شروڈنگر کی لہریں (72)۔۔وہاراامباکر

SHOPPING

ہائزنبرگ کے مقابلے میں آنے والی نئی تھیوری الیکٹران کو لہر کے طور پر بتاتی تھی۔ یہ ایک ایسا تصور تھا جس کو فزسسٹ visualize کر سکتے تھے لیکن یقینی طور پر الیکٹران کے لئے نہیں۔ اور عجیب بات یہ تھی کہ اپنے فرق کے باوجود، ہائزنبرگ تھیوری کی طرح، یہ بوہر کے ایٹم کی وضاحت کر دیتی تھی۔ سائنس صدیوں سے ایٹم کی کسی بھی تھیوری کے بغیر رہی تھی لیکن اب اچانک ہی اس بارے میں دو تھیوریاں موجود تھیں۔ اور یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل الگ لگ رہی تھیں۔ ایک میں نیچر کو مادے اور انرجی کی لہروں سے بتایا گیا تھا جبکہ دوسری کہتی تھی کہ نیچر کو کسی بھی چیز کے طور پر بتایا جانا بے کار ہے۔ اور ہمیں صرف ڈیٹا کے درمیان ریاضی کے ریلیشن دیکھنے چاہییٗں۔

یہ نئی کوانٹم تھیوری آسٹریا کے ایک سائنسدان کا کام تھا جو ارون شروڈنگر تھے اور یہ اس شعبے کے “بزرگ” سائنسدان تھے جن کی عمر 38 سال تھی۔

ہم عام طور پر نوجوان فزسسٹ کو نئے خیالات جلد قبول کرتے دیکھتے ہیں اور پرانے فزسسٹ پرانے طریقوں پر قائم رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ نئے خیالات قبول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اور یہاں ایک irony تھی۔ شروڈنگر کا یہ نیا کام روایتی فزکس کا نکتہ نظر برقرار رکھنی کی ایک کوشش تھی۔ ہائزنبرگ کے برعکس، ان کی خواہش تھی کہ کوانٹم تھیوری کو اس طرح تعمیر کیا جا سکے کہ یہ اس طریقے پر برقرار رہے جو روایتی فزکس کا ہے۔

ہائزنبرگ کے برعکس شروڈنگر نے الیکٹران کی حرکت کے تصور سے تھیوری بنائی تھی۔ ان کا “مادے کی لہروں” کا نیا خیال الیکٹران کو ویسی خاصیت نہیں دیتا تھا جو نیوٹونین خاصیتیں تھیں۔ لیکن ان کی کوانٹم کی نئی “ویو تھیوری” reality کا بدذوق قسم کا نکتہ نظر ختم کرنے کے لئے تھی۔ اگرچہ اس وقت تک کسی کو معلوم نہیں تھا کہ آخر ان کی تعبیر کیسے کی جائے۔

یہ متبادل نکتہ نظر تھا جس نے سائنسدانوں کی فوری توجہ حاصل کی۔ شروڈنگر سے پہلے کوانٹم تھیوری کی قبولیت سست رفتار تھی۔ ہائزنبرگ کی لامحدود میٹرکس مساوات والی نامانوس ریاضی خوفناک تھی اور قابلِ تصور variables کو ترک کر کے علامتی array بنا لینا ذہنی خلش پیدا کرتا تھا۔ شروڈنگر کی تھیوری کا استعمال اس کے مقابلے میں آسان تھا اور اس کی مساوات ویسی تھیں جو سائنسدانوں کے لئے مانوس تھیں اور اس کی میتھاڈولوجی وہ تھی جس میں کلاسیکل فزسسٹ کی تربیت ہوئی تھی۔ اس وجہ سے سائنسدانوں کے لئے اس سمت میں آنا آسان تھا۔ اگرچہ یہ نیوٹونین تصورات نہیں تھے لیکن یہ ایٹم کا ذہنی تصور کرنے کا طریقہ دیتی تھی۔ شروڈنگر نے کوانٹم تھیوری کو خوش ذائقہ بنا دیا تھا۔ اور یہ پہلو ہائزنبرگ کے طریقے سے متضاد تھا۔

آئن سٹائن کو بھی شروڈنگر کی تھیوری شروع میں پسند آئی۔ انہوں نے مادے کی لہروں کا خیال خود بھی سوچا تھا۔ “آپ کا یہ کام اور اس کا آئیڈیا صرف کسی اصل جینئیس کا ہو سکتا ہے”۔ شروڈنگر کو انہوں نے اپریل 1926 میں خط میں لکھا۔ “میں اس بات پر قائل ہوں کہ آپ نے کوانٹم حالت کی فارمولیشن میں فیصلہ کن پیشرفت کر دی ہے۔ میں ہائزنبرگ اور بوہر کے کام کے غلط راستے پر ہونے کے بارے میں بھی اتنا ہی قائل ہوں”۔ یہ انہوں نے مئی میں لکھا۔

لیکن شروڈنگر نے اسی مہینے مئی 1926 میں ایک اور دھماکہ کر دیا۔ انہوں نے ایک پیپر شائع کیا جس میں انہوں نے دکھایا (جو خود ان کے لئے ناخوشگوار خبر تھی) کہ ان کی تھیوری اور ہائزنبرگ کی تھیوری درحقیقت ایک ہی تھیں۔ یہ دونوں mathematically equivalent تھیں!! دونوں ہی درست تھیں۔ صرف اس میں استعمال کئے گئے تصوراتی فریم ورک کا فرق تھا۔ یہ دونوں نیچر کے بارے میں ایک ہی حقیقت بتاتی تھیں۔ فرق صرف زبان کا تھا۔ دونوں تھیوریاں ہمارے مشاہدات کے بارے میں ایک ہی چیز بتا رہی تھیں۔

معاملے کو مزید پیچیدہ کرنے (یا اس کو مزید دلچسپ بنانے) کے لئے دو دہائیوں بعد رچرڈ فائنمین نے کوانٹم تھیوری کے بارے میں ایک تیسری فارمولیشن کی تخلیق کی، جس کا ریاضیاتی اور تصوراتی فریم ورک بالکل ہی مختلف تھا۔ لیکن یہ بھی پچھلی دو تھیوریوں سے mathematically equivalent تھی۔ یعنی وہی فزیکل اصول اور بالکل وہی پیشگوئیاں کرتی تھی۔

فزکس میں ایک شخص تصورات کو ایک set سے پیش کر سکتا ہے جبکہ کوئی دوسرا ایک اور سیٹ استعمال کر سکتا ہے۔ اس نقطہ نظر کو valid سمجھے جانے کے لئے شرط یہ ہے کہ یہ تجربات کا ٹیسٹ پاس کرے اور متبادل تھیوریاں بھی ایک ہی نتیجے پر پہنچا سکتی ہیں۔

اور یہ ہمیں واپس ایک مسئلے کی طرف لے آتا ہے۔ کیا تھیوریاں ایجاد ہوتی ہیں یا دریافت؟

بغیر اس سوال میں جائے ہوئے کہ کیا معروضی حقیقت کا وجود ہے، ہم کہہ سکتے ہیں کہ کوانٹم تھیوری کی تخلیق ان معنوں میں دریافت تھی جس میں سائنسدان نیچر کی کھوج میں ایک کے بعد دوسرے اصول سے ٹکراتے گئے۔ لیکن کوانٹم تھیوری ان معنوں میں ایجاد تھی کہ سائنسدانوں نے کئی تصوراتی فریم ورک ڈیزائن کئے اور تخلیق کئے جو ایک ہی کام کرتے تھے۔ جس طرح مادہ بیک وقت ذرہ بھی ہے اور لہر بھی۔ ویسے ہی شاید تھیوری بھی دونوں متضاد چیزیں بیک وقت رکھتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب شروڈنگر نے اپنا پیپر شائع کیا جس میں ان کی تھیوری کو ہائزنبرگ کی تھیوری کے مساوی دکھایا گیا تو کسی کو اس فارمولیشن کی تعبیر معلوم نہ تھی۔ لیکن ان کے ثبوت نے یہ واضح کر دیا تھا کہ آئندہ آنے والا کام یہ نہاں کرے گا کہ ان کی اپروچ ویسے ہی فلسفانہ مسائل اٹھائے گی جو ہائزنبرگ کی تھیوری میں نظر آ رہے تھے۔ اور اس پیپر کے بعد آئن سٹائن نے کوانٹم تھیوری کے بارے میں کبھی توثیقی الفاظ نہیں لکھے۔

حتیٰ کہ شروڈنگر خود کوانٹم تھیوری کے خلاف ہو گئے۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ “اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ان سے نتائج کیا برآمد ہوں گے تو میں اپنے پیپر شائع نہ کرتا”۔ انہوں نے یہ تھیوری ہائزنبرگ کے “بدصورت متبادل” کو ختم کرنے کے لئے بنائی تھی لیکن ان دونوں کا مساوی ہونے کا مطلب یہ تھا کہ وہ کامیاب تھیوری دینے کے باوجود اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ انہیں نے جلتی پر تیل ڈال دیا تھا اور اسی کوانٹم آئیڈیا کو مزید مضبوط کر دیا تھا جس کو وہ تسلیم نہیں کرنا چاہ رہے تھے۔

دونوں تھیوریوں کو مساوی قرار دینے والے پیپر کے آخر میں انہوں نے اس بارے میں ایک اداس فٹ نوٹ لکھا ہے۔ یہی تاثر ہائزنبرگ کا بھی تھا۔ انہوں نے پالی کو لکھا کہ “جتنا میں شروڈنگر کی تھیوری کے فزیکل حصے کو دیکھتا ہوں، اتنا ہی یہ مجھے ناگوار لگتا ہے۔ شروڈنگر نے جو تھیوری کی visualizability کے بارے میں لکھا ہے، یہ سب بکواس ہے”۔

شروڈنگر کا طریقہ فزکس میں فارمل ازم کے طور پر جلد اپنا لیا گیا۔ کوانٹم تھیوری پر کام کرنے والے سائنسدانوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔ ہائزنبرگ کی فارمولیشن کی قبولیت کم ہو گئی۔

بورن، جنہوں نے ہائزنبرگ کے ساتھ تھیوری ڈویلپ کرنے میں مدد کی تھی، بھی شروڈنگر کے طریقے کی طرف چلے گئے۔ ہائزنبرگ کے دوست پالی نے لکھا کہ شروڈنگر کی مساوات کی مدد سے ہائیڈروجن سپیکٹرم نکالنا مقابلتاً بہت آسان ہے۔ ہائزنبرگ اس سے نالاں تھے۔ بوہر ان تھیوریوں کے تعلق پر فوکس کرنے لگے۔ اور آخر میں برطانوی فزسٹ پال ڈیراک تھے جنہوں نے ان دونوں کے درمیان کے گہرے کنکشن کی وضاحت کی اور ان دونوں کو ملا کر ایک فارمل ازم خود بھی بنایا اور یہی آج عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی مدد سے آسانی سے ایک سے دوسرے پر جایا جا سکتا ہے۔ کوانٹم تھیوری اس کے بعد فزکس میں اتنی جلد مرکزِ نگاہ بن گئی کہ اس پر لکھے پیپرز کی تعداد 1960 تک ایک لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔

SHOPPING

(جاری ہے)

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *