معاذ بن محمود کی تحاریر
معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

سانجھے دکھ ۔۔۔ اداریہ مکالمہ

ادارہ مکالمہ اپنی تمام تر انتظامیہ، لکھاری اور قارئین کے ہمراہ محترم قمر الزمان کائرہ صاحب کے اس دکھ میں برابر کا شریک ہے۔ اللہ تعالی مرحوم اسامہ کے اگلے جہاں بہترین فرمائے اور کائرہ صاحب اور اہل و عیال کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔ آمین۔←  مزید پڑھیے

تماش بین ۔۔۔ معاذ بن محمود

واقعی، دنیا فقط تماشہ ہے ان کے آگے۔ یہ اخلاق کا تماشہ دیکھتے ہیں، جذبات کا تماشہ دیکھتے ہیں، حالات کا تماشہ دیکھتے ہیں، اجسام کا تماشہ دیکھتے ہیں، اغلاط کا تماشہ دیکھتے ہیں، اوصاف کا تماشہ دیکھتے ہیں، اولاد کا تماشہ دیکھتے ہیں، افکار کا تماشہ دیکھتے ہیں۔ یہ اس قدر بے حس ہیں کہ انسان ہو کر بھی انسان کا تماشہ دیکھتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

مقدمۂ پولیس ۔۔۔ معاذ بن محمود

اس کے بعد مقدمات کے سلسلے میں اوسط ۷ چکر ہائی کورٹ اور ۱۰ چکر ڈی پی او آفس کے لگانے پڑتے ہیں۔ رحیم یار خان کے ایک تھانے کے لیے فی چکر پیٹرول کا خرچ ۲۰۰۰ روپے پڑتا ہے۔ کھانا پینا اس کے علاوہ۔ اس خرچ کو پورا کرنے کے لیے TA/DA الاؤنس نامی الگ سے کوئی شے اب وجود نہیں رکھتی۔ پہلے اس کا نفاذ تھا جو مختلف وجوہات بشمول کرپشن کے ختم کر دی گئی۔ وردی میں پبلک ٹرانسپورٹ قابل عمل نہیں۔ اہلکار کسی طرح ذاتی ٹرانسپورٹ خرید بھی لے تب بھی فیول کا خرچ ایک آسیب سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں۔ کسی اہلکار کے گھر بیماری یا پریشانی یا بچوں کے شادی بیاہ کے لیے نہ کسی قسم کا قرضہ دستیاب ہوتا ہے نہ کوئی امداد۔ ایسے حالات میں رشوت انتخاب نہیں مجبوری بن جاتی ہے۔ یاد رہے ہر اہلکار رشوت لیتا بھی نہیں اور نہ ہی لینا چاہتا ہے۔←  مزید پڑھیے

تھیسز برائے ریسرچ پراجیکٹ “معیشت پر سفلی اثرات” ۔۔۔ معاذ بن محمود

مثل مشہور ہے ایک بار شیطان جو کرنے کی ٹھان لے پھر وہ اپنی بھی نہیں سنتا۔ الحمد للّٰہ خان نے کسی کی نہ سنتے ہوئے وزیر سائینس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور خاتونِ سوئم کی مشاورت سے سنہ ۲۰۱۹ میں القادر یونیورسٹی آف سائینس اینڈ روحانیات کا قیام عمل پذیر فرمایا۔ آج تین سال گزر جانے کے بعد یہ جامعہ مدنی تکیے میں برف اور ہتھوڑے کی فعالی، ریاست مدینہ کی نظریاتی سرحدوں کی سائنسی و روحانی مانیٹرنگ، لفظ “روحانیت” کی مختلف غیر مروجہ طریقوں سے ادائیگی، پرچی کی کرامات، محکمۂ زراعت کی جانب سے فصلوں اور فصلی بٹیروں کی کٹائی کے نت نئے طریقے اور پشاور میٹرو کی روزِ قیامت تکمیل پر اہم ریسرچ جاری رکھے ہوئے ہے۔ ←  مزید پڑھیے

عوامی لیڈران، اکابرینِ سوشل میڈیا اور اخلاقیات ۔۔۔ معاذ بن محمود

مشرف دور میں جن دنوں دہشتگردی اپنے عروج پر تھی ان دنوں خود کش حملہ آوروں کی نسبت سے ایک سافٹ کارنر ضرور رکھا جاتا تھا۔ بدقسمتی سے ن لیگ ہو یا تحریک انصاف، جہاں موقع ملتا حکومت کی ضد میں یا اپنی کرسی کی ہوس میں مخالف جماعتیں دہشتگردی کی ان تاویلات میں اپنا وزن ڈال دیتیں۔ جماعت اسلامی کا تو خیر اس معاملے میں ذکر کرنا فضول ہے کہ امیر کی جانب سے قتال کا کلچر عام کرنے کی استدعا والا بیانیہ نری دہشت گردی ہی ٹھہری۔ ←  مزید پڑھیے

فاصلے ۔۔۔ معاذ بن محمود

ہاں یہ ٹھیک ہے کہ میں نے ساری زندگی اسے سختی سے صراطِ مستقیم پر چلائے رکھا۔ یقیناً اسے برا محسوس ہوتا ہوگا جب وہ رات بھر کتابیں سامنے رکھے اپنے مستقبل کی تیاری پر مجبور ہوتا ہوگا، شاید میری ناراضگی کے پیش نظر۔ لیکن اسے محسوس کرنا چاہئے تھا کہ یہ سب اسی کی بہتری کے لیے ہے ورنہ یہ ظالم دنیا اسے رزق کے حصول میں خوب ستائے گی۔ یہ سماج، جس زاویے سے میں اسے دیکھتا، ایک جاہل یا کم تعلیم یافتہ شخص کو مستقبل میں ساتھ بٹھانے سے بھی انکاری ہوتا۔ اسے غصہ بھی آتا ہوگا جب اس کی دوسری پوزیشن پر میں اسے پہلی پوزیشن حاصل نہ کی یاد دہانی کرواتا رہا۔ لیکن اسے سمجھنا چاہئے تھا کہ کل کو اس کے ساتھ پوری دنیا یہی رویہ رکھے گی۔ کیا اسے زمانے کی سرد مہری کے لیے تیار کرنا میری ذمہ داری نہیں تھی؟←  مزید پڑھیے

شب برأت اور حاجی صاحب کی ڈائری ۔۔۔ معاذ بن محمود

حاجن نیک بخت کو ہم پر پہلے ترس اور پھر پیار آیا۔ پرانا باسی جوڑا ہونے کے ناطے معافی تلافی کے بعد ہم نے باجماعت نماز قضاء کرنے کا فیصلہ کیا اور محبت کی وہ لازوال داستان ایک بار پھر سے رقم کرنے کی ناکام کوشش کی جسے یاد کرتے ہوئے ہم دونوں ہی قدرے شرمندہ سے ہوگئے۔ ہم آخر کو شہر کے گنجان آباد علاقے میں کپڑوں کا کام کرتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر صنف مخالف کی نوخیز کلیوں کو جھیلا کرتے ہیں۔ دوسری جانب حاجن نیک بخت ہر ہندوستانی فلم کی دیوانی ہیں۔ یوں درازیِ عمر کے باوجود ہم دونوں کے جذبے جوان تھے۔ نتیجتاً قضائے فجر کے فیصلے کی اہتمام کے ساتھ توثیق تو ہوئی تاہم ہزار میں ہر ہر خواہش پر ایک ایک کر کے دم ہی نکلتا رہا۔ ←  مزید پڑھیے

ارماڑہ کی وہ رات۔۔۔ معاذ بن محمود

  یہ قصہ  اس ایک رات کا ہے جس کا احساس میں آج بھی لفاظی کا سہارہ لے کر سہی معنوں میں بیان نہیں کر سکتا۔ کوشش کرنے میں بہرحال کوئی مضائقہ نہیں۔ ۲۰۱۳ جنوری میں ان دنوں ارماڑہ نیول←  مزید پڑھیے

آداب، اخلاقیات اور شمیم آراء ۔۔۔ معاذ بن محمود

  دو عدد مثالوں سے بات شروع کرتے ہیں۔ پہلی مثال: “آپ اخلاقیات کے معاملے میں شمیم آراء والی سسکیوں کے عادی ہیں”۔ دوسری مثال: “آپ کا یہ کمنٹ ہمیں برا لگا، وجہ بتانے کا میرے پاس وقت نہیں، یہ←  مزید پڑھیے

معرفت، ادراک، اولیاء اور پیرِ کامل ۔۔۔ معاذ بن محمود

جاتی عمرہ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق ولی کو بھی جوانی تک ولایت کا علم نہ تھا۔ تب مذکورہ سابق ولی گاڑیوں کے ساتھ شاہدرہ کی پہاڑیوں پر تصویریں کھنچوایا کرتا۔ پھر اس نے بحالت مجبوری ایک ڈنڈا پیر کے ہاتھ پر بیعت کا اعلان کیا۔ یہاں سے اس پر ادراک کے کشف منکشف ہوئے اور وہ صوبائی ولایت سے ہوتا ہوا وفاقی ولایت تک تین بار کامیابی سے پہنچا۔ یہ شخص ولایت کے درجے پر کئی دہائیوں تک فائز رہا۔ پھر ایک دن اسے معلوم ہوا کہ اسے تفویض کردہ ولایت تو محض نام کی ہے، اصل اختیار تو آج بھی پیرِ کامل کے پاس ہے۔ معاملہ اختیار تک ہوتا تو بات قابلِ فہم بھی رہتی، پیرِ کامل دراصل ولایت کے مالیات یعنی چندے کے ڈبے تک پر سانپ بن کے براجمان رہتے ہیں۔ جس دن سابق ولی کو یہ معاملہ سمجھ آیا، اس نے نے اختیار و مالیاتِ اعلی کے لیے جدوجہد شروع کر دی جو پیرِ کامل کو ہرگز پسند نہ آئی۔←  مزید پڑھیے

حقوقِ نسواں،مذاہب اور رویے ۔۔۔ معاذ بن محمود

میری ناقص رائے میں یہود بھی اپنی الہامی کتب کے حوالے سے عورت کے معاملے میں کنزرویٹو ہیں اور عیسائی بھی۔ اس کے باوجود اسلام سے پہلے کی روایات اور معاشرہ کچھ ایسا تھا کہ سیدہ خدیجہ رض نے نبی کریم ص کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ کہیں اسے برا سمجھنے کی روایت نہیں ملتی۔ آج کے اسلامی معاشرے کی عام عورت ایسا کرے تو اکثر اسے کم سے کم بھی عجیب ضرور کہیں گے۔ مطلب تب بیشک معاشرتی روایات مذہبی احکامات سے نہ ٹکراتی ہوں مگر اب ایسا ہوتا ہے۔←  مزید پڑھیے

پولی پولی ڈھولکی؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

مجھے آپ سب قارئین کی معصومیت پر پورا بھروسہ ہے۔ پھر بھی ڈھٹائی کہہ لیجیے یا چند معصومین کے وجود پر ایمان، یہ چھوٹا سا لطیفہ پھر سے سنائے دیتا ہوں۔ اس کے بعد باقی کی بات کرتے ہیں۔ ایک←  مزید پڑھیے

زرتاج گل کی ڈائری سے ایک اقتباس ۔۔۔ معاذ بن محمود

قائد کے ایک جانب ڈبو اور دوسری جانب فواد چوہدری دو زانو بیٹھے تھے۔ مجھے فواد چوہدری سے خوف محسوس ہوا۔ قائد جہاں دیدہ گھاگ ہیں۔ بھانپ گئے۔ ڈبو کی جانب گھور کر بولے فواد اٹھو اور وہاں بیٹھ جاؤ بزدار کے ساتھ، جوتیوں کے پاس۔ فواد اٹھے اور اسد عمر کے پاس بیٹھ گئے۔ قائد بولے جوتیوں کے پاس کہا ہے۔ جیم سے جوتیاں۔ چ نہیں۔ فواد معذرت خواہانہ انداز میں اٹھے اور بزدار بھائی کے پاس بیٹھ گئے۔ واپس میری طرف مڑ کر پوچھنے لگے ہاں تو کیا کہہ رہی تھیں تم؟ میں نے اپنا سوال دوہرایا۔ آپ کہتے تھے قومیں میٹرو سے ترقی نہیں کرتیں۔ پھر پشاور میٹرو کیوں؟ قائد مسکرائے۔ اسد عمر کی طرف دیکھا۔ پوچھے ہے کوئی جواب؟ اسد صاحب ٹھیک سے سن نہ پائے۔ سمجھے ڈالر کا ریٹ پوچھا سو بتا دیا۔←  مزید پڑھیے

موٹاپا، ذیابیطس، کولیسٹرول اور ذاتی مشاہدات ۔۔۔ معاذ بن محمود

  متحدہ عرب امارات شفٹ ہونے کے بعد قریب ایک سال ڈرائیونگ لائسنس لینے میں لگ گیا۔ اس دوران گھر سے میٹرو، میٹرو سے آفس اور پھر واپسی کے اسی سفر کے بعد رات کے کھانے اور چائے کے بہانے←  مزید پڑھیے

موجودہ حکومت اور سکیری مووی ۔۔۔ معاذ بن محمود

انگریزی مزاحیہ فلم سیریز سکیری مووی (Scary Movie) پانچ فلموں کا مجموعہ ہے جن میں اپنے دور کی مشہور خوفناک (ہارر) فلموں کی کہانی کو لے کر طنز و مزاح کیا گیا ہے۔ یہ فلم ہر کسی کے مزاج سے مطابقت نہیں رکھتی بالکل ویسے ہی جیسے موجودہ دور حکومت کسی کے لیے خوفناک تو کسی کے لیے ایک مزاحیہ فلم کی طرح ہے۔ جس کا شمار موجودہ حکومت کے نابینا مداحوں میں ہوتا ہے اس کے لیے یہاں تک کا سفر ہی ناقابل برداشت ہوچکا ہوگا۔ ایسی صورت میں کمنٹ باکس گالیوں کے لیے حاضر ہے۔ البتہ جس کی حس مزاح جذباتیت اور سیاسی وابستگی سے مبرا ہے اس کے لیے سکیری مووی کے کچھ مناظر پیش ہیں۔ ←  مزید پڑھیے

متنازعہ موضوعات سے متعلق مکالمہ پالیسی پر ایک جائزہ

زیر قلم اس مضمون کی ضرورت تب پیش آئی جب مکالمہ کے چند قارئین نے عورت مارچ پر رائٹ ونگ کی جانب سے شائع شدہ مضامین پر اعتراض اٹھایا کہ یہ “غلط افکار” معاشرے کے لیے نقصان دہ ہیں۔ ایسے خیالات کے حامل قارئین پر میں اس مضمون کے توسط سے واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مکالمہ حق اور باطل کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ یہ اختیار ہم قاری پر چھوڑتے ہیں اور اسے اس بات کی ترغیب دیتے ہیں کہ کمنٹس میں اپنی جھنجھلاہٹ نکالنے کی بجائے ہمارے ایڈیٹرز کو اپنا جوابی مضمون بھیجیں تاکہ ہم اسے جواب یا جواب الجواب کے طور پر مکالمہ ویب سائٹ اور موبائل ایپ پر شائع کر سکیں۔ میں مکالمہ کے قارئین کو اس حقیقت کی یاددہانی کروانا چاہتا ہوں کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے مابین اختلافات کا وجود عین قدرتی ہے تاہم انہیں ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش سے انکار معاشرتی سطح پر ایک جرم کی طرح ہے۔←  مزید پڑھیے

سانحۂ کرائسٹ چرچ اور منہ کے مجاہد ۔۔۔ معاذ بن محمود

تیسرا ردعمل ان لوگوں کا سامنے آیا جو افواج پاکستان کی غلطیوں اور نامناسب پالیسیوں پر نالاں رہتے ہوئے افریقہ کے جنگلات میں مارے جانے والے مچھر کا تعلق بھی کسی نہ کسی طرح پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے جوڑ لیتے ہیں۔ اس طبقے نے اس سانحے پر سیدھی اور کھلی مذمت کی بجائے یہاں بھی کسی نہ کسی طرح بلوچستان اور گمشدہ افراد کا ذکر کر ڈالا۔ یہ راز رمز ہی رہے گا کہ یہ تعلق کیونکر اور کس طرح قائم کیا گیا تاہم حقیقت یہی کے کہ ایسے لوگ موجود ہیں اور بدقسمتی سے کئی سنجیدہ اور تعلیم یافتہ دوستوں کو ایسی باتیں کرتے دیکھا۔ ←  مزید پڑھیے

عورت مارچ اور جگت باز معاشرہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

مورخہ ۸ مارچ خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا گیا۔ ویسے تو یہ عالمی دن پورے عالم میں منایا جاتا ہے تاہم اب کے برس پاکستانی عوام میں اس موقع پر خصوصی جوش و خروش دیکھا گیا۔ وہ←  مزید پڑھیے

رانی ۔۔۔ معاذ بن محمود

رانی کی نظر کونے میں لیٹی بیٹی شہزادی پر پڑی جس کی آنکھیں باپ کے خوف سے بند ہونے کے باوجود نم تھیں۔ اگلے کئی لمحات بشیرے کی جانب سے رانی کے بدن کو فتح کرنے کے سراب میں اپنی شکست سے آنکھیں پھیرنے میں صرف ہوئے۔ وہ لاکھ کوشش کے باوجود اب تک اس تمام عمل کی عادی نہ ہوپائی تھی۔ جس رات بشیرے کا نشہ زیادہ ہوتا یہ جنگ جیسے لامتناہی مدت پا جاتی۔ آج بھی یہی معاملہ تھا۔ ←  مزید پڑھیے

بغض اور غداری ۔۔۔ معاذ بن محمود

بغض ایک لاعلاج مرض ہے۔ یہ مریض کو اندر ہی اندر کھاتا رہتا ہے۔ بغض کے مارے افراد حقیقت، اصول پسندی اور دلیل کا استعمال کر کے مثبت طریقے سے نتائج حاصل کرنے کی بجائے اپنی نفرت کے زیراثر ریورس←  مزید پڑھیے