کالم    ( صفحہ نمبر 285 )

سستے ڈراموں کے شوقین حکمران۔۔۔روف کلاسرا

ابھی کچھ دیر پہلے ٹوئیٹر پر وزیراعلیٰ پنجاب کا ویڈیو کلپ دیکھا ‘جس میں وہ راولپنڈی کی پناہ گاہ کا دورہ کررہے تھے۔ اس ٹوئیٹ میں لکھا تھا: وزیراعلیٰ پناہ گاہ میں جا کر عام لوگوں سے گھل مل گئے←  مزید پڑھیے

ہاف چمچ۔۔۔۔گل نوخیز اختر

برداشت کرنے والوں میں شاعروں، فوک گلوکاروں اور پتے کے مریضوں کا کوئی ثانی نہیں۔میرا شمار موخر الذکر میں ہوتا ہے ۔ آج سے تین سال پہلے جب مجھے پہلی بار پتے کی تکلیف ہوئی تو پتا ہی نہ چل←  مزید پڑھیے

پنجاب میں کس کی حکومت ہے؟۔۔۔۔آصف محمود

پنجاب میں اقتدار کس کے ہاتھ میں ہے ؟ تحریک انصاف کے پاس ہے یا مالِ غنیمت کے طور اپنے سیاسی حلیفوں میں بانٹ دیا گیا ہے ؟ کیا عمران خان پنجاب کی اہمیت سے بے خبر ہیں یا مصلحتوں←  مزید پڑھیے

یہ کیا حماقت ہے بھئی۔۔۔سید عارف مصطفٰی

مجھے لگتا ہے کہ اب کے پڑوس میں مودی سرکار دوبارہ اقتدار میں آئی تو کہیں وہ اپنے بہت بڑے محسن اور ہمارے وزیرخارجہ کو اپنے سب سے بڑے ریاستی اعزاز سے ہی نہ نواز دے کیونکہ وہ گزشتہ دو←  مزید پڑھیے

مذہب کے نام پہ سیاہ کو سفید کیا جا رہا ہے….اسد مفتی

ہالینڈ کے ایک ہفت روزہ نے اسرائیلی وزات صحت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیل میں اقدام خود کشی کے ایک ہزار واقعات رجسٹرڈ کیے گئے ہیں جو←  مزید پڑھیے

سیاسی عمل یا سیاسی دیوالیہ پن۔۔۔زاہد سرفراز

ریاست جموں و کشمیر وہ ریاست ہے جہاں کی سرزمین تو سرسبز و شاداب ہے مگر یہاں آج تلک کوئی ایسا شخص پیدا نہ ہو سکا جو تاریخ کے دھارے کو بدل سکے یا کم سے کم اس قوم کے←  مزید پڑھیے

خان صاحب ناراض تھے۔۔۔نجم ولی خان

دو عشروں کی پولیٹیکل ڈیزائننگ میں سب سے اہم کردارادا کرنے والا قومی احتساب بیورو پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو گرفتار کر نے کے لئے اتنا تاولا کیوں ہو رہا تھا کہ اس نے پنجاب پولیس کے←  مزید پڑھیے

تو اب کافر مروں؟۔۔۔روف کلاسرہ

سینیٹر انور بیگ کا میسج تھا: پاکستان کو بچایا جائے۔ اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ہمارے پاس تو کہیں اور جا کر رہنے کیلئے جگہ بھی نہیں ہے۔ اب اس عمر میں پاکستان چھوڑ کر کہاں←  مزید پڑھیے

تل ابوندا۔ تل احرام۔ تل کمتانیہ۔ گولان کی پہاڑیاں

دمشق سے باہر نکلے تو ہر سو ویرانی تھی۔ جنگ کی تباہ کاریوں کے آثار تھے۔ شاہراہ پر صرف ہماری کار تھی جس کا رخ گولان کی پہاڑیوں کی جانب تھا۔ بارود کی سیاہی پتھروں کے چہروں پر ملی ہوئی←  مزید پڑھیے

جرگہ پاکستان ۔۔۔ ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

آپ اسے جرگہ پاکستان کہیں ، پر امن پاکستان کنونشن کہیں ۔۔۔ یا پھر ایک ادنی سی کوشش کہیں ۔۔۔۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو پاکستان کے روشن مستقبل میں ایک اہم باب کے طور پر یاد رکھا جائے←  مزید پڑھیے

مہنگائی میں اضافہ اور حکومتی جواز۔۔۔ طاہر یاسین طاہر

لکھیے اسے خط میں کہ ستم اٹھ نہیں سکتا؟ پر ضعف سے ہاتھوں میں قلم اٹھ نہیں سکتا کئی دنوں سے طبیعت ناساز ہے،اگر تندرست بھی ہوتا تو کیا میرے چار حر ف حکومت کو مہنگائی کم کرنے پر قائل←  مزید پڑھیے

توہینِِِ مذہب کے قوانین ۔ تاریخی جائزہ ۔۔۔لیاقت علی ایڈووکیٹ

ا نگریزوں نے ہندوستان پر قبضے کے بعد 1860 میں جو فوجداری قوانین ( تعزیرات ہند) نافذ کئے ان میں توہین مذہب کے حوالے سے کوئی خصوصی دفعہ موجو د نہیں تھی۔تاہم 1896 فوجداری قوانین میں پہلی مرتبہ دفعہ 153-A←  مزید پڑھیے

ریاست تو مر چکی ہے۔۔۔عمار کاظمی

گزشتہ کالم ’’وزیراعلی، وزیراعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف سے سوال‘‘ بہت زیادہ پڑھا گیا، سوشل میڈیا پر وائرل ہوا، سینے میں انسانیت کے لیے دردِ دل رکھنے والے ہر  ذی شعور صاحبِ اولادانسان نے اسکو ری ٹویٹ ، پوسٹ←  مزید پڑھیے

اسلامی نظریاتی کونسل ۔۔۔ رُخسار، تہہ نقاب جگمگ جگمگ/ آصف محمود

نیب آرڈی ننس میں کچھ چیزیں بلاشبہ ایسی ہیں جن کا دفاع ممکن نہیں لیکن نیب کے حوالے سے جو موقف اسلامی نظریاتی کونسل نے جاری فرمایا ہے اس کا دفاع بھی کوئی آسان کام نہیں ۔ اسلامی نظریاتی کونسل←  مزید پڑھیے

سمندر کی گہرائیوں میں چھپا ہوا کالا سونا یا ایک سراب۔۔۔ غیور شاہ ترمذی

آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کارپوریشن (او جی ڈی سی) کی طرف سے پری میچور خبروں اور ان پر وزیر اعظم عمران خاں کے خوش فہمیانہ ردعمل کی وجہ سے  تقریباًًً پوری قوم کی آنکھیں کراچی کے ساحلی علاقے میں زیر←  مزید پڑھیے

ذوالفقار علی بھٹو،ایک نام،کئی چہرے۔۔۔۔سید عارف مصطفٰی

اگر سکندر علی بھٹو اپنے نوخیز چھوٹے بھائی کو اس وقت کی نوعمر ادکارہ نرگس سے معاشقہ لڑانے سے نہ روکتے اور ایک روز ساحل سمندر پہ بچھی اس بینچ سے پکڑ کے نہ لے آتے اور پٹائی نہ کرڈالتے←  مزید پڑھیے

حقوقِ نسواں،مذاہب اور رویے ۔۔۔ معاذ بن محمود

میری ناقص رائے میں یہود بھی اپنی الہامی کتب کے حوالے سے عورت کے معاملے میں کنزرویٹو ہیں اور عیسائی بھی۔ اس کے باوجود اسلام سے پہلے کی روایات اور معاشرہ کچھ ایسا تھا کہ سیدہ خدیجہ رض نے نبی کریم ص کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ کہیں اسے برا سمجھنے کی روایت نہیں ملتی۔ آج کے اسلامی معاشرے کی عام عورت ایسا کرے تو اکثر اسے کم سے کم بھی عجیب ضرور کہیں گے۔ مطلب تب بیشک معاشرتی روایات مذہبی احکامات سے نہ ٹکراتی ہوں مگر اب ایسا ہوتا ہے۔←  مزید پڑھیے

جرگہ پاکستان، کچھ مشاہدات و عرائض ۔۔۔ انعام رانا

میں اب بھی اس موضوع پہ نا لکھتا مگر کیوں ضروری ہے؟ اپنے تمام تحفضات کے باوجود مجھے علم اور یقین ہے کہ جرگہ پاکستان کے لوگ اپنی تمام سادہ لوح غلطیوں کے باوجود نیک نیت ہیں۔ اس جرگے کے پیچھے کوئی بدنیتی نہیں ہے۔ یہ پاکستان سے پیار کرنے والے ایسے لوگ ہیں جو حالات پہ دُکھی ہیں اور معاملات کا ایسا حل چاہتے ہیں جو تصادم اور مزید خونریزی سے بچائے اور یہ سچ ہے کہ معاملات بہت تیزی سے تصادم کی جانب جا رہے ہیں۔ ایسے میں مکالمے کی ہر کوشش ہر خواہش کو سراہا جانا چاہیے۔←  مزید پڑھیے

شکر ہے،شکر ہے۔۔۔آصف محمود

وہ مغلیہ دور حکومت تھا جسے ہم نصابوں میں پڑھتے آئے تھے ، یہ شغلیہ دور حکومت ہے جسے ہم حیرت اور صدمے سے پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔تو کیا یہ واقعتا ایک سونامی ہے جس نے ہنستے بستے←  مزید پڑھیے

گولان ہائیٹس، امریکی سلطنت کی رسوائی۔۔۔ثاقب اکبر

 امریکی صنم نے اتنی بے وفائیاں کی ہیں کہ اب اس کے عاشقوں نے بھی مجبور ہو کر اسے بے وفا کہنا شروع کر دیا ہے، عالم یہ ہے کہ صنم کے بے وفا ہونے پر سب عاشقوں کا اتفاق←  مزید پڑھیے