موبائل فون جب سے اس دنیاء بے دین و ایماں میں جلوہ افروز ہوا ہے،اس نے شریفوں سمیت بدمعاشوں کی بھی نیندیں حرام کرکے رکھ دی ہیں۔اگر آپ غلطی سے فون میں فیس بک میسنجر یا وٹس ایپ ڈاؤن لوڈ← مزید پڑھیے
بہت سال پیچھے کی یاد ہے،ابا نے گھر پر اخبار،میگزین،ڈائجسٹ،لگوا رکھے تھے،بچوں کے رسالے بھی تھے دو،(نام ابھی یاد نہیں آرہا)۔۔ہمہ وقت گھر میں کوئی نہ کوئی ہاتھ میں میگزین یا رسالہ پکڑے نظر آتا،یہاں تک کہ کوئی مہمان بھی← مزید پڑھیے
2009کی بات ہے،جب یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔۔ ویسے تو سیدھی سڑک ڈیپارٹمنٹ تک جاتی تھی،لیکن گرمیوں میں زیادہ تر طالبعلم اس سیدھی سڑک کی بجائے بائیں جانب بنے قائداعظم بلاک کے کوریڈور کو آنے جانے کے لیئے استعمال کرتے تھے،تاکہ← مزید پڑھیے
سوشل میڈیا ڈے(30جون) تیونس میں آنے والا چنبیلی انقلاب تو آپ کو یاد ہی ہوگا۔۔جب صحافتی آزادیوں اور حقوق سے محروم قوم ایک ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے چند دنوں میں انقلاب برپا کردیا۔اس انقلاب کی بہت← مزید پڑھیے
وارث شاہ سخن دا وارث نندے کون انہاں نوں۔۔۔ میاں محمد بخش صاحب کی اس بات میں ذرا بھی شک نہیں کہ بے شک ہیر رانجھے کا قصہ اور بھی کئی لکھاریوں نے لکھا ہے لیکن جب بھی ہیر کا← مزید پڑھیے
نرملا نے جب مندر میں قدم رکھا تو پھر اسے خود پر قابو پانا مشکل ہو گیا۔۔۔ اس کی برسوں پرانی محبت چند ہی لمحوں میں اسے دو کوڑی کا کرکے چھوڑ گئی تھی۔۔۔وہ تڑپتی سسکتی مندر میں داخل ہوئی،اس← مزید پڑھیے
اللہ تعالی ٰنے بہت سی چیزوں کودوسری چیزوں پر فضیلت دی ہے،بعض دنوں کو دوسرے دنوں پر فضیلت حاصل ہے،اور بعض راتوں کو راتوں پر،اسی طرح جمعہ کو سرداری و شرف حاصل ہے۔جمعہ باقی دنوں میں سید الایام ہے،اس کی← مزید پڑھیے
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی کی صورت ایک نایاب تحفہ عطا کیا ہے،جسے کھونے کے بعد دوبارہ پانے کا کوئی سوال نہیں ،اب یہ انسان پر ہے کہ وہ اپنی زندگی کس مقصد کے تحت گزارتا ہےایک ایسا مقصد← مزید پڑھیے
چند روز قبل خبر سننے میں آئی تھی کہ جس وقت وزیر داخلہ ٹی وی پر سوشل میڈیا کی حدود و قیود کا تعین فرمانے میں مصروف تھے عین اسی وقت ایک نائب قاصد محمد اقبال، سیکرٹریٹ آفس میں ،← مزید پڑھیے
یہ تقریباً دو سال پہلے کی بات ہے۔۔۔۔میری اُس کی ملاقات لوکل ویگن میں ہوئی تھی۔ میں عموماً لوکل ٹرانسپورٹ میں سفر نہیں کرتی، لیکن اس روز شہر گئی تو واپسی پر رکشے کے انتظار میں کھڑے کافی وقت گزر← مزید پڑھیے
آپ کے ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نرس نے فقرہ ادھورا چھوڑا،اور چہر ے پر عجیب و غریب سے تاثرات لیے زچہ بچہ سنٹر کے چھوٹے سے گھٹن زدہ کمرے سے باہر چلی گئی۔۔۔۔۔ رفعت کی آنکھوں سے بہتا سیال مزید گاڑھا ہو گیا۔۔۔۔۔باہر← مزید پڑھیے
سنا ہے مرض حد سے بڑھ جائے تو علاج اثر نہیں کرتا۔۔۔۔۔ وحشت کوٹھکانہ نہ ملے توپھر وہ ہما تُما میں سرائیت کر جاتی ہے۔۔۔ہر روز کوئی تازہ اذیت چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔اپنے دیمک زدہ ناخنوں سے روح پر آئے زخموں کے← مزید پڑھیے
کہتے ہیں دکھ کی رات نیند نہیں آتی اور خوشی کی رات سونے نہیں دیتی۔۔۔۔تکلیف میں ہوتے ہوئے مسکرانا ایسا ہی ہے جیسے آپ ننگے پاؤں کانٹوں پر چل رہے ہوں۔ایک تحقیق کے مطابق” بعض اوقات خوش نظر آنے کا← مزید پڑھیے
نواں آیاں ایں سوہنیا؟،۔۔۔ “فاصلہ رکھیے ورنہ محبت ہو جائے گی”،” شرارتی لوگوں کے لیئے سزا کا خاص انتظام ہے”،”ساڈے پچھے آویں ذرا سوچ کے”،”دیکھ مگر پیار سے”،”پیار کرنا صحت کے لیئے مضر ہے”،” صدقے جاؤں پر کام نہ آؤں”،”← مزید پڑھیے
ابنِ آدم۔۔پیدائش سے ہی سرگرداں و پریشان۔۔جنت سے اذنِ سفر پانے کے بعد یہاں اس دنیا میں پہنچا۔۔سمندر در سمندر۔۔۔۔پیاس پھر نہ بجھی۔۔راہ پھر نہ سجھائی دی، بے سروسامانی کی کیفیت،خوابوں کے پورا ہونے کا انتظار۔۔۔خواہشوں کی پرچھائیاں،بے چینی،بے قراری،تھکا← مزید پڑھیے
موت کا دکھ اس عورت سے بڑھ کر بھلا اور کون سمجھ سکتا ہے جس نے ماں کی حیثیت سے بچے کو نو ماہ اپنی کوکھ میں رکھا ہو۔۔اسے اپنی سانس دی ہو،رگوں سے خون سینچتا بچہ اس کی زندگی← مزید پڑھیے
سنا ہے قتل ہونے والے دفن بھی ہو جائیں تو ان کے لفظ سانس لیتے ہیں۔۔ آس پاس حاضر مردہ صفت ذہنوں کی بقا کی تگ و دو میں مصروف رہتے ہیں۔۔ اور اُن کی آہیں شہر كی فضاؤں میں← مزید پڑھیے
بحیثیتِ ایک سمجھدار اور سلجھی ہوئی قوم کی فرد ہونے کے کچھ کہنے اور لکھنے کی ضرورت تو نہیں ہے کیوں کہ قتل ہونے والا کونسا میرا باپ تھا، بھائی بھی نہیں تھااور بیٹا تو ہو ہی نہیں سکتا۔میں پکی← مزید پڑھیے
اکثر دیکھا گیا ہے کہ لکھنے والے کم بولتے ہیں کیوں کہ وہ سوچنے میں مصروف رہتے ہیں اور بولنے والوں کا دھیان لکھے ہوئے کی طرف کم ہی جاتا ہے،انہیں بس ہانکنے کی فکر ہوتی ہے،شاید اس ڈر کے← مزید پڑھیے