عشق آتش(نذرانہ عقیدت بحضور آنجناب ﷺ)

ابنِ آدم۔۔پیدائش سے ہی سرگرداں و پریشان۔۔جنت سے اذنِ سفر پانے کے بعد یہاں اس دنیا میں پہنچا۔۔سمندر در سمندر۔۔۔۔پیاس پھر نہ بجھی۔۔راہ پھر نہ سجھائی دی، بے سروسامانی کی کیفیت،خوابوں کے پورا ہونے کا انتظار۔۔۔خواہشوں کی پرچھائیاں،بے چینی،بے قراری،تھکا ٹوٹا وجود، اپنی کرچیاں اپنے ہی ہاتھوں میں اٹھائے۔۔جب خالقِ حقیقی کی جانب پلٹا تو مسیحا نے گرنے سے پہلے ہی تھام لیا،فضائیں معطر ہوگئیں،سورج مدھم پڑا،انگلیوں کی پوروں تک سے درد کااحساس مٹ گیا۔۔۔تشنگی باقی نہ رہی،نظر اٹھ نہ سکی کہ تابِ نظارہ ہی نہ تھا،آنسو تھے او رشرمندگی کا گہرا احسا س۔۔۔لیکن کالی کملی سے پھوٹتی نور کی کرنیں او رچہار اطراف گونجتی آواز۔۔۔۔
صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔۔صلی اللہ علیہ وسلم!
اللہ والوں کو کہتے سنا ہے کہ درور شریف ایسی عبادت ہے جو ریاکاری سے بھی کی جائے تب بھی بار گاہِ الٰہیہ میں قبول و منظور ہے۔۔اور قربان جائیے اس پاک ذات کے جو اپنے محبوب ﷺ کے عشق میں او ران کے وسیلے سے مانگنے والوکو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتی۔۔۔۔اس سخی لجپال کی بھی ہر ادا ہی نرالی ہے۔ان کا نامﷺ تب بھی تھا جب کچھ بھی نہ تھا۔آپ ﷺ سے تعلق دنیا و آخرت کی کامیابی کی کنجی ہے۔۔جس طرح دنیا میں کسی کام کے سلسلے میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز شخص کا حوالہ ساتھ ہو تو کام ہونے میں لمحہ بھر کی بھی تاخیر نہیں ہوتی،تو پھر کیسے ممکن ہے کہ میں اپنی حاجت روائی کے لیے ہاتھ اٹھاؤں اور اس ربِ کائنات کی محبوب ترین ہستی،وجہء تخلیق ِ ارض وسماء،سید البشر،سید الاولین ولآخرین،ہادی ء برحق،فخر ِ جودو سخا،قاسم العلوم والبرکات،محسنِ کائنات،رشکِ موجودات رحمت اللعالمین نبی ء کریم ﷺ کا نام مبار ک لوں،ان کا حوالہ دوں اورمیری دعا رد کردی جائے؟؟؟ ناممکن۔۔۔۔۔۔
کتابوں میں درج ہے کہ فرشتوں کی ایک جماعت ایسی ہے جو ہر روز روضہ رسول ﷺ پر حاضری دینے آتی ہے اور اُس جماعت کاجو فرشتہ ایک بار حاضری دے چکا،اس کی باری قیامت تک دوبارہ نہیں آئے گی یعنی ہر روز ایک نئی جماعت۔۔۔اب ذرا دھیان دیجئے اپنے اشرف المخلوقات ہونے پرکہ ہم یہاں اپنے گھر میں بیٹھ کر دود شریف پڑھتے ہیں اور یہی فرشتے اسے اللہ کے حکم سے دربارِ رسالت ﷺ میں پیش کر دیتے ہیں۔۔۔۔،انسان کو اربوں کھربوں نعمتوں سے نوازا گیا،جن میں سب سے بڑی نعمت و رحمت درود پاک کا پڑھنا ہے،یعنی ہمیں زبان ہی اس رحمت اللعالمین کی تعریف و توصیف کے لیے دی گئی(اگرچہ وہ اس کے محتاج نہیں)۔۔۔رشک کریں وہ لوگ خود پر جنہیں متعدد بار دربارِ رسالت پر حاضری کی سعادت حاصل ہو چکی اور ہر صاحبِ استطاعت انسان جو اللہ کریم کے حکم سے جب چاہے عشقِ نبی سے مخمور ہو کر دوڑتے ہوئے مدینہ جا پہنچتا ہے۔۔ بار گاہِ الٰہیہ میں اس کی اہمیت و قد کا اندازہ کون کر سکتا ہے بھلا۔۔۔
یہ تڑپ ہی بڑی چیز ہے کہ ان کے در پر حاضری کی تمنا ہی مجھے عطا کردی گئی۔۔۔بس ایک بار۔۔کاش ایک بار بلاوا آجائے۔۔پھر چاہے سانس نہ آئے۔۔۔یا اللہ تیرے کعبہ کی قسم! جی چاہتا ہے ابابیل بن کرمصروف طواف رہوں یا کسی حاجی کی ٹھوکر سے چھونے والا پتھر۔۔۔۔ جو مکہ کی سرزمین پر سجدے میں پڑا رہے اور روح مدینہ کی جانب پرواز کر جائے اور عشقِ نبی میں میری پلکیں جل اٹھیں۔۔میں ہجر کے مزے سے لطف اندوز ہوں اور گنبدِ خضرا کا کبوتر میری تڑپ کا گواہ ٹھہرے۔۔مولا میں پروانہ ہی ہوں جو تیرے محبوب کے در پر پہنچوں۔۔نوری کرنوں کی تاب نہ لاتے ہوئے جھلسے بال و پر کے ہمراہ عقیدت مندوں کے قدموں کی خاک بن جاؤں۔۔۔مٹی کا ایک ذرہ۔۔۔کہ جو اڑتا ہوا کسی کے کپڑوں پر پڑے اور وہ حاضری دے تو میری بھی دلی مراد بر آئے۔۔ کاش۔۔ہوا ہی ہوں۔۔۔ جو روضہ کی جالیوں کو چھو لے اور وہیں تھم جائے۔۔بارش کا ایک قطرہ ہوں۔۔جو اس سر زمیں سے گلے ملتے ہی فنا ہوجائے،بقا ء پا لے۔۔۔۔ کاش!!۔۔۔۔۔۔۔میں گناہوں میں لتھڑی،دنیاوی نفسا نفسی کی ماری،لیکن یہ فخر کہ جس کی امتی ہوں وہ سراپاء رحمت ہیں۔۔۔۔ وہ جنہیں تمام جہانو ں کے لیے رحمت بناکر بھیجا گیا۔۔ اس محبوب ہستی پر تمام جہانوں کا شہنشاہ اور اس کے فرشتے بھی درود و سلام بھیجتے ہیں تو پختہ یقین رکھیے کہ بحیثیت اُمتی یہ درود و سلام پڑھنے ولے کے لیے بخشش و مغفرت کا ذریعہ بن جائے گا،۔۔ لاکھوں کروڑوں درود و سلام ان پر کہ جو رحمت و عافیت کا ذریعہ، وسیلہ خیرو برکت ہیں۔۔۔اللہ پاک روزِ قیامت ہمیں ان کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائیں۔۔۔آمین ثم آمین!!!

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *