معاذ بن محمود کی تحاریر
معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

مکالمہ بسلسلہ قادیانیت، یہودیت، نصرانیت، قنوطیت وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

یہ ہمارا وہ مؤقف ہے جس کے پیش نظر ہم ہر طبقہ فکر بشمول قادیانی، یہودی، نصرانی، قنوطی، ہندو، غرضیکہ سب کو اپنی بات لکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

جنازے پر خوشی، کم عقلی یا تربیت میں سقم؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

جنازے کے آداب بھی عموماً بچہ گھر والوں سے سیکھتا ہے۔ میرے نزدیک بیگم کلثوم نواز کی وفات پر طوفان بدتمیزی مچانے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی تھی جنہیں والدین کی جانب سے مناسب تربیت نہ مل سکی۔ ہم اس رویے کو سو فیصد والدین پہ نہ بھی ڈالیں تب بھی انسانی رویہ بہت حد تک ارد گرد کے ماحول کے مرہون منت ضرور ہوتا ہے۔ ہم اس “کسی حد” کے تناسب میں اختلاف رکھ سکتے ہیں لیکن اس سے انکار ہرگز نہیں کر سکتے۔ ←  مزید پڑھیے

ہتھوڑا مین: ایک گمنام سپر ہیرو ۔۔۔ معاذ بن محمود

  جھیل کے نیلگوں پانی میں جس قدر زندگی جھلکتی ہے باہر کی دنیا میں اتنا ہی سناٹا رہتا ہے۔ مغرب کو ڈوبتا سورج اس سناٹے میں اندھیرے کی آمیزش کرنے کے درپے ہے۔ جھیل کے ارد گرد گھنا جنگل←  مزید پڑھیے

نئی حکومت پہ تعریف و تنقید ۔۔۔ معاذ بن محمود

قوم ایک نئے پاکستان میں داخل ہوچکی ہے۔ یہ نیا پاکستان ایک ملٹی ڈائمینشنل ریاست ہے، یعنی ایک ایسی ریاست جو عام حالات میں ریاست مدینہ کا درجہ رکھتی ہے تاہم ڈوریاں ہلانے والوں کا جب دل کرتا ہے اس←  مزید پڑھیے

(نیا) پاکستان۔۔۔ معاذ بن محمود

نوٹ: راقم الحروف راسخ العقیدہ پاکستانی ہے کہ جس کا ایمان مضبوط ہے کہ (نیا) پاکستان بن رہا ہے اور انشاءاللہ مکمل ہو کر رہے گا۔ پس اسی بنیاد پر ناچیز مسکین سا فدوی بن کر گزارش کرتا ہے کہ←  مزید پڑھیے

بھوٹانی بکرے ۔۔۔ معاذ بن محمود

عید الاضحیٰ کی آمد آمد ہے۔ ماحول میں مینگنیوں کی جملہ اقسام اپنے وجود کا احساس دلا رہی ہیں۔ فضاء فضلاءِ حیوانات کی بھینی بھینی بدبو سے متعفن ہے۔ گھر سے نکلتے ہی طرح طرح کے چوپائے سر اٹھا کر←  مزید پڑھیے

ریاست یا متنجن؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

بچپن ہر کھانے سے کچھ دیر پہلے دروازے پہ دستک ہوا کرتی تھی۔ “کون؟” پہ جواب آتا “وظیفہ رؤڑئے خدائے دی او بخئی” یعنی “وظیفہ لے آئیے خدا (آپ کے گناہ) بخشے”۔ دروازہ کھلنے پر مسجد کے معصوم طالب علم،←  مزید پڑھیے

آزادی؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

دوکان کے اندرونی کمرے میں رکھا ٹیپ ریکارڈ آنے والے یوم آزادی کی نوید سنائے جا رہا تھا۔  “جنون سے اور عشق سے۔۔ ملتی ہے۔۔ آزادی قربانی کی راہوں میں۔۔۔ ملتی ہے۔۔۔ آزادی” “بھائی یہ کیا ہے؟ دکھانا ذرا”۔ بلاول←  مزید پڑھیے

ایک درویشی کالم ۔۔۔ معاذ بن محمود

عجب دور ہے کہ معاشرہ زوال پذیر مگر معاشرے میں قحط الرجال عروج پہ ہے۔ وہ کہتی تھی میرے کرن ارجن آئیں گے۔ یہ بھلا کیسے ممکن تھا۔ پاک ہے وہ ادارہ جس نے انہیں چلتی زمین سے نگل ڈالا۔←  مزید پڑھیے

آزاد اراکین اور حکایات آصف محمود ۔۔۔ معاذ بن محمود

ایڈیٹر نوٹ: ادارہ مکالمے کی ترویج کے لیے ہر شائع شدہ مضمون کے جواب کو خوش آمدید کہتا ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی جناب آصف محمود صاحب کی جانب سے چھپے مضمون “آزاد اراکین اور عمران خان کے نومولود←  مزید پڑھیے

گمشدہ افراد، ابو علیحہ اور ولندیزی ماتا ہری ۔۔۔معاذ بن محمود

ابو علیحہ واپس آگیا۔ کہرام مچنا برحق تھا، سو مچا ہوا ہے۔ کوڈے کے وہ مقلدین جو علی سجاد شاہ کی غیر موجودگی میں پولی پولی ڈھولکی بجانے میں مصروف تھے، آج سیخ پا ملے۔ پوچھا تو شک یقین میں←  مزید پڑھیے

آگے بڑھئیے ۔۔۔ معاذ بن محمود

بالآخر ایک اور اہم دن مکمل ہوا۔ انتخابات دو ہزار اٹھارہ سوائے ایک بڑے واقعے کے مجموعی طور پر پر امن طریقے سے مکمل ہوئے۔ بیشک پاکستانی فوج، پولیس اور تمام سیکیورٹی ادارے اس حقیقت پر خراج تحسین کے حقدار←  مزید پڑھیے

بوٹ کو عزت دو ۔۔۔ معاذ بن محمود

وہ پریشان تھا۔ گزشتہ کئی سالوں میں یہ پہلی بار تھی کہ اسے اس قدر کھل کر یہ کام کرنا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ آج عوام کی بڑی تعداد باہر ہوگی۔ اسے معلوم تھا کہ آج محلے والوں سے←  مزید پڑھیے

نیوٹران ۔۔۔ معاذ بن محمود

پچیس جولائی تک فیس بک کی غیر مرئی دنیا کا درجہ حرارت بڑھا ہوا ہے۔ اچھے خاصے پیارے دوست جو کبھی خالص ادب لکھا کرتے تھے آج کل بغض اور تعصب نگاری کے شاہکار دیے جارہے ہیں۔ لبرل کی جس←  مزید پڑھیے

پچیس جولائی کو ایک سیاسی لیڈر کی فاتحانہ تقریر ۔۔۔ معاذ بن محمود

(بیک گراؤنڈ میں گانا “میں نی بولدی او لوگوں میں نی بولدی میرے وچ میرا یار بول دا”)۔  میرے عزیز ہم وطنوں! او میرے عزیز ہم وطنوں! او بیٹھ جاؤ۔ میں کہتا ہوں بیٹھ جاؤ۔ آپ۔۔ جی جی آپ۔۔ محترمہ←  مزید پڑھیے

ریحام نامہ – حصۂ دوم

ایڈیٹر نوٹ: ریحام خان کی کتاب سے لیے گئے اقتباسات کا یہ ترجمہ قارئین کی دلچسپی کیلئیے شائع کیا جا رہا ہے۔ مکالمہ کا لگائے گئے الزامات یا بتائے واقعات کی سچائی سے اتفاق ضروری نہیں۔ اگر کوئی جواب دینا←  مزید پڑھیے

ریحام نامہ – حصہ اوّل

ایڈیٹر نوٹ: ریحام خان کی کتاب سے لیے گئے اقتباسات کا یہ ترجمہ قارئین کی دلچسپی کیلئیے شائع کیا جا رہا ہے۔ مکالمہ کا لگائے گئے الزامات یا بتائے واقعات کی سچائی سے اتفاق ضروری نہیں۔ اگر کوئی جواب دینا←  مزید پڑھیے

That’s All Folks

کمرے میں اندھیرا تھا۔ دروازے سے ہلکی سفید روشنی کی لکیر اس کے کینوس پر پڑ رہی تھی۔ اس کے آنسو ٹپک رہے تھے۔ آنکھیں سرخ تھیں اور چہرے پہ غم واضح تھا۔ وہ اکیلا تھا۔ دوسرے کمرے میں بیوی←  مزید پڑھیے

اتفاق سے ۔۔۔معاذ بن محمود

پیارے دوستوں، آج ہم آپ کو ایک اتفاقیہ کہانی سنائیں گے۔ اس کہانی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں وقوع پذیر ہونے والے تمام واقعات اتفاق سے محض اتفاقیہ ہیں۔  کئی برس ہوئے کہ اتفاق سے ایک آمر←  مزید پڑھیے

محکمہ زراعت بھوٹان کی خدمات پر نوٹ

مملکت بھوٹان عسکری طور پہ زرخیز ہونے کے باعث محکمہ زراعت پہ خوب انحصار کرتا ہے۔ محکمہ زراعت زر کی آہٹ جہاں سنتا ہے، کھیتی ماڑی کرنے پہنچ جاتا ہے۔ اوکاڑہ میں محکمہ زراعت کے کھیت کھلیان پوری کیلا ریپبلک←  مزید پڑھیے