کلیجہ دفنانے کا دکھ

موت کا دکھ اس عورت سے بڑھ کر بھلا اور کون سمجھ سکتا ہے جس نے ماں کی حیثیت سے بچے کو نو ماہ اپنی کوکھ میں رکھا ہو۔۔اسے اپنی سانس دی ہو،رگوں سے خون سینچتا بچہ اس کی زندگی کی شرط بن جاتاہے۔۔اور یہی بچہ دنیا میں آکر اس کی خوشی کا مرکز۔۔کسی چڑیا کی مانند اپنے بوٹ کو پروں میں چھپا کر رکھنے ولی ماں،بچے کو گرم سرد ہوا بھی نہیں لگنے دیتی۔۔لیکن کیا ہو اس لمحے۔۔ جب یہ ہی بُوٹ کسی ظالم شکاری پرندے کے ہاتھ لگ جائے۔۔۔جو اسے اپنے نوکیلے پنجوں میں پکڑ کر اس کے ایک ایک پَر کو توڑ مروڑ دے، جسم کا ریشہ ریشہ الگ کر دے،اپنے خونخوار جھنڈ کے ہمراہ روح کو تار تار کردے اور پھر بھی اس کے غصے کی آگ ٹھنڈی نہ ہو تو اس بچے کو اسی حالت میں اس کی ماں کے سامنے لے جا کر پھینک دے ۔۔۔۔سوچیے تو کیا حالت ہوگی اس ماں کی۔۔۔جو اپنے لختِ جگر کے ایک ایک بال و پر کو اپنے کانپتے،لرزتے اور کبھی بے جان ہوتے ہاتھوں سے”اکٹھا” کر ے گی۔۔اور وہ ظالموں کو کچھ کہہ نہ پائے گی۔۔۔ لیکن بس ایک آہ۔۔۔۔جو لبوں پر نہ ہوگی، مگر آسمان کی جانب اٹھی نگاہ میں چھپی فریاد۔۔جو فرشتوں کے دلوں کو بھی بے سکون کر جائے گی۔۔اور وہ ذات جو اپنے بندے کو ستر ماؤں سے بھی بڑھ کر محبت کرتا ہے وہ کیسا محسوس کر تا ہوگا اس وقت۔۔۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ “قادر” نہیں ہے تمھیں سزا دینے پر؟۔۔۔
ظالمو سنو!۔۔۔حساب ہوگا،اور جان رکھو کہ وہ رب بھولنے والا نہیں اور نہ تمھیں بھولنے دے گا۔۔۔ جو ظلم تم نے کمایا،تم دنیا میں ہی اس کا” بدلہ” پا لو گے۔۔۔ڈرو اس وقت سے کہ جب تمھاری مائیں تمھارے “چیٹھڑے “اٹھا کر ایک پوٹلی میں جمع کریں گی اور سمجھ نہ پائیں گی کہ ان کے ہاتھ میں موجود ہڈی ہاتھ کی ہے یا پاؤں کی۔۔۔۔جب انہیں تمھاری پیشانی نہ ملے گی کہ چوم کر” سفرِ آخرت “پر روانہ کر سکیں۔۔۔ اور کسی لوتھڑے کو اٹھا کر چومیں گی تو لب لہو سے تر ہوجائیں گے۔۔۔ڈرو اس وقت سے کہ تمھیں دفنانے کے لیئے پوری قبر نہیں بلکہ ایک چھوٹا ساگڑھا کھودا جائے گا، آپس میں گڈ مُد ہوئیں ہڈیاں اور گوشت ایک چھوٹے سے کپڑے میں لپیٹ کر اوپر مٹی ڈال دی جائے گی کہ” فرض “پور ا ہو۔۔۔سو چو تو کیا گزرے گی تمھاری ما ؤں پر۔۔۔”سوچو” اور اندازہ کرو مشعال کی “ماں کی اذیت کا”۔۔۔۔۔!!!
میں دیکھوں کس طرح سے کرتے نہیں ہو ماتم
کڑیل جوان کالاشہ ہو سامنے تمھارے۔۔!

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *