شاہین کمال کی تحاریر

اسکیپ ٹو پاکستان(Escape to Pakistan)/ڈاکٹر انور سعید(مترجم؛شاہین کمال)تیسری قسط

ڈاکٹر انور سعید صاحب کا تعلق چٹاگانگ سے ہے،حالیہ کراچی میں مقیم ہیں، جہاں  ماہر اطفال کے طور پر کام کررہے ہیں ۔  عمر کی 73 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ زیرِ نظر تحریر اُن کے سفر نامے”Escape to Pakistan”کا←  مزید پڑھیے

اسکیپ ٹو پاکستان(Escape to Pakistan)/ڈاکٹر انور سعید(مترجم؛شاہین کمال)دوسری قسط

ڈاکٹر انور سعید صاحب کا تعلق چٹاگانگ سے ہے،حالیہ کراچی میں مقیم ہیں، جہاں  ماہر اطفال کے طور پر کام کررہے ہیں ۔  عمر کی 73 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ زیرِ نظر تحریر اُن کے سفر نامے”Escape to Pakistan”کا←  مزید پڑھیے

اسکیپ ٹو پاکستان(Escape to Pakistan)/ڈاکٹر انور سعید(مترجم؛شاہین کمال)پہلی قسط

ڈاکٹر انور سعید صاحب کا تعلق چٹاگانگ سے ہے،حالیہ کراچی میں مقیم ہیں، جہاں  ماہر اطفال کے طور پر کام کررہے ہیں ۔  عمر کی 73 بہاریں دیکھ چکے ہیں ۔ زیرِ نظر تحریر اُن کے سفر نامے”Escape to Pakistan”کا←  مزید پڑھیے

رُکا ہُوا فیصلہ/شاہین کمال

امی !قیصر صاحب کون ہیں ؟ چھوٹی کے لہجے میں کچھ ایسا ضرور تھا جس نے مجھے چونکا دیا ۔ کیا؟ کون قیصر ؟           میں اچھنبے میں تھی۔ بہت ذہن دوڑایا، یاداشت کو کھنگالا پر←  مزید پڑھیے

شام سے پہلے/شاہین کمال

میں نے عید کی چھٹیوں کے ساتھ اضافی چھٹیاں بھی لے لیں تھیں تاکہ اس بار گھر جا کر ابّا جان کا مفصل چیک اپ کروا سکوں۔ پچھلے ٹرپ پر ابّا جان مجھے نسبتاً زیادہ خاموش اور کمزور لگے تھے←  مزید پڑھیے

عیدِقرباں مبارک/شاہین کمال

بچپن کا تو دور ہی سہانہ و شہانہ تھا،خواہشات بھی چھوٹی چھوٹی اور پورا کرنے کو مہربان والدین ہر دم تیار۔ تمنا و آرزوئیں ایسی کہ با آسانی بر آ جائیں۔ امّی ہر تہوار بہت اہتمام اور ذوق و  شوق←  مزید پڑھیے

مورکھ من/شاہین کمال

وہ  انسان کسی کو سمجھنے کا دعویٰ کیا کرے جو خود ہی کو نہ جان پایا ہو۔ مجھے یاد ہے میں بر دِکھوّئے پر زینت کے گھر گیا تھا۔ زینت کے بیٹھک میں داخل ہوتے ہی، ہر چیز گویا کھل←  مزید پڑھیے

ایک دوست کی آپ بیتی/آتما سمرپن-3،آخری قسط/شاہین کمال

میرے اس دور کا ایک کردار ربانی چچا بھی تھے۔ یہ ریلوے میں گارڈ تھے، جسمانی طور پر نہایت نحیف پر روحانی طور پر بہت قوی۔ خالتہ پاجامہ پر قمیص پہنتے اور بے تحاشہ چائے اور سگریٹ پیا کرتے تھے۔←  مزید پڑھیے

ایک دوست کی آپ بیتی/آتما سمرپن-2 /شاہین کمال

نواب صاحب بلاشبہ ہیرو آف ٹائیگر پاس تھے۔ اس ریسکیو آپریشن کا سہرا، نیوی کے کمانڈر اسلم اور بیس بلوچ رجمنٹ کے کپتان حفیظ کے سر جاتا ہے، جنہوں نے کئی گھنٹوں  کی  جدوجہد کے بعد ڈھاکہ ہیڈ کوارٹر سے←  مزید پڑھیے

ایک دوست کی آپ بیتی/آتما سمرپن-قسط1/شاہین کمال

برسات مجھے بہت پسند ہے پر سردیوں کی بارش میں اداسی بہت۔ بحیثیت مجموعی مجھے دسمبر ہی بہت اداس کرتا ہے۔ آدھی رات گزر چکی ہے اور صبح کا اجالا چاند کی آدھی مسافت طے کرنے کا منتظر۔ میں بند←  مزید پڑھیے

لہو بولتا بھی ہے/شاہین کمال

22 جنوری 1957 کی ٹھٹھرتی ہوئی صبح تھی جب ایک بچی نے اس عالمِ حیرت میں آنکھیں کھولیں۔ موہنی صورت اور ستارہ آنکھیں ۔ باپ نے دلار سے اس چمکتی کالی آنکھوں والی گڑیا کا نام پروین رکھا۔ 1967 میں←  مزید پڑھیے

ہاں ! میرا جسم میری مرضی/شاہین کمال

اللہ تعالیٰ نے خاکی پُتلے  میں روح ڈال کر جہاں اسے کمال و اختیار دیا وہیں معلّم اور منشور سے بھی مستفیض کیا۔ ڈھالنے والے نے خاک کے پُتلے کو سو سو رنگ میں ڈھالا۔ اس کا فرمان کہ انسان←  مزید پڑھیے

اتنی مداراتوں کے بعد(2،آخری قسط)-شاہین کمال

میں ابا کو محسوس کرتا ہوں گو کہ میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا۔ ہاں فوج کی طرف سے آیا وہ خط جس میں ابا کی شہادت کی اطلاع تھی اسے اماں نے ہمیشہ تعویذ جاں رکھا اور وہ اب←  مزید پڑھیے

اتنی مداراتوں کے بعد/شاہین کمال

بچپن سے سنتے آئے ہیں سفر وسیلہ ظفر لیکن کچھ سفر ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں دل گھائل ہوتا ہے اور تل تل ڈوبتا ہے۔ منزل جیسے جیسے قریب آتی جاتی روح بدن کا ساتھ چھوڑتی محسوس ہوتی ہے۔←  مزید پڑھیے

فیفا ورلڈ کپ گانا/شاہین کمال

بائیسواں فیفا ورلڈ کپ اس بار عرب کے ریگ زاروں میں سج رہا ہے۔ جہاں آٹھ مختلف نئے بنے سجے اسٹیڈیم میں، دنیا کے32  ممالک 64 میچ کھیلیں گے اور دنیا 20 نومبر سے18 دسمبر 2022 تک محو تماشا ہوگی۔←  مزید پڑھیے

فلم ریویو/مولاجٹ-شاہین کمال

دوستوں کل ہم نے اپنی زندگی کی پہلی پنجابی فلم دیکھی۔ منجھلی اور اس کی دوستیں فلم دیکھنے جا رہی تھیں اور از راہِ  محبت امی کو بھی فلم بینی کی دعوت دی گئی اور امی مارے جوش کے سینگھ←  مزید پڑھیے

یاداشت۔۔شاہین کمال

کم عمری کا اپنا ہی ہڑونگا پن ہے۔ اس وقت ماں باپ کی قربانیوں اور ان کی جد وجہد کا شعور نہیں ہوتا۔ اولاد بجائے احسان مند ہونے کے ان آسائشوں کو ان کی محبت نہیں بلکہ اپنا حق گردانتی←  مزید پڑھیے

ٹرانس جینڈر بِل-ایک جائزہ/شاہین کمال

2018 میں قومی اسمبلی میں چار خواتین سینیٹرز، روبینہ خالد، کلثوم پروین، روبینہ عرفان اور سبینہ عابد نے “پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ” پیش کیا۔ خواجہ سراء افراد تحفظ حقوق ایکٹ 2018 کے نفاذ کے بعد تیسری جنس سے تعلق رکھنے←  مزید پڑھیے

ستمگر ستمبر(2,آخری حصّہ)۔۔شاہین کمال

کی بہار میں ہماری شادی ہوئی تھی پھر اس بندھن کو مزید مضبوطی عطا کرنے کے لیے پہلے آمنہ اور اس کے بعد فاطمہ آ گئی۔ سب کچھ بہت اچھا چل رہا تھا کہ اچانک امی مختصر سی علالت کے←  مزید پڑھیے

ستمگر ستمبر۔۔شاہین کمال

اس سال سردی جلدی آ گئی ہے مگر ابھی ٹھنڈی ہوا جسم کو اتنی ناگوار نہیں ہے بس ایک جیکٹ سے کام چل جاتا ہے۔ میں نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے پسنجر سیٹ کے پائیدان سے کافی کا تھرماس←  مزید پڑھیے