معاذ بن محمود کی تحاریر
معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

یادیں ۔۔۔ معاذ بن محمود

ہر جانب مٹی ہی مٹی، دھول ہی دھول تھی۔ عام حالات میں مجھے دھول سے سخت الجھن ہوا کرتی ہے۔ اس وقت پورا جسم گرد میں اٹا پڑا تھا اور میرا ذہن ایک ہی سوال میں الجھا پڑا تھا: “اس سے برا وقت بھلا کیا ہوسکتا ہے؟”←  مزید پڑھیے

ایک رخصت ہوتے حیف جسٹس کی یاد میں ۔۔۔ معاذ بن محمود

دل پرسکون بے سکون ہے۔ ذہن بے فکر فکر میں گم ہے۔ مملکت خداداد پاکستان کا کیا بنے گا؟ اب ناانصافی انصاف کی رکھوالی کون کیا کرے گا؟ فوج عوام کے حقوق کا محافظ کون بنے گا؟ یقین ہے فوجیوں←  مزید پڑھیے

آسیہ بی بی بیرون ملک روانہ ۔۔۔ مکالمہ خصوصی

توہین رسالت  مقدمے میں رہائی کے بعد آسیہ بی بی کو بیرون ملک روانہ کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق راولپنڈی نور خان ائیر بیس سے آسیہ بی بی نیدرلینڈ کے سفیر اور اپنے خاندان سمیت ملک سے باہر←  مزید پڑھیے

سوشل میڈیا کے شرپسند اور حفاظتی تدابیر ۔۔۔ معاذ بن محمود

چونکہ مارک زکربرگ کی ٹیم نے کسی بھی پروفائل کو اپنے عزیز و اقارب کی فہرست میں شامل کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا ہے لہذا چند “بیسٹ پریکٹسز” یا اصول وضع کیے جانا بہت اہم ہے جن کے تحت کسی کو فرینڈ لسٹ میں شامل کرنے یا نہ کرنے، کسی کی فرینڈ ریکویسٹ قبول کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جاسکے۔ یہ میری ذاتی رائے ہے جس کے تحت میری ٹائم لائن دسمبر 2006 سے آج نومبر 2018 تک سوائے ایک ناخوشگوار واقعے کے پرامن ہے۔ اوپر بیان کیے گئے ایک واقعے کے بعد میں نے اپنے اصولوں کو مزید بہتر کیا اور آخری ورژن وضع کیا جو درج ذیل ہے۔ ←  مزید پڑھیے

آسیہ مسیح کیس پر ردعمل اور چند اعراضات کے جوابات ۔۔۔ معاذ بن محمود

یہاں یہ بات کرنا بھی نہایت اہم ہے کہ عاشقان رسول کے جذبات کا خیال رکھنا بھی بیشک ایک اسلامی جمہوریہ پر فرض ہے اور اس کا پورا اہتمام لازم ہے۔ اس ضمن میں فی الوقت موجود قانون سازی اگر ناکافی ہے تو اس کی تکمیل پر اصرار ہونا چاہیے اور اگر کافی ہے تو اس پر عمل درآمد۔←  مزید پڑھیے

خاکوانی صاحب سے اختلاف کی جسارت ۔۔۔ معاذ بن محمود

اللہ تعالی کن فیکون پر قادر ہے۔ اس “کن” پر کوئی حد بندی نہیں۔ وہ لامتناہی قابلیت کا مالک ہے۔ پھر کہیں کا روڑہ کہیں اٹکانے، کوئی سی دو متضاد باتوں کا جوڑ بنانے اور ناقابل دفاع حقائق کا پورے دل و جان سے دفاع کرنے کی صلاحیت عطا فرمانا، قادر مطلق کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔←  مزید پڑھیے

وزیراعظم کے نام ایک کھلا خط ۔۔۔ معاذ بن محمود

جناب وزیراعظم، بڑی مشکل سے ہم اپنی نوجوان نسل کو افغان جہاد کے نام پر دہشت گردی کی عفریت سے دور کھینچ لائے ہیں۔ آپ محسوس نہیں کرتے کہ عشق رسول کے نام پر مچنے والا یہ غدر مذہبی شدت پسندی کی ایک نئی شکل ہے جس سے ابھی نہ نپٹا گیا تو مستقبل میں ایک بار پھر ہمیں اس کا شکار ہونا پڑے گا۔ ←  مزید پڑھیے

رحم مادر میں خود کلامی ۔۔۔ معاذ بن محمود

میں پریشان ہوں۔ میں سہما ہوا ہوں۔ نو ماہ کی اس قلیل مقید دنیا کے بعد چند دہائیوں کی ایک آزاد دنیا۔ اور پھر نوید ہے ایک اور عالم کی۔ جس عالم کے بارے میں سعیدیں ہیں، وعیدیں ہیں۔ کیا میں اس جہاں در جہاں سفر میں کامیاب ہو پاؤں گا؟ ←  مزید پڑھیے

“گدھے کا بچہ” ایک جلالی بزرگ کا جلالی کالم ۔۔۔ معاذ بن محمود

اب درویش کی آنکھیں نم ہونے لگتی ہیں۔ محلول کے نایاب ہونے پہ سر ہی نہیں بہت کچھ پھٹا جا رہا ہے۔ بلو ناہنجار رات سے کسی بوائے فرانڈ کے ساتھ غائب ہے۔ فون کرو تو پیغام بھیجتا ہے “ڈانٹ ڈسٹرب پلیز، آئی ایم ان میٹنگ”۔ گاڑی فقیر کو چلانی نہیں آتی۔ کیا کیا جائے؟ ←  مزید پڑھیے

قصے چند فراڈیوں کے ۔۔۔ معاذ بن محمود

دوستوں، ایسا ہے کہ روپیہ، درہم، ڈالر اور پاؤنڈ ان سب سے بڑی کرنسی وقت ہے۔ وقت کا کوئی مول نہیں ہوتا۔ جذبات کی رو میں بہہ کر اپنے آنے والے وقت کو جانتے بوجھتے ضائع کرنے والے، پھر اس کے بعد اپنی بیوقوفی کے دفاع میں تاویلیں دینے اور الٹا نقصان پہنچانے والے کی وکالت کرنے والے لوگ کائنات کے احمق ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں۔ ←  مزید پڑھیے

خاتون آخر کا انٹرویو اوّل ۔۔۔ معاذ بن محمود

ذیل انٹرویو حال ہی میں بھوٹان کے معروف بے زبان اینکر مدیم نلک نے بھوٹان کی خاتون آخر جناب صغراں بی بی سے لیا۔ انٹرویو جس قدر بندگی و بے بسی سے لیا گیا اس سے محسوس یہ ہوتا کہ انٹرویو لیا نہیں، دیا گیا ہے۔ بہرحال بھوٹان کے وزیراعظم چنگیز جان کی اہلیہ اور خاتون آخر کا انٹرویو پیش خدمت ہے۔ ←  مزید پڑھیے

لکھ مگر پیار سے ۔۔۔ معاذ بن محمود

دوستوں، ایسا ہے کہ میں نے تو بتیس سال کی عمر میں سیکھ لیا ہے کہ ہر چیز مال کے ترازو میں نہیں تولی جاتی۔ بالفرض کوئی لکھاری اس حقیقت سے نابلد ہے تو کم سے کم اتنی مہربانی ضرور کرے کہ اپنی تحریر کا کم سے کم معاوضہ بتا دیا کرے تاکہ ہم باقاعدہ طور پر یہ سودا شروع میں ہی منسوخ کر ڈالیں۔ بعد میں آپ کو بھی مسئلہ نہیں ہوگا اور ہم بھی دلی افسوس سے بچ جائیں گے۔←  مزید پڑھیے

ایک ہولناک خواب ۔۔۔ معاذ بن محمود

پھر یوں ہوا ایک دن مجھے راستہ سمجھ آنا شروع ہوگیا۔ میرے نالائق دوست بھی اب میری مدد کرنے لگے تھے۔ سب کچھ قابو میں آنے والا تھا مگر ایک مسئلہ تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ جس جگہ سے مجھے راستہ سمجھ آتا وہاں ایک دیوار کھڑی کر دی جاتی۔ کافی غور کرنے کے بعد سمجھ آئی کہ یہ دیوار تو ابا جی کے غنڈے کھڑی کرواتے ہیں۔ ←  مزید پڑھیے

مکالمہ بسلسلہ قادیانیت، یہودیت، نصرانیت، قنوطیت وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

یہ ہمارا وہ مؤقف ہے جس کے پیش نظر ہم ہر طبقہ فکر بشمول قادیانی، یہودی، نصرانی، قنوطی، ہندو، غرضیکہ سب کو اپنی بات لکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

جنازے پر خوشی، کم عقلی یا تربیت میں سقم؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

جنازے کے آداب بھی عموماً بچہ گھر والوں سے سیکھتا ہے۔ میرے نزدیک بیگم کلثوم نواز کی وفات پر طوفان بدتمیزی مچانے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی تھی جنہیں والدین کی جانب سے مناسب تربیت نہ مل سکی۔ ہم اس رویے کو سو فیصد والدین پہ نہ بھی ڈالیں تب بھی انسانی رویہ بہت حد تک ارد گرد کے ماحول کے مرہون منت ضرور ہوتا ہے۔ ہم اس “کسی حد” کے تناسب میں اختلاف رکھ سکتے ہیں لیکن اس سے انکار ہرگز نہیں کر سکتے۔ ←  مزید پڑھیے

ہتھوڑا مین: ایک گمنام سپر ہیرو ۔۔۔ معاذ بن محمود

  جھیل کے نیلگوں پانی میں جس قدر زندگی جھلکتی ہے باہر کی دنیا میں اتنا ہی سناٹا رہتا ہے۔ مغرب کو ڈوبتا سورج اس سناٹے میں اندھیرے کی آمیزش کرنے کے درپے ہے۔ جھیل کے ارد گرد گھنا جنگل←  مزید پڑھیے

نئی حکومت پہ تعریف و تنقید ۔۔۔ معاذ بن محمود

قوم ایک نئے پاکستان میں داخل ہوچکی ہے۔ یہ نیا پاکستان ایک ملٹی ڈائمینشنل ریاست ہے، یعنی ایک ایسی ریاست جو عام حالات میں ریاست مدینہ کا درجہ رکھتی ہے تاہم ڈوریاں ہلانے والوں کا جب دل کرتا ہے اس←  مزید پڑھیے

(نیا) پاکستان۔۔۔ معاذ بن محمود

نوٹ: راقم الحروف راسخ العقیدہ پاکستانی ہے کہ جس کا ایمان مضبوط ہے کہ (نیا) پاکستان بن رہا ہے اور انشاءاللہ مکمل ہو کر رہے گا۔ پس اسی بنیاد پر ناچیز مسکین سا فدوی بن کر گزارش کرتا ہے کہ←  مزید پڑھیے

بھوٹانی بکرے ۔۔۔ معاذ بن محمود

عید الاضحیٰ کی آمد آمد ہے۔ ماحول میں مینگنیوں کی جملہ اقسام اپنے وجود کا احساس دلا رہی ہیں۔ فضاء فضلاءِ حیوانات کی بھینی بھینی بدبو سے متعفن ہے۔ گھر سے نکلتے ہی طرح طرح کے چوپائے سر اٹھا کر←  مزید پڑھیے

ریاست یا متنجن؟ ۔۔۔ معاذ بن محمود

بچپن ہر کھانے سے کچھ دیر پہلے دروازے پہ دستک ہوا کرتی تھی۔ “کون؟” پہ جواب آتا “وظیفہ رؤڑئے خدائے دی او بخئی” یعنی “وظیفہ لے آئیے خدا (آپ کے گناہ) بخشے”۔ دروازہ کھلنے پر مسجد کے معصوم طالب علم،←  مزید پڑھیے