ٹرانس جینڈر بِل-ایک جائزہ/شاہین کمال

2018 میں قومی اسمبلی میں چار خواتین سینیٹرز، روبینہ خالد، کلثوم پروین، روبینہ عرفان اور سبینہ عابد نے “پاکستان ٹرانس جینڈر ایکٹ” پیش کیا۔

خواجہ سراء افراد تحفظ حقوق ایکٹ 2018 کے نفاذ کے بعد تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، کام کی جگہوں، دوسرے عوامی مقامات اور وراثت کے حصول میں حقوق کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔

اس  کے تحت قانون  ٹرانس جینڈر کو قانونی شناخت فراہم کرنے کے علاؤہ انکے ساتھ امتیازی سلوک اور ہراساں کیے جانے کے خلاف تحفظ کے لیے اقدامات وضع کرتا ہے جبکہ مقامی حکومتوں پر ان لوگوں کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔

ٹرانس جینڈر افراد کو اس ایکٹ کے تحت اپنی جنس کا انتخاب اور شناخت کو سرکاری دستاویزات، قومی شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس میں تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ قانون یہ بھی واضح کرتا ہے کہ ٹرانس جینڈر افراد کو ووٹ دینے یا کسی عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا حق، ان کی منتخب جنس کے مطابق وراثت میں ان کے حقوق کا تعین، جیلوں یا حوالات میں مخصوص جگہیں اور پروٹیکشن سنٹرز اور سیف ہاؤسز قائم کرنے کی ذمہ داریاں حکومت پر عائد ہوتی ہیں۔ بلکہ یہاں تک ہے کہ اگر کوئی ان سے بھیک منگواتا ہے تو اس پر پچاس ہزار جرمانہ بھی ہے۔

تمام نکات نہایت صائب اور یہ یقیناً ان افراد کا حق ہے اور انہیں ملنا بھی چاہیے۔

مگر ذرا ٹھہریے یہ ٹرانس جینڈر واقعی ہیں کون ؟
مسئلہ سارا یہ ہے کہ ٹرانس جینڈر کی تعریف میں گڑ بڑ ہے ۔ ٹرانس جینڈر کو انہوں نے انٹر سیکس کے ساتھ ملا دیا ہے جبکہ ان دونوں اقسام کے افراد میں آسمان زمین کا فرق ہے۔
انٹر سیکس یا مخنث وہ افراد ہیں جن کے جنسی اعضاء میں ابہام ہے۔

جبکہ ٹرم ٹرانس جینڈر وسیع معنی رکھتی ہے اور اپنے اندر بہت ساری صنف کو شامل کرتی ہے۔ مثلاً ایسے افراد جو کسی حادثے کے سبب نا مردی کے عمل سے گزرے ہوں۔ وہ افراد جو خود کو پیدائشی جنس کے بجائے دوسری یا مخالف جنس میں شمار کرتے ہوں یعنی اپنی بائیولوجیکل ساخت کے خلاف، اپنی مرضی و من پسند صنفی شناخت کا اختیار رکھتے ہیں۔ اسی میں گے اور لیسبین بھی شامل ہوتے ہیں۔

مخنث کون ہیں؟
Harry F. Klinefelter
ایک امریکی ریسرچر ، جس نے انیس سو بیالیس میں Harry.F. KlinefelterS yndrome کی بیماری دریافت کی۔

اس بیماری میں کروموسومز x اور y کی تعداد کی عدم مطابقت یا mutation کی وجہ سے ہونے والے بچے کی جنس کا تعین نہیں ہو پاتا، نتیجتاً ہونے والا بچہ مخنث کہلاتا ہے۔ کروموسومز انسانی جسم کے خلیات کے مرکزوں میں پائے جانے والے macro molecules کو کہا جاتا ہے جو DNA اور لحمیات سے مل کر بنے ہوتے ہیں ۔ ان کروموسومز کی تبدیلی کو mutation کہا جاتا ہے۔ نسل انسانی کی افزائش اور ارتقاء کے لیے کروموسومز بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ایک نسل سے دوسری نسل تک نسلی اور انسانی خصوصیات کی منتقلی کا کام جینز کے ذریعے ہوتا ہے جو کروموسومز پر مشتمل ہوتے ہیں ۔ ہر انسان میں 23 کروموسومز کے جوڑے پائے جاتے ہیں اور ہر جوڑا دو کرومیٹین پر مشتمل ہوتا ہے ، یعنی مجموعی طور پر 46 کرومیٹین پائے جاتے ہیں ۔ کرومیٹین انگریزی کے حروف x اور y سے ملتے جلتے ہوتے ہیں ۔ انہیں x اور y کرومیٹین کہا جاتا ہے۔ عورت کے خلیے میں موجود ہر کروموسومز کے جوڑے میں دو کرومیٹین xx پائے جاتے ہیں جبکہ مرد کے ہر کروموسومز کے جوڑے میں ایک x اور ایک y کرومیٹین پایا جاتا ہے ۔ اس طرح مرد میں 23 کروموسومز میں 23 کرومیٹین x اور 23 کرومیٹین y پائے جاتے ہیں اور پیدا ہونے والے بچے میں بھی کروموسومز کے 23 جوڑے بنتے ہیں جو کہ ماں باپ کے کرومیٹینز کا مجموعہ ہوتے ہیں ۔جس میں سے بائیس جوڑے رنگ، نسل، زبان اور دیگر خصوصیات کو ظاہر کرتے ہیں جبکہ 23واں جوڑا پیدا ہونے والے بچے کی جنس کا تعین کرتا ہے ۔ اگر 23 ویں جوڑے میں ماں کی طرف سے مہیا کردہ کرومیٹین x کے ساتھ باپ کے کرومیٹین x ہی کا جوڑا بن جائے تو بچے کی جنس لڑکی ہو گی اور اگر اسی 23 ویں  جوڑے میں ماں کے ایکس کرومیٹین کے ساتھ باپ کا y کرومیٹین جوڑا بنا لے تو بچے کی جنس لڑکا ہو گی۔ اسی طرح پیدا ہونے والے لڑکے میں بھی کروموسومز x y کے 23 جوڑے ہوں گے یا لڑکی کی صورت میں اس میں کروموسومز xx کے 23 جوڑے ہوں گے۔

1942میں Klinefelter نے ایسی ہی ایک بیماری کی نشاندہی کی تھی کہ کروموسومز کی تبدیلی کے وقت مردوں میں بعض اوقات ایک زائد کرومیٹین x پیدا ہو جاتا ہے اور اس طرح انسانی جسم میں 46 کے بجائے 47 کرومیٹین پائے جاتے ہیں نتیجتاً 23واں بننے والا جوڑا xxy کی شکل میں سامنے آتا ہے جس سے ایک ابنارمیلٹی پیدا ہوتی ہے جس کو سائنسی زبان میں 47 xxy اور عام فہم میں Harry. F. Klinefelter Syndrome کہتے ہیں ۔ غالباً اسی ایک زائد کروموسومز کی وجہ سے انگریزی میں اس صنف کو ٹرانس جینڈر کہتے ہیں اور عربی میں ان کے لیے لفظ مخنث تجویز کیا گیا ہے ۔ سائنسدانوں کے مطابق مرد xxy کروموسومز کی ابنارمیلٹی ایک عام عنصر ہے اور ایک اندازے کے مطابق ہر پانچ سو افراد میں سے ایک فرد  میں یہ ابنارمیلٹی ملتی ہے۔ اس کی کوئی ظاہری علامت نہیں ہے لیکن اگر بچے  کی پیدائش کے وقت یہ ابنارمل جوڑا باپ کی طرف سے xx یا xy کی شکل میں ماں کے کرومیٹین x سے جوڑا بنا لے تو بچہ پیدائشی طور پر اس دردناک بیماری کا شکار ہو کر میوٹیشنل ڈس آرڈر کی شکل میں جنم لے گا۔ واضح رہے کہ ماں کی طرف سے ہر صورت ایک ہی کرومیٹین x آتا ہے جبکہ باپ کی طرف سے x یا y دونوں میں سے کسی ایک کرومیٹین کے آنے کے مساوی امکانات ہوتے ہیں ۔ یعنی بچے کی جنس کا تعین مکمل طور پر باپ کے کرومیٹین پر منحصر ہوتا ہے ۔ یہ کوئی تیسری جنس نہیں بلکہ مرد اور عورت کی جنس میں سے ایک جنس ہے جس کا علاج ممکن ہے۔ بلکہ شریعت میں اس کے علاج کا سختی سے حکم ہے۔

دنیا کی کُل  آبادی کا ایک اعشاریہ سات فیصد مخنث افراد پر مشتمل ہے۔

2018 میں پیش ہونے والے بل ” ٹرانس جینڈر ایکٹ” میں انہوں نے یہ سارے حقوق مظلوم مخنث کے ساتھ ساتھ ٹرانس جینڈر افراد کو بھی دے دیے ہیں ۔ جس میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو بائیولوجیکل طور پر ایک مکمل صحت مند مرد یا عورت ہونے کے باوجود اپنی طبعیت کی میلان اور خواہش کی بنا پر اپنے آپ کو اپنی پیدائشی جنس کے برعکس جانتے ہیں ۔ اب قیامت یہ ہے کہ اس  قانون یعنی خواجہ سراء افراد تحفظ حقوق ایکٹ کے تحت کوئی بھی شخص کھڑا ہو کر یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ اپنی بائیولوجیکل ساخت سے فطری طور پر میچ نہیں کرتا لہذا وہ نادرا جا کر بغیر کسی طبی معائنہ کے اپنی بائیولوجیکل ساخت کے برخلاف آئی ڈی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کر سکتا ہے۔

سوچیے کہ ایک ہٹا کٹا مرد محض یہ دعویٰ کر کے کہ وہ مرد کے جسم میں قید ایک عورت ہے یا ایک مکمل صحت مند عورت اس بات کی دعوے دار ہو کہ وہ اپنے آپ کو فطری طور پر مرد محسوس کرتی ہے لہذا حکومت پاکستان اسے مرد کی شناخت دلانے کی ذمہ دار ہے۔

2018 میں اس بل کے پاس ہونے  کے بعد محض تین سال کے عرصے میں نادرا کو جنس کی تبدیلی کی تقریباً تیس ہزار درخواستیں موصول ہوئیں ۔ ان میں 16530 مردوں نے اپنی جنس عورت میں تبدیل کرائی اور 15154 عورتوں نے اپنی جنس مرد میں تبدیل کروائی جبکہ خواجہ سراؤں کی محض تیس درخواستیں وصول ہوئیں تھیں جن میں 21 نے مرد اور 9 نے عورت کے طور پر اندراج کی درخواست دی۔
اپنی بائیولوجیکل جنس کی نفی ایک نفسیاتی عارضہ ہے اور gender dysphoria کہلاتا ہے۔ میڈیکل سائنس میں ہارمونز ٹریٹمنٹ کے ذریعے اس کا علاج موجود ہے۔

اس بل کو بِنا کسی ترمیم کے پاس کر کے نا صرف ہم لوگ قیامت اور عذاب الہٰی کو دعوت دے رہے ہیں بلکہ خود اپنے ہاتھوں سے جنسی بے راہروی اور معاشرتی تباہی کا دروازہ کھول رہے ہیں۔ اپنی آنے والی نسلوں کو ہم خود تباہی اور گناہوں کے گڑھے میں پھینک رہے ہیں۔

سورہ اعراف کی آیات نمبر 80 سے 84 تک کا ترجمہ۔

اور ہم نے لوط کو بھیجا جبکہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم ایسا فحش کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے دنیا جہاں والوں میں سے کسی نے نہیں کیا۔ تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو

عورتوں کو چھوڑ کر، بلکہ تم تو حد ہی سے گزر گئے ہو۔

اور ان کی قوم سے کوئی جواب نہ بن پڑا بجز اس کے کہ آپس میں کہنے لگے کہ ان لوگوں کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ بہت پاک صاف بنتے ہیں ۔

سو ہم نے لوط اور ان کے متعلقین کو بچا لیا بجز ان کی بیوی کے کہ وہ ان ہی لوگوں میں رہی جو عذاب میں رہ گئے تھے ۔
اور ہم نے ان پر ایک نئی طرح کا مینہ برسایا ، پس دیکھو تو سہی ان مجرموں کا انجام کیسا ہوا۔

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر یہ عذاب اغلام بازی کی وجہ سے نازل کیا گیا تھا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام اس شہر کی پانچوں بستیوں کو اپنے پروں پر اٹھا کر آسمان کی طرف بلند ہوئے اور وہاں سے انہوں نے ان بستیوں کو زمین کی طرف دے مارا ،پھر ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی اور ان کی لاشوں کے پرخچے اڑ گئے ، ہر برسنے والے پتھر پر اسی شخص کا نام لکھا تھا جو اس پتھر سے ہلاک ہوا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک بار شیطان سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑھ کر کون سا گناہ نا پسند ہے؟
ابلیس بولا : جب مرد مرد سے بد فعلی کرے اور عورت عورت سے خواہش پوری کرے۔تفسیرِ روح البیان 197/3

Advertisements
julia rana solicitors london

یہ لحمہء  فکریہ ہے اور اس بل کو بغیر کسی ترمیم کے منظور کرنے کا مطلب اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور غضب کو آواز دینا ہے۔

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply