• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • گاؤں کی اور مہم ۔۔۔ نظام پر بھروسہ بحال ہونے کے توقعات/زاہد احمد ڈار

گاؤں کی اور مہم ۔۔۔ نظام پر بھروسہ بحال ہونے کے توقعات/زاہد احمد ڈار

SHOPPING

ابراہیم لنکن کے بقول جمہوریت ،لوگوں کی طرف سے، لوگوں کیلئے اور لوگوں کی حکومت کا نام ہے۔ یہ وہ عبارت ہے جس سے ہر کوئی بخوبی آشنا ہے۔ دنیا کے کس کونے یا سطح زمین کے کس حصے پر اس عبارت کی عملی شکل موجود ہے؟ یہ ایک بحث طلب اور وقت طلب موضوع ہے۔ البتہ اس کا عملی مجسمہ ریاست جموں و کشمیر میں کب اور کس حکمران کے دور میں نافذ العمل تھا ،تاریخ دان اور کتب التواریخ اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہیں ۔ بقول اقبال علیہ الرحمہ جمہوریت کی عظیم ترین صورت میں لوگوں کو صرف گنا جاتا ہے،تولا نہیں جاتا۔ علاوہ ازیں اس میں ہر کس و ناکس، عالم و جاہل، عاقل و بیوقوف، باخبر و بے خبر کی رائے کوبرابر ناپا اور تولاجاتا ہے،جس کی وجہ سے جمہوریت کایہ خوبصورت چہرہ بھی صرف گنتی تک ہی محدود رہ چکا ہے۔ ریاست جموں و کشمیر میں جمہوریت کی کوئی بھی صورت بعینہ موجود نہیں ہے ،کیونکہ یہاں لوگوں کا اکثریتی طبقہ حکومتی انتخابات میں حصہ نہیں لیتا ہے۔بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ یہاں کی جمہوری حکومت کو جمہوریت ٹھکراتی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ دانشور اور مفکر اس کی  کئی وجوہات گننے میں حق بجانب ہیں،جن پہ ڈھیر ساری کتابیں لکھی جاسکتی ہیں۔ لیکن ایک علت کا یہاں پر ذکر کرنا مقصود ہے۔ ریاست جموں و کشمیر میں برسر اقتدار سیاسی جماعت کے اراکین و زعماء حکومت سنبھالتے ہی اقرباء پروری کے شکار ہوجاتے ہیں ۔ خزانوں کے تمام دروازے اپنے اپنے رشتہ داروں کیلئے کھول دیے  جاتے ہیں اور اللہ دین کا چراغ برسر اقتدار سیاسی جماعت کی  تحویل میں چلاجاتا ہے جس کی وجہ سے کئی بیماریوں نے  جنم لیا   ،جن میں رشوت خوری کا رواج ، غرباء کی مجبوریوں کا ناجائز استعمال ، قوم کی مجبور و محتاج ماؤں اور بیٹیوں کے ساتھ استحصال اور سرکاری محکموں کے مختلف عہدوں پر ناتجربہ اور نااہل افراد کے فائز ہونے کی وجہ سے محکموں کا زوال، ترقیاتی منصوبوں کا ناکام ہونا، فلاحی سکیموں کا فائدہ انکے اصل حقداروں سے چھیننا، وغیرہ وغیرہ اس قوم کا مقدر بن چکی ہے ۔

انصاف کا گلا جب بھی اور جہاں بھی دبایا گیا،لوگ انصاف مانگنے کیلئے اپنی آواز بلند کرتے گئے لیکن حاصل کچھ بھی نہیں۔ لوگ اپنی امیدیں دوسری سیاسی جماعتوں پر باندھنے لگے لیکن حکومت سنبھالتے ہی باقی دوسری حکومتیں بھی گزشتہ حکومت کی سنت دہرانے اور من و عن ان کی مقلد ثابت ہوئی۔ اپنے آپ کو عوام کے خادم سمجھنے کے بجائے ہر نیا حکمران گزشتہ حکمران کی طرح غریب عوام کا خون آم کے رس کی طرح چوستا رہا۔ لہذا عوام کا اس نظام پر سے بھروسہ اٹھنا ایک لازمی نتیجہ ہے۔ ریاست جموں و کشمیر پچھلے کچھ مہینوں سے رائے دہندگان کے ووٹوں سے بنائے جانے والی حکومت سے محروم ہے۔ اب یہاں کا پورا نظام گورنر کی وساطت سے مرکزی صدر/ ملکی صدر کے زیر نگین چل رہا ہے اور گورنر کے چار یا پانچ مشیر مختلف محکموں کے نگہداشت مقرر کئے گئے،جنہوں نے عوام کے مسائل جاننے اور انہیں حل کرنے کیلئے مختلف اقدامات اٹھائے اور گزشتہ حکومتوں میں غریب عوام کے خون چوسنے کے بہت سارے اسکینڈل منظر عام پہ لائے جس سے عوام کا نظام پر دوبارہ بھرسہ کرنے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

SHOPPING

گزشتہ مہینے میں عوام کی رائے یا مسائل جاننے کیلئے ایک مہم ترتیب دی گئی جو پوری ریاست میں چلی اور جس میں ماہر گزیٹیڈ آفیسرز کو عوام میں دو دن گزارنے اور انکے مسائل و مشکلات یا شکایات جاننے اور حکومت کے مختلف اداروں کا حلقہ جات میں تعارف دیکھنے کی تلقین کی گئی۔اس گاؤں کی  جانب مہم میں لوگوں نے بلا کسی خوف وخطر کے حکومت کو آئینہ دکھایا کہ حکومت کہاں کھڑی ہے اور عوام کہاں کہاں اور کس کس طریقے سے پس  رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مہم میں عوام نے آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کیا اور مہمانوں کا پُرتپاک استقبال بھی کیا۔ ریاست کے کسی بھی کونے بالخصوص جنوبی کشمیر میں کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آنا اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ حکومت سے ناراض تو نہیں ہیں بلکہ حکمران ٹولے کی تانا شاہی اور اقرباء پروری کی وجہ سے ان کا اس نام نہاد جمہوری حکومت یا نظام پر سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہے۔ نامزد کیے  گئے ان مہمانوں نے اپنے اپنے تفویض کردہ حلقوں میں دو روز گزارے اور حلقے میں موجود یا غیر موجود سہولیات کی فہرست کو ایک کتابی شکل دے کر ڈیپوٹی کمشنرز کے آفس میں جمع کیں۔ سرکاری وعدوں کے مطابق درج کی گئی شکایتوں کا ازالہ ،نئے ترقیاتی کاموں کو عملی جامہ پہنانے اور مختلف فلاحی اسکیموں کا انکے اصل حقداروں تک پہچانے کیلئے صد فیصد کوشش کی جائے گی۔ جب سے “گاوں کی اور” مہم چلائی گئی تب سے لوگوں کی اکثریت حکومتی نظام پر سے دوبارہ اپنی امیدیں باندھنے لگے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا موجودہ گورنر کی حکومت لوگوں کی امیدوں پہ کھرا اترے گی یا گزشتہ حکمرانوں کی طرح جھوٹے وعدوں کے صنم تراشے گی۔یہ ایسا مسئلہ ہے جس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا ۔

SHOPPING

زاہد احمد ڈار
زاہد احمد ڈار
ساکنہ سیتھر سنگم. ریسرچ اسکالر کشمیر یونیورسٹی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *