مکالمہ کی تحاریر
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

تعلیم (19)۔۔وہاراامباکر

آپ نے ایک روایتی کمرہ جماعت میں استاد کا لیکچر سنا ہو گا۔ یہ دماغ کو تبدیل کرنے کا بہت موثر طریقہ نہیں۔ وجہ کیا ہے؟ طلبا کی شرکت یکطرفہ کمیونیکیشن سے نہیں ہوتی۔ اور شرکت کے بغیر پلاسٹسٹی کا←  مزید پڑھیے

مٹھاس۔۔ربیعہ سلیم مرزا

شام ہوتے ہی باورچی خانے کے روشندان سے آتی روشنی گہری ہونے لگی ۔دھند نمی میں بدل رہی تھی۔گھر کی خاموشی میں صرف کڑاہی میں گرم ہوتے تیل کی گنگناہٹ سنائی دے رہی تھی ۔ فون کی میسج ٹون نے←  مزید پڑھیے

کیل پر ٹنگی زندگی۔۔عارف انیس

خدانخواستہ اگر تم آج مرجاؤ تو کیا کچھ اپنے ساتھ لے مرو گے؟ کیسے کیسے سپنے، کیسے کیسے خواب. وہ زندگی جو جی ہی نہیں. وہ لمس، جسے چھوا ہی نہیں، وہ ہونٹ جنہیں بوسہ ہی نہیں دیا، وہ سفر←  مزید پڑھیے

بیمار معاشرے کے ڈاکٹر۔۔پروفیسر فتح محمد ملک

ہماری تہذیب میں ڈاکٹر کو مسیحا کہتے ہیں اور یہ ہماری تہذیب کا وہ رُخ ہے کہ جو عالمی تہذیب میں اور کہیں نظر نہیں آتا ۔لیکن افسوس صد افسوس کہ مسیحاؤں کو کہ جو ہمارے مریضوں کے لئے اللہ←  مزید پڑھیے

ایکوسسٹم اور وہیل۔۔ظریف بلوچ

بلوچستان کے ساحلی علاقے  پسنی کے سمندر میں مقامی ماہی گیروں نے دنیا کے نایاب اور معدومیت کے خطرے سے دوچار عربین ہیمپ بیک وہیل کے  ایک جوڑے کو اٹھکھیلیاں  کرتے ہوئے دیکھا اور اس دلفریب منظر کو قریب سے←  مزید پڑھیے

کیا بنگلہ دیش کا وجود دو قومی نظریے کی نفی ہے؟۔۔نوید شریف

سقوط ڈھاکہ کے وقت اندرا گاندھی نے کہا کہ “آج ہم نے نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا۔”بنگلہ دیش کے وجود کو پاکستان مخالف قوتیں دوقومی نظریے کے خلاف بطور دلیل پیش کرتی ہیں۔ دعوی کرتی ہیں←  مزید پڑھیے

جمہوریت کے لئے ایک لوہار کی فیصلہ کن چوٹ لگانے کا وقت۔۔۔ناصر منصور

 پاکستان میں سیاسی بھونچال بپا ہے لیکن اس کی تہہ میں موجود معاشی اور معاشرتی بحران اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ حالات بتا رہے ہیں کہ آنے والا نیا سال اس بحرانی کیفیت کو مزید گہرا کرتے ہوئے ایک←  مزید پڑھیے

آپ کیوں مرنا چاہتے ہیں؟۔۔حسن کرتار

آپ نوجوان ہیں ذہین ہیں نشے بھی کرتے ہیں اور کسی ایسے شخص کی محبت میں گرفتار ہیں جو آپ کو الٹی سیدھی نصیحتیں کرنے یا فون پہ لمبی لمبی گپیں مارنے کے سوا کچھ اور دینے سے قاصر ہے۔۔۔←  مزید پڑھیے

چائے کی پیالی اور کھڑکی کے باہر کا نظارہ۔۔ظریف بلوچ

سورج طلوع ہوچکا تھا اور اندھیری رات کے بعد دن کی  روشنی ایک نئی امید کے ساتھ نمودار ہوئی  تھی ،مہروان کی ماں چائے کی پیالی کھڑکی پر رکھ کر چلی گئی تھی۔ چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے میں نے←  مزید پڑھیے

مقبرہ علی مردان خان۔۔طلحہ شفیق

یہ مقبرہ سنگھ پورہ کی پرانی سبزی منڈی میں لوکو جنرل  سٹور کے قریب واقع ہے۔ علی مردان خان عہدِ شاہجہان کے امراء میں سے تھا۔ اس کا تذکرہ مغل دور کی تواریخ میں کثرت سے ملتا ہے۔ صاحب مآثرالامراء←  مزید پڑھیے

آج ڈر کی آنکھوں میں جھانکنا ہے، مرشد۔۔عارف انیس

شیروں کو غزال کا گوشت بہت مرغوب ہے۔ بڑے بڑے شکتی شالی شیر غزالوں کے گوشت کے خواب دیکھتے ہیں کہ مزے کا ہوتا ہے مگر نصیب کم ہوتا ہے کہ غزال لحظہ بھر میں چوکڑی بھرتے غائب ہوجاتے ہیں←  مزید پڑھیے

بانو قدسیہ کی یاد میں ۔۔۔اُمِ عمارہ

میری ادب سے وابستگی جتنی پُرانی ہے بانو قُدسیہ کے لیے میری محبت بھی اُتنی ہی پُرانی ہے ،بانو قُدسیہ کی لکھاوٹ میں انسان کی پروا کم اور ماں کی پروا زیادہ ہے۔ایک عرصہ دل میں خواہش رہی کہ اِس←  مزید پڑھیے

بیج کے اپنے دل میں کیا ہے؟۔۔عارف انیس

ایک مرضی دہقان کی، کسان کی، باغبان کی ہوتی ہے۔ ایک مرضی زمین کی ہوتی ہے۔ ایک سب سے بڑی مرضی اوپر والے کی ہوتی ہے۔ مالی دا کم مشکاں لانا، بھر بھر مشکاں لاوے، ہو! مالک دا کم، پھل،←  مزید پڑھیے

جاوید کاجاوید نامہ۔۔ پروفیسر ذوالفقار احمد ساحر

کسی نے کہا تھا کہ آپ چند گھڑیاں خوشی کی گذارنے کے خواہش مند ہیں تو ایک خوب صورت سہ پہر کو برآمدے میں بیٹھ کر ایک کپ  چائے پی لیں۔اوراگر کئی سال خوش رہنا چاہتے ہیں تو ایک باغ←  مزید پڑھیے

عورت ذات۔۔ظریف بلوچ

چلو چلتے ہیں کسی انجانی  منزل کی طرف ،جہاں تم ہو اورمیری تنہائی، اور کسی انجانے درخت کے سائے میں بیٹھ کر جی بھر کر باتیں کرتے ہیں اور ساتھ رہنے کی قسمیں کھاتے ہیں۔ ۔ یہ کہتے ہوئے وہ ←  مزید پڑھیے

زندگی تو مارے گی۔۔عارف انیس

یہ طے ہے کہ زندگی روز ایک ایک دن کرکے مارے گی، تھکن ہوگی ، جسم ٹوٹ جائے گا، نیند روٹھ جائے گی، دل پر دل بروں کے ہاتھوں خراشیں پڑیں گی، انگ انگ فریاد کرے گا اور درد چار←  مزید پڑھیے

انتشار اور یکسوئی۔۔ڈاکٹر اظہر وحید

انتشار کا رخ کثرت کی طرف ہوتا ہے اور یکسوئی کا وحدت کی طرف! منتشر خیال ہوناٗ دراصل منتشر حال ہونا ہے ٗاور منتشر حال ہونا افعال اور کردار کو منتشر کر دیتا ہے۔ یہ حال صرف کیف اور کیفیت←  مزید پڑھیے

کنٹیکٹ سے کنکشن تک۔۔عارف انیس

ہم پانچوں دوست تقریباً دس سال بعد ملے۔ تین گھنٹے کی ملاقات میں آدھا گھنٹہ گپ شپ کی ہوگی۔ باقی وقت فیس بک چیک کرنے، واٹس ایپ کے پیغامات کی ترسیل اور چھان بین اور انٹ شنٹ کالوں کا جواب←  مزید پڑھیے

ہم اور ہماری سوچ۔۔نزہت جہاں ناز

آج ہم نسلِ انسانی کے چند ذہنی افعال و عادات کا جائزہ لیتے ہیں اور پھر اس پر مختصر سی بات کرتے ہیں۔ ہماری سوچ اور ہمارا گمان کس حد تک ہماری شخصیت ، ہماری جسمانی و ذہنی صحت ،←  مزید پڑھیے

انسانی حقوق کا عالمی منشور اور گلگت بلتستان۔۔اشفاق احمد ایڈووکیٹ

ورجینیا ڈیکلیریشن آف رائٹس 1776 دنیا میں بنیادی حقوق کا پہلا جمہوری دستوریت کے دستاویز کی مثال ہےجس میں یہ اعلان کیا گیا کہ تمام بنی نوع انسان پیدایشی طور پر برابری کے حامل ہیں جنہیں ان کے خالق نے←  مزید پڑھیے