سفرِ حج(2)-عاصم اظہر

سائنس سے قطعاً انکار نہیں مگر یہ علم ہے اسے عقیدہ نہ بنائیں۔ میں خود نظریہ ارتقاء پہ یقین رکھتا ہوں مگر انسان کو نکال کے کیونکہ لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ۔
(ہم نے انسان کو خوبصورت بنایا)
ویسے بھی فیس بک پہ دو چار مرتبہ ایک مغربی محقق(نام یاد نہیں) کے خیالات نظر سے گزرے ہیں کہ بادی النظر میں یوں معلوم ہوتا ہے کہ انسان اس سیارے کی مخلوق نہیں ہے
سیدھا چلتا ہے، بولتا ہے، پکا کے کھاتا ہے، آسائش کا طلبگار ہے وغیرہ وغیرہ

کہنے کا مطلب یہ ہے انسان کو خدا کا بہت بڑا سہارا ہے اگر انسان سے روحانیت نکال دی جائے تو وہ فقط روبوٹ رہ جائے ،وہ کیوں بوڑھے ماں باپ کو پالے ؟کیونکہ سائنس کی ایک شاخ ریاضی کے مطابق گھاٹے کا سودا ہے اور روحانیت کہتی ہے کہ سب سے فائدے کا سودا ہی یہی ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ اگر آپ کا بچہ تھیلیسیمیا کا شکار ہو گیا ہے تو کوئی بات نہیں اعشاریہ پچیس فیصد بچے اس کا شکار ہو جاتے ہیں ان میں سے ایک آپکا بچہ بھی سہی، مگر روحانیت تڑپ کے رہ جاتی ہے اور خدا کے حضور سجدہ ریز ہو کر ساری ساری رات اس بچے کی صحتیابی کے لئے روتی ہے ۔
یقین جانئے مصیبت پڑی تو بڑے بڑے لبرلز کو اس کے در پہ گڑگڑاتے دیکھا ہے۔
آؤ گے کسی روز جو حالات کی زد پہ
ہوجائے گا معلوم خدا ہے کہ نہیں ہے
تو خدا کے لئے انسان سے اس کا سہارا مت چھینیں، وہ اربوں کھربوں نوری سالوں پہ پھیلی ہوئی کائنات پہ بالکل تنہا ہے۔ ذرا تصور تو کیجئے کہ آبدوز، کسی اسپیس شپ یا ہوائی جہاز کا رابطہ اسکے کنٹرول ٹاور سے ٹوٹ جائے حالانکہ وہ بظاہر بالکل درست حالت میں چل رہا ہو تو مسافروں پہ کیا بیتے گی۔۔ ؟ اوروں کا تو معلوم نہیں مگر اسلام ہر گز سائنس کے مخالف نہیں بلکہ وہ تو تدبر کا حکم دیتا ہے ہمارا ماضی اسکا گواہ ہے۔ البتہ ہمارا مولوی خصوصاً برصغیر کا ، کوتاہ بین ہے وہ آنے والی تبدیلی کو قبول کرنے میں بہت وقت لیتا ہے جسکی مثال لاؤڈ اسپیکر ، چھاپہ خانہ، ٹی وی وغیرہ سے دی جا سکتی ہے۔ شاید اس کی وجہ اس شعبے میں غیر معیاری اسٹف کا ہونا، انگریز کے دور سے اسے بے توقیر کیا جانا، عصری علوم سے دوری یا ہمارا علما  کی قدر نہ کرنا، شدید معاشی مسائل، تقلید کی وجہ جمود کا شکار ہونا، فرقہ بندی، مناصب کی حرص، عدم تحفظ کا احساس، اجتہاد کا دروازہ بند کرلینا اور بہت کچھ۔

مگر یاد رکھیے اس میں ہمارا بھی قصور ہے ہم نے دین مکمل اس کے ہاتھ میں  دیا ہوا ہے اور خود ذرا بھی دین حاصل کرنے کا تردد نہیں کرتے، بس ناظرے یا جمعہ تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔
ہم مولوی کو کچھ دے کے راضی نہیں تو وہ بھی پھر اور راستے ڈھونڈ لیتا ہے اور نذر نیازوں اور نئی نئی رسوم سے آپ کی جیب ہلکی کرواتا ہے۔

ایک بات اور یاد رکھیے کہ پاکستان میں سسٹم ہی ایسا ہے کہ کہیں بھی کوئی شخص میرٹ پہ اوپر نہیں آ سکتا۔ آپ نے دفاتر ، اسکول کالجز، سیاست و حکومت میں بھی چتر لوگوں کو اوپر آتے دیکھا ہوگا جو بتولیوں کے ماسٹر ہوتے ہیں اور ٹی سی میں گھاک۔ جب کہ کام کرنے والے بیچارے گدھوں کی طرح عمر بھر کام میں جتے رہتے ہیں یہی نظام دینی شعبے میں بھی پوری آب و تاب سے کار فرما ہے۔ بیچارے متقی لوگ اس میدان میں بالکل اناڑی ہوتے ہیں اور کھلاڑی جبہ دستار پہن لیتے ہیں۔

اگر آپ سیدھے سادے پُرخلوص شخص ہیں تو یقین جانیے مسجد کمیٹی کے چیئرمین نہیں بن سکتے ۔وہاں بھی ریٹائر DSP، XEN, موٹی گردن والے کاروباری حضرات ہی منتخب ہوتے ہیں۔
کہنے کا مطلب ہے کہ جو بھی (اکثریت) جبہ قبہ و دستار پوش نظر آتے ہیں یہ اس سسٹم کی وجہ سے یہاں تک پہنچے ہیں متقی اشخاص تو بیچارے کہیں کونوں کھدروں میں دبکے اللہ اللہ ہی کرتے ہیں اسی لئے انہیں کوئی نہیں جانتا اور بندہ چونکہ ظاہر کا مکلف ہے تو عوام صاحبان جبہ قبہ کے کرتوت دیکھ دیکھ کر دین سے ہی بیزار ہوتی جا رہی ہے۔

یوں میں نے سوچا کہ حج کر لیں وسوسے آتے جاتے رہیں گے لیکن جب ہدایت آگئی اور پھر صحت یا گنجائش نہ ہوئی تو بڑا پچھتاوا ہوگا۔ ویسے بھی یہ تو وہ فرض ہے جس پر متشکّکینِ حدیث بھی اعتراض نہیں کر سکتے۔

بہرحال اب ہم سفر نامے کیجانب لوٹتے ہیں اس بار حکومت نے بڑا اچھا کام یہ کیا کہ حاجیوں کے لئے ایک ایپ ڈیویلپ کی ہے جس میں حاجی کے تمام کوائف اور آئندہ کے شیڈولز اپ ڈیٹ ہوتے رہتے ہیں اسکے علاؤہ حج کا طریقہ اور بیشمار دعائیں بھی موجود ہیں۔

مزید یہ کہ آپ کی تھمب ، فنگرز، پاسپورٹ ،اور فیس کی ویری فکیشن کے لئے سعودی ایمبیسی نے بھی ایک ایپ بنائی تھی جس کے ذریعے آپ گھر بیٹھے اپنے موبائل سے ہی یہ فیچرز ویریفائی کر سکتے تھے اور آپ کو ایمبیسی جانے کی ضرورت نہیں تھی۔

تھوڑا سا وقت طلب تو تھا لیکن بہرحال میری چیزیں ویری فائی ہوگئیں مگر بیگم صاحبہ کی باری دو دن لگ گئے لیکن آخر میں جا کر کوئی ایک آدھی فنگر مِس ہو جاتی اور پھر سلسلہ نئے سرے سے شروع کرنا پڑتا۔

ادھر ویری فکیشن کی لاسٹ ڈیٹ آگئی اور بینک سے فون پہ فون آنے لگے کہ ہماری ڈاک جانے میں دو گھنٹے رہ گئے ہیں آپ کا ویری فیکیشن اسٹیکر ابھی تک نہیں پہنچا۔
آخر تھک ہار کے بیگم روہانسی ہو کر بولی کہ لگتا ہے کہ میں رہ جاؤں گی۔ میں نے کہا کوئی بات نہیں میں کسی اور کو لے جاؤں گا بہت پیسے لگے ہوئے ہیں۔
خیر دوسری بار دھمکی کام آگئی اور اللہ اللہ کر کے ویری فکیشن ہوگئی اور جان میں جان آئی ۔

جیسا کہ میں نے بتایا کہ اہلیہ حج پینک میں مبتلا ہو گئیں ہر وقت حج کی فکر ۔۔یہ لینا ہے وہ لینا ہے، کئی وٹس ایپ گروپ جوائن کر لئے یہ دعا یاد کرلیں وہ دعا یاد کر لیں۔

میں نے کہا سر نہ کھاؤ ابھی تین ماہ پڑے ہیں مجھے کون سا یاد رہ جانی ہیں مجھے تو پہلی بھول رہی ہیں میں تو جنازے کی دعا یاد کرتا ہوں تو اگلے جنازے تک بھول جاتا ہوں جب بھول جاتا ہوں تو سویرے شام جنازے آنے لگ جاتے ہیں یاد ہوتی ہے تو کئی کئی دن تک کوئی مرتا ہی نہیں ہے۔

کہنے لگی کہ دو بڑے اٹیچی کیس بھی لینے ہیں میں بولا کیوں وہ تو سرکار دے رہی ہے دو بڑے دو چھوٹے ۔ بولی وہ ناکارہ ہیں۔ میں نے کہا تمہیں کیسے پتا کہنے لگی گروپ والی بتا رہی تھیں۔ میں بولا یوتھنیں ہوں گی سالی۔
اور یقین جانئے جب اٹیچی کیس ملے تو بہت ہی اچھے اور معیاری تھے سب کو گرین رنگ کے دو سوٹ کیس ملے ایک احرام بیلٹ اور خواتین کو اسکارف۔

دراصل اس سے پہلے بینک جس کے ذریعے آپ نے درخواست جمع کروائی ہوتی تھی وہ آپ کو گفٹ دیتا تھا جو کہ زیادہ معیاری نہیں ہوتے تھے اور غیر ضروری بھی ہوتے تھے مثلاً آپ نے چھتری لی ہوئی ہے اب بینک بھی آپ کو چھتری گفٹ  کر دیتا تھا آپ کے کس کام کی ؟ کیونکہ آپ کو تو پتا نہیں تھا اس لئے آپ نے پہلے ہی لے لی ہوتی تھی۔
اِس بار سرکار نے سب بینکوں کو پابند کر دیا کہ یہ گفٹ دینے ہیں اور عازمین کو بھی پہلے سے آگاہ کر دیا ہوا تھا۔

سرکار نے ایک وینڈر ہائر کیا اور اس سے سارے سوٹ کیس لئے ،بینکوں نے اپنے اپنے لوگو لگوا کر اپنے کلائنٹس کو گفٹ کر دیئے، میرے خیال میں یہ بہت اچھا طریقہ ہے کم از کم ہر حاجی کو آٹھ دس ہزار کا فائدہ ہوگیا۔

اب جوں جوں دن قریب آنے لگے  ۔بیگم صاحبہ  مزید پریشان ہوتی گئیں ،جی ویکسین کب ہوگی اب تک کیوں نہیں ہوئی۔
کہا کہ جب ہوگی خود ہی ایپ پر آجائے گا مگر سکون کہاں؟ تنگ آ کر ایپ پہ یہ بھی بتا دیا گیا کہ حاجی ویکسین کے لئے پیغام کا انتظار کریں اور بغیر پیغام کے کوئی نہ آئے۔
مگر پرنالہ وہیں کا وہیں رہا۔ اخے کراچی والوں کی تو ہو رہی ہے۔
مخے خیبر میل پہ بٹھا دیتا ہوں وہاں سے کروا آؤ ۔

ایک تو یہ بُری بات ہوئی کہ حاجی کیمپ ملتان میں لگا دیا، حالانکہ ٹریننگز بہاولپور میں ہی ہوئی تھیں۔ بندہ پوچھے ایسی کون سی ویکسین ہے جو یہاں نہیں ہوسکتی تھی سرکاری ہسپتال میں ایک حج کاونٹر بنا دیتے یہ فٹیگ تو بچتی۔

خیر جیسے ہی میسج آیا علی الصبح جھنجوڑ کر اٹھا دیا کہ ویکسین کا میسج آ گیا ہے میں نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا فٹے منہ ۔۔میں سمجھا خدا نخواستہ ماموں کو کچھ ہو گیا ہے۔

خیر پھر کہاں سونا تھا، ناشتہ وغیرہ کرکے گاڑی نکالی اور ملتان پہنچ گئے۔ ویکیسن کروائی ساتھ لے جانے  والی دوائیاں پیک کروائیں اور کہا کہ اب ہمارے سفری ڈاکیومنٹس اور بیگز بھی دو،تو  آگے سے بولے وہ پرسوں ملیں گے۔ میں نے کہا پھر آج کیوں بلایا بولے ایک ہی بار آ جاتے فلائٹ سے دو دن پہلے۔

میں نے مڑ کر کھا جانے والی نگاہوں سے اہلیہ کی جانب دیکھا تو ہاتھ جوڑ کے بولی پلیز گھر جا کر کسی کو نہ بتانا۔
خوامخواہ ہی سات ہزار کا ٹیکہ لگوا دیا سْوسری نے اور فٹیگ علاوہ ۔

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply