احتساب اور سیاسی نظام۔۔۔داؤد ظفر ندیم

احتساب کے نام پر پاکستان میں نیب اس دور میں جس طرح فعال اور متحرک ہوا ہے ماضی میں اس کی کوئی ایسی مثال نہیں ملتی اگرچہ نواز شریف کے 1999کے دور میں احتساب کمیشن نے سیف الرحمان کی زیر قیادت کچھ فعالیت کا سامنا کیا تھا اور مشرف دور میں نیب نے سیاست دانوں سے اور کاروباریوں سے کامیاب ریکوریز کروائیں تھیں مگر مجموعی طور پر نیب کو اس طرح عزت اور پذیرائی کبھی حاصل نہیں ہو سکی جیسا کہ احتساب کرنے والے ایک ادارے کو ملنی  چاہیے تھی ۔

پاکستان میں احتساب کا نعرہ ہمیشہ مقبول اور مشہور رہا ہے مگر احتساب کرنے والے ادارے کی شفافیت پر ہمیشہ شک کا اظہار کیا جاتا رہا ہے الیکشن کے دنوں میں عوام نے ہمیشہ کھل کر اس بات کا اظہار کیا ہے کہ اسے سیاست دانوں پر لگائے گئے الزام پر زیادہ اعتماد نہیں ہے۔ اس وقت نیب دو سابق صدور جناب پرویز مشرف اور جناب  آصف علی زرداری کے خلاف تحقیقات کر رہا ہے جبکہ2002  کے بعد منتخب ہونے والے تمام وزرائے اعظم ماسوائے جناب ظفراللہ جمالی کے، نیب کے زیر تفتیش ہیں۔ حتٰی کہ موجودہ وزیر اعظم عمران خان  کے خلاف بھی چند الزامات کی وجہ سے نیب میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔جناب شوکت عزیز، جناب چوہدری شجاعت حسین، جناب یوسف رضا گیلانی، جناب پرویز اشرف، جناب نواز شریف اور جناب شاہد خاقان عباسی سمیت تمام سابق وزرائے اعظم کو نیب کے سامنے پیش ہونا پڑرہا ہے۔آمدن سے زائد اثاثوں کا الزام تمام سیاست دانوں پر عائد کیا گیا ہے۔ وزرائے اعظم کے علاوہ ن لیگ کے سعد رفیق، اور سلما ن رفیق، پاکستان پیپلز پارٹی کے سراج درانی اور حکمران جماعت کے جہانگیر ترین اور علیم خاں بھی مختلف الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔

مگر ہر دور میں یہی سوال ابھر کر سامنے آتا رہا ہے کہ یہ احتساب واقعی نیک نیتی سے معاشرے اور ریاست کو شفاف بنانے اور ملک میں احتساب کا ایک موثر نظام بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے یا یہ سب مخالفین سے سیاسی انتقام لینے، سیاسی سودے بازی کرنے اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے ۔۔۔دوسرا سوال اس  سے بھی زیادہ اہم ہے کہ احتساب کرنے والا ادارہ واقعی اتنی اہلیت رکھتا ہے کہ وہ ملزموں کے خلاف ٹھوس ثبوت حاصل کر سکے اور اس کے وکلا اتنے موثر طریقے سے قانونی جنگ لڑنے کی اہلیت رکھتے ہیں کہ ملزموں کو واقعی سزا دلوا سکیں۔اور واقعی ہر مقدمے میں احتساب کرنے والے ادارے کا رویہ ایک جیسا ہوتا ہے یا کوئی دہرا معیار اپنایا جاتا ہے۔

اس وقت نیب پر اپوزیشن اور حکومت سمیت تمام فریقوں نے تنقید کی ہے بلکہ سپریم کورٹ نے بھی اپنے ریمارکس میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے ایک مقدمے میں معززجج نے ریمارکس دیے  کہ نیب کا معیار مختلف مقدمات میں مختلف ہوتا ہے یہ مختلف مقدمات میں دہرے معیار کا مظاہرہ کرتا ہے۔ ایک دوسرے مقدمے میں سپریم کورٹ کے معزز جج نے ریمارکس دیے کہ نیب عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کرنے کی بجائے لوگوں کے خلاف میڈیا ٹرائل پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔

یہ اس دور کی بات نہیں ہے کہ احتساب کا قانون اور احتساب کا ادارہ سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہورہا ہے بلکہ قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد احتساب کا نام سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہونا شروع ہوگیا تھا۔سیاسی قوتوں کو کچلنے اور سیاسی راہنماؤں کو عملی سیاست سے باہر نکالنے کے لیے احتساب کے قوانین بنائے   گئے  اور احتساب کے ادارے کو استعمال کیا گیا۔ ایبڈو اور پروڈا جیسے قوانین کے ذریعے ان سیاستدانوں کو سیاست سے باہر نکالا گیا جو پاکستان بنانے کی جدوجہد میں قیادت کر رہے تھے اور جن پر مالی بدعنوانی کا الزام بھی نہیں تھا۔اس کے بعد آمریت کے ہر دور میں کڑے احتساب کا نعرہ لگایا گیا اور ناپسندیدہ سیاست دانوں کو اس چھلنی سے گزارنے کی کوشش کی گئی، بعض سیاست دانوں کو سیاسی سمجھوتوں پر مجبور کیا گیا۔ مشرف دور میں نیب کا قانون پاس ہوا اور اس دور میں اس قانون کے ذریعے سیاست دانوں سے سیاسی سودے بازی بھی کی گئی اور بعض ناپسندیدہ لوگوں کو سزا بھی دی گئی۔ اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی نے نیب کے ادارے کو ختم کرنے کی بات کی مگر نواز شریف کی مخالفت کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو سکا اور اٹھارویں ترمیم کے ذریعے چیئرمین نیب کی تقرری کا طریقہ کار طے کیا گیا۔

نیب کے ادارے اور عدالتوں کی سماعت میں تیزی اس وقت آئی جب نوازشریف کے دور کے آخر میں نیب کے نئے چیئرمین کا تقرر کیا گیا۔
مگر اب تک دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ یہ سب سیاست دانوں کی تذلیل کرنے اور ان کے میڈیا ٹرائل کا ایک طریقہ ہے۔عدالتوں میں نیب کے پاس ایسی ٹیم نہیں جو ان مقدمات کی پیروی کر سکے یا ان کی تفتیش  کا ایسا معیار نہیں جو ملزم کو مجرم ثابت کرنے کے لئے کافی ہو۔نیب کی  طاقت اس قدر زیادہ ہے کہ وہ مختلف وزارتوں میں مداخلت کرسکتی ہے اور احتساب کے صوبائی اداروں کو بھی ہدایات دے سکتی ہے۔احتساب کے سیاسی استعمال کی وجہ سے ہی احتساب کے نام کو بھی پاکستان میں شک و شبے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔اور اس کو سیاسی انتقام اور سیاسی سودے بازی کا ایک طریقہ سمجھا جاتا ہے ۔پاکستان پیپلزپارٹی کا الزام ہے کہ یہ سب کچھ اٹھارہویں ترمیم کے سلسلے میں کیا جا رہا ہے یہ سب سیاسی سودے بازی اور نئے سیاسی سمجھوتے کے لئے کیا جا رہا ہے۔

احتساب ضروری ہے مگر احتساب کے لئے ایک شفاف اور قابل قبول نظام بنانا  بھی ضروری ہے ،اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ نیب کے پاس تفتیش کی موثر اہلیت ہونی چاہیے  اور ان کے پاس ایسی قانونی ٹیم بھی ہو جو ملزم کو مجرم ثابت کر سکے ، اس وقت تمام تر دعوؤں  کے باوجود ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ نیب کے پاس نہ صرف پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اراکین کی لسٹ ہے بلکہ پاکستان مسلم لیگ ق کے اراکین پر بھی الزامات ہیں مگر انھیں اتنی مشکل صورت حال کا سامنا نہیں اور اسی طرح پشاور میٹرو کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے اہم وزرا کو بھی الزامات کا سامنا ہے مگر ان الزامات کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کے اراکین کو ان مشکلات کا سامنا نہیں ہے اس احتساب سے فوجی افسران، عدلیہ اور صحافی اب تک باہر ہیں جبکہ سیاست دانوں کی حد تک بھی صرف منتخب سیاست دانوں کے گرد ہی شکنجہ کسا جا رہا ہے جس نے اس احتساب پر بھی بہت سے سوالیہ نشان کھڑے کر دیئے ہیں اور اس کو بھی متنازعہ بنا دیا ہے۔

پاکستان کے سماجی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اصل مسئلہ احتساب نہیں بلکہ پاکستان سے بدعنوانی اور بددیانتی کی اس معیشت کو شفاف اور ایمانداری کی معیشت میں تبدیل کرنا ہے ، پاکستان میں ہر سطح پر پھیلی بدعنوانی کو ختم کرنا ہے اس سلسلے میں موثر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے کاموں کو روکا جا سکے۔اس کے بغیر نہ تو مضبوط اور شفاف احتساب کا نظام قائم کیا جا سکتا ہے اور نہ ایک مضبوط اور شفاف معیشت کی بنیاد ڈالی جا سکتی ہے۔

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
برداشت اور محبت میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *