گمان اور بدگمان۔۔ڈاکٹر اظہر وحید

گمان اور بدگمان۔۔ڈاکٹر اظہر وحید/  اِس ہفتے عجب واقعہ ہوا۔ طبیعت قدرے ناساز تھی، کلینک سے رخصت لینا پڑی۔ صبح ٹیریس میں دھوپ سینک رہا تھا ، دیکھا کہ دروازہ کھلا ہوا ہے، ملازمہ سے پوچھا کہ دروازہ کیوں کھول رکھا ہے؟ اُس نے بتایا ، باہر مالی کام کر رہا ہے۔ جب سے اِس مکان میں آئے ہیں، اِس عجیب نک چڑھے آدمی سے واسطہ پڑا تھا۔ ہماری فریکیوئنسی اِس کے ساتھ اُسی دن خراب ہو گئی تھی جب اِس نے لان کی دیوار کے باہر سبز پہرہ دیتے ہوئے چار عدد خوبصورت سرو کے درخت ٹنڈ منڈ کر کے رکھ دیے تھے۔ اِس کی چھرا طبیعت سے گھبرا کر اِسے پہلے سے وارننگ دے دی گئی تھی کہ اب کسی درخت کی کانٹ چھانٹ کرنا ہو تو پہلے پوچھ لینا۔ اچانک دائیں طرف نگاہ پڑی تو ایک اور عجیب منظر دل میں پھانس لگا رہا تھا۔ شہتوت کا درخت بھی یکسر گنجا ہوا پڑا تھا، خالی تنا اپنی چند ایک تڑی مڑی بے ثمر شاخوں کے ساتھ منہ چڑا رہا تھا۔ درخت کا یہ حال دیکھتے ہی میں نے یکدم اوپر ہی سے دھاڑتے ہوئے ملازمہ کو آواز دیٗ اِسے ذرا میرے سامنے تو لے کر آؤ!! اُف! میں ذرا اُوپر کی منزل پر تھا، اور اِس ذرا سے اُوپر ہونے کے بل بوتے پر میں نے اُس پر چِلّا کر بولنا اپنا حق تصور کر لیا تھا۔ مجھے غریب مالی کی شکل جونہی دکھائی دیٗ میں اُس پر برس پڑا” میں نے تم سے پہلے کہا تھا کہ یہ درخت نہیں کاٹنا، تم نے پھر درخت کاٹ کر رکھ دیا ہے” چند سو روپے کی ماہانہ تنخواہ اِس کے ہاتھ پر رکھنے سے میں گویا اس کی عزتِ نفس کا مالک بن بیٹھا تھا ۔ وہ نیچے سے منمناتے ہوئے صفائی پیش کر رہا تھاٗ صاب ! یہ درخت میں نے نہیں کاٹا۔ میں پھر دھاڑا” پھر کس نے کاٹا ہے؟” مجھے کیا پتہ جی! اپنے دائیں کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا ٗمیرا یہ کندھا درد کر رہا ہے، میں ایک ہفتے سے اس کی پٹی کروا رہا ہوں، میں تو آج کل قینچی نہیں پکڑ سکتا، یہ درخت میں نے نہیں کاٹا۔ میں اُس وقت اپنے مرشد و مربی حضرت واصف علی واصفؒ کی یہ بات بھول چکا تھا کہ ” اپنے ماتحتوں کے ساتھ انسان بنو، آقا نہ بنو”

اب گمان سے نکل کر بدگمانی سے بھری ہوئی میری تیر جیسی نگاہ دفعتاً ساتھ والوں کے لان پر پڑی۔ چند ماہ پہلے انہوں نے بھی کہا تھا کہ یہ درخت ہمیں تنگ کرتا ہے، اسے جھڑوا دیں۔ مجھے درخت کبھی تنگ نہیں کرتے ، اِس حبس زدہ گرد آلود ماحول میں ایک ایک سبز پتہ مجھے غنیمت لگتا ہے، اس لیے میں نے اُن کی بات سُنی اَن سُنی کر دی تھی۔ ساتھ والے ٹیریس پر اُن کے بچے کھیل رہے تھے۔ میرا گمان اب “یقین” کی حد تک پہنچ چکا تھا— ہو، نہ ہوٗ ساتھ والوں نے اپنے مالی کو اپنے ٹیریس پر چڑھا کر راتوں رات یہ کاروائی سر انجام دی ہو۔ اب میں اُن بچوں سے مخاطب تھا، لیکن دَر پردہ وہاں دھوپ تاپتے ہوئے ان کے بڑوں کو سنا رہا تھا۔ بیٹا! یہ درخت آپ نے کٹوایا ہے؟ بچوں کی طرف سے نفی کو جواب سن کر بھی میری تسلی نہیں ہوئی، اب چونکہ گمان اپنے تر دلائل کے ساتھ میرے ذہن میں اپنی جگہ بنا چکا تھا، میں بچوں کی بات سے قطعاً مطمئن نہ ہوا بلکہ ایک فتویٰ سنانے کے انداز میں بھاشن دینے لگا، کسی کے گھر کا درخت بغیر اُس کی اجازت کے تو نہیں کٹوانا چاہیے، وغیرہ وغیرہ ! اسی اثنا ہمدمِ دیرینہ محمد یوسف واصفی صاحب جو اِس گھر کے گراونڈ فلور پر رہائش پذیر ہیںٗ دفتر سے کسی کام گھر آئے تو ہمارا مالی انہیں یہ واردات سنانے لگا۔ یوسف صاحب نے مجھے بتایا کہ یہ اُن کے دفتر کے مالی لیاقت کا کیا دھرا ہے، انہوں نے اُسے درخت کی کانٹ چھانٹ کرنے کا کہا لیکن اُس نے اپنی لیاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اِسے کاٹ کر رکھ دیا۔ ٹیریس سے واپس اُٹھ کر میں ضمیر کا بوجھ اٹھائے ہوئے بوجھل قدموں کے ساتھ کمرے میں واپس آگیا۔ معافی تلافی کے لیے فوراً پانچ سو روپے عبداللہ کے ہاتھ نیجے یہ کہلواتے ہوئے مالی کو بھجوائے کہ یہ آپ کی پٹی کے پیسے ہیں۔ اس گمان نے اچانک بیٹھے بٹھائے کئی دشمن پیدا کر دیئے، اور یہ دشمن بھی میرے گمان کی طرح خود ساختہ تھے۔ اب رہ رہ کر خیال آ رہا تھا کہ اس غریب آدمی کو خوامخواہ کیوں ڈانٹ پلائی۔ اگر اِس کی غلطی ہوتی تو بھی مجھے ایسے ڈانٹنا نہیں چاہیے تھا۔ ہماری ٹریننگ تو معافی مانگنے اور معافی دینے کے باب میں ہوئی ہے، یہ اچانک بدگمانی مجھے بدحواسی تک کیوں لے آئی؟ اب یہ طے ہے کہ یہ مالی جتنا عرصہ بھی میرے پاس رہے گا ٗ اس پر سات خون کی طرح سات درخت بھی معاف ہیں۔

ہائے! حق تعالی کا یہ خوبصورت فرمان ٗبصورت ِخیال خانۂ دل میں پہلے کیوں نہ وارد ہوا کہ ” بے شک گمان حق کے مقابلے میں ذرا بھی کام نہیں آتا” ۔ زندگی تو حق ہے، حق کی عطا کردہ ہے، حق کا پیدا کردہ منظر ہے، زندگی کا منظر برحق ہے، انسان قابلِ اعتبار ہوتے ہیں، قابلِ محبت ہوتے ہیں، ہمارے قریب ہوتے ہیں ، ہمارے قریب ہونا چاہتے ہیںِ، ہم اپنے گمان کا لٹھ کچھ اس طرح گھماتے ہیں کہ اس کی زد میں آکر یہ زخمی ہو جاتے ہیں، ہم سے دُور ہو جاتے ہیں، دُور رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بدگمانی کی مردار خور چیل اپنے نوکیلوں پنجوں سے زندگی کا خوبصورت آنچل نوچ کر لے جاتی ہے۔ ہمارا کوئی غریب رشتہ دار ہمیں ملنے آ جائے تو ہم گمان قائم کر لیتے ہیں کہ یہ ہماری حیثیت کا فایدہ اُٹھانے کے لیے راہ و رسم بڑھا رہا، کوئی اَمیر گھر میں دَر آئے تو ہم گمان کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اپنی دولت سے مرعوب کرنے کے لیے آیا ہے۔ ہمارے ذہن میں ہمارے اپنے ہی گمانوں کی گھمسان لڑائی کے شور سے گھبرا کر ہمارے متعلقین ہم سے مناسب فاصلے پر رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

گمان ایک بے بنیاد منطق پر اُٹھائی ہوئی خود ساختہ دلیل ہوتی ہے۔ پہلے ہم کسی کے متعلق گمان قائم کرتے ہیں، اور پھر اُس گمان کو قائم رکھنے کے لیے دلائل و شواہد کا ایک انبار لگا کر گویا ایک تحقیقی مقالہ تیار کر دیتے ہیں۔ اگر گمان سے نکل جائیں تو ہمارا یہ سارا “تحقیقی مقالہ” یک لخت دو لخت ہو جائے ۔ گمان ایک عجب ذہنی ہتھیار ہے، اسے چلانے والا سب سے پہلے خود زخمی ہوتا ہے۔ گمان کرنے والے والا اپنا احساس اور دوسرے کا دل زخمی کرتا ہے۔ بدگمانی کے خار زار میں داخل ہوتے ہی وہ اپنے معاون کو مخالف بنا لیتا ہے۔ انسان کے متعلق ایک ہی گمان روا ہے —اور وہ خوش گمان ہونا ہے۔ انسان کے متعلق گمان نہیں بلکہ مان قائم کرنا چاہیے۔ ہم جیسا سوچتے ہیں، ویسا منظر ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ خوش گمانی امن پر، اور بدگمانی جھگڑے پر منتج ہوتی ہے۔ دل کی زمین پر خوش گمانی محبت اور بدگمانی نفرت کا بیج ڈالتی ہے۔ گھروں میں دراڑیں ڈالنے والی خون آشام ڈائین کا نام بدگمانی ہی ہے۔ ایک بار میاں بیوی باہم بدگمان ہو جائیں تو باقی کام قوتِ متخیلہ تمام کر دیتی ہے۔

خوش گمانی خوشبو ہوتی ہے، بدگمانی بدبو!! انسانی دل معصوم پرندوں کی طرح ہوتے ہیں، جہاں سے انہیں محبت اور توجہ کا دانہ دنکا ملتا ہےٗ یہ اُسی منڈیر پر آ کر بیٹھتے ہیں۔ زندگی فائدے اور نقصان، جمع اور تفریق ، اصول اور بے اصولی کے پیمانوں سے ماورا ایک منظر ہے۔ زندگی ایک خوب صورت منظر ہے۔ زندہ لوگ بہت خوب صورت ہوتے ہیں، چھوٹی موٹی غلطیٗ غلط فہمی قطعاً اِس قابل نہیں ہوتی کہ اس کی سزا میں انسان خود کو دوسرے انسانوں سے دُور کر لےٗ زندگی سے دُور کر لے۔ یہاں کوئی شخص جان بوجھ کر غلطی نہیں کرتا، ہر شخص اپنی فہم کے مطابق درست کام ہی کرتا ہے، کسی کا دل نہیں چاہتا کہ وہ غلطی کرے اور پھر اس غلطی کی سزا بھگتے۔ کوئی شخص ناکام ہونے کے لیے کام نہیں کرتا۔

Advertisements
julia rana solicitors london

انسانوں کے متعلق خوش گمانی انہیں دوست بناتی ہے، بدگمانی دشمن پیدا کرتی ہے۔ ہم نے زندگی میں دوست بنانے ہیں یا دشمن؟ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔ انسان کے خالق نے اپنے کلام میں فرما دیا ہے “اے ایمان والو! ایک دوسرے کے بارے میں بہت زیادہ گمان نہ کیا کرو، بے شک بہت سے گمان گناہ ہوتے ہیں” مدینۃ العلم پیغمبرِ اخلاقﷺ نے فرمایا “بدگمانی سے بچتے رہو، بدگمانی اکثر تحقیق کے بعد جھوٹی بات ثابت ہوتی ہے، کسی کے عیوب ڈھونڈنے کے پیچھے نہ پڑو، کسی کا عیب خواہ مخواہ مت ٹٹولو ، کسی کے بھاؤ پر بھاؤ ( یعنی مقابلے میں قیمت ) نہ بڑھاؤ، حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، کسی کی پیٹھ پیچھے برائی نہ کرو ۔ اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن کر رہو”

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply