وہارا امباکر کی تحاریر

حقیقت کا ادراک (75)۔۔وہاراامبار

کوانٹم تھیوری کے بانیوں کی بنائی کوانٹم تھیوری ہماری روزمرہ کی زندگی کی فزکس کی سمجھ نہیں تبدیل کرتی لیکن اس نے ہماری روزمرہ زندگی بدل دی ہے۔ اتنی بڑی تبدیلی ہے جتنی صنعتی انقلاب تھا۔ کوانٹم تھیوری کے قوانین←  مزید پڑھیے

کہکشاں بکھر گئی (74)۔۔وہاراامباکر

کوانٹم تھیوری وسطی یورپ کے دماغوں کی مشترک تخلیق تھی اور ایسی انٹلکچوئل کہکشاں کم ہی کبھی اکٹھی ہوئی ہے۔ جدت ہمیشہ موافق ماحول میں ہی ہو سکتی ہے۔ اور یہ محض اتفاق نہیں کہ اس میں جن لوگوں کا←  مزید پڑھیے

غیریقینی دنیا (73)۔۔وہاراامباکر

کوانٹم تھیوری میں ہونے والی تمام تر ترقی کے باوجود اس کے مرکز میں ہائیزنبرگ کی اپروچ ہی ہے۔ اور انہوں نے یہ جیت 1927 میں لکھے پیپر سے سمیٹی تھی۔ انہوں نے یہ دکھا دیا کہ خواہ جو بھی←  مزید پڑھیے

شروڈنگر کی لہریں (72)۔۔وہاراامباکر

ہائزنبرگ کے مقابلے میں آنے والی نئی تھیوری الیکٹران کو لہر کے طور پر بتاتی تھی۔ یہ ایک ایسا تصور تھا جس کو فزسسٹ visualize کر سکتے تھے لیکن یقینی طور پر الیکٹران کے لئے نہیں۔ اور عجیب بات یہ←  مزید پڑھیے

ہائزنبرگ کی غیریقینی (70)۔۔وہارا امباکر

جس تھیوری کو ہائزنبرگ نے اپنی inspiration سے تخلیق کیا، وہ نیچر کی فنڈامینٹل تھیوری بن گئی۔ میکس بورن نے اس کا نام کوانٹم مکینکس رکھا تا کہ اس کو نیوٹونین مکینکس یا کلاسیکل مکینکس سے الگ دکھایا جا سکے۔←  مزید پڑھیے

ناکامیوں سے آگے (69)۔۔وہاراامباکر

ایک اشتہار میں باسکٹ بال کے عظیم کھلاڑی مائیکل جارڈن کہتے ہیں، “میں نے اپنے کیرئیر میں نو ہزار شاٹ مِس کی ہیں۔ میں تین سو میچ ہارا ہوں۔ چھبیس بار میچ جیتنے والی شاٹ میرے ہاتھ میں تھی اور←  مزید پڑھیے

کوانٹم تھیوری کی تلاش (68)۔۔وہاراامبار

کوانٹم دنیا سے حقائق سامنے آ رہے تھے لیکن 1920 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں کوئی جنرل کوانٹم تھیوری موجود نہ تھی اور نہ ہی کوئی اندازہ ہو رہا تھا کہ ایسی تھیوری ممکن بھی ہو سکے گی۔ بوہر←  مزید پڑھیے

بوہر کی کامیابی (67)۔۔وہاراامباکر

بوہر کی تھیوری واضح طور پر محض ایک ابتدا تھی۔ اس میں تضادات تھے۔ مثلاً، ایک طرف وہ “ممکنہ مداروں” کو ساکن حالت کہتے ہیں کیونکہ الیکٹران اس طرح behave کر رہے ہیں کہ وہ حرکت نہیں کر رہے۔ جبکہ←  مزید پڑھیے

بوہر کا ایٹم (66)۔۔وہاراامباکر

یہ دنیا کیسے موجود ہے؟ ایٹم کیسے مستحکم ہیں؟ کلاسیکل فزکس کی پیشگوئی یہ تھی کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ بوہر نے اس مسئلے کو ایک الگ ہی زاویے سے سوچا۔ انہوں نے خود سے ایک سوال پوچھا۔ اگر ایٹم←  مزید پڑھیے

بوہر کی انجانی دنیا (64)۔۔وہاراامبار

سائنسی تحقیق میں معلوم اور نامعلوم کے درمیان کی سرحد گہری دھند میں رہتی ہے۔ کوئی بھی فعال سائنسدان اپنی محنت غیردلچسپ سوالوں یا بند گلی کے راستوں میں ضائع کرتا ہے۔ کامیاب سائنسدان ایسے مسائل کا انتخاب کرتا ہے←  مزید پڑھیے

آئن سٹائن اور فوٹون (63)۔۔وہاراامباکر

آئن سٹائن نے پلانک کے خیالات کو لیا تھا اور ان سے فزکس کے گہرے اصول اخذ کئے تھے۔ آئن سٹائن کو معلوم تھا کہ ریلیٹیویٹی کی تھیوری کی طرح کوانٹم تھیوری نیوٹن کی فزکس کے لئے ایک چیلنج تھی۔←  مزید پڑھیے

آئن سٹائن اور ایٹم (62)۔۔وہاراامبار

آئن سٹائن کے کام کا فزکس کے کلچر پر بہت اثر ہوا۔ اس نے مفکرین کی نئی پود کے لئے یہ آسان کر دیا کہ وہ پرانے خیالات کو چیلنج کر سکیں۔ مثال کے طور پر، آئن سٹائن کی ہائی←  مزید پڑھیے

آئن سٹائن اور ریلیٹیویٹی (61)۔۔وہاراامباکر

تھیوریٹیکل فزکس کے سائنسدان کا نیا آئیڈیا ہماری سوچ پر بہت اثر ڈال سکتا ہے۔ اس مضمون کو، اس کی تکنیک اور مسائل کو سمجھنے میں برسوں لگتے ہیں۔ اور بہت سے مسائل حل نہیں ہو پاتے۔ نئے خیالات میں←  مزید پڑھیے

آئن سٹائن کا سال (60)۔۔وہاراامباکر

بیسویں صدی کے آغاز پر فزکس کی فیلڈ میں ایک نئے شخص کی آمد تھی جو فزکس کے بارے میں بڑا مختلف رویہ رکھتا تھا۔ یہ آئن سٹائن تھے۔ جب پلانک نے کوانٹم کا آئیڈیا پیش کیا تو کسی کو←  مزید پڑھیے

کوانٹم کی دریافت (59)۔۔وہاراامباکر

پلانک نے بلیک باڈی ریڈی ایشن کا مسئلہ ایٹم کے تصور کی مدد کے بغیر حل کرنے کی تھیوری پر کام کرنے کا بیڑا اٹھایا تھا اور انہوں نے اس کو حاصل کر لیا تھا۔ لیکن ایک لحاظ سے دیکھا←  مزید پڑھیے

پلانک کا سوال (58)۔۔وہاراامباکر

سائنس ہو یا کوئی دوسرا شعبہ۔ بہت سے عام لوگ عام سوالات پوچھتے ہیں اور ان میں سے اکثر زندگی ٹھیک ٹھاک گزار لیتے ہیں۔ لیکن کامیاب ترین اکثر وہ ہوتے ہیں جو عجیب سوال کرتے ہیں۔ سوال جو کئے←  مزید پڑھیے

پلانک کی قسمت(57)۔۔وہارا امباکر

کیا تھیوری ایجاد ہوتی ہے یا دریافت؟ ایجاد کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسی چیز تخلیق کرنا جو پہلے نہ ہو۔ دریافت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایسی چیز سے آگاہ ہو جانا جو پہلے نامعلوم ہو۔←  مزید پڑھیے

نئی فزکس(56)۔۔وہارا امباکر

اکیسویں صدی میں سائنس کی ایک بڑی خبر ہگز بوزون کا مشاہدہ تھا۔ لیکن اس مشاہدے کا آخر مطلب کیا تھا؟ ایسا نہیں تھا کہ کسی نے اس کو آنکھ سے دیکھا یا یہ پارٹیکل تصویر کھنچوانے کے لئے کہیں←  مزید پڑھیے

حسیات سے آگے۔ایٹم کی دنیا۔۔۔وہارا امباکر

پتھر کے ہتھیار، آگ، پہیہ، تحریر اور ایٹم کی تھیوری۔ یہ انسانی تاریخ کے سب سے بڑے ایڈوانس رہے ہیں۔ ایٹم، جو ہمارے ہر طرف ہیں اور ہمیں نظر نہیں آتے، اور یہاں پر کچھ عجیب ہی کوانٹم قوانین ہیں۔←  مزید پڑھیے

خود بخود پیدائش؟ (49)۔۔وہاراامباکر

بائیولوجی کے آنے سے بہت پہلے، زندگی کا مشاہدہ کرنے والے بہت سے تھے۔ کسان، مچھیرے، ڈاکٹر اور فلسفی ۔۔ جنہوں نے سمندر اور میدانوں میں زندگی کے بارے میں سیکھا۔ لیکن بائیولوجی محض پودوں اور پرندوں کی فہرست بنا←  مزید پڑھیے