جسم کا ڈھیر/یحییٰ تاثیر

یہ سردی کی ایک ٹھٹھرتی شام تھی۔ایک طرف آوارگی تو دوسری طرف نیند کا بوجھ انتہا پر تھا۔ آوارگی اس لیے کیوں کہ میں سوچ کے حصار میں گم نہ جانے گلیوں کے پیچ و خم سے ہوتا ہوا کدھر آ نکلا تھا۔ عالم مدہوشی میں سڑک کے کنارے لگے کھمبے کے ساتھ لگ کر آدھ لیٹے ہوئے انداز میں بیٹھ گیا۔ کمبل میں ایسا لپٹا ہوا تھا کہ شاید کچھ فاصلے سے کچرے کا ڈھیر نظر آتا ،اس لیے کچھ گاڑیاں اور لوگ راستے پر جاتے ہوئے گزرے لیکن کسی نے توجہ نہ دی۔ کانپتے ہوئے جبڑے اور دانتوں کے کڑکڑانے سے کٹکتی ہوئی آواز نکل رہی تھی۔ کافی دیر تک اسی حالت میں بیٹھا رہا جب سناٹا چھا گیا اور وحشت طاری ہوئی تو اپنے پیچھے کھمبے کی دوسری طرف کسی کو ٹیک لگائے ہوئے محسوس کیا۔
’’کون ہیں آپ؟‘‘
خاموشی اور جمود کا عالم۔۔
کیا آپ مجھے سن رہے ہیں؟ میری طرح آپ بھی اجنبی تو نہیں؟
مجھے کوئی جواب نہیں ملا۔
دوسری جانب اس کا ہاتھ  ڈھلکا ہوا  پڑا تھا۔ میں نے ڈرتے ہوئے اس کے ہاتھ کو نبض کی جگہ سے تھاما۔ یہ اگرچہ برقی تار نہ تھا لیکن اس کا جھٹکا شدید تھا۔جھٹکا لگتے ہی مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا اور مکانی و زمانی سرحدوں   کو پھلانکتا ہوا کسی عالم ِدیگراں میں  جاپہنچا۔
اپنے اَن جان دوست سے کیے ہوئے سوال کا جواب مجھے اب ملا۔
”میں وہ ہوں جسے دنیا والوں نے پھٹکارا، دھتکارا، پٹخا اور پھر بہت پیچھے چھوڑ دیا لیکن اب میں دنیا والوں سے بہت آگے نکل آیا ہوں۔ سراغ زندگی نے میرے جسم میں اتنے چھید کیے ہیں کہ میرا پورا وجود چھلنی ہوگیا۔ ان چھیدوں کو بھرنے کےلیے انسانوں سے دور جانا ضروری تھا۔جب سے ہوش سنبھالا ہے دنیا میں اپنے حصّے کا رزق سمیٹنے کی کوشش میں لگا ہوں لیکن یہاں عقابوں نے ہمیشہ ناتوانوں کے نوالے جھپٹ کرچھینے ہیں۔ کہتے ہیں ناآسودہ خواہشات لاشعور میں ڈیرا ڈال دیتی ہیں اور وقتاً فوقتاً سامنے آکر بندے کو جرائم پر مجبور کرتی ہیں۔ میرے خیال میں دنیا میں تو پھر سب سے زیادہ ناآسودگی کا شکار صاحبِ ثروت طبقہ ہوگا کیوں کہ جرائم کی جڑ یہی ہے۔“

”میں وہ ہوں، جس نے دھکّے کھا کھا کر تعلیم حاصل کی لیکن ملا کیا؟ کچھ نہیں۔ کیوں کہ میرے حصّے کا حق پہلے سے کسی “تعلیم یافتہ” کے کھاتے میں ڈالا گیا تھا۔ میں وہ ہوں، جسے کبھی بھی قبل از وقت دیہاڑی نہیں ملی۔ میں نے گھر کی چوکھٹ اس لیے چھوٹی بنائی تاکہ کسی کو اصل وجہ معلوم نہ پڑ جائے کہ یہ شخص گھر میں کیوں سر نیچا کرکے چلتا ہے۔ امیدوں اور خواہشات کا حسرتوں میں بدلنا اور جسم کے ڈھیر میں دب جانا میرے حصے میں ہمیشہ آیا۔ محبت؟ محبت تو مجھے روٹی لگتی ہے جو میری منزل رہی، جس کےلیے میں نے دنیا میں سب سے بڑھ کر کوشش لیکن میں کبھی محبت کو نہ پاسکا۔ اولاد سرمایہ ہوتی ہے مگر میری بیٹی اس جوان کلی کی مانند ہے جس نے کبھی جوانی نہیں دیکھی، نہ اس کو پانی ملا، نہ پھولوں کا ساتھ۔کیوں کہ اس کے ہاتھوں سے ہمیشہ لکیریں غائب رہتیں۔ بیٹا؟ میرے خیال میں بیٹا وہ فرد ہے جو دور کسی گلی کے کونے میں کھڑا دکانوں، پُرتعیش عمارتوں، چمکتے دمکتے چہروں اور گزرتی  گاڑیوں کو تاڑتا رہتا ہے اور کبھی کبھی تو یادوں کی لہروں میں بہہ کر انہی چیزوں کو حاصل بھی کرتا ہے لیکن ہمیشہ حقیقت کو سامنے پاتا ہے۔ بیوی تو وہ خزانہ ہے جو شکنوں، دراڑوں، ارمانوں، رفاقتوں، رشتوں کو اپنے اندر سمیٹتے سمیٹتے پھیلتی رہتی ہے لیکن پتا نہیں وہ ہر شام ڈھلتے سورج کی طرح غروب کیوں ہوتی ہے؟ اپنے اندر کے گَرد کو کیسے جھاڑتی ہے؟ وہ کہتی ہے مجھے زیادہ کھانا نہیں پسند کیوں کہ اس سے میرا وزن بڑھتا اور جسم پھیلتا ہے، حلق میں گوشت اُبھر آتا ہے اور نوالہ پھنس جاتا ہے، سانس اکھڑنے لگتی ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کسی کا حق میرے گلے میں  پڑا ہے۔“

”زندگی گزرتی نہیں، اسے دھکّے دے دے کر گزارا جاتا ہے۔ زندگی گزارنا سب سے مشکل کام ہے کیوں کہ اس کے پیسے بھی نہیں ملتے۔ اس کام میں دل بھی نہیں لگتا لیکن ہر روز صبح اٹھ کر یہ چپک جاتی ہے، جِگری یار کی طرح ساتھ نہیں چھوڑتی، تمام تلخیاں اپنے ساتھ رکھتی ہے، برداشت بھی کرتی ہے، اکیلے میں چیختی، چلاتی اور روتی ہے جب کہ جلوت میں ہنستی رہتی ہے۔ رات کو بستر میں ایسے گلے لگتی ہے کہ آخرکار گود میں سر رکھ کر سوجاتی ہے۔ زندگی یاروں  کی یار ہے کیوں کہ زندگی تو بندے کے ساتھ سفید چادر میں لپٹ کر دفن بھی ہوجاتی ہے۔۔۔۔اور موت۔۔۔۔

Advertisements
julia rana solicitors london

ارے او بھائی صاحب! مرگئے ہو کیا؟۔ میں اچانک اچھل کر سیدھا بیٹھ گیا۔ کھمبے سے لگے شخص کا ہاتھ میرے ہاتھ کے ساتھ چپک گیا تھا۔ پولیس اہل کار نے کافی کوشش کے بعد ہاتھ الگ کئے، میرے ہاتھ سے تھوڑا گوشت وہ اپنے ساتھ لے گیا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد پتہ چلا کہ وہ شخص دو دن سے یہاں مرا پڑا رہا۔ میں نے پولیس کو یقین دلوانے کی کوشش کی کہ یہ شخص مرا نہیں تھا زندہ تھا اور میرے ساتھ باتیں کررہا تھا۔ میں نے انھیں تمام باتیں بتائیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ جو تم بول رہے ہو یہ تمام پورسٹ مارٹم کے مطابق ممکنات کا بیان ہے۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply