کالم    ( صفحہ نمبر 53 )

اُمیدوں کی کلیاں کِھلنے لگیں /پروفیسر رفعت مظہر

مسلم لیگ نوازگروپ کے میاں نوازشریف نے بالآخر 21 اکتوبر کو وطن واپسی کا اعلان کردیا۔ اُنہوں نے وطن واپسی سے قبل ہی ایسا کھڑاک کیا کہ تھرتھلی مچ گئی۔ 18 ستمبر کو ویڈیو لنک پر جماعت کے گرینڈ مشاورتی←  مزید پڑھیے

نواز شریف کا بیانیہ اُن کی مجبوری ہے/ڈاکٹر ابرار ماجد

نواز شریف نے مسلم لیگ نون کی مجلس عاملہ سے خطاب کے دوران چار ججز اور دو جرنیلوں کا نام لے کر ان کے احتساب کی جو بات کی ہے اس سے پاکستان کے سیاسی حلقوں میں ایک ہلچل مچ←  مزید پڑھیے

میں پاکستان چھوڑنا چاہتا ہوں/آغر ندیم سحر

یہ2013 کی بات ہے،میں نے سائپرس کے لیے سٹڈی ویزہ اپلائی کیا،دو ماہ میں ویزہ لگ گیا مگر میری حب الوطنی آڑے آ گئی اور یوں میں اوورسیز پاکستانی بنتے بنتے رہ گیا۔پھر پانچ سال قبل مجھے ایک عزیز دوست←  مزید پڑھیے

نواز شریف کا استقبال/نجم ولی خان

شور ہے کہ نواز لیگ کا بیانیہ غتربود ہوگیا۔ میں نے پوچھا نواز لیگ کا بیانیہ کیا تھا۔ جواب ملا ووٹ کو عزت دو۔ میں نے جواب دیا کہ یہ حالات کا جبر تھا جس کے تحت یہ نعرہ لگا←  مزید پڑھیے

غیر ملکی سیاح خواتین اور پاکستانی وحشت/محمد وقاص رشید

یہ نمک منڈی پشاور ہے یہاں چرسی تکہ کے نام سے پورے پاکستان کیا دنیا میں مشہور دکان ہے۔ کہتے ہیں گوشت خور پشاور اترتے ہی باربی کیو کے دھویں سے اٹھتی خاص خوشبو کو سونگھتے سونگھتے ادھر کا رخ←  مزید پڑھیے

ممبئی حملے/اظہر سید

ممبئی حملوں کا اصل فائدہ بھارتیوں اور امریکیوں کو ہوا ۔بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کی طرز پر انتہا پسند مذہبی جماعت بی جے پی کو اپنی حمایت دے کر اور اقتدار کی راہ ہموار کر کے سیکولر بھارت کا نظریہ←  مزید پڑھیے

ایک نئی علی گڑھ تحریک کی ضرورت/راشد شاز

سرسید نبی یا پیغمبر نہیں تھے لیکن وہ ساری عمر کارِ نبوت سے اشتغال کرتے رہے خاص طور پر زندگی کے آخری برسوں میں انھوں نے اپنی تمام تر صلاحتیں وحی ربانی سے انسانی التباسات کے حجابات چاک کرنے میں←  مزید پڑھیے

پاکستان میں فرقہ واریت افغانستان میں امریکی شکست/ڈاکٹر ندیم عباس

چند سال پہلے کی بات ہے کہ ہمارے ایک دوست اس بات سے تنگ آگئے کہ ہم ہر بات کا الزام بین الاقوامی استعمار پر ڈال کر اپنی نااہلیوں کو چھپا لیتے ہیں۔ ان کے تعلقات ذرا سفارتکاروں سے ہوئے←  مزید پڑھیے

عوامی اسمبلیوں کے فیصلے/نجم ولی خان

میں کسی بڑے ٹی وی چینل کے بڑے سے سٹوڈیو کے ٹھنڈے سٹوڈیو میں کوٹ پینٹ پہن کے رائے نہیں دے رہا۔ میں نے شاہ عالمی، رنگ محل، انارکلی سمیت دیگر جگہوں تاجروں اورعوام کے ساتھ عوامی اسمبلیاں منعقد کیں۔←  مزید پڑھیے

”لایستوی اصحاب النّار و اصحاب الجنہ“/ڈاکٹر اظہر وحید

ربِ کائنات نے یہ کائنات اس طرح تخلیق کی ہے کہ یہاں اسباب و نتائج کی دنیا غالب رہتی ہے، طاقت علی الاعلان حکمرانی کرتی ہے، جبکہ عقیدے، عقیدت اور اخلاقیات کی دنیا باطن میں پنہاں مخفی رہتی ہے۔ لطف←  مزید پڑھیے

اعلیٰ عدلیہ میں غیر جمہوری سوچ کی جڑیں/ارشد بٹ

یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ آمروں کے سامنے سرنگوں اور فوجی مارشلاوں کو جائز قرار دینے والی عدلیہ نے آئین بنانے اور بحال کرنے والی پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتی۔ جسٹس←  مزید پڑھیے

عدل کا ڈوبتا سورج اور طلوع ہوتی نئی صبح/ڈاکٹر ابرار ماجد

سپریم کورٹ کے اندر لمبے عرصے کے بعد انصاف کی ایک نئی امید کی صبح طلوع ہونے کو جارہی ہے جس کا اشارہ ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس نے، کل اپنے سپریم کورٹ کے ملازمین کے ساتھ فیئرول پارٹی میں←  مزید پڑھیے

پٹرول کیسے سستا ہوسکتا ہے؟/نجم ولی خان

بغیر کسی تمہید کے، پٹرول اسی صورت سستا ہوسکتا ہے اگر پاکستان آئی ایم ایف سے اپنامعاہدہ ختم کردے اوراس کے ساتھ ہی حکومت بجلی کایونٹ بھی سستا کر سکتی ہے، ان دونوں کی قیمت آدھی کی جاسکتی ہے اور←  مزید پڑھیے

بابا رحمتا کون؟/پروفیسر رفعت مظہر

دینِ مبیں میں عدل کی حاکمیت یوں قرار دی گئی ہے کہ جب میزانِ عدل ہاتھ میں ہوتو پھر چھوٹے بڑے اور امیرغریب کی تفریق مٹا دی جاتی ہے۔ امیرالمومنین حضرت عمرؓ کا قول ہے کہ اگر عدل کا پلڑا←  مزید پڑھیے

عدل کا معیار/ڈاکٹر ابرار ماجد

عدل کے معیارکا اندازہ لگانے کے لئے عدلیہ کی عدالتی کاروائیوں میں غیر جانبداری، شفافیت اور فیصلوں میں ہوتے ہوئے انصاف پر عوام کا اعتما دیکھا جاتا ہے۔ اگر موجودہ حالات میں دیکھیں تو عوام کی طرف سے عدلیہ پر←  مزید پڑھیے

سانحہ بلدیہ: منافع کے لیے مقتل بنی کارگاہیں/(سانحہ کا ایک اہم پہلو جسے نظر انداز کر دیا گیا )-تحریر/ناصر منصور

گیارہ برس پہلے 11 ستمبر 2012 کے دن پاکستان کی تاریخ کے بدترین صنعتی سانحہ میں 260 مزدور جھلس کر جا ں  بحق اور ساٹھ سے زائد مزدور جان بچاتے ہوئے زخمی ہو ئے تھے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ سانحہ←  مزید پڑھیے

زوال،زوال،زوال/ڈاکٹر اظہر وحید

مسلم امہ کے زوال کے اسباب ایک ایسا موضوع ہے جس پر برسوں سے نہیں، صدیوں سے لکھا جا رہا ہے۔ ایک نوجوان جب مسلم معاشرے میں شعور کی آنکھ کھولتا ہے تو اسے دائیں بائیں سے یہی سننے کو←  مزید پڑھیے

جاتی عمرہ یا جیل؟/نجم ولی خان

شہباز شریف نے نواز شریف کی وطن واپسی کی تاریخ کا اعلان کیا تو ایک اخبار نے شہ سرخی لگائی، جاتی امرا یا جیل۔ قانونی اور سیاسی حوالے سے یہ سوال دلچسپ ہے اور بہت سارے لوگ اس کا جواب←  مزید پڑھیے

آزادی، بزرگی ، تجربے کی تنہائی کا بوجھ/ناصر عباس نیّر

ایرخ فرام نے کوئی اسی برس پہلے لکھا تھا کہ لوگ اپنی ہی آزادی سے فرار حاصل کرتے ہیں۔ وہ آزادی کی آرزو میں مرے جارہے ہوتے ہیں۔پھر آزادی کے لیے لڑتے ہیں۔ بالآخرآزادی حاصل بھی کر لیتے ہیں، مگر←  مزید پڑھیے

کہیں جاتے ہی نہ تو اچھا تھا/میر احمد کامران مگسی

پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے دو ہفتے پارٹی کے ممتاز گھرانوں میں ہونے والی اموات پر تعزیت کرنے کے لیے وقف لیے تھے ۔ وہ سندھ کے بعد ملتان آئے ۔ حسب معمول ان کی←  مزید پڑھیے