گزشتہ قسط کا لنک سفر نامہ روس(5)-آہ کو چاہیے اِک عمر اثر ہونے تک /سید مہدی بخاری چھٹی قسط وہم و گماں کے لوگ تھے: اُمید و نااُمیدی کے بیچ کا وقت ایسا← مزید پڑھیے
ڈاکٹر انور سعید صاحب کا تعلق چٹاگانگ سے ہے،حالیہ کراچی میں مقیم ہیں، جہاں ماہر اطفال کے طور پر کام کررہے ہیں ۔ عمر کی 73 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ زیرِ نظر تحریر اُن کے سفر نامے”Escape to Pakistan”کا← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط کا لنک دُمانی کے دامن میں(قسط2)/محمد عظیم شاہ بخاری تیسری قسط دیران کی دشواری ؛ رات کا ایک بجا تھا کہ بارش شروع ہو گئی۔ میں سمجھا یہ ابھی رک جائے گی لیکن مسلسل بارش← مزید پڑھیے
گزشتہ اقساط کا لنک کشن گنگا کی وادی قسط12 ہم راہی کے سنگ ،پربتوں کے قرب میں:۔ میرے ہم راہی صدام حسین میرے ساتھ تھے وہ رستے سے پوری طرح واقف تھے یُوں پگڈنڈیوں پر← مزید پڑھیے
گزشتہ اقساط پڑھنے کیلئے لنک کھولیے سفر نامہ روس قسط پانچ جہاں میں ٹھنڈے فرش پر بیٹھا تھا وہاں درجن بھر پاکستانی تھے۔ یہ ایک عارضی قید خانہ تھا جو ہوائی اڈے کی بیسمنٹ میں واقع تھا۔← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط کا لنک کشن گنگاکی وادی(قسط10)- جاویدخان پڑاؤ: ہماراپڑاو پہاڑوں میں گِھری ایک خیمہ بستی تھی ۔جب ہم یہاں پہنچے تو سورج سر پہ کھڑاتھا۔ہماری جیپ رینگتی ہوئی ایک خیمے کے آگے جاکر رُک← مزید پڑھیے
گزشتہ قسط پڑھنے کے لیے لنک کھولیے سفر نامہ روس(3)-پاؤں نہیں، دل تھکتا ہے/سید مہدی بخاری چوتھی قسط دیس میں نکلا ہوگا چاند گھڑی شام کے چار بجا رہی تھی۔ اس چھوٹے سے ہال میں بیٹھے آٹھ← مزید پڑھیے
پہلا حصّہ پڑھنے کے لیے لنک کھولیے دُمانی کے دامن میں(قسط1)/محمد عظیم شاہ بخاری دوسرا حصہ ہپاکُن سے تغافری ؛ تغافری، راکاپوشی بیس کیمپ کا مقامی نام ہے جسے سُن کر مجھے کوہ قاف کے کسی پہاڑی← مزید پڑھیے
گزشتہ اقساط پڑھنے کیلئے لنک کھولیے سفر نامہ روس تیسری قسط پاؤں نہیں، دل تھکتا ہے ایسے لوگ ہیں جو ماضی کے بارے غمگین و اداس یادیں رکھتے ہیں۔ایسے لوگوں کے عموما ًحال و مستقبل← مزید پڑھیے
پہلی قسط پڑھنے کے لیے لنک کھولیے سفر نامہ روس(1)-ہاں ابھی تو میں بھی ہوں/سید مہدی بخاری دوسری قسط تین گیت ہیں یہ ماہِ جون تھا۔ چناب کے کنارے لُو چل رہی تھی۔ دُور بہت دُور، سائبیریا← مزید پڑھیے
چند سال پہلے کی بات ہے،جب پنجاب کے ایک کونے میں صحرائی علاقے کے ایک شخص کی پہاڑوں سے محبت نے جوش مارا تو اس نے اپنے ملک میں موجود اپنی پسندیدہ پہاڑی چوٹیوں کو قریب سے دیکھنے اور سراہنے← مزید پڑھیے
کئی برس بیتے، تب لہو جسم کی نالیوں میں یوں دوڑتا تھا کہ نہ سرد ہوا کاٹنے کو آتی نہ ہی تپتی لو کے تھپیڑے محسوس ہوا کرتے تھے۔ تب ساری کائنات جوان← مزید پڑھیے
تیسری قسط پڑھنے کے لیے لنک کھولیے کشن گنگاکی وادی(قسط3)- جاویدخان چوتھی قسط کَسی ہوئی زندگی کے آثار :۔ متوازی پہاڑوں نے باہم اطراف میں بلندہوکر،درمیان میں ایک تنگ وادی کوترتیب دیاتھا۔وادی تنگ دامن← مزید پڑھیے
دوسری قسط پڑھنے ے لیے لنک کھولیے کشن گنگاکی وادی(قسط2)- جاویدخان تیسری قسط کشن گنگاکے ماں باپ :۔ دائیں پہاڑ کی چوٹی بلند ہوئی جارہی تھی اَور اس کے بازو زمین سے چوٹی کے نیچے تک ٹیڑھی← مزید پڑھیے
کشن گنگاکی وادی(قسط1 )- جاویدخان کھانا: ہماراکھاناآچکاتھا۔راحیل خورشید اَور میر سفر سردار عاشق حسین صاحب نے کاشف نذیر اَور اعجازیوسف کی مہمان نوازی کاخاص ٹھیکہ لے رکھاتھا۔سو مُرغ کڑاہی کو یہ کہہ کرپکوایاگیاتھاکہ یہ سوغات خاص کراِن دو مہمانوں کے← مزید پڑھیے