مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔
کہتے ہیں کہ شرک کے بعد دوسرا سب سے قبیح عمل منافقت ہے۔اسی لئے منافق پر بار بار کثرت سے لعنت بھیجی گئی ہے۔اب نقطہ یہ ہے کہ اگر منافقت اتنا ہی ناپسندیدہ عمل ہے تو آجکل اتنی عام کیوں ہے؟؟← مزید پڑھیے
نعتوں کی چوری شُدہ دُھنیں اور حرام موسیقی۔۔ ذیشان احمد/انسان صدیوں سے اپنی آواز کو سنتا آیا ہے اور سانس لینے کے عمل سے انسان کا رشتہ ازل سے ہے۔ سانس لینا انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔← مزید پڑھیے
غزل کو اگر اُردو شاعری کا طُرہ، امتیاز کہا جائے تو یہ غالباً غلط نہ ہوگا کیونکہ ولی دکنی سے لے کر دلاور علی آذر تک اور بالخصوص میرؔ و سوداکے زمانے سے اب تک شاید ہی کوئی دہائی ایسی← مزید پڑھیے
لوگ ارتغرل،سلجوق سریز اور عثمان سریز شغل کیلئے دیکھتے ہیں جبکہ میں ان کہانیوں کو اپنے الگ نظریے سے دیکھتا ہوں۔ان سب ڈراموں میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ ہے "لیڈر شپ " ۔← مزید پڑھیے
غزل کو اگر اُردو شاعری کا طُرہ، امتیاز کہا جائے تو یہ غالباً غلط نہ ہوگا کیونکہ ولی دکنی سے لے کر دلاور علی آذر تک اور بالخصوص میرؔ و سوداکے زمانے سے اب تک شاید ہی کوئی دہائی ایسی← مزید پڑھیے
عابد شاپ دراصل یوں مشہور ہو گئی کہ آصف سادس نواب میر محبوب علی خان کے دور میں ایک یہودی مسٹر عابد نے یہاں ایک دوکان کھولی تھی جس میں ضرورت کی ہر چیز مل جاتی تھی، یوں کہیے کہ← مزید پڑھیے
گمان اور بدگمان۔۔ڈاکٹر اظہر وحید/ اِس ہفتے عجب واقعہ ہوا۔ طبیعت قدرے ناساز تھی، کلینک سے رخصت لینا پڑی۔ صبح ٹیریس میں دھوپ سینک رہا تھا ، دیکھا کہ دروازہ کھلا ہوا ہے، ملازمہ سے پوچھا کہ دروازہ کیوں کھول رکھا ہے؟← مزید پڑھیے
غزل کے مختلف لہجوں اور فکر و احساس کی نئی نئی صورتوں کے باوصف محمد نصیر زندہ کی غزل گوئی کلاسیکی شعراء کے زمانے سے لے کر دورِ حاضر تک مختلف رجحانات کی عکاس ہے۔ وہ کلاسیکیت کے پیرہن میں← مزید پڑھیے
8جنوری کی رات برفباری کے ایک طوفان نے مری اور اس کے گردونواح میں جو قیامت ڈھائی اُس کی تفصیلات نے دل اور دماغ دونوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے دل کو یوں کہ مختلف وجوہات کی بنا پر← مزید پڑھیے
ریگل صدر کراچی میں پرانی کتابوں کا بازار جو ہر اتوار کو سجتا ہے وہاں ہم جیسے کچھ کم علم بھی قلیل رقم میں علم کی پیاس بجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ فُٹ پاتھی← مزید پڑھیے
ہم بچپن سے پڑھتے سنتے آئے ہیں کہ کربلا میں یزیدی فوج نے امام حسینؑ اور ان کے اہل بیت و انصار کی لاشوں سے لباس بھی اتار لیے تھے۔ یہاں تک کہ امام حسینؑ کے ہاتھ سے انگشتری آسانی← مزید پڑھیے
اخلاقیات ، ادب اور منافقت۔۔ڈاکٹر اظہر وحید/اِس قلم کار کے اکثر کالم اپنے قارئین کی کسی فکری اُلجھن کو سلجھانے کی غرض سے ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایسے سوالات سے بھی واسطہ پڑتا ہے ٗجن کا تعلق ہمارے معاشرتی روابط کے ساتھ ہوتا ہے،لامحالہ اِن سوالات کے جوابات بھی اس فقیر پر واجب ٹھہرتے ہیں← مزید پڑھیے
سال نیا آیا ہے دیکھو دیکھو اپنی کھڑکی کھولو روشنی کی بارات سجے گی جھومر ڈالو کہ ّپتوں پر شبنم کچھ ایسے چمکے گی جیسے بس اک سال کے بچے کے ہونٹوں پر رال کی چمکی چمکے گھر کی کچی← مزید پڑھیے
بھارت میں حال ہی میں الیکشن کمیشن نے پانچ صوبائی اسمبلیوں کیلئے انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کردیا ہے، جس کے مطابق سات مرحلوں پر محیط انتخابات 10فروری سے شروع ہو کر 7مارچ کو اختتام پذیر ہوجائینگے۔ 10مارچ کو نتائج← مزید پڑھیے
جو ہم سوچتے ہیں،یا لکھتے ہیں، وہ انہی خیالوں کی کاپی پیسٹنگ ہے جو اس سے پہلے سوچے جاچکے ہیں ۔ المیے اور خوشیاں ہر خطے کے سماجی رحجان کی وجہ سے مختلف تو ہو سکتے ہیں،مگر لکھنے والوں کے← مزید پڑھیے
میری شارلوٹ و جنرل ایلارڈ کا یہ مقبرہ پرانی انارکلی میں واقع ہے۔ جنرل ایلارڈ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے یورپی جرنیلوں میں سے ایک تھا۔ الیکزینڈر گارڈنر و ڈبلیو جی آسبرن نے جنرل ایلارڈ کا تفصیلی تذکرہ اپنی یاداشتوں میں← مزید پڑھیے
جناب محترم چیف جسٹس پاکستان سپریم کورٹ جناب محترم چیف آف آرمی سٹاف پاکستان محترم صدر پاکستان جناب عارف علوی صاحب محترم وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب میں آزاد پاکستان کا ایک یرغمال شہری ہوں ہمیں قاٸداعظم محمد علی جناح← مزید پڑھیے
گزرے برس جہاں بہت سے چاہنے والے ملے ،وہیں کچھ اپنوں کے جنازے بھی اٹھتے دیکھے،ابھی سال کا آغاز ہی تھا کہ علیم کی والدہ بچوں کو روتا چھوڑ کر چل بسیں۔ ڈاکٹر مسعود صفدر بھی اسی برس ہم سے← مزید پڑھیے
یوں تو ہر شہر کی طرح مری کے بھی چھوٹے بڑے کئی مسائل ہیں، لیکن سیاحتی حوالے سے دیکھا جائے تو دو بڑے مسئلے ہیں۔ 1- سیاحوں کیلئے رہائش کی کمیابی یا عدم دستیابی 2- گاڑیوں کی پارکنگ کی عدم← مزید پڑھیے
اب سے صرف دو صدیاں پہلے تک پوری انسانی تاریخ میں صرف ایک طرح کی بجلی کا ہی ذکر ملتا ہے جسے آسمانی بجلی کہا جاتا ہے جس کے حوالے سے غالبؔ کا یہ شعر بھی بجلی کی طرح ذہن← مزید پڑھیے