• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • جرگہ پاکستان، کچھ مشاہدات و عرائض ۔۔۔ انعام رانا

جرگہ پاکستان، کچھ مشاہدات و عرائض ۔۔۔ انعام رانا

نوٹ : یہ مضمون محترم انعام رانا مدیر اعلی مکالمہ کی ذاتی رائے ہے۔ مکالمہ بحیثیت ادارہ جرگے کے بارے میں شائستگی کی حدود میں رہتے ہوئے موصول ہونے والے تمام مضامین شائع کرنے کا عزم رکھتا ہے۔

میں نے دو وجوہات کی بنیاد پر خود کو جرگہ پاکستان سے دور رکھا اور اس پہ کوئی بات بھی نہیں کی۔ Arif Khattak نے مجھے شروع دن سے جرگہ کے وٹس ایپ گروپ میں ڈالا، گو میں نے ہر ایک بات پڑھی مگر کبھی حصہ نہیں لیا۔ پہلی وجہ تو ذاتی تھی کہ اپ کی تمام تر خوش گمانیوں کے باوجود میں ایک کینہ پرور سا راجپوت ہوں جو دشمنی نبھانے والے کو نہیں بھولتا۔ عابد آفریدی ساب میرے واقف نہیں ہیں مگر میرے خلاف پوسٹیں لگاتے رہے سو انکا نام اس سے وابستہ ہونے کی وجہ سے میں نے عارف کے اصرار کے باوجود کبھی کسی سرگرمی میں حصہ نا لیا۔

دوسری وجہ سیاسی ہے۔ جرگہ پاکستان جن وجوہات کی بنیاد پہ سامنے آیا وہ پی ٹی ایم کے اقدامات کا نتیجہ تھے۔ میرا ذاتی خیال تھا اور ہے کہ اس میں پشتون اور بالخصوص قبائلی دوستوں کی زیادہ شرکت ہونا چاہیے اور ہم پنجابیوں کو تو اس سے ویسے ہی دور رہنا چاہیے کیونکہ بوجوہ پنجاب اور پنجابی پہ عدم اعتماد کی فضا موجود ہے اور پشتون بھائیوں کے جلسوں میں وہ “کالے” دشنام یا الزام طرازی کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے میں اس جرگے کے ساتھ پنجابی کم سے کم ہونا چاہیے تاکہ کسی صورت بھی جرگے پر کوئی اعتراض نا اٹھایا جا سکے۔

مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی عار نہیں کہ جرگے سے وابستہ دوست اپنے تمام تر خلوص اور محنت کے باوجود غلطیاں کرتے رہے۔ مثلاً یہ جو بینر میں نے لگایا ہے یہ ہی بہت بڑی غلطی ہے۔ میرے خیال سے Jean Sartre یا بھائی عاصم اللہ بخش کو کسی صورت اس جرگے میں نمایاں نہیں ہونا چاہیے تھا اس جرگے کی نظامت Mahmood Fiaz سے کرانا ایک فاش غلطی ہے کیونکہ اسکا مقرر بھی کوئی پشتون ہونا چاہیے تھا۔ محترم عدنان کاکڑ یا بھائی مجاہد خٹک نسلی طور پہ پٹھان ضرور ہیں مگر پیدائشی پنجابی/سرائیکی ہیں۔ محترم فرنود عالم کے اجداد کا تعلق پختونخواہ (کے اس علاقے سے جہاں پی ٹی ایم کے مسائل ہر گز نہیں ہیں) سے ہو گا مگر وہ “کراچوی” ہیں۔ شاہد اعوان کا تعلق ایک پشتون جرگے سے کیا ہے؟ ایک پنجابی ثمینہ ریاض کو “ترجمان خواتین” بنانے کی کیا تُک ہے؟ یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔

یقینا جرگہ کے دوستوں سے اندازے کی اور حکمت عملی کی غلطی ہوئی ہے۔ وہ یہ واضح کرنے میں ناکام رہے کہ دراصل وہ ایک ایسا جرگہ بنا رہے ہیں جو پورے پاکستان کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پہ لا کر “پشتون جنگ زدہ علاقوں کے مسائل” کے ادراک اور انکے حل کی کوشش کرنا چاہتا ہے۔ دوسرا وہ غلطی کر گئے یہ تاثر دینے میں کہ جیسے وہ کوئی مشر ہوں گے جو پی ٹی ایم اور حکومت کے درمیان مصالحت کرائیں گے۔ اگر ایسا ہی تھا تو جرگے میں ایک بھی “غیر قبائلی” کا ہونا غیر ضروری تھا۔ اور اگر مقصد اوّل بات ہے تو پھر “مصالحتی کونسل” والی بات ایک شق ہوتی مقصد نہیں۔ انکو یہ سمجھنا چاہیے تھا کہ “تاثر یا امپریشن” کتنا اہم ہوتا ہے۔

میں اب بھی اس موضوع پہ نا لکھتا مگر کیوں ضروری ہے؟ اپنے تمام تحفضات کے باوجود مجھے علم اور یقین ہے کہ جرگہ پاکستان کے لوگ اپنی تمام سادہ لوح غلطیوں کے باوجود نیک نیت ہیں۔ اس جرگے کے پیچھے کوئی بدنیتی نہیں ہے۔ یہ پاکستان سے پیار کرنے والے ایسے لوگ ہیں جو حالات پہ دُکھی ہیں اور معاملات کا ایسا حل چاہتے ہیں جو تصادم اور مزید خونریزی سے بچائے اور یہ سچ ہے کہ معاملات بہت تیزی سے تصادم کی جانب جا رہے ہیں۔ ایسے میں مکالمے کی ہر کوشش ہر خواہش کو سراہا جانا چاہیے۔

یکدم جرگے سے متعلق کچھ دوستوں نے بدگمانیاں پیدا کرنے اور اس کا تاثر خراب کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ اسکا فقط نقصان ہو گا اور و اللہ فقط پشتون قبائلی کا نقصان ہو گا۔ اسے امن چاہیے، علم چاہیے، عزت چاہیے اور اس کیلئیے امن اور مکالمے کی ہر کوشش کا ساتھ دینا ہو گا۔ اگر اپ کو “پنجابی اسٹیبلشمنٹ کے نمائندوں” اظہر کمال اور عاصم اللہ بخش پہ اعتراض ہے تو جناب وہاں رحیم اللہ یوسفزئی اور اباسین صاحبان بھی تو ہیں۔ اگر محمود کے پیچھے سازش نظر آتی ہے یا جنرل محمود تو فورا ہارون وزیر یا محسود کو نظامت دلوا دیجئیے۔ ان نوجوانوں، جن کا کوئی سیاسی یا ذاتی مقصد نہین ہے، انکو موقع دیں اور “سدھارنے” کی کوشش کریں۔ آخر یہ بھی تو “منظور پشتین” کی مانند “اپ کے اپنے” ہیں، وہی منظور جو پنجابی کو گالی دے تو جذباتی سا لڑکا ہے، پاکستان کو گالی دے تو “اگنور لریں کہ اسکا دل دکھا ہوا ہے”۔ جب منظور کو ہم اچھا گمان رکھ کر اتنی رعایتیں دیتے ہیں تو کچھ عابد آفریدی اور اسکی ٹیم کو بھی سہی۔ کیا پتہ یہ مسلئے کے حل کی جانب کوئی رستہ نکال لیں۔ آزمانے سے قبل انکے متعلق بدگمانی “شرعی اور لبرل دونوں اصولوں” کے خلاف ہے۔

ویسے کوئی جیمز بانڈ پتہ کرے کہ معاملہ عابد کی انتیس مارچ کی پوسٹ نے خراب کیا یا دو اپریل کے محترم رعایت اللہ فاروقی کے کالم نے؟

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *