کایا کلپ/یحییٰ تاثیر

اگرچہ اس کا بچپن انسانوں کے بیچ گزرا، لیکن زندگی کا شعوری حصہ اس نے جنگلوں میں گزارا۔جنگل کی صاف فضا، محبت سے بھرے ماحول اور آزادی سے بھرپور زندگی سے آئے ہوئے شہر میں اس کا پہلا دن تھا۔بازار کے ریل پیل میں حیرانی کے عالم میں، مختلف چیزوں کی طرف دیکھتے ہوئے اچانک کسی دکان کے اندر سے شور کی آواز اس کے کانوں تک پہنچی۔ انسانوں کے مابین جھگڑا دیکھ کر وہ سکتے میں چلا گیا۔ اگرچہ اس نے جنگلوں میں درختوں کی کٹائی اور جانوروں کے شکار کے مناظر چپکے چپکے دیکھے تھے لیکن کسی انسان کا انسان کو مارنا وہ پہلی مرتبہ دیکھ رہا تھا۔ وہ یہ بھید بھی جان گیا کہ آخر انسان درختوں اور جانوروں کو کیوں مارتا رہتا ہے۔ جب کسی درخت کو چوٹ لگتی تو اسے درد ہوتا اور جب کسی جانور کو زخمی حالت میں دیکھتا تو خود اس کی دیکھ بھال کرتا۔ لیکن دھڑادھڑ انسان، انسان ہی کا خون بہا رہا تھا اور کسی دوسرے کو درد محسوس نہیں ہورہا تھا۔یہ مناظر دیکھنے کی اس میں تاب نہ تھی اس لیے فوراً وہاں سے روانہ ہوا۔

آگے ایک عجیب منظر اس کے سامنے تھا۔ پہلے پہل وہ سمجھا کہ کسی اور ہی دنیا میں آیا ہے۔ کچھ کارخانے اور فیکٹریاں ہیں جن سے اوپر کی جانب مسلسل دھواں اڑتا جارہا ہے۔ اس کی نظریں خلا اور فضا میں شامل ہوتا زہر صاف دیکھ رہی تھیں۔ کسی کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ وہ چیخنا چلانا چاہتا تھا لیکن یہ جنگل تو نہیں جہاں وہ آزادی کی سانس لے اور فطرت سے باتیں کریں، چیخیں، چلائیں۔ یا شاید اس کے شفاف جسم میں بھی فیکٹریوں سے نکلنے والا زہر چلا گیا جس نے اس کی قوت آواز مسخ کی۔ وہ وہاں سے بھاگنا ہی چاہتا تھا کہ فیکٹریوں اور کارخانوں کی دوسری جانب اسے زمین پر تیرتا ہوا زہر نظر آیا جو برابر ندیوں، نالیوں سے ہوتا ہوا فطری پانی اور دریاؤں میں جا گر رہا تھا۔ وہ ان پانیوں کے اندرون میں انسانوں کی مچائی ہوئی اس تباہی کے اثرات کا نظارہ فطرت کے اندرون میں دیکھ رہا تھا۔ یہ وہ روحانی تباہی تھی جس پر انسانی مادی ترقی کی دبیز تہیں چڑھی ہوئی تھیں۔ وہ فطرت کی معدومیت نہیں بل کہ کائنات کا خاتمہ دیکھ رہا تھا۔

اب وہ نڈھال و پریشان منزل کا تعیّن کیے بغیر آگے کی طرف بڑھا۔ اب کیا دیکھتا ہے کہ ایک گلی جس کی دونوں جانب سجے سجیلے چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں، ہر کمرے کا دروازہ خوب صورت رنک برنگے قمقموں، مختلف قسم کی زنانہ و مردانہ تصویروں، پوسٹروں، کپڑے سے بنے عجیب و غریب ٹکڑوں اور رنگارنگ پینٹنگ کے نمونوں سے مزیّن تھا۔ ہر دروازے کے آگے ایک لڑکی، جس کی آنکھوں میں اُداسی، ماتھے پر خفیہ شکن، ہاتھوں کی لکیروں میں تقدیر کا رونا، پازیب کی جھنکار میں ماتم کا اثر، کمر اور کندھوں کے عیاں حصوں پر بھیڑیوں کے پنجوں کے نشانات، مجروح عزت نفس کے ساتھ اپنے جسم کے عناصر کا سودا کرتے ہوئے اشارے دے رہی تھی۔ یکایک اسے جنگل کا موسم بہار یاد آگیا۔

کلیوں کا پھوٹنا، فضا میں معطر ہوا کا گھومنا، گھاس کے لہلہاتے تنکوں کی آوازیں، پرندوں اور چڑیوں کی موسیقی سے درختوں کا جھومنا، پانیوں کا بہنا، آبشار کے پانی کا گرنا۔ سوچ کے حصار سے نکلنے کے بعد اس کے سامنے ایسا کچھ نہ تھا۔ اس کے سامنے تو گلاب کی پنکڑی اور جوان کلی اپنے اندر ایسا کرب اور کراہت لیے کھڑی تھی کہ انسانیت شکن۔ یہ کایا کلپ دیکھنے کے بعد وہ اپنی ہوش و حواس گنوا ہی بیٹھا تھا۔ اچانک آگے کی طرف بڑھا کہ لاچار و بے بس ماں جس کے ارد گرد بچیاں اور بچے جمع تھے، گود میں لیے ایک مرجھائی ہوئی کلی کا ماتم کر رہی تھی جس کا کونپل بری طرح گھائل تھا۔ اس کے پتے جھڑ چکے تھے جو باقی تھے ان پر سرخی اور شکن پڑے تھے۔ سب ارد گرد کھڑے اسے گالیاں دے رہے تھے، کوئی پتھر مار رہا تھا، کوئی تھوک رہا تھا، تو کوئی دامن کی گندگی کے طعنے دے رہا تھا۔ اس نے ماں کی مدد کرنا چاہی مگر ہوش و حواس کی گم شدگی نے ساتھ نہ دیا اور وہ وہاں سے بھاگ نکلا۔ مسلسل بھاگ رہا تھا، اتنا بھاگا، اتنا بھاگا کہ جٹھکا کھا کر گر پڑا۔

جب آنکھ کھلی تو خود کو بہت سے انسانوں کے بیچ ایک بستر پر لیٹا ہوا پایا۔ حرکت کرنے کی کوشش کی مگر بے سود۔ اس کی دونوں طرف بستر میں کوئی اور بھی تھا جن میں بھی ہلنے کی طاقت نہ تھی۔ کچھ لوگ سفید کپڑوں میں ملبوس، ہاتھوں میں چھریاں، چاقو، سوئی دھاگا لیے ہوئے آئے لیکن وہ ان کے ماسک سے اس پار کے چہروں کو نہیں دیکھ پایا۔ علاج معالجے سے زیادہ، زمین اور بستروں پر پڑے بدحال لوگوں کو ڈانٹا، پھٹکارا، اس کے اوپر پاؤں رکھا اور جلدی سے واپس چلے گئے۔ شاید تعفّن اور طبعی ماحول میں پھیلی ہوئی ہوا میں آکسیجن کی کمی میں ٹک نہ پائے، یا شاید ان کے کپڑے اور جوتے میلے ہورہے تھے۔وہ پڑا تھا اور ارد گرد تڑپتے لوگوں کو دیکھ رہا تھا لیکن لاچار تھا۔ رات کے اندھیرے میں دھکے کھاتا ہوا باہر آیا، سویا ہوا سیکیورٹی گارڈ اسے نہ دیکھ سکا۔

وہ اس شور اور عجیب ماحول سے دور جانا چاہتا تھا لیکن اس کے اندر ہلچل جاری تھی۔ وہ اپنے اندر کچھ عجیب و غریب تبدیلی محسوس کررہا تھا۔ کوئی اس کے اعصاب جھنجھوڑ رہا تھا۔ اسے شدید تکلیف ہورہی تھی۔ اس نے پھر سے بھاگنا شروع کیا، بھاگتا رہا، کافی وقت گزر جانے کے بعد خود کو ایک سنسان جگہ میں پایا، وہاں کیا دیکھتا ہے کہ ایک معصوم، بھولی بھالی، جوان اور ملائم کھلی کو کچھ تیز و طرار کانٹوں نے اپنے لپیٹ میں لے لیا ہے اور اس کے پتے، کونپل، خوشبو، ہریالی، سرسبزی، سرخی اور خوب صورتی مجروح و مسخ کررہے ہیں۔ یہ دیکھنا تھا کہ غش کھا کر گِر پڑا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

ہوش میں آنے کے بعد خود کو تبدیل پایا، ذہن اور دل دونوں تغیّر آشنا محسوس ہورہے تھے۔ شعوری طور پر ایک منزل کی طرف روانہ ہوا۔ سب سے پہلے اس گلی کا رخ کیا جہاں اسے رنگ برنگے قمقمے اور پینٹک دکھائی دیے تھے۔اب وہ یہاں اطمینان اور سکون محسوس کررہا تھا. کچھ وقت وہاں گزارنے کے بعد ان فیکٹریوں اور کارخانوں کی طرف چلا گیا لیکن وہاں اسے زہر نظر آیا نہ فطرت کی بیرونی و اندرونی تباہی۔ یہاں سے وہ بازار کی جانب روانہ ہوا اور انسانوں کی اس لڑائی میں شامل ہوگیا جو اب تک جاری تھی۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply