کالم    ( صفحہ نمبر 284 )

پاکستانیوں کے مغالطے۔۔۔۔گل نوخیز اختر

ایک دور تھا جب مجھے اپنا آپ سو فیصد ٹھیک سمجھنے کی بیماری تھی۔مجھے لگتا تھا کہ جو کچھ میں سمجھتا ہوں وہی حقیقت ہے اور اس کے علاوہ ہر بندہ غلط ہے۔ پاک ٹی ہاؤس نے اس بیماری کا←  مزید پڑھیے

جنرل ڈائر او ر ادھم سنگھ۔۔۔۔یاسر پیرزادہ

پہلی جنگ عظیم اپنے عروج پر تھی، ایک جانب برطانیہ اس جنگ میں الجھا ہوا تھا تو دوسری جانب ہندوستان میں بڑھتی ہوئی ’’بغاوت‘‘ نے اس کا ناطقہ بند کر رکھا تھا، ان باغی سرگرمیوں کو کچلنے کے لئے تاج←  مزید پڑھیے

جعلی کلیم، جعلی ذاتیں، جعلی اکاؤنٹس۔۔۔حسن نثار

کچھ لوگ کرپشن کو کرپشن سمجھتے ہی نہیں، اسی لئے قسمیں کھا کھا کر اس سے انکار کرتے ہیں اور احتساب کو انتقام قرار دیتے ہیں۔ ان لوگوں نے خود کو قائل کرلیا ہوتا ہے کہ جو وہ ’’وصولتے‘‘ ہیں←  مزید پڑھیے

’’گلہریاں اور استاد بشیر احمد‘‘

جی ہاں اُن دنوں یہ عین ممکن تھا کہ نیشنل کالج آف آرٹس میں مختصر مصوری کے استاد بشیر احمد کے کمرے میں آپ ایک بے ہوش گلہری پڑی دیکھ لیں تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخری←  مزید پڑھیے

آداب، اخلاقیات اور شمیم آراء ۔۔۔ معاذ بن محمود

  دو عدد مثالوں سے بات شروع کرتے ہیں۔ پہلی مثال: “آپ اخلاقیات کے معاملے میں شمیم آراء والی سسکیوں کے عادی ہیں”۔ دوسری مثال: “آپ کا یہ کمنٹ ہمیں برا لگا، وجہ بتانے کا میرے پاس وقت نہیں، یہ←  مزید پڑھیے

سیاسی ٹٹیریاں اور ’’ٹی ٹیوں‘‘ کا حساب۔۔۔۔حسن نثار

میرے ساتھ دلچسپ آنکھ مچولی جاری ہے۔ میں نیوٹرل ہو کر مکمل غیر جانبداری کے ساتھ پی ٹی آئی کے حوالہ سے حق تنقید ادا کرنا چاہتا ہوں لیکن پیپلز پارٹی، ن لیگ اور حضرت مولانا فضل الرحمٰن ٹائپ لوگ←  مزید پڑھیے

ایسے کیسے چلے گا؟

حکومت بنانے کے لیے اگر کمپرومائز کیے جا سکتے ہیں تو حکومت چلانے کے لیے کیوں نہیں کیے جا سکتے؟ حکومت بنانے کے لیے تو ہم سب نے دیکھا کہ اصولوں پر کمپرومائز کیا گیا، حکومت چلانے کے لیے تو←  مزید پڑھیے

احتساب اور سیاسی نظام۔۔۔داؤد ظفر ندیم

احتساب کے نام پر پاکستان میں نیب اس دور میں جس طرح فعال اور متحرک ہوا ہے ماضی میں اس کی کوئی ایسی مثال نہیں ملتی اگرچہ نواز شریف کے 1999کے دور میں احتساب کمیشن نے سیف الرحمان کی زیر←  مزید پڑھیے

کالے کوٹ کو کالے اعمال کی علامت نہ بنائیے۔۔۔۔سید عارف مصطفیٰ

بہت رنج پہنچا ہے ۔۔۔ اور دل بہت دکھا ہوا ہے ۔۔ ماڈل کورٹوں کے خلاف وکیلوں کے احتجاج نے میرے صبر کو سفاکی کی کھردری دیوار  پہ   دے مارا ہے اور اسی لیئے میں بہت کچھ ایسا کہنے←  مزید پڑھیے

بے آواز گلی کوچوں سے۔ صدارتی نظام کا بخار۔۔۔محمد منیب خان

ٹوئٹر کی راہداریاں اور فیس بک کی دیواریں گذشتہ چند دن سے بہت شد و مد کے ساتھ صدارتی نظام کے دل آویز نعروں سے لتھڑی ہوئیں نظر آر ہی ہیں۔ اس پہ مستزاد اسلام آباد میں حکومت کی غلام←  مزید پڑھیے

عہد جدید کے بہزاد کا”کارخانہ”۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ

کیا آپ جانتے ہیں کہ گلہریوں کا مصوری سے گہرا تعلق ہے‘ اگر خدانخواستہ گلہریاں نہ ہوتیں تو ایک مخصوص قسم کی مصوری بھی نہ ہوتی۔ اور مصوری کا لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹس سے گہرا تعلق ہے۔ یوں←  مزید پڑھیے

رام چندر گہا کا کالم: جلیاں والا باغ –جس نے انگریزی حکومت کے زوال کی کہانی لکھ دی …

جلیاں والا باغ : اس قتل عام کے بعد ہندوستانیوں کو بھلے برے کی تمیز ہونے لگی تھی اور وہ اب مزید جی حضوری نہیں کرنا چاہتے تھے۔ 13 اپریل 1919، یعنی آج سے ٹھیک سو سال پہلے، ‘ریجینل ڈائر’ نام←  مزید پڑھیے

معرفت، ادراک، اولیاء اور پیرِ کامل ۔۔۔ معاذ بن محمود

جاتی عمرہ سے تعلق رکھنے والے ایک سابق ولی کو بھی جوانی تک ولایت کا علم نہ تھا۔ تب مذکورہ سابق ولی گاڑیوں کے ساتھ شاہدرہ کی پہاڑیوں پر تصویریں کھنچوایا کرتا۔ پھر اس نے بحالت مجبوری ایک ڈنڈا پیر کے ہاتھ پر بیعت کا اعلان کیا۔ یہاں سے اس پر ادراک کے کشف منکشف ہوئے اور وہ صوبائی ولایت سے ہوتا ہوا وفاقی ولایت تک تین بار کامیابی سے پہنچا۔ یہ شخص ولایت کے درجے پر کئی دہائیوں تک فائز رہا۔ پھر ایک دن اسے معلوم ہوا کہ اسے تفویض کردہ ولایت تو محض نام کی ہے، اصل اختیار تو آج بھی پیرِ کامل کے پاس ہے۔ معاملہ اختیار تک ہوتا تو بات قابلِ فہم بھی رہتی، پیرِ کامل دراصل ولایت کے مالیات یعنی چندے کے ڈبے تک پر سانپ بن کے براجمان رہتے ہیں۔ جس دن سابق ولی کو یہ معاملہ سمجھ آیا، اس نے نے اختیار و مالیاتِ اعلی کے لیے جدوجہد شروع کر دی جو پیرِ کامل کو ہرگز پسند نہ آئی۔←  مزید پڑھیے

افسوس۔۔ہم اب بم دھماکوں کے بھی عادی ہیں۔۔۔۔رمشا تبسم

ایک  ز مانہ تھا کہ  دہشت گردی قتل و غارت عام نہیں تھی۔کوئی واقعہ ہو جاتا تو کئی  کئی  دن ہر شخص خوف و ہراس میں مبتلا رہنے کے ساتھ ساتھ  افسردہ بھی رہتا۔مجھے یاد ہے بچپن میں پی۔ٹی۔وی پر←  مزید پڑھیے

اگر عمران ناکام ہو گئے؟

ضد اور خوش گمانی کا معاملہ الگ ہے ورنہ دیوار پہ لکھا نظر آ رہا ہے کہ کارِ حکومت احباب کے بس کی بات نہیں۔ ہاں ، کوہ ہمالیہ سونا بن جائے اور سمندر کا پانی پٹرول میں تبدیل ہو←  مزید پڑھیے

کوئٹہ سبزی منڈی میں دہشت گردی۔۔۔طاہر یاسین طاہر

دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ضرور ہے مگر پاکستان اس عالمی مسئلے کا شدید مضروب ہے۔ہمارا المیہ یہ نہیں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن اتحادی بنے اور نقصان اٹھایا بلکہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں←  مزید پڑھیے

کسے دا یار نہ وچھڑے۔۔۔روبینہ فیصل

ہم بتول شفیع کونہیں جانتے۔۔۔ہم اتنی خوبصورت اور اتنی گہری خاتون کو کیوں نہیں جانتے ؟ ہماری بدنصیبی یا ہماری لاپرواہی ؟ ہم صرف شفیع محمد کو جانتے ہیں جو کہ ایک زبردست اداکار اور صدا کار ہونے کے ساتھ←  مزید پڑھیے

انتخابی تشہیر سے غائب ہوتے بنیادی سوالات۔۔۔ ابھے کمار

ہندوستانی جمہوریت کے لیے یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ میڈیا کا ایک بڑا حصہ برسر اقتدار مودی حکومت کی کارکردگی کا احتساب کرنے سے کترا رہا ہے. اکثر اوقات وہ خود سرکار کے دفاع میں کھڑا نظر آتا ہے۔←  مزید پڑھیے

’’قانون کے آگے ‘‘۔۔۔۔فرانز کافکا کہنا کیا چاہتا تھا؟

برسوں پہلے میں نے فرانز کافکا کی کہانی ’’ قانون کے آگے‘‘ پڑھی تھی ۔ کہانی تو منٹوں میں ختم ہو گئی لیکن میں گھنٹوں سوچتا رہا کافکا کہنا کیا چاہتا ہے۔کل پھر یہ کہانی یاد آئی ، یوں محسوس←  مزید پڑھیے

تاج محل کا اک گوشہ اور آصف جاہ کے گنبد کے گِدھ

کچھ عرصہ ہوا جب میں نے شاہ دارا کے نام کی بستی شاہدرہ کے گلی کوچوں میں دوستوں کی مدد سے شاہ حسین کی بیٹھک تلاش کر لی کہ شاہ حسین اکثر لاہور کی گلیوں میں رقص کرتے اپنے مُریدوں←  مزید پڑھیے