رشتے نوچنے والا مہربان

یہ تقریباً دو سال پہلے کی بات ہے۔۔۔۔میری اُس کی ملاقات لوکل ویگن میں ہوئی تھی۔ میں عموماً لوکل ٹرانسپورٹ میں سفر نہیں کرتی، لیکن اس روز شہر گئی تو واپسی پر رکشے کے انتظار میں کھڑے کافی وقت گزر گیا،دوسری طرف بادلوں کی گھن گرج نے دل ہولا رکھا تھا۔اول تو کوئی رکشہ گھر کے روٹ کا مل ہی نہیں رہا تھا اورجو آبھی رہا تھا تو کرایہ اتنا مانگتا کہ مجھے خود ہی اسے منع کرنا پڑتا۔۔۔۔۔چار و ناچار اربن ویگن میں سوار ہوگئی جو کہ بالکل خالی پڑی تھی،بس ڈرائیور کی پچھلی سیٹ پر ایک جوڑا بیٹھا تھا،اور کنڈیکٹر سواریوں کی تلاش میں نگاہیں گھماتا کھڑکی سے منہ نکالے آدھا باہر ٹکا تھا۔میں پچھلی سیٹ پربیٹھ گئی،گاڑی چلی۔۔۔اور ذرا آگے جاکر ایک سواری کے سامنے رُ ک گئی۔۔۔
وہ کوئی پچیس چھبیس سال کی کمزور سی لڑکی تھی،بڑی سی چادر اوڑھے،چہرے پر سانولی رنگت میں اضمحلال اور زردیاں گُھلی تھیں،آنکھوں میں عجیب سی وحشت تھی یا شاید مجھے محسوس ہوئی،وہ چند قدم چل کر آگے آئی تو اس کی چال وجود میں دوسراہٹ کا بوجھ لیئے ہوئے تھی۔۔۔۔اس نے پائیدان پر پاؤں رکھا اور ایک ہاتھ سے دروازہ جبکہ دوسرے ہاتھ سے سیٹ کی پشت تھامے ابھی خود کو جھٹکے سے اوپر بھی نہ اٹھا پائی تھی کہ ڈرائیور نے گاڑی سٹارٹ کردی،وہ نیچے گرتے گرتے بچی، لیکن ڈرائیور کو ایک لفظ بھی کہے بغیر خاموشی سے دوبارہ سوار ہونے کی کوشش کرنے لگی، اسے تکلیف پہنچی تھی جس کے اثرات اس کے چہرے پر نمایاں تھے۔۔۔۔میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے اوپر چڑھنے میں مدد کی،اس نے میرا ہاتھ تھاما جو کہ بے انتہا سرد تھا،اور میرے برابر آ ن بیٹھی۔
میں نے پوچھا،آپ ٹھیک ہیں نا؟
بولی۔۔۔ہاں!
میں نے کہا پھر بھی احتیاط کیا کیجئے،ان لوکل گاڑیوں کے ڈرائیور تو خود اپنی جان کی بھی پروا نہیں کرتے۔۔۔
کہنے لگی۔۔۔۔احتیاط کس بات کی؟۔۔۔”یہ میرے باپ کا بویا ہوا بیج ہے،شوہر کا نہیں”۔۔۔۔۔
اس کے لہجے کی سرد مہری،الفاظ کی سفاکی۔۔۔میری ریڑھ کی ہڈی میں جیسے سنسناہٹ سی دوڑ گئی،یوں لگا کتنے ہی ہریلے بچھو اور بھوری کیڑیاں میرے جسم پر رینگنے لگی تھیں،الفاظ تھے یا پگھلا ہوا لاوا۔۔۔۔۔سخت سردی میں میرے چہرے پر پسینہ پھوٹ پڑا،زبان گنگ ہو کر رہ گئی۔۔۔لیکن اس کے چہرے پر موت کا سا سناٹا تھا،صرف اس کا تیز ہوا تنفس اس کے وجود میں زندگی کا پتا دے رہا تھا۔۔۔مجھ میں ہمت نہ رہی کہ کچھ پوچھ سکوں حالانکہ وہ بتانے پر آمادہ دکھائی دے رہی تھی۔۔۔۔۔میں نے کہا، اپنا نمبر دے سکتی ہو،اس نے چند لمحے میری طرف دیکھا اور میرے ہاتھ سے موبائل لے کر اپنا نمبر ڈائل کر دیا۔ میں نے نام نہیں پوچھا لیکن اسے اپنا نام بتا دیا۔۔۔۔وہ اگلے سٹاپ پر اتر گئی۔
گھر آ کر بھی میری توجہ ایک سیکنڈ کے لیئے بھی اس کی طرف سے ہٹ نہ سکی، اس بات کو لگ بھگ ایک ہفتہ گزرا ہوگا،جب میں نے اپنی تمام ہمتیں مجتمع کرتے ہوئے اسے فون کرنے کا سوچا،۔۔۔بیل گئی۔۔۔دوسری طرف وہی تھی۔۔۔اس کی آواز سماعت سے چپک کر رہ گئی تھی ،سو پہچاننے میں وقت نہ لگا،۔۔۔شاید وہ بھی مجھے پہچان چکی تھی،پھر بھی میں نے نام بتایا توکوئی بھی تمہید باندھے بغیر بلا توقف بولنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری امی کو مرے ہوئے5سال ہو چکے ہیں،ہم تین بہنیں ہیں، میں دوسرے نمبر پر ہوں،بڑی بہن مجھ سے دو سال بڑی جبکہ چھوٹی پانچ سال چھوٹی ہے،لیکن اذیت ہم تینوں کے حصے میں برابر آئی ہے۔ماں کا سوئم تھا جب رات کی بھیانک تاریکی نے پہلی بار رشتے کا تقدس ملیامیٹ کیا۔۔۔ یہ سلسلہ مجھ تک موقوف نہ رہا،ہر رات کبھی میں اور کبھی بہنوں میں سے کوئی ہوس کی بلی چڑھائی جاتی رہی،اوراگلا دن اس اذیت ناک سوچ کیساتھ بسر ہوتا کہ آج جانے کس کی روح چھلنی ہوگی، کون بھیڑیے کی بھوک کا ساماں کرے گا، کس کو کانچ کے نوکیلے ٹکڑوں سے لہو لہان کیا جائے گا۔۔۔میں دو بار ابارشن کروا چکی ہوں۔۔۔۔ یہ تیسری دفعہ تھا، پچھلے ہفتے چھوٹی بہن کا ابارشن کروایا ہے۔۔۔باپ کی اولاد کوکھ میں کیسے پالیں۔۔۔ میں بزدل ہوں،زہر نہیں کھا سکتی اور بہنوں کی جان لینے کا حوصلہ بھی مجھ میں نہیں۔۔۔۔۔۔۔
ہمارا راہبر ہی راہزن ہے۔۔۔مدد کس سے چاہیں،جب باپ ہی چکلے پر چھوڑ آنے کی دھمکی دیتا ہے۔میری اللہ سے التجا ہے کہ۔۔۔۔”مالک، ماؤں کو موت کی بندش سے بری کردے،یا پھر بیٹیوں کو بھی ان کے ساتھ ہی قبر میں اتارنے کا قانون بنا دے”۔۔
وہ رو رہی تھی اور میرے اعصاب جواب دے چکے تھے۔۔۔۔۔میں نے ایک لفظ بھی تسلی یا دلاسے کا کہے بنا فون بند کردیا کہ یہ سب چھلنی ہوئی روح کو سینے کی بجائے مزید تار تار کرجاتا۔۔۔!!!

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *