اجل کا وار اور انسانی فہم

SHOPPING

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(کُلُّ نَفسٍ ذَآءِقَۃُ المَوتِ وَاِنَّمَا تُوَفَّونَ اُجُورَکُم یَومَ القِیٰمَۃِ فَمَن زُحزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدخِلَ الجَنَّۃَ فَقَد فَازَ وَما الحَیٰوۃُ الدُّنیَآ اِلاَّ مَتَاعُ الغُرُورِ) (آل عمران: 185)
”ہر جان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور تم لوگ قیامت کے دن اپنے کئے کا پورا پورا اجر پاؤ گے۔ پس جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں پہنچا دیا گیا وہی کامیاب ہوا اور دنیا کی چند روزہ زندگی تو دھوکے کا سامان ہے۔“

موت ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے دنیا کا کوئی ذی روح انکار نہیں کر سکتا،اس کے آنے میں کوئی سوال نہیں،دورائے نہیں،شک نہیں لیکن اب حالات دیکھ کر ایک بات ضرور ذہن میں آتی ہے کہ جانے مرنے والے کو کفن نصیب ہو یا نہیں،دنیا مشرکین سے بھری پڑی ہے،آپ کو بڑی تعدادمیں منکرین خدا ملیں گے،لیکن کیا کوئی منکرِ موت بھی دیکھا ہے کبھی؟۔۔۔۔۔جن لوگو ں کا یہ خیال ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیارکرکے موت کو ٹالا جا سکتا ہے،معلوم نہیں وہ کونسی جنت کے باسی ہیں۔۔۔ سیانے کہتے ہیں موت کوا گر حکمت سے ٹالا جا سکتا تو حکیم لقمان کو کبھی موت نہ آتی،دولت سے ٹالا جاسکتا تو قارون آج بھی موجود ہوتا،حکومت سے ٹالا جا سکتا تو فرعون آج بھی ہم پر مسلط ہوتا، حسن و جمال موت کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تو یوسف علیہ السلام کبھی لحد میں نہ اترتے۔۔

یہ حقائق ثابت کرتے ہیں کہ دنیا محض ایک سرائے ہے،ہر آنے والا بالآخر واپس جائے گا،ہاں سب کے جانے کا بہانہ الگ ہوگا۔کہاوت مشہور ہے “حیلے رزق،بہانے موت”۔۔۔ کوئی طبعی موت مرے گا تو کوئی دل کا دورہ پڑنے سے،کوئی شہید ہوگا،کوئی کسی حادثے کا شکار، کوئی سجدے میں جان جانِ آفریں کے سپرد کر چلے گا،تو کوئی اندھی گولی کا شکار ہوگا۔۔اور پیچھے رہ جانے والے اس خیال میں ڈوبے رہتے ہیں کہ جانے ہمارے پیارے کو کلمہ پڑھنے کی مہلت بھی ملی تھی یا نہیں۔۔۔ جو لوگ شرقیہ پور میں آئل ٹینکر میں لگنے والی آگ کا شکار ہوئے،ان کی روحوں کو لالچی،تربیت کا فقدان، کنجوس اور جانے کیا کیا طعنے سننے کو مل رہے ہیں،لیکن یہ موت ان کی پسند نہ تھی،یہ اجل کا وار تھا جو ربِ کائنات کی جانب سے ایسے ہی لکھا گیا تھا،جب لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اگر وہ لوگ ٹینک کے پاس جا کر تیل جمع نہ کرتے،اور سگریٹ سلگانے والا احتیاط کرتا تو یہ سب نہ ہوتا۔۔۔تو یہ بات جان لیں کہ یہ سب ایسے ہی ہونا تھا،کیوں کہ اللہ کریم کی طرف سے ان سب کی موت ایسے ہی لکھی جا چکی تھی۔

“اور بغیر اس کے علم کے نہ کوئی عورت حاملہ ہوتی ہے،نہ بچہ جنتی ہے،نہ کسی کی عمر زیاد ہ ہوتی ہے، نہ کسی کی عمر میں کمی کی جاتی ہے،مگر یہ سب کچھ کتاب(لوحِ محفوظ)میں محفوظ ہے(القرآن،فاطر۱۱)
نہج البلاغہ میں درج ہے کہ
“تقدیر تمھیں وہ کچھ دکھاتی ہے جو تمھارے دل نے سوچا بھی نہیں ہوتا”۔
میری عادت ہے کہ گلی میں چلتے میرے راستے میں کوئی بڑا پتھر جو تکلیف کا باعث بنتا ہوآجائے تو اسے اس خیال سے اٹھا کر سائیڈ پر رکھ دیتی ہوں کہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو ،یہ حکم ِ ربی ہوتا ہے، جس کی مجھ سے تکمیل بھی وہ پاک ذات خود ہی کرواتی ہے،ورنہ اس کی مرضی کے بغیر تو پتہ بھی نہیں حل سکتا،کجا کہ ایک انسان اپنی مرضیاں کرتا پھرے،یہ ناممکن ہے۔
” تقدیر رازہائے الہیٰ میں سے ایک راز ہے،الہیٰ پردوں میں سے ایک پردہ ہے،حجاب ِ الہی ٰ میں اٹھا کر رکھی گئی ہے اور مخلوقِ خدا سے لپیٹ کر اوجھل کردی گئی ہے”(حضرت علی،التوحید،ص ۳۸۳)
ایک شخص حضرت علی کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا “یا امیر المومنین،مجھے قدر کے بارے میں کچھ بتائیے،آپ ؓ نے فرمایا ،قدر ایک تاریک راستہ ہے اس پر چلنے کی کوشش نہ کرو،اس نے پھر کہا،یا امیر المومنین،مجھے قدر کے بارے میں کچھ بتائیے، آپ نے فرمایا یہ ایک گہرا سمندر ہے، اس میں اترنے کی کوشش نہ کرو،اس نے پھر وہی سوال دہرایا تو آپ نے فرمایا قدر اللہ تعالی کا راز ہے ،اسے افشا کرنے کی کوشش نہ کرو”۔

اس حادثے کے بارے میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر لالچ نہ کرتے تو آج یہ لوگ بھی عید منا رہے ہوتے۔۔ زندہ ہوتے،بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان سوچتا ہے کہ فلاں کام کرنے سے میرا فائدہ ہوگا، اور جب وہ کام کرتا ہے تو سنگین نقصان کا شکار ہو جاتا ہے،کیوں کہ ربِ کائنات کی مرضی کچھ اور ہوتی ہے،انسان اپنی سی کوشش کر بیٹھتا ہے،جو کہ کرنے کا کہا بھی گیا ہے،لیکن کسی بھی قسم کی رائے قائم کرنے سے پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ وہ اللہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں بلکہ اپنی حکمت و ددانائی سے فیصلے کرتا ہے،اور اس کا فیصلہ ہی بہترین ہوتا ہے۔حضرت علی کا قول ہے “تمام امور تقدیر کے سامنے بے بس ہیں،یہاں تک کہ چارہ سازی ہی آفت بن جاتی ہے”۔”سبھی معاملے تقدیر کے آگے بے بس ہیں،یہاں تک کہ تدبیر کے نتیجے میں موت بھی واقع ہوجاتی ہے”۔(شرع نہج البلاغہ،حضرت علی)

کہتے ہیں کہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کیا جائے، اگر آپ کسی مصیبت میں بھی مبتلا ہیں تو شکر ادا کیجئے اور سوچئے کہ اس سے بھی بدتر کچھ ہو سکتا تھا جس سے آپ کو محفوظ رکھا گیا ہے،اس رب کی حکمتیں رب ہی جانے۔۔۔ کوئی کیوں مر گیا،بھری جوانی میں ،نوے سال کی عمر میں،چلتے پھرتے اٹھا لیا گیا یا طویل بیماری کے بعد یہ سب فیصلے اپنے اندر حکمت رکھتے ہیں،اور وہ رب ہی بہتر جاننے والا ہے۔۔۔پیاروں کا بچھڑ جانا اگرچہ دل چیر جاتا ہے،کہ آپ کے پاس صرف تصویریں اور یادیں ہی باقی رہ جاتی ہیں،لیکن حکم ربی ہے،مشیتِ ایزدی ہے،ہمارا یہ کہنا کہ ابھی تو اس کے مرنے کی عمر ہی نہیں تھی،اچھے ڈاکٹر کو دکھاتے تو بچ جاتا،حکومت کے ناقص انتظامات کی وجہ سے فلاں فلاں حادثے کاشکار ہوئے،اور اس قسم کے بیشتر جملے شرکیہ کلمات کے سوا کچھ نہیں۔۔۔

SHOPPING

میرا یہ بات کرنے کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ آپ دوران سفر یا گھر میں یا روزمرہ زندگی کے معاملات میں احتیاطی تدابیر اختیارنہ کریں،ضرور کریں۔۔لیکن پھر جو نتیجہ سامنے آئے اسے قبول کریں،اللہ کی مرضی پر اعتراض اور فضول تبصروں کی بجائے اس پر سر تسلیم خم کریں۔۔کسی کی موت کو اس کا لالچ،غربت یا بے وقوفی کہنے کی بجائے یہ سمجھیں کہ یہ سب موت کے بہانے ہیں کہ بہر حال ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ تو چکھنا ہی ہے۔

SHOPPING

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *