’’گلہریاں اور استاد بشیر احمد‘‘

جی ہاں اُن دنوں یہ عین ممکن تھا کہ نیشنل کالج آف آرٹس میں مختصر مصوری کے استاد بشیر احمد کے کمرے میں آپ ایک بے ہوش گلہری پڑی دیکھ لیں تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخری ایک گلہری کا این سی اے اور خاص طور پر بشیر احمد میں کیا تعلق ہو سکتا ہے تو میں یہ بھید کھولے دیتا ہوں۔ میں تب مال روڈ پر لکشمی مینشن میں رہائش پذیر تھا اور وہاں سے پیدل جناح باغ میں صبح کی سیر کے لیے بلاناغہ جایا کرتا تھا۔ وہاں کبھی کبھار ترت مراد کے مزار کے قریب میں چند لڑکے لڑکیوں کو دیکھتا جو سیر کرنے والوں ذرا پوشیدہ رہ کر برگد اور پیپل کے پرانے درختوں کے تنوں کے گرد گھومتے کسی خفیہ سرگرمی میں ملوث دکھائی دیتے۔ ایک روز ان میں ایک لڑکی عجیب سا پاگلوں ایسا لباس پہنے مجھے دیکھ کر اپنے ساتھیوں سے الگ ہو کر میرے پاس آ گئی اور کہنے لگی…سِر آپ یہاں روزانہ آتے ہیں۔ میں آپ کے ڈرامے بڑے شوق سے دیکھتی ہوں۔ میں نے کہا کہ میں بھی آپ لوگوں کو پرانے درختوں کے گرد گھومتے پھرتے بڑے شوق سے دیکھتا ہوں۔ آخر تم لوگ کرتے کیا ہو؟ وہ لڑکی پہلے تو جھجکی اور پھر آس پاس نظر ڈال کر سرگوشی میں کہنے لگی ’’سرہم گلہریاں پکڑتے ہیں۔ کسی کو بتائیے گا نہیں‘‘ گلہریاں؟ ’’میں تو ذرا پریشان سا ہو گیا کہ یہ بچے اگر کبوتر یا کوئی اور پرندے وغیرہ پکڑتے تو بات بھی تھی لیکن گلہریاں؟…کہیں یہ کمبخت گلہریاں کھاتے تو نہیں… میں نے جب اپنے خدشے کا اظہار کیا تو وہ لڑکی جھینپ کر بولی، نہیں سر… قسم سے نہیں’’دراصل ہم این سی اے کے منی ایچر ڈیپارٹمنٹ میں طالب علم ہیں اور مختصر مصوری کو پینٹ کرنے کے لیے گلہری کی دُم کے بالوں سے بنا ہوا برش درکار ہوتا ہے کہ اس کے بال باریک اور نرم ہوتے ہیں۔ منی ایچرپینٹنگ کے لیے ہزاروں برسوں سے گلہری کی دم کے بال برش کے طور پر استعمال ہوتے چلے آئے ہیں… پہلے ہم کسی اہلکار کی ڈیوٹی لگاتے تھے تو وہ گلہریوں کو ہلاک کر کے لے آتے تھے جو ہمارے لیے بہت تکلیف دہ تھا… اب ہم خود گلہریاں پکڑتے ہیں اور انہیں کلوروفارم سے بھیگا ہوا کپڑا سنگھا کر بیہوش کر لیتے ہیں۔ ان کی دموں کی حجامت کر کے بال حاصل کر کے انہیں پھر یہیں باغ جناح میں آزاد کر دیتے ہیں… ایک معمولی سی گلہری کی دم سے مصوری کے شاہکار تخلیق ہوتے ہیں یہ تو میرے گمان میں بھی نہ تھا… تب سے میں گلہریوں کو بہت عزت اور احترام سے دیکھنے لگا ہوں۔ بشیر احمد نے ان بچوں کو منی ایچر مصوری کے رموز سکھانے کے علاوہ گلہریاں پکڑنے کا کوئی خاص نسخہ بھی بتایا ہو گا۔ وہ اس قدیم فن کی تمام روایتوں پر عمل پیرا ہوتا تھا۔ کمرے میں جوتے اتار کر آتا ہے… خاموشی سے کام کرتا ہے، مجھے پروفیسر صاحب نہیں استاد جی کہتا ہے اور اگر میری جوتیاں سیدھی کرو گے تو میں تمہیں وہ سب کچھ سکھا دوں گا جو میں نے اپنے استادوں سے سیکھا ہے… علاوہ ازیں وہ مصوری کے لیے ایک خاص قسم کا کاغذ بھی طالب علموں کو اپنے ہاتھوں سے بنانے کا قدیم طریقہ سکھایا کرتا تھا۔ اس کے سوا مختلف رنگ بھی طالب علم خود سے بناتے تھے۔ بشیر احمد روایت سے مکمل جڑے ہوئے استاد جی تھے۔ ان زمانوں میں منی ایچر مصوری کے دو بڑے نامور استاد این سی اے میں پڑھایا کرتے تھے۔ حاجی محمد شریف اور شیخ شجاع اللہ…بشیر احمد نے برسوں ان اساتذہ کے نہ صرف بقول کسے حقے بھرے، جوتیاں سیدھی کیں بلکہ ان کے حضور سر جھکائے رموز فن اسے آگاہ ہوتا رہا۔ بشیر احمد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے استادوں کے سامنے جب بیٹھتا تھا تو پہروں پہلو نہ بدلتا تھاتا کہ ارتکاز میں خلل نہ آئے، یہاں تک کہ اس کے گوڈے گٹے بیٹھ گئے اتنی ریاضت کی… این سی اے سے فارغ التحصیل ہو کر وہ اس کالج کے ساتھ منسلک ہو گیا اور پھر کچھ عرصے بعد منی ایچر شعبے کو بقیہ مصوری کی تعلیم سے الگ خود مختار حیثیت میں قائم کیا اور یہ پاکستان میں منی ایچرپیٹنگ کا پہلا شعبہ تھا۔ میں یہاں بشیر احمد کی ذاتی مصوری کے بارے میں صرف اتنا کہوں گا کہ منی ایچر کے بارے میں جو وہ جانتا ہے کم لوگ دنیا میں جانتے ہیں اور جو تصویریں وہ بناتا ہے اور کوئی بھی نہیں بنا سکتا۔ شاگردوں میں عائشہ خالد بہت چہیتی تھی کہ وہ اپنے استاد کی رُوح کو پہچانتی تھی اور طالب علمی کے زمانے میں ہی اس کی شہرت دور دور تک پھیل چکی تھی۔ شازیہ سکندر امریکہ چلی گئی اور وہاں آرٹ کے ناقد اسے منی ایچرہیں ایک لیجنڈ قرار دیتے ہیں۔ عائشہ اور شازیہ کی تصویریں دنیا کے بڑے عجائب گھروں کی زینت ہیں اور ان کے فن پارے خریدنے کی سکت کم ہی ارب پتیوں میں ہے کہ وہ اتنی مہنگی بچیاں ہیں۔ عائشہ کا گھر والا عمران قریشی بھی ایک نابغہ روزگار مصور ہے۔ راشد رانا کے پہلو بہ پہلووہ بین الاقوامی سطح پر نامور پاکستانی آرٹسٹ ہے، اتنا مشہور کہ اس کے نام کے جوتے بھی مارکیٹ میں آ گئے ہیں۔مصوری کی دال اب ڈیزائنر جوتیوں میں بٹنے کی نوبت آ گئی ہے۔ پچھلی بار جب شازیہ سکندر کسی نمائش کے سلسلے میں امریکہ سے پاکستان آئی تو خصوصی طور پر مجھے ملنے کے لیے میرے گھر آئی، عائشہ خالد اور عمران قریشی تو ہمارے گھر کی مرغیاں ہیں لیکن میں ان کی بہت قدر کرتا ہوں کہ یہ سونے کے انڈے دینے والی مصور مرغیاں ہیں۔ شازیہ،عائشہ اور عمران کے علاوہ بشیر احمد کے جو شاگرد دنیا بھر میں نامور ہوئے ان میں نصرالکیف، صالحہ راٹھور، فصیح احمد، تزئین قیوم، سمیرا تزئین، وسیم احمد، عثمان سعید، عرفان حسن شامل ہیں اور یہ سب بوٹے بشیر احمد کے لگائے ہوئے ہیں۔ جو اب اپنی تخلیقی قوتوں سے بین الاقوامی سطح پر تناور درخت بن چکے ہیں۔ بشیر احمد کچھ عرصہ این سی اے کا پرنسپل بھی رہا اور پھر ریٹائر ہو کر گوشہ نشین ہو گیا۔ اسے معاشرے اور اپنے شاگردوں سے کچھ جائز ناجائز شکایتیں بھی ہیں لیکن دنیا بہت آگے جا چکی ہے اور وہ اب بھی قدیم زمانوں کی روایتوں میں سانس لیتا ہے۔ وہ اکثر مجروح سلطان پوری کا یہ شعر حسرت سے گنگناتا ہے… میرے ہی سنگ دشت سے تعمیر بام و در ہوئی اور میرے ہی گھر کو شہر میں شامل کیا نہ جائے نہ صرف اسے بلکہ مجھے بھی پچھلے دنوں جو سول ایوارڈز دیئے گئے ان کی فہرست میں اس کا نام شامل دیکھ کر حیرت ہوئی کہ اہل اقتدار کو کیا پتہ کہ ایک نابغہ روزگار استاد مصور گمنامی میں پڑا ہے یہاں تک کہ اس کے پاس اپنی سواری بھی نہیں، شاید اس کا کوئی شاگرد جس نے حکومت کی توجہ مبذول کروائی ہو۔ مجھے استاد بشیر کے پرائڈ آف پرفارمنس سے جتنی خوشی ہوئی میں بیان نہیں کر سکتا۔ ویسے تو گلہریوں کو بھی ہوئی ہو گی۔ کم از کم اب وہ کسی جاننے والے کے موٹر سائیکل پر لفٹ مانگ کر گھر نہیں جائے گا، کوئی چھوٹی موٹی سواری خریدے گا…ویسے استاد بشیر احمد منی ایچر مصوری کی روایت کی آخری نشانی ہیں۔ وہ آخری چراغ ہے لیکن وہ اتنے چراغ جلا گیا ہے کہ ان کی روشنی میں ہمیشہ اس کا چہرہ تابندہ رہے گا۔

بشکریہ 92 نیوز

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *