بیرونی دروازے سے باہر نکلتے ہی طرح طرح کے رنگ←  مزید پڑھیے