عمر کے اس آخری پڑاؤ میں اپنے شجر سائیہ دار تلے سانس لینا یقیناً نعمت خداوندی کہ بے شک اولاد اللہ تعالیٰ کا بیش بہا تحفہ اور اولاد سعادت مند ہو تو کیا ہی کہنے . زندگی کسی کی آسان← مزید پڑھیے
کسی کہانی کے اختتام پر ، اگر قاری کی ایک آنکھ سے نمکین پانی کا سست رو دھارا ایک سیدھی لکیر بناتا ہوا گردن تک آپہنچے اور دوسری آنکھ میں ایک آبدار موتی پلکوں کی باڑ میں کہیں اٹک جائے ← مزید پڑھیے
سائنس سے قطعاً انکار نہیں مگر یہ علم ہے اسے عقیدہ نہ بنائیں۔ میں خود نظریہ ارتقاء پہ یقین رکھتا ہوں مگر انسان کو نکال کے کیونکہ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ۔ (ہم نے انسان کو خوبصورت بنایا)← مزید پڑھیے
ہندو فسطائیت کے ماحول میں پلے بڑھے ایک مسلمان صحافی کی خود نوشت داستان نام کتاب: City on Fire: A Boyhood in Aligarh مصنف: زیاد منصور علی خان ناشر: Harper Collins. India صفحات: 297 تاریخ اشاعت: دسمبر 2023 قیمت: برطانیہ← مزید پڑھیے
اگرچہ اس کا بچپن انسانوں کے بیچ گزرا، لیکن زندگی کا شعوری حصہ اس نے جنگلوں میں گزارا۔جنگل کی صاف فضا، محبت سے بھرے ماحول اور آزادی سے بھرپور زندگی سے آئے ہوئے شہر میں اس کا پہلا دن تھا۔بازار← مزید پڑھیے
ن م ( نذر محمد) راشد 1910 میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ راشد کا نام اردو میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ ان کے دور میں علامہ اقبال اپنی صوفیانہ اور فلسفیانہ شاعری سے لوگوں کو متاثر کر رہے تھے۔ جبکہ← مزید پڑھیے
عام طور سے دیکھا یہ گیا ہے کہ دینی حلقے اور صالح مسلمان غیر اسلامی ممالک میں امیگریشن کرنے اور مستقل سکونت اختیار کرنے سے ہچکچاتے رہتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کو بہت سے معاملات میں اشتباہ بھی← مزید پڑھیے
اُردو سفرنامہ نگاری چُھوت چھات کی وہ بیماری ہے ،جو قرنطینہ کُجا خلا میں بھی اُڑ کر کسی شریف آدمی کو لگ سکتی ہے۔ اور ایسی کہ چنگا بھلا بندہ بیٹھے بٹھائے پروفیسرہو ہو جائے۔ پھراُسے جو دن دیہاڑے نہیں← مزید پڑھیے
پہلے تین نظمیں ملاحظہ فرمائیں:نظم‘‘ایک خواب کے تعاقب میں’’ رات آندھی چلی رات بلیوں کے رونے کی آوازیں آتی رہیں رات ایک شخص مر گیا صبح اس کی لاش شہر کے مصروف چوک میں دیر تک گرین بیلٹ پر پڑی← مزید پڑھیے
مجھے زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ میرا مزاج جانتے ہوئے بھی میرے ماں باپ نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ مجھ سے کم صورت چیزیں برداشت ہی نہیں ہوتی تھیں۔ میں صرف حسین ہی نہیں تھی حسن پرست← مزید پڑھیے
دنیا کا کوئی سفرنامہ اتنے ذوق وشوق اور اتنی عقیدت ومحبت اور اتنے وجد وحال کے ساتھ نہیں لکھا گیا ہے جتنے حج کے سفرنامے لکھے گئے ہیں۔ دنیا میں سیر وسیاحت کے بہت سے مقامات ہیں، گل وگلزار سے← مزید پڑھیے
بہت پہلے کی بات ہے کہ میر پور آزاد کشمیر کا ایک خاندان بلوچستان کی ریاست قلات جا کر آباد ہوا جہاں مستونگ کے علاقے میں خان آف قلات کے گھوڑوں کا بہت بڑا شیڈ تھا۔ اس خاندان کے سربراہ← مزید پڑھیے
بھئی میرے گھر کا باو آدم ہی نرالا ہے۔ گھر کم ہے سرائے زیادہ۔ سب اپنے آپ میں مگن اور اماں ابا ایک دوسرے میں گم۔ اولاد شمال ہے کہ جنوب وہ اس سے قطعی لاعلم ۔ چھ بھائی بہن← مزید پڑھیے
پہلا حصّہ: کافکا’ایک صدی بعد/ناصر عباس نیّر دروازے کو تمثیل بنانے کی مثال ، کافکا کا افسانہ ’’ عقوبت نگر میں‘‘ (In the Penal Colony) ہے۔ عقوبت نگر ایک بے نام ،گرم جزیرے پر واقع مقام ہے۔ ایک سیاح کو← مزید پڑھیے
فلسفیانہ قنوطیت ایک فلسفیانہ نظریہ ہے جو زندگی یا وجود کو منفی اقدار تفویض کرتا ہے۔ اس نظریہ کے حامی فلسفی عام طور پر یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ دنیا میں لذت پر درد کو تجرباتی فوقیت حاصل ہے،← مزید پڑھیے
ادبی سفر کے دوران میں دانیال طریر نے میر سے رگوں کے اندر دہکتے شعلے بنانا، بانجھ آنکھوں سے اشک بہانا اور اپنی ذات کو فنا کرکے خود کو ریشم بنانا سیکھا۔ غالب سے ذات کی اہمیت، نظیر سے احترام← مزید پڑھیے
بچپن میں افریقہ سے شناسائی صرف ایتھوپیا کے افلاس اور فاقہ زدہ خطے سے زیادہ کی نہ تھی ـ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ملکی اور غیر ملکی سیاست کی باریکیاں کچھ سمجھ آنے لگیں تب نیلسن منڈیلا والے افریقہ← مزید پڑھیے
ادب و فن اسی فانی زندگی کو لکھتے ہیں، اسے سمجھنے، بدلنے یا پھر جیسی یہ زندگی اس لمحے ہے اور انسانی تجربے میں آتی ہے، اسی طرح پیش کرنے کے لیے، لیکن کوئی ادیب لافانی ہونے کی آرزو سے← مزید پڑھیے
دس برس بعد اپنی بھانجی کی شادی میں شرکت کی غرض سے لینڈ آف پیور واپس آیا ہوں۔ میری فیملی شادی سے تین دن پہلے کراچی پہنچے گی۔ میں مغرب کی مشینی زندگی سے تھک گیا تھا اس لیے مہینے← مزید پڑھیے
یہ سردی کی ایک ٹھٹھرتی شام تھی۔ایک طرف آوارگی تو دوسری طرف نیند کا بوجھ انتہا پر تھا۔ آوارگی اس لیے کیوں کہ میں سوچ کے حصار میں گم نہ جانے گلیوں کے پیچ و خم سے ہوتا ہوا کدھر← مزید پڑھیے