اس بات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ پاکستان لمبے عرصے تک مستحکم جغرافیائی اکائی نہ رہے اور اپنے طریقے سے، اپنی ڈگر پر آگے بڑھتی رہے لیکن ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان کے پاس وقت زیادہ نہیں۔ پاکستانی← مزید پڑھیے
یہ آواز ایسی تھی جیسے توپ کے گولے چلے ہوں۔ ایسٹ انڈیا کا “بنارس” نامی بحری جہاز سلاویسی پر لنگرانداز تھا۔ انہیں شک گزرا کہ بحری قزاق قریب ہوں۔ یہاں سے سینکڑوں میل دور انڈونیشیا میں جاوا پر فوجیوں کو← مزید پڑھیے
برطانیہ میں کپڑے کی مشینیں آ جانے کے بعد مزدوروں کی تحریک چلی۔ اس میں کپڑا بننے والے اور ٹیکسٹائل ورکر اور ہنرمند تھے جنہیں مشینوں کھڈیوں اور بننے والے فریموں پر اعتراض تھا۔ ان لوگوں نے اپنا ہنر سیکھنے← مزید پڑھیے
اساطیرِ روم میں ایک کردار جانس ہے۔ اس کردار کے بیک وقت دو چہرے ہیں۔ یہ اس کردار کی دوئی کی علامت ہے۔ بیک وقت متضاد کرداروں کی۔ پاکستان کے اندرونی سٹرکچر اور ڈائنامکس کو سمجھنا آسان نہیں لیکن اگر← مزید پڑھیے
آج ہم کائنات کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ بیسویں صدی میں ہم ہر سمت میں بہت آگے بڑھے ہیں۔ اور ایک بار فزسسٹ نے ایٹم کا معمہ حل کر لیا اور کوانٹم تھیوری ایجاد کر لی تو اس نے← مزید پڑھیے
ایک پرانی پہیلی ہے۔ ایک شخص صبح سویرے ایک پہاڑی چوٹی پر طرف جاتا ہے۔ پہاڑ تک پہنچنے کا ایک ہی راستہ ہے جو بل پیچ کھاتا ہوا پہاڑ پر لے کر جاتا ہے۔ وہ سورج غروب ہونے کے وقت← مزید پڑھیے
کوانٹم تھیوری کے بانیوں کی بنائی کوانٹم تھیوری ہماری روزمرہ کی زندگی کی فزکس کی سمجھ نہیں تبدیل کرتی لیکن اس نے ہماری روزمرہ زندگی بدل دی ہے۔ اتنی بڑی تبدیلی ہے جتنی صنعتی انقلاب تھا۔ کوانٹم تھیوری کے قوانین← مزید پڑھیے
کوانٹم تھیوری میں ہونے والی تمام تر ترقی کے باوجود اس کے مرکز میں ہائیزنبرگ کی اپروچ ہی ہے۔ اور انہوں نے یہ جیت 1927 میں لکھے پیپر سے سمیٹی تھی۔ انہوں نے یہ دکھا دیا کہ خواہ جو بھی← مزید پڑھیے
ایٹم کے آئیڈیا کو دو ہزار سال گزر چکے تھے۔ نیوٹن کی ریاضیاتی مکینکس کی ایجاد کو دو سو سال سے زیادہ۔ پلانک اور آئن سٹائن کے متعارف کردہ کوانٹم تصورات کو بیس برس سے زیاددہ۔ ہائزنبرگ کی تھیوری سائنسی← مزید پڑھیے
ایک اشتہار میں باسکٹ بال کے عظیم کھلاڑی مائیکل جارڈن کہتے ہیں، “میں نے اپنے کیرئیر میں نو ہزار شاٹ مِس کی ہیں۔ میں تین سو میچ ہارا ہوں۔ چھبیس بار میچ جیتنے والی شاٹ میرے ہاتھ میں تھی اور← مزید پڑھیے
بوہر کی تھیوری واضح طور پر محض ایک ابتدا تھی۔ اس میں تضادات تھے۔ مثلاً، ایک طرف وہ “ممکنہ مداروں” کو ساکن حالت کہتے ہیں کیونکہ الیکٹران اس طرح behave کر رہے ہیں کہ وہ حرکت نہیں کر رہے۔ جبکہ← مزید پڑھیے
یہ دنیا کیسے موجود ہے؟ ایٹم کیسے مستحکم ہیں؟ کلاسیکل فزکس کی پیشگوئی یہ تھی کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ بوہر نے اس مسئلے کو ایک الگ ہی زاویے سے سوچا۔ انہوں نے خود سے ایک سوال پوچھا۔ اگر ایٹم← مزید پڑھیے
رتھرفورڈ تجربے کر رہے تھے کہ ایٹم میں برقی چارج کس طرح پھیلا ہوا ہے۔ وہ چارج والے ذرات کو ایٹم پر فائر کر کے ان کے راستے میں ہونے والی تبدیلی دیکھنا چاہ رہے تھے اور اس کام کے← مزید پڑھیے
سائنسی تحقیق میں معلوم اور نامعلوم کے درمیان کی سرحد گہری دھند میں رہتی ہے۔ کوئی بھی فعال سائنسدان اپنی محنت غیردلچسپ سوالوں یا بند گلی کے راستوں میں ضائع کرتا ہے۔ کامیاب سائنسدان ایسے مسائل کا انتخاب کرتا ہے← مزید پڑھیے
پلانک نے بلیک باڈی ریڈی ایشن کا مسئلہ ایٹم کے تصور کی مدد کے بغیر حل کرنے کی تھیوری پر کام کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا اور انہوں نے اس کو حاصل کر لیا تھا۔ لیکن ایک لحاظ سے دیکھا← مزید پڑھیے
سائنس ہو یا کوئی دوسرا شعبہ۔ بہت سے عام لوگ عام سوالات پوچھتے ہیں اور ان میں سے اکثر زندگی ٹھیک ٹھاک گزار لیتے ہیں۔ لیکن کامیاب ترین اکثر وہ ہوتے ہیں جو عجیب سوال کرتے ہیں۔ سوال جو کئے← مزید پڑھیے
رابرٹ ہک نے اپنا چاقو تیز کیا اور کارک کا چھوٹا سا سلائس کاٹا۔ اس کو خود بنائی ہوئی مائیکروسکوپ کے نیچے رکھا اور یوں 1664 میں وہ پہلے انسان بن گئے جنہوں نے خلیہ دیکھا۔ جاندار اشیا بھی کسی← مزید پڑھیے
آج جب ہم ماضی میں دیکھیں تو مینڈالیو کے بریک تھرو ٹھیک وقت میں کئے گئے ٹھیک سوالوں کا نتیجہ تھے۔ ان کا جوش، ضد، کام کا شوق اور انتہا کی خوداعتمادی ۔۔ سبھی اس کے پیچھے تھے۔ جس طرح← مزید پڑھیے
سائنس کا سفر ایک ریلے ریس کی طرح ہے اور یہ بڑی عجیب دوڑ ہے۔ بعد میں آنے والے اس کو کس سمت میں لے جائیں گے؟ اس کا کچھ معلوم نہیں ہوتا اور کئی بار اس سمت میں لے← مزید پڑھیے
انتوان لاووسیے نیوٹن کے کام سے بہت متاثر تھے۔ انکا کہنا تھا کہ “فزکس کے برعکس کیمسٹری فیکٹس کی بنیاد پر بہت ہی کم ہے۔ اس میں بے ربط خیالات ہیں اور غیرثابت شدہ مفروضات ہیں۔ اس کو سائنسی منطق← مزید پڑھیے