کُڑی باغ۔۔طلحہ شفیق

میری شارلوٹ و جنرل ایلارڈ کا یہ مقبرہ پرانی انارکلی میں واقع ہے۔
جنرل ایلارڈ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے یورپی جرنیلوں میں سے ایک تھا۔ الیکزینڈر گارڈنر و ڈبلیو جی آسبرن نے جنرل ایلارڈ کا تفصیلی تذکرہ اپنی یاداشتوں میں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایلارڈ فرانس کے چھوٹے سے علاقے سینٹ ٹراپز میں ۸ مارچ ١٧۸٥ء میں پیدا ہوا۔ ١۸۰٣ء میں ایلارڈ نے فرانسیسی فوج میں شمولیت حاصل کی۔ ١۸۰٣ء سے ١۸١٥ء تک ایلارڈ نے مختلف عہدوں پر کام کیا اور بہت سے اعزازات حاصل کیے۔ ١۸١٥ء میں جنگ واٹرلو میں نپولین کی شکست کے بعد ایلارڈ چار سال تک شدید بے چینی میں رہا۔ جب فرانس میں کوئی قابل قدر ملازمت حاصل کرنے میں ناکام رہا تو کہیں اور جا کر قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ شروع میں امریکہ جانے کا ارادہ کر کیا لیکن پھر اپنے عزیز دوست وینتورا کے کہنے پر ایران کے فرمانروا عباس کی پاس ملازمت اختیار کی۔ گو کہ یہاں ایلارڈ کو محبت و عزت سے نوازا گیا لیکن اس کی تنخواہ توقع سے بہت کم تھی. اسی مجبوری کے تحت ایلارڈ یہاں سے پہلے افغانستان گیا مگر بعد ازاں پنجاب آ گیا۔

اس کے علاوہ سلطنت برطانیہ نے ایرانی فرمانروا سے ایک معاہدہ بھی کیا تھا۔ جس کے تحت جنگی تعاون کے بدلے فرانسیسی جرنیلوں کو ملازمت سے بے دخل کرنے کی بات کی گئی تھی۔ اسی کے پیش نظر جنرل ایلارڈ نے ١٨٢٢ء میں رنجیت سنگھ کے دربار میں حاضری دی۔ رنجیت سنگھ نے اپنے مہمان کا خوش دلی سے استقبال کیا۔ جب مہاراجہ کو یقین ہوگیا کہ یہ برطانوی جاسوس نہیں ہے تو ایلارڈ کو ملازمت پر رکھ لیا گیا۔ یہاں سے ایلاڈ کی زندگی میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

مہاراجہ رنجیت سنگھ خاصا دور اندیش حکمران تھا۔ اسے علم تھا کہ اس کا مقابلہ ایک قابل دشمن یعنی سلطنت برطانیہ سے ہے۔ مہاراجہ کے مدنظر تھا کہ اِن سے برابری کے لیے ایک اچھی فوج کا ہونا لازم ہے۔ سو مہاراجہ کے ہاں جب نپولین کے جرنیل آئے تو اِس کے ذہن میں فوراً اپنی فوج کو ان کے ذریعے منظم کرنے کا خیال آیا۔ نیز مہاراجہ کو فرانسیسیوں و اہل برطانیہ کی دیرینہ دشمنی کا بھی علم تھا۔ اس ضمن میں ہربنس سنگھ نے خاطر خواہ تفصیل درج کی ہے۔ ایلارڈ و دیگر یورپی جرنیلوں کے زیر کمان ایک خصوصی فوج کو تیار کا حکم دیا گیا۔ اس کا نام ”فوج خاص“ رکھا گیا۔ اس فوج کو فرانسیسی فوج کے خطوط پر تربیت دی گئی۔ حتیٰ کے ان کمانڈنگ کے الفاظ بھی فرانسیسی زبان میں تھے۔ مہاراجہ نے کئی اہم معرکوں میں فوج کی کمان جنرل ایلارڈ کو دی۔ فوج کے ساتھ ساتھ ایلارڈ مہاراجہ کا سیاسی مشیر بھی تھا۔ ایلارڈ روسی فوج کی پیش رفت کے حوالے سے مہاراجہ کو باخبر رکھا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ مہاراجہ ایلارڈ سے فرانسیسی اخبارات کی خبریں بھی بطور خاص سنا کرتا تھا۔ ایلارڈ اینگلو سکھ باڈر کی نگرانی پر بھی مامور تھا۔ مہاراجہ نے سالانہ تنخواہ کے علاوہ ایلارڈ کو کئی ایک جاگیریں بھی عطا کر تھیں۔ ١٨٣١ء میں مہاراجہ کے دربار میں ایک فرانسیسی ماہر نباتات وکٹر جیک ماؤنٹ حاضر ہوا۔ اس کو ایلارڈ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ اس کے اثر و رسوخ کے متعلق اپنی یاداشتوں میں لکھتا ہے کہ ایلارڈ کو پنجاب میں وہی کردار و مقام جو کہ سلمان بیہ کا سلطنت عثمانیہ میں تھا۔ اس سب سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایلارڈ کس قدر مہاراجہ کے قریب تھا۔
اسد سلیم شیخ صاحب نے اپنی کتاب “ٹھنڈی سڑک” میں لکھتے ہیں ”مہاراجا رنجیت سنگھ بڑا ذہین حکمران تھا وہ جنرل ایلارڈ کی قابلیت اور حربی مہارت کو جان گیا تھا, مگر اس کے باوجود انھیں دربار سے دُور بھی رکھنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے فرانسیسی اور اطالوی جرنیلوں کو دربار سے دُور مقبرہ انارکلی میں رہائش مہیا کی۔ جنرل ایلارڈ اور جنرل ونتورا مقبرہ انارکلی (سیکرٹریٹ) میں رہنے لگے۔ جنرل ونتورا (کے چلے جانے کے) بعد جنرل ایلارڈ مقبرہ انارکلی میں اکیلا رہنے لگا۔ اسی اثناء میں جنرل ایلارڈ کی لاڈلی بیٹی اچانک بیمار ہو کر وفات پا گئی۔ اس نے خوف کے مارے مقبرہ انارکلی سے اپنی رہائش ختم کر دی اور جنرل ونتورا کے پاس رہنے لگا اور مقبرہ انارکلی میں قبر کے تعویذ کو ہر جمعرات اپنے ہاتھوں سے عرق گلاب سے غسل دیتا۔” وینتورا کے مکان کے قریب ہی ایلارڈ نے بھی اپنی رہائش گاہ تعمیر کی تھی۔ اس کا تفصیلی تذکرہ مسٹر میسن و بیرن چارلز ہیوگل نے اپنے اپنے سفرنامے میں کیا ہے۔ حتیٰ کہ ہر کمرے کا احوال بھی درج کیا ہے۔ ہیوگل کے بقول “یہ مکان (جو) جنرل ایلارڈ نے بنوایا ہے۔ کوئی بہت بڑا نہیں لیکن مشرق کی شان و شوکت اور ایک یورپی اقامت گاہ کی آسائشیں اس میں جمع کردی گئی تھیں… چونکہ یہ ایک باغ کے عین درمیان واقع ہے جسے نہایت ذوق اور سلیقے سے لگایا گیا ہے, ارد گرد کے ریگستانی میدان کے مقابلے میں اس کا منظر اچھا قابل دید ہے۔ اس مقام سے راوی کی ایک شاخ کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔” جنرل ایلارڈ نے ١۸۲٥ء میں لدھیانہ کی ایک خاتون سے شادی کی تھی۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ یہ خاتون پنجابی تھی, لیکن شیو نرائن صاحب نے اپنے ایک تحقیقی مضمون میں ایلارڈ کے خاندان کا مفصل ذکر کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایلارڈ نے ایک برطانوی خاتون سے شادی کی جو کہ اس وقت لدھیانہ میں قیام پذیر تھی۔ اس کا باپ فرانسیسی جبکہ ماں امریکن تھی۔ نرائن صاحب نے ایلارڈ کی شادی اور اس کی وفات کے بعد اس کی بیوی کے فرانس جا بسنے, انگریز حکومت سے پینشن لینے اور آگے ایلارڈ کی اولاد کی اولاد کا بھی احوال بیان کیا ہے۔ نرائن صاحب کے بقول ایلارڈ کی زوجہ برطانوی خاتون تھیں۔ لیکن ایلارڈ کی جس بیوی کا تاریخ میں تذکرہ ہے وہ شہزادی بانو پان دی ہیں۔ یہ تو ہندو تھیں اور ان کی تصاویر دیکھی جائیں تو ان کے خدو خال سے بھی واضح معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہندوستانی ہیں۔ البتہ ۲۲ ستمبر ١۸٤۲ء کی ایک خبر ضرور ملتی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ میڈم ایلارڈ کا بپتسمہ کیا گیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ایلارڈ نے دو شادیاں کی ہوں۔

حیرت انگیز طور پر مقبرے پر واضح تختی ہونے کے باوجود، لاہور کے دیگر کئی مقابر کی طرح یہ مقبرہ بھی متنازعہ ہے۔ کڑی باغ کے اس مقبرے کے متعلق سید لطیف لکھتے ہیں “لوگ اس کو کڑی باغ یا بیٹی کا باغ کہتے ہیں۔ دراصل اس مکان کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت کے فرانسیسی افسر ایم ایلارڈ نے تعمیر کرایا تھا۔ اس کی لڑکی فوت ہونے کے بعد اس مکان سے ملحقہ باغ میں دفن کی گئی تھی۔ جس کی وجہ سے یہ کڑی باغ کہلانے لگا متوفیہ کی قبر, باغ کے شمال مغربی جانب واقع ایک ٹیلے پر موجود ہے۔” آگے سید لطیف نے لکھا ہے کہ فرش پر ایک فرنچ زبان کی تختی موجود ہے جس پر میری شارلوٹ کا نام اور سن وفات لکھی ہے۔ اب یہ تختی موجود نہیں۔ لیکن نور احمد چشتی نے اس مقبرے کو جنرل ونتورا کی بیٹی کا بتایا ہے وہ لکھتے ہیں “یہ باغ جس میں کوٹھی کمشنر بہادر کی ہے کڑی باغ کرکے مشہور ہے اور وجہ تسمیہ اس کا یہ ہے کہ ونتورا صاحب فرانسیسی کی دختر جب مرگئی تو اس نے اپنے اس احاطہ میں ٹیلہ پر اس کو دفن کیا اور اس روز سے یہ کڑی باغ مشہور ہوا اور کڑی بزبان پنجابی دختر کو کہتے ہیں۔” یہی بیان ان کے ہم عصر لکھاری مفتی تاج الدین کا بھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں “یہ باغ ونتورا صاحب کا تھا اس کی لڑکی یہاں دفنائی گئی تھی اس واسطے کڑی باغ موسوم ہوا۔” لیکن مفتی تاج الدین اور نور احمد چشتی کا یہ بیان کسی طور درست نہیں۔ مقبرے کے باہر فارسی میں صاحب مقبرہ کی تفصیل درج ہے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے درباری مورخ سوہن لال سوری نے عمدۃ التواریخ میں جنرل وینتورا کے متعلق ایک بیان درج کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنرل ونتورا کی بیٹی ١۸٣٦ء میں حیات تھی۔ جبکہ زیر تبصرہ مقبرہ پر صاحب مقبرہ کا سن وفات ١۸۲٧ء موجود ہے۔ زمانہ متاخرین کے مورخین و محققین میں سے ڈاکٹر محمد باقر, ڈاکٹر عبداللہ چغتائی, لوسی پیک, نقوش “لاہور نمبر“ و مدثر بشیر صاحب نے بھی اس کو جنرل ایلارڈ کی صاحبزادی میری شارلوٹ کا مقبرہ ہی بتایا ہے۔ مقبرے کے اندر دو قبور ہیں۔ ایک تو میری شارلوٹ کی ہے۔ جبکہ دوسری کے متعلق بعض مضمون نگاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ قبر ایلارڈ کی دوسری بیٹی یا بیٹے کی ہے۔ لیکن یہ بیان غلط ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ چغتائی لکھتے ہیں “جنرل ایلارڈ کا اپنا انتقال ١۸٣۹ء بمقام پشاور ہوا تو اسے بھی اسی گنبد میں لاکر دفن کیا گیا.” اس واقعے کو رنجیت سنگھ کے مختلف سوانح نگاروں نے بھی درج کیا ہے۔ ایلارڈ کا انتقال ۲٣ جنوری ١۸٣۹ء کو عارضہ قلب کی وجہ سے ہوا۔ ڈبلیو جی آسبرن کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ ان دنوں مہاراجہ بھی علیل تھا اور ایلارڈ رنجیت کو اس قدر عزیز تھا کہ اس کی موت کی خبر اسے فوراً نہیں دی گئی۔ کیونکہ معالجین کو خدشہ تھا کہ مہاراجہ کے لیے یہ صدمہ بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ خیر اس مقام کی ایک اور وجہ تسمیہ بھی ملتی ہے۔ کچھ احباب کے بقول اس جگہ کا نام کڑی باغ, سر فیڈرک کڑی کے نام پر ہے جو کہ لاہور کے انگریز ریذیڈنٹ تھے اور وہ اسی باغ میں مقیم تھے۔ اِس وجہ سے لوگوں نے اس جگہ کو کڑی کا باغ کہنا شروع کردیا۔ اس علاقہ کو کپور تھلہ ہاوس کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ماضی میں یہاں مہاراجہ کپور تھلہ کی کوٹھی بھی ہوا کرتی تھی۔ مگر بعد ازاں ادھر فلیٹ بن گئے۔
میری شارلوٹ کا مقبرہ دیکھنے کا شوق ہوا تو اس کو تلاش کرنا شروع کیا۔ لاہور میں رستہ بتانے والوں کی محبت تھی کہ, گورنمنٹ کالج سے پانچ منٹ کی مسافت پر موجود یہ مقبرہ ہمیں کوئی دو گھنٹے بعد بمشکل سے ملا۔

کچھ گوگل میپ نے گھمایا اور کچھ لوگوں نے۔ خیر اگر آپ پرانی انارکلی میں داخل ہوں تو جین مندر کی جانب چلتے جائیں۔ پرانی انارکلی کے دروازے کے بعد جو چوک ہے، اس کو پار کر بائیں جانب حبیب بینک سے پہلے گلی کے اندر النجم ہوٹل کے سامنے یہ مقبرہ موجود ہے۔ اصل میں تو یہاں باغ میں مقبرہ تھا۔ اب باغ تو نہیں البتہ مقبرہ موجود ہے۔ آخر کار ہم بھی اسی مقبرہ پر پہنچ تو گئے ہی مگر آگے مقبرے کے دروازے پر ایک بڑا سا تالا ہمارا استقبال کرنے کو موجود تھا۔ سامنے موجود ہوٹل والوں سے معلوم ہوا کہ اس کی چابی تو یہاں کسی کے پاس نہیں البتہ چھ سات مہینے بعد محکمے والے چکر لگاتے ہیں۔ وہاں موجود دو عدد سیکورٹی گارڈز سے اجازت لی کہ جناب اگر اندر جانا چاہیں, انہوں کہا جا سکتے ہیں تو شوق سے تشریف لے جائیں۔ خیر برادر اسد اللہ نے حوصلہ دیا تو دروازہ پھلانگ کر اندر پہنچ ہی گے۔ مقبرے کی کچھ سال قبل حکومت فرانس کی خصوصی دلچسپی کے باعث مرمت کی گئی تھی۔ ارد گرد چار دیواری بھی بنائی گئی ہے۔ مقبرہ زمین سے کافی اونچا ہے۔ نیز اس کا طرز تعمیر بھی کافی دلچسپ ہے۔ اوپر سیڑھیاں چڑھ کر جائیں تو ایک چھوٹی سی مگر خوبصورت گنبد والی عمارت ہے, جس میں دو قبریں ہیں۔ قبروں پر تو کوئی نام نظر نہیں آیا البتہ سامنے والی دیوار پر فرنچ زبان میں ایک تختی لگی ہے۔ جس کا مطلب کچھ اس طرح ہے ” یہ قبر ١۸۲٧ء میں جنرل ایلارڈ صاحب بہادر کے حکم پر ان کی بیٹی میری شارلوٹ کے لیے تعمیر کی گئی, خدا ان پر جنت میں رحمت کرے۔” مقبرے کے باہر پیشانی پر بھی ایک تختی لگی ہے جو کہ کچھ یوں ہے:
“ہو المعز
بحکم شوالیر جنرل الارد
صاحب بہادر مکان مرقد صاحب زادی مری شارلوت بریاد الٰہی جانشیں دربہشت بیرن باددبیا مرزا دوف ١۸۲٧ عیسوی موافق ١۲٤۲ ہجری سمت ١۸۸٤ تعمیر بافت الخیر.”

Advertisements
julia rana solicitors london

مقبرے کے ارد گرد پودے لگائے گئے تھے، جن کی اب کوئی حالت نہیں۔ اس کو تو چھوڑئیے مقبرے میں کچھ گوشت کے شاپر, بال اور عجیب و غریب چزیں بھی دیکھنے کو ملیں۔ حیرت ہے کہ ہم نے فرنچ جنرل کے مقبرے کو بھی نہ بخشا۔ فوراً خیال آیا کہ ابھی تو مقبرے کا دروازہ بند ہے, اگر کھلا ہوتا تو کیا حالت ہوتی۔ ایسے میں تو شاید یہاں درختوں پر دھاگے اور قبر پر دیے جلتے ملتے۔ ایک طرف پرات میں نمک اور چہار جانب اگربتیاں۔ ذرا سوچئے کہ جب کوئی فرانسیسی یہاں آ کر بال و ایسی عجیب چیزیں دیکھتا ہو گا تو ہمارا کیسا خاکہ ان کے آگے بنتا ہوگا۔ خیر مقبرہ ہے تو مختصر, مگر طرز تعمیر مجموعی طور پر متاثر کن ہے۔ مقبرے کے باہر جنرل ایلارڈ کے متعلق معلوماتی تختی بھی موجود ہے۔ البتہ وہاں ارد گرد کے لوگوں سے معلوم ہوا کہ محکمہ والوں کے علاوہ یہاں کبھی کسی کو نہیں دیکھا۔ اکثر لوگ انارکلی میں گھومنے تو آتے ہیں۔ سڑک پر نشاندہی کے لیے ایک تختی لگ جائے تو ممکن ہے کہ لوگ مارے تجسس کے اس مقبرے کا بھی رخ کرلیں۔ فی الوقت یہ مقبرہ سیاح حضرات سے تو چھپا ہوا ہے ہی مگر بہت سے لاہور پر تحقیق کرنے والے بھی اس دلچسپ مقبرے کے متعلق نہیں جانتے۔ یہ مقبرہ جس کسی کے بھی زیر انتظام ہے ان سے گزارش ہے کہ یہاں صفائی کروائیں اور آئندہ گند ڈالنے والوں کے خلاف کاروائی کریں۔ ہماری قوم کو بھی اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔ لوگ مجموعی طور پر اپنے ورثے کی قدر و قیمت و اس کی حفاظت کے متعلق بالکل لاعلم ہیں۔ اس حوالے سے بھی نصاب وغیرہ میں کچھ شامل کیا جانا چاہیے۔ لاہور کے متلعق جاننے کا شوق رکھنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ لاہور سے جُڑے اس فرانسیسی جنرل کے مقبرے کو دیکھنے ضرور جائیں۔ یہ لاہور کی متفرق و دلچسپ عمارات میں سے ایک ہے۔

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply