جالب کی شاعری میں رومانوی رنگ

اللہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی کی صورت ایک نایاب تحفہ عطا کیا ہے،جسے کھونے کے بعد دوبارہ پانے کا کوئی سوال نہیں ،اب یہ انسان پر ہے کہ وہ اپنی زندگی کس مقصد کے تحت گزارتا ہےایک ایسا مقصد ایسا کارنامہ کہ آپ اَمر ہو جائیں ،یا پھر گمنامیوں کی بستی میں ہی کہیں دفن ہوجائیں،ہر انسان کو مختلف صلاحیتوں سے نوازا گیا ہے۔او رجو اپنے ہنر میں طاق ہو گیا ،اسے دنیا نے یاد رکھا ۔عدم سدھارنے والے لوٹ کر تو نہیں آسکتے لیکن ان کا فن انہیں زندہ رکھتا ہے،ناصر کاظمی نےتو کہا تھا ۔۔۔۔
دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے،کوئی ہم سا ہوگا!
لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے۔کوئی کسی کی خالی جگہ کو پُر نہیں کر سکتا،بس سنہری حروف میں جگمگاتا نام اور ایک پہچان باقی رہ جاتی ہے۔۔۔انہی جگمگ کرتے حروف سے لکھا ایک نام ہے”حبیب جالب” ۔۔۔شاعری کی دنیا میں مزاحمتی اور انقلابی شاعر کے حوالے سے اپنی پہچان بنانے والے،حبیب جالب 24 مارچ 1928 کو میامی افغانی ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے،ان کے الفاظ میں بلا کی تیزی اور کاٹ تھی،کہ بڑے بڑوں کو اپنے تخت و تاج کے لالے پڑ گئے۔ حاکم ِ وقت کے ظلم و جبر ،عوام کے حقوق کی پامالی،غریب کا استحصال ،لیڈروں کی چالبازیاں ان کی شاعری کے موضوع تھے،اسی لیئے تو کئی بار اپنی زندگی میں جیل کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں،کہ کلمہ حق بلند کرنےوالا ہمیشہ اسی سلوک کا حقدار ٹھہرتا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ایک شاعر ہمیشہ صرف ایک ہی موضوع پر قلم نہیں اٹھاتا بلکہ اس کی قلم کی گرفت میں ہر وہ چیز ،ہر وہ بات آتی ہے جو اس کے دل کوچھو جائے اور کبھی کرب سے دوچار کر جائے،جالب کی شاعری میں حکومتی نا اہلی، ناانصافی،او رغمِ جاناں ،رومان، دل بوجھل کر دینے والے جدائی کے لمحات ،ملن کی آس ،پھولوں کی باس ،انتظار کی پیاس ،خا موش ملاقات کا عذاب بھی مختلف مواقع پر اپنا عکس دکھلاتا ہے،درد ان کے الفاظ سے نکل کر دل کی اتھاہ گہرائیوں میں اترتا چلا جاتا ہے۔
دل کا درد لبوں پہ لاکر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں ،
ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں
ایک ہمیں آوار ہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
دنیا والے دل والو ں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں !
حبیب جالب اپنی شاعری میں تشبیہ اور استعاروں کا بے دریغ استعمال نہیں کرتے لیکن ان کی فسوں خیز شاعری ماحول کو چار کی بجائے آٹھ آٹھ چاند لگا دیتی ہے ۔رومانوی شاعری طلسمی دنیا کے در واء کرتی ہے ،محبوب کی زلفوں کا ذکر ایسے دلنشیں انداز میں کرتے ہیں کہ آنکھوں کے سامنے آبشاریں بہنے لگتیں ہیں ،
کچھ نگاہو ں میں انتشار سا ہے
ان کی زلفیں بکھر گئیں ہوں گی!
اور پھر انہی زلفوں کی ناز برداریوں سے تھک کر لکھتے ہیں ۔۔۔
کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غمِ جاناں
کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے!
حبیب جالب نے دل پر صدیوں سے مسلط اداسی اور کرب کے احساس کو مالا میں پرو کر مہکتی کلیاں بنا دیا ہے کہ جن کے سوکھ جانے پر بھی خوشبو باغ کا پتا
دیتی ہے۔آپ بھی اس خوشبو کو محسوس کیجئے۔۔۔
بے نور ہو چکی ہے بہت شہر کی فضا
تاریک راستو ںمیں کہیں کھو نہ جائیں ہم
اُ س کے بغیر آج بہت جی اداس ہے
جالب چلو کہیں سے اسے ڈھونڈ لائیں ہم!
حبیب جالب کو اپنی مزاحمتی شاعری کی پاداش میں جب کوٹ لکھپت جیل میں رہنا پڑا تو ایک بار ان کی بیگم ان سے ملاقات کے لیئے وہاں گئیں ،اس وقت انہوں نے اَن کہے الفاظ کو یوں گویائی بخشی۔۔۔۔
جو ہو نہ سکی بات وہ چہروں سے عیاں تھی
حالات کا ماتم تھا،ملاقات کہاں تھی
اس نےنہ ٹھہرنے دیا پہروں میرے دل کو
جو تیری نگاہوں میں شکایت میری جاں تھی!
جیون میں کچھ پانا اور پا کر کھو دینا ،اور ان لوگوں کا ذکر کہ جن کے بِنا سب کچھ ادھورا محسوس ہو،آنے والے لمحوں میں خوشی کی کرن تلاش کرتی نگاہیں اور بیچ بھنور میں کسی کے چھوڑ جانے کا دکھ۔۔۔۔
ایک لگن کی بات ہے جیون ،ایک لگن ہی جیون ہے
پوچھ نہ کیا کھویا ،کیا پایا، کیا جیتے،کیا ہار گئے
آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کو
یہ برکھا برساتے دن تم بِن پریتم بے کار گئے
ہم سے پوچھو ساحل والوں کیا بیتی دکھیاروں پر
کھیون ہارے بیچ بھنور میں چھوڑ کے جب اس پار گئے!
وہ اس بات سے پریشان محسوس ہوتے ہیں کہ شاید ان کا درد ابھی تک کوئی سمجھ نہیں پایا ہے۔
شاید بقیدِ زیست یہ ساعت نہ آسکے
تم داستاں شوق سنو،اور سنائیں ہم!
ان کی شاعری میں سوچ کی گہرائی اور مقصدِ حیات واضح طور پر نظر آتا ہے ۔12 مارچ 1993 کو لوگوں کے ذہنوں اور دلوں میں حیاتِ جاوداں پاء جانے والے “حبیب جالب “کہ جن کے بنا شاعری کی تاریخ ادھوری رہے گی ،ان راہوں سے گزرنے والے جالب کے قدموں کے نشاں سدا یونہی تروتازہ پائیں گے۔۔۔۔
نور بکھرا ہے راہگزاروں میں
وہ ادھر سے گزر گئے ہوں گے
میکدے میں،کہ بزمِ جاناں تک
اور جالب کدھر گئے ہوں گے!

  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors

اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply