کافکا’ایک صدی بعد/ناصر عباس نیّر

ادب و فن اسی فانی زندگی کو لکھتے ہیں، اسے سمجھنے، بدلنے یا پھر جیسی یہ زندگی اس لمحے ہے اور انسانی تجربے میں آتی ہے، اسی طرح پیش کرنے کے لیے، لیکن کوئی ادیب لافانی ہونے کی آرزو سے بے نیاز نہیں ہوتا۔ لکھنا، وقت کے غبار میں گم ہونے کے خلاف انسانی روح کی سب سے بڑی جدوجہد ہے۔

اس جدوجہد کی کامیابی اور ناکامی کے امکانات یکساں ہوتے ہیں۔ ہر انسانی آرزو اور جدوجہد مستقبل کے ممکنات میں ایک اندھے کی مانند، ٹامک ٹوئیاں مارنے کا دوسرا نام ہے۔ کبھی بہت کچھ حاصل ہوتا ہے، کبھی ناکامی اور کبھی سبق۔ ادب وفن بھی اس اصول سے مبرا نہیں ہیں۔

کافکا فانی تھا، گزر گیا۔ کافکائیت باقی ہے، ایک صدی بعد بھی۔ ادیبات عالم کی تاریخ میں کتنے ایسے ادیب ہیں جن کے نام صفت بن گئے ہوں؟ ہومر، شیکسپئر، رومی، ایلیٹ، جوائس، جارج آرویل، بورخیس اور کسی حد تک منٹو۔

ایک ادیب کا نام صفت میں اس وقت بدلتا ہے جب اس کی تحریروں میں کچھ یکسر منفرد و ممتاز اور لافانی عناصر دریافت کیے جاتے ہیں۔ ایسے عناصر جو اس ادیب کی جملہ تحریروں کو سمجھنے کی کلید بن سکتے ہیں اور زمانے پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ لافانی ادب صرف وہی نہیں جو مسلسل پڑھا جاتا ہے بلکہ وہ ہے جو دوسرے ادیبوں کے تصور دنیا، اسلوب، تکنیک میں بھی سرائیت کر جاتا ہے۔

جسے سمجھے بغیر، جس کے اطراف کو دریافت کیے اور جسے قبول یا رَد کیے بغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ کافکائیت فقط کافکا کے مختصر و طویل فکشن کی رگ رگ میں دوڑنے والا خون نہیں، بلکہ آئننسکو سے بورخیس، مارکیز، پال آسٹیر، موراکامی سے انتظار حسین و نیر مسعود کی چشم تخیل سے بھی ٹپکتا ہے۔ کافکائیت، صرف کافکا تک محدود نہیں۔

بیسویں صدی کے تشدد، تضادات، ادارہ جاتی انسان کشی، انسان کی منفی تقلیب، بغیر جرم کے ابدی سزا، انصاف و قانون کی انھی لوگوں سے مستقل دوری جن کے نام پر یہ بنے ہیں، بھیانک خواب، آسیب، غیر عقلی، بے رحم، تضادات و محالات سے عبارت دنیا کو جس طور اس چیک ادیب نے پیش کیا، وہ بعد کے چند بڑے ادیبوں کے لیے ایک نیا تخلیقی عدسہ ثابت ہوا۔

ان ادیبوں کی عظمت میں ایک حصہ کافکائیت کا بھی ہے۔

اس تحریر میں ہم کافکائیت کے اہم اجزا کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ تبھی ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ایک صدی بعد کافکا کیوں کر ہمارے لیے آج بھی اہم ہے اور اگر ہم اسے نہ پڑھیں تو کس اہم ادبی بصیرت اور دنیا کو سمجھنے کی کس اہلیت سے محروم رہیں گے۔

کافکائیت کا پہلا اہم جز “دروازہ” ہے۔

دروازہ اندر اور باہر کی دنیا کو تقسیم کرتا ہے۔ لکیر بھی تقسیم کرتی ہے اور بیسیویں صدی کی دنیا کو سمجھنے کا یہ ایک اہم استعارہ بھی ہے مگر لکیر دو ایک جیسی حقیقی، اگرچہ نظریات میں مختلف و متصادم دنیاؤں کو تقسیم کرتی ہے مگر دروازہ اندر کی محدود و مخصوص و پراسرا اور باہر کی کھلی، عام فہم دنیاؤں کو تقسیم کرتا ہے۔ دوسروں کے یہاں دروازہ، ایک محدود و مخصوص دنیا میں داخل ہونے کا دروازہ ہے، کافکائیت میں یہ اندر کی دنیا کو کچھ لوگوں پر بند رکھنے کا بندوبست ہے۔

قانون کے سامنے (Before the Law) میں مضافات کا ایک شخص قانون کے دروازے پر پہنچتا ہے۔ دربان اسے اندر نہیں جانے دیتا۔ وہ سب کچھ دربان کی نذر کردیتا ہے اور پوری عمر اس دروازے پر انتظار میں بسر کر دیتا ہے مگر قانون تک نہیں پہنچ سکتا۔ جیسے ہی وہ قانون کی دروازے کے آگے دربان کی سامنے جان دیتا ہے، دربان وہاں سے رخصت ہوجاتا ہے کہ یہ دروازہ صرف اسی شخص کے لیے تھا۔

اس کے عمر بھر کے انتظار اور اپنی جان تک دے دینے کا حاصل بس یہی انکشاف ہے کہ قانون کا یہ دروازہ اس کے لیے بنایا گیا تھا۔ ایک عام آدمی کی رسائی بس دروازے تک ہے، اور وہ اپنی موت سے پہلے بس اس آگہی کا مستحق ہے کہ اسے قانون کے دروازے پر تاحیات انتظار کی رعایت و عیاشی حاصل ہے۔

وہ اس علم کے بغیر مر جاتا ہے کہ کیا واقعی دروازے کے اندر قانون موجود ہے یا محض دربان اور دروازہ ہی حقیقت ہے؟ اسی طرح وہ اس علم کے بغیر دنیا سے گزر گیا کہ کیا قانون دوسروں کے لیے موجود تھا اور اس کے لیے نہیں؟ دوسرے کسی اور دروازے سے قانون تک رسائی رکھتے ہوں؟ وہ اس علم سے بھی محروم رہتا ہے کہ دربان کو قانون تک رسائی ہے یا نہیں؟ دربان اس کی مصبیت میں شریک ہے یا اس کے لیے مصیبت لانے والوں کا ایک معمولی شریک کار ہے؟

وہ یہ بھی جانے بغیر مر جاتا ہے کہ یہ دنیا واقعی اتنی تاریک ہے یا اس کی آنکھوں میں تاریکی زیادہ ہے؟

چوں کہ دروازہ نہیں کھلا اس لیے وہ اندر کی دنیا کے بارے میں کچھ بھی جانے بغیر مرگیا۔

دی ٹرائل کا “کے” عدالت کا دروازہ پار کرتا ہے اور اسے اندر کی دنیا کا علم دیا جاتا ہے۔ یہ کہ مقدمے کے لیے جرم کرنا لازم نہیں ہے۔ کسی کو بھی، الف بے جیم کو کسی الزام کے بغیر ماخوذ کیا جاسکتا ہے۔

کافکائیت اسی طرح اداروں کے ذریعے چلائی جانے والی دنیا کی کہانیوں سے عبارت ہے جن میں”کہا” کم ہے اور “ان کہا” زیادہ ہے اور ان کہے میں طنز، پیراڈاکس، آئرنی اور تیز دھار سوالات کی باڑ ہے۔

کافکائیت ایک تیشہ ہے۔ منجمد دنیا، تخیل اور وجود کے لیے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

جاری ہے۔۔

Facebook Comments

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply