یہ ہے عشق رسولﷺ۔۔۔۔۔چوہدری نعیم احمد باجوہ

عاشق جانثاران رسول ، فدائیان رسول ، ناموس رسالت کے الفاظ روزانہ سماعتوں سے ٹکراتے ہیں۔بیشتر دفعہ یہ الفاظ چوراہوں ، سٹرکوں کے بیچوں بیچ لگے مجمع سے اٹھ رہے ہوتے ہیں. بیک گراونڈ میں جلتے ٹرک ، ذلیل و خوار ہوتے مسافر، بھوک سے نڈھال عورتیں بچے ، تڑپتے مریض اور نعرے لگانے والے ڈنڈا بردار ہوتے ہیں ۔

عشق رسول کا پیمانہ کیا ہے؟۔اس کے تقاضے کیا ہیں؟۔۔ آج ہمارا عشق ، صحابہ کے عشق رسول سے مختلف کیوں ہے۔ وہ جان ، مال، وقت عزت ، اولاد کی قربانی دے کر عاشق بنے ہم دوسروں کی جانیں ارزاں کر کے اس دولت کی تلاش میں سر گرداں ہیں۔
انہوں نے راستوں کے حقوق قائم کرکے عشق رسول کا ثبوت دیا ہم پہرے بٹھا کر حب رسول کے نعرے لگا رہے ہیں ۔ یہ بعد المشرقین ہے ۔ یہ ضدیں  ہیں جو اکھٹے نہیں ہو سکتے۔عشق سچا ہو تو سینہ جلتا ہے۔ بلکہ عشق تو بس ہوتا ہے اسے سچا کہنا بھی شاید درست نہیں۔ بس ہے یا نہیں ہے۔ ایک آگ اند ر لگتی ہے ۔ اور اندر ہی سلگتی ہے ۔ عشق ہو جائے تو لب سل جاتے ہیں ۔ سر بازار ناچتا نہیں پھرتا انسان ، اندرونی آلاشیں پاک ہونے لگتی ہیں ۔ نفرت کے آلاؤ محبت کے گل و گلزارہو جاتے ہیں ۔

ایک تڑپ محبوب جیسا بننے کی، ایک لگن نقش پا پر چلنے کی کوئی لمحہ چین نہیں لینے دیتی۔ ہر لحظہ خوف دامن گیر رہتا ہے کہ کوئی ایسی حرکت سر زد نہ ہو جائے جو نا گوا ر خاطر ہو ۔اسے محبت کا خوف کہتے ہیں۔یہ محبت کا خوف عاشقان رسول ﷺ صحابہ کرام نے پا لیا تھا۔ پھر ان کی آلائشیں صاف ہوتی گئیں ۔ یہ عشق انہیں سفلی زندگی کی اتھاہ گہرائیوں سے اٹھا کر آسمانوں کی بلندیوں پر لے گیا ۔ ستاروں کی مانند چمکنے کا خطاب دربار رسالت ﷺ سے پا لیا ۔ ان میں سے ہر ایک ہادی بن گیا۔ یہی ارشاد ہوا کہ جس کی بھی پیروی کر و گے منزل نزدیک تر ہو جائے گی ۔

صرف چند مثالیں ملاحظہ ہوں ۔

شیر خدا علی کرم اللہ وجہ حالت جنگ میں مد مقابل کو گرا کر سینہ پر چڑھ گئے ۔ کفر ہمیشہ بذدل ہوتاہے ۔وہ بھی دھڑ دلا تھا جلد ی ہمت ہا رگیا ۔ چہرہ مبارک پر تھوک دیا کہ اشتعال میں آکر جلدی کام تمام کر دیں۔ پر شیر خدا نے چھوڑ دیا۔ یہ عشق رسولﷺ  کا تقاضا تھا کہ جب میرے محبوب نے کبھی ذاتی مخاصمت نہیں رکھی تو مجھے بھی زیب نہیں دیتی ۔حالت جنگ ، جذبات عروج پر لیکن محبوب کے عشق کی اور اپنی وفا کی لاج رکھنا فراموش نہیں ہوئی ۔ یہ ہے عشق رسول ﷺ ۔

دوسرا منظر ہے۔
معاشرتی تشکیل اور تربیت پر کام جا ری ہے۔ ارشاد ہوا۔ افشو السلام ۔ یعنی سلام کو رواج دو ۔عمل پیرا ہونے کے لئے ایک دوڑ لگ گئی ۔بعض اصحاب بغیر کسی دیگر ضرورت کے صرف اس لئے بازار کا چکر لگانے نکل پڑتے کہ آتے جاتے لوگوں کو سلام کہہ کر محبوب کے حکم پر زیادہ سے زیادہ عمل کرلیں ۔ یہ تھی محبت کی آگ جس کا دیا اندر جلتا تھا اور انہیں بیٹھنے نہیں دیتا تھا۔یہ ہے عشق رسول ﷺ۔

ایک روز عثمان غنی رسالت مآب کے پیچھے چلتے ہوئے قدموں کے نشان مبارک گنتے جا رہے تھے ۔پلٹ کو پوچھ لیا ۔ عثمان کیا کر رہے ہو ۔ عرض کیا قدموں کے نشان گن رہا ہوں کہ ان قدموں کی تعداد کے برابر غلام آزاد کر سکوں اور کر بھی دئیے۔ یہ ہے عشق رسول ﷺ ۔
ہر نقش پا پر ہر ادا پر سو سو طریقوں سے قربان۔

ایک اور منظر حالت جنگ کا ہے۔ اعلان ہوا آج میری تلوار اسے ملے گی جو اس کا حق ادا کرے گا۔لشکر میں ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک خواہش مچل گئی کہ محبوب خدا اور فتح نصیب جرنیل کی تلوار کے دستے پر میرا ہاتھ پڑے ۔
حکم ہواابو دجانہ آگے آؤ۔ ابو دجانہ حاضر ہوئے تو تلوار ان کے سپرد فرما دی ۔ پر کوئی ہدایت نامہ کوئی طریقہ کار اس کے استعمال کا عطا نہیں فرمایا ۔ یہی کہا تھا اسے ملے گی جو حق ادا کرے گا ۔
میدان کارزار میں ایک نقاب پوش نے کئی مجاہدین گھائل کئے ۔کاری وار کرتا آگے بڑھ رہا تھا ۔ ابو دجانہ اس کی تاک میں ہو گئے ۔ جب تلوار سونت چکے تھے ، لمحوں کا کھیل باقی رہ گیاتھا، تو معلوم ہوا نقاب پوش مرد نہیں بلکہ ایک جنگجو عورت ہے۔ ابو دجانہ کا ہاتھ رک گیا۔ تلوا ر رسول خدا ﷺکی ہے کسی عورت پر نہیں اٹھ سکتی ۔ یہ ہے عشق رسول ﷺ ۔ جذبات قابو میں رکھنے کا حیرت انگیز مکمل کنٹرول ۔ ہزار بہانے ہو سکتے تھے مگر نہیں ڈھونڈے۔ آج کا عاشق بلا وجہ کشت وخون کرنے کے بہانوں کی تلاش میں ہے ۔ باقی صحابہ بھی سمجھ گئے کہ تلوار کا حق ادا ہونے سے کیا مراد تھی ۔ اگر کوئی نہیں سمجھنا چاہتا تو وہ آج کا مسلمان ہے ۔ آج ہم تحریری ہدایت نامہ ہونے کے باوجود عشق رسول ﷺ کے نام پر حملہ آور ہیں غریب رکشہ والے پر ، کمزور نابالغ ریڑھی بان پر ۔

اور یہ منظر کوئی آج کے علماء تک بھی پہنچا دے۔
خبر پہنچی کہ لوگ گلی کوچوں میں مجالس سجا لیتے ہیں ۔ فرما یا رستوں میں نہ بیٹھو ۔ دست بستہ عرض کیا، مجبوری ہے ۔ گھروں میں جگہ تھوڑی ہونے اور بعض دیگر وجوہات کی بنا پر ہمیں راستوں پر مجالس لگانا پڑتی ہیں۔ فرمایا : پھر راستے کا حق ادا کرو۔ اے رسول خدا ! راستے کا حق بھی بتا دیجئے ۔ ارشاد ہوا آتے جاتے کو سلام کرو۔یعنی راستے میں بیٹھے ہو تو لوگوں کے لئے خوف کا باعث نہ بنو بلکہ ہر آنے جانے والے کے لئے سلامتی اور امن کا پیغام بن جاؤ۔ تمھارے ڈر کی وجہ سے کوئی راستہ نہ بدلے، کوئی خائف نہ ہو ۔کسی کو تکلیف نہ ہو ۔ یا د رہے عام طورپر سوار کو حکم ہے کہ وہ پیادہ کو سلام کرے ۔کھڑے ہوئے کو حکم ہے کہ وہ بیٹھے ہوئے کو سلام کرے۔ لیکن بہ امر مجبوری راستے میں بیٹھنے والوں کو حکم ہوا کہ وہ آنے جانے والے کا سلام کریں۔ فدایان رسول نے اس پر عمل کر کے دکھا دیا۔ یہ ہے عشق رسول ﷺ ۔

آج حب رسول کے دعویداروں نے وطیرہ بنالیا ہے مسئلہ کوئی بھی ہو۔ فوری راستے بند کر دو ۔ پورا ملک جام کر دو ۔لوگوں کو مرنے دو ۔ املاک جلادو ۔لوٹ کر کھا جاؤ۔

یہ آخری منظر تو ایک وارننگ ہے۔ ایک غلطی اسامہ بن زید سے ہوئی ۔ قبیلہ جہینہ کے ایک فرد کو باوجود کلمہ پڑھ لینے کے قتل کر دیا۔ معاملہ خدمت اقدس ﷺ میں پیش ہوا ۔ناراضگی کا اظہار اس قدر ہوا کہ اسامہ نے خواہش کی کہ کاش وہ ا س سے قبل مسلمان ہی نہ ہوئے ہوتے۔ ’ الآ شققت عن قلبہ ‘‘کے الفاظ کہ کیا تم نے ا س کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ اس نے کلمہ کس وجہ سے پڑھا ۔ یہ وارننگ ہے محبوب خدا کی طرف سے ہر شقی القلب نام نہاد عاشق رسول کے لئے کہ دیکھو باز رہنا ۔ اسامہ سے غلطی ہوئی لیکن یہ غلطی کوئی اور نہ کرے ۔جب آسیہ بی بی نے اقرار کر لیا کہ نازیبا کلمات میں نے ادا نہیں کئے تو پھر جرم کیسا ؟۔مان لیتے ہیں کہ اس نے موت کے خوف کی وجہ سے انکار کر دیا ۔ معاملہ تو چند لوگوں میں تھا وہیں دفن ہو جاتا ۔ لیکن ہم نے دس سال سے اس مسئلہ کو زندہ رکھ کر پوری دنیا میں مشتہر کر دیا۔ بلاشبہ درجنوں گستاخ ہم نے خود ان دس سالوں میں اس معاملے کو زندہ رکھ کر پیدا کر دئیے۔
آج طفلان کوچہ و بازار کی طرف سے اٹھنے والے ہر ہنگامے کے جواب میں میرے محبوب کی یہی صدا گلی کوچوں میں گونج رہی ہے ۔کہ کیا تم نے ا س کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا۔ ہے کوئی اس صدا پر کان دھرنے والا ۔ہے کوئی عاشق رسول جو اس صدا کو آواز دے اور اتنا پھیلا دے کہ کمزور پر حملہ آور ہونے سے قبل ہمارے ہاتھ لرز جائیں اور دل اس وعید کی ہیبت سے کانپ اٹھیں ۔

Avatar
Ch. Naeem Ahmad Bajwa
محبت کے قبیلہ سے تعلق رکھنے والا راہ حق کا اایک فقیر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *