مجنوں کی التجاء

سنا ہے مرض حد سے بڑھ جائے تو علاج اثر نہیں کرتا۔۔۔۔۔ وحشت کوٹھکانہ نہ ملے توپھر وہ ہما تُما میں سرائیت کر جاتی ہے۔۔۔ہر روز کوئی تازہ اذیت چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔اپنے دیمک زدہ ناخنوں سے روح پر آئے زخموں کے کُھرنڈ اتارنا بھی اس کا مشغلہ ٹھہرا۔ایسی اذیت کہ شب و روز کی ہر ساعت بلبلا اٹھے۔۔یہ یوحشت درو دیوارسے یوں ٹپکٹی ہے کہ روشنی کا کوئی سراغ نہ ملے۔سوچوں کی ایسی بربریت کہ شعور سہم کر رہ جائے،سڑکوں پر مقتلوں کی تعمیر کے لیئے چندہ دینے والے کلمہ گو عشقِ نبی ﷺسے لبریز۔۔۔۔لیکن پیمانہ جام کی بجائے خون چھلکائے۔کربل کی یاد تازہ کرتا جنون۔۔۔۔کہ دوسرے کومجنوں پکارنے والے جانے کن ہیجانی کیفیات کا شکار تھے۔۔۔۔۔
وہ باپ سے ہاتھ چھڑا کر دوڑنے والاایک ذہنی مفلوج کی آنکھ میں ایسا کھٹکا کہ پھر بندوق تانے بِنا کوئی چارہ نہ رہا۔۔۔۔ہڈیو ں کے پنجر میں پیوست ہونے والی گولی کی شاید وہ اذیت نہ ہوگی جو اس کی آنکھوں سے فلک شگاف چیخوں کی مانند بلند ہوتے سوالوں کی گونج تھی۔۔۔۔آسمان کا سینہ پھٹ تو گیا ہوگا۔۔دیوانگی کے دھوئیں میں نظر آتی باپ کی دھندلی سی شبہیہ آنکھوں میں جم گئی ہوگی۔ جانے کونسی رگ کا لہو تھا جو اُگل دیا گیا۔نرم شاخ سے بیدردی سے نوچے جانے والے پتے نے ہوا کا رزق بننے سے پہلے نمناک فضاؤں کے ہاتھ یہ پیغام چھوڑا کہ۔۔۔
سنو! کبھی ہرے نہ ہونا کہ اب اس گلشن میں ہرے ہونے والوں کا انجام صرف” خون آشام لالی” ہے۔۔۔۔۔

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *