آداب، اخلاقیات اور شمیم آراء ۔۔۔ معاذ بن محمود

 

دو عدد مثالوں سے بات شروع کرتے ہیں۔

پہلی مثال: “آپ اخلاقیات کے معاملے میں شمیم آراء والی سسکیوں کے عادی ہیں”۔

دوسری مثال: “آپ کا یہ کمنٹ ہمیں برا لگا، وجہ بتانے کا میرے پاس وقت نہیں، یہ لیں آپ کو بلاک کیا جاتا ہے”۔

میں ان دونوں مثالوں کی وضاحت اور مقصد بتانے سے پہلے “مسئلہ اخلاقیات” پر اپنی ناقص سوچ کی عکاسی کرتا چلوں۔ اس سے بھی پہلے کچھ تمہید برداشت کیجیے۔

انگریزی میں qualitativeاور quantitative دو اصطلاحات ہیں (میں کمزور اردو کے باعث ان دونوں الفاظ کے اردو ہمنواؤں سے نابلد ہونے پر معذرت خواہ ہوں)۔ ہو سکتا ہے آپ ان دو اصطلاحات سے ناواقف ہوں۔ خوبصورتی مثال کے طور پر ایک qualitativeخاصیت ہے۔ اس کا کوئی پیمانہ نہیں۔ سوڈانی خاتون کو  اپنے ارد گرد کے ماحول کے مطابق کوئی افریقی مرد پسند آنے کے امکان زیادہ ہیں۔ میرے لیے غنی خان کی پشتو شاعری اقبال سے زیادہ کشش رکھتی ہے۔ آپ کو کتھئی رنگ کی نسبت سیاہ رنگ زیادہ پسند ہوسکتا ہے۔ یہ تمام qualitativeموازنے ہیں۔

دوسری جانب quantitative سکیل ہے۔ سو میں سے نوے نمبر لینے والا طالب علم کامیابی کی پیمائش میں چالیس نمبر لینے والے سے زیادہ اوپر سمجھا جاتا ہے۔ سات لاکھ تنخواہ لینے والا بندہ سات ہزار لینے والے سے زیادہ امیر مانا جاتا ہے۔ کمپیوٹر پروسیسرز میں core i7 کو کمپیوٹنگ فریکوینسی atom پروسیسر سے زیادہ تیز مانا جاتا ہے۔

نوٹ فرمائیے گا کہ qualitativeمعیار کا معاملہ عموماً انفرادی پسندیدگی یا ناپسندیدگی پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کا تعلق آپ کے ارد گرد کے ماحول، آپ کی مالی حیثیت، ذاتی تجربات کے نتائج سے ہوتا ہے۔ جبکہ quantitative درجے پر پرکھی جانے والی خاصیات کا تعلق کسی نہ کسی معیار یا بینچ مارک سے ہوا کرتا ہے۔

اخلاقیات ایک qualitativeمعاملہ ہے۔ اس کے کوئی quantitative پیمانے مقرر نہیں۔ میں ایسے گھرانوں کو جانتا ہوں جو لفظ “حرامی” کو عرب معنی “چور” کی  طرز پر اپنے گھر والوں کے سامنے بکثرت اور بلا جھجک استعمال کرتے ہیں۔ دوسری جانب میرے گھر میں اس لفظ کو ایک گالی سمجھا جاتا تھا۔ یقیناً گالی کیوں ہے یہ بتلانا نہ ضروری ہے اور نہ اس مضمون کی روح کے مطابق۔ جو اسے گالی کے سیاق و سباق میں استعمال نہیں کرتے ان کے پاس ایک توجیہ موجود ہے۔ آپ اس سے اتفاق یا اختلاف ضرور کر سکتے ہیں مگر اپنی مرضی ان پر تھوپ نہیں سکتے۔ آپ انہیں غلط سمجھ سکتے ہیں مگر انہیں برا سمجھنا میری نظر میں مناسب نہیں۔ یہ ان کے نارمز ہیں جو آپ کی سے الگ ہوسکتے ہیں۔ کیوں؟ اس کے لیے پھر سے qualitativeاور quantitative کی تشریح پر نظر دوڑائیے۔

گالی گلوچ ہمارے معاشرے کے تلخ حقائق ہیں۔ گالی انفرادی جھنجھلاہٹ کا ایک منفی ردعمل ہوا کرتی ہے۔ اس سے گریز پر دنیا بھر کے انسانوں کا اتفاق ہے۔ ظاہر ہے گالیوں کی توجیہ کوئی ایسے میں کیونکر پیش کرے گا؟

لیکن ایک لفظ، اصطلاح یا فقرہ گالی ہے یا نہیں اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ آپ؟ میں؟ یا معاشرہ؟ اگر اس کا فیصلہ آپ کریں گے تو آپ کا فیصلہ مجھ پر حجت کیونکر ہوگیا؟ اگر یہ فیصلہ معاشرے نے کرنا ہے تو معاشرے کی حدود کون متعین کرے گا؟ میرے ارد گرد کے لوگ، یا آپ کے؟

اور اگر ان سب باتوں کا کوئی ٹھوس اور متفق جواب نہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنا معیار ایک ایسے آسماں پر سیٹ کر لیں جہاں سے آپ کو دوسرے کا معیار پست لگنے لگے؟ کیا اس بنیاد پر آپ کسی کی تشہیر “بد اخلاق” یا “بدتمیز” کے طور پر کرنے میں حق بجانب ہوں گے؟

تمیز یا اخلاقیات کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ اب اوپر والی دو مثالوں پر آجائیں۔ پہلی مثال میں میری اخلاقیات پر سوال اٹھانے والے ایک نہایت ہی محترم بھائی کو جواب دیا گیا۔ دکھ یہ ہے کہ یہ جواب بھی “بد اخلاقی” کے زمرے میں شمار کیا گیا۔ مجھے شمیم آراء کی غمگین اداکاری بہت ہی دُکھی کر دیا کرتی تھی۔ میرے کچھ دوستوں کو دوسروں کے اظہار رائے کا طریقہ بھی ایسے ہی غمگین کر دیا کرتا ہے۔ پہلی مثال کس قدر بداخلاقی ہے یہ فیصلہ قارئین پر ہے۔

دوسری مثال میں ایک طرز عمل کی نشاندہی ہے جس کے تحت اپنے معیار سے نیچے کے بندے کو بلاک کیا جا رہا ہے۔ نوٹ فرمائیے گا کہ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ اصول سوشل میڈیا یا مین سٹریم میڈیا کے اکابرین پر لاگو نہیں ہوتا۔ یعنی کوئی “بڑا” بندہ (بت پڑھیے) وہی بات کرے تو “واہ واہ” لکھی جاتی ہے۔ میرے نزدیک کسی کو اپنے آگے صفر سمجھنا بھی بدتہذیبی کی شکل ہے۔ دوسرے کو بات کرنے کا موقع دیے بغیر بلاک کر دینا بھی ایک قسم کی بدتمیزی ہے۔

لیکن میں اپنے معیار کو دوسروں پر تھوپ کیسے سکتا ہوں؟

اسی لیے جو معاملہ اپنے معیار سے ہٹ کر دکھائی دے وہاں خاموشی اختیار کر لینا مناسب عمل ہے۔

کچھ ملتا جلتا معاملہ طنز کا بھی ہے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک خان صاحب کا کنٹینر پر کھڑے ہوکر محمود خان اچکزئی کی نقل اتارنا تضحیک تھا کچھ کے نزدیک یہ طنز تھا۔ ہاں یہ طے ہے کہ اسے گالی نہیں کہا جاسکتا۔ سیاستدانوں پر طنز کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم نے انہیں تعظیم کے اس مقام تک پہنچایا ہوا ہے جہاں دوسروں پر تو ہر قسم کے فقرے کسنا جائز مانتے ہیں تاہم اپنے محبوب کی شان میں ہلکا سا مذاق لے کر بھی توہین قائد گردان کر فتوے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔

میں سیاست اور سیاست دانوں پر طنز لکھتا ہوں۔ کچھ لوگوں کو یہ طنز تضحیک لگتا ہے۔ چند مجاہد ماں بہن کی گالیاں دے کر جواباً مجھے تہذیب سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرض کر  لیں کہ میرے لکھے الفاظ کسی کی تضحیک ہیں بھی، تب بھی شاید تضحیک کسی کی ماں بہن تک پہنچنے سے بہرحال کم قابل گرفت عمل ہوا کرتی ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے حساب سے تہذیب و تمدن کے دائرے میں رہ کر لکھوں تاہم ضروری نہیں کہ میری تہذیب آپ کے تمدن سے سو فیصد ہم آہنگی رکھتی ہو۔

اسی معاملے کو لے کر ایک اور طریقہ واردات سنیے۔ سوشل میڈیا پر ایک گروہ ہے جس میں چند ادھیڑ عمر خواتین، چند بانکے لونڈے اور چند کائیاں مرد حضرات شامل ہیں۔ یہ گروہ ایک خاص سیاسی جماعت کا شدید حامی ہے۔ یہاں تک بات ٹھیک ہے۔ اخلاقیات کے نام پر ان کی نقب زنی کا طریقہ کار یہ ہے کہ ان میں سے ایک خاتون اپنے سیاسی مخالف بندے کی تحریر کے جواب میں لکھاری کی ذات پر حملہ کریں گی، تضحیک کریں گی۔ ایسا کرتے وہ اخلاقیات کا اپنا ہی کوئی معیار اپنائیں گی۔ ٹھیک ہے، معیار اپنا رکھنا ان کا حق ہے۔ یہ صاحب تحریر کی تضحیک اس وقت تک کریں گی جب تک اگلا انہیں جواب نہ دے۔ اور جیسے ہی جواب ملے گا یہ “اخلاقیات” کا شور مچانا شروع کر دیں گی۔ ابھی آپ سوچ ہی رہے ہوں گے  یہ ہوا کیا، کہ اچانک دوسری خاتون معاملے میں ٹانگ داخل کریں گی۔ “اف کتنی گھٹیا بات کر ڈالی” کا شور مچائیں گی۔ پھر گروہ کی تیسری خاتون۔ پھر بانکا لونڈا۔ پھر دوسرا۔ آخر میں کائیاں انکل بھی اس شور میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔ اتنا کچھ کافی ہے کسی بھی شریف النفس شخص کو خاموشی اختیار کرنے کے لیے۔ حالانکہ لکھاری نے جواب دیتے ہوئے کسی قسم کی بداخلاقی نہیں کی ہوتی۔ اخلاقیات کی آڑ میں یہ حرکت اس گروہ کا شیوہ بن چکا ہے۔

اس تمام بحث کو سمیٹتے ہوئے عرض یہ ہے کہ میری یا کسی کی بھی کوئی تحریر غیر اخلاقی یا غیر معیاری لگتی ہے تو متعلقہ حصے کی نشاندہی کیجیے۔ وہ بھی نہیں کر سکتے تو اپنے معیار ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کریں۔ ہوسکتا ہے آپ نیلسن منڈیلا کی اخلاقیات کا معیار لیے ایمازون کے جنگلات میں رہنے والے قبیلے کی اخلاقیات پرکھ رہے ہوں؟ ہو سکتا ہے آپ کی اخلاقیات کی بلندی غیر ضروری طور پر برج خلیفہ پر چڑھی ہو؟

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *