جذبات کے سمندروں میں غرق جب بھائی عدالت سے باہر نکلے تو جمائما کو کالے سوٹوں میں ملبوس انگریز زبردستی سوزوکی آلٹو میں بٹھا کر لے جا رہے تھے اور ابھی بھائی بھری بھری آنکھوں سے یہ دیکھ ہی رہے← مزید پڑھیے
وہ بچہ پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں کوٹلہ سلطان سنگھ میں پیدا ہوا،گھر والوں نے نام تو کچھ اور رکھا تھا لیکن پھیکو کہہ کر بلاتے تھے۔والد صاحب کی بازار میں دکان تھی،دکان کے تھڑے پر بچہ بیٹھا ہوتا← مزید پڑھیے
اوہ چور اچکا تے بدمعاش ڈاکو سی۔ پولیس اوہدے پچھے لگی ہوئی سی۔ اوہنے تے اوہدے چار دوسرے ساتھیاں اک ساہوکار دے گھر ڈاکہ ماریا سی تے ساری دولت قابو کرن دے بعد ساہوکار دی دھی نوں پستول مار کے← مزید پڑھیے
گرمیوں کی دوپہر میں سورج کی گولا باری عروج پہ تھی گلیوں میں ہُو کا عالم تھا چرند پرند درختوں کی شاخوں سے چمٹے انسان کی نا عاقبت اندیشی پے ماتم کناں تھے جس کے بے پرواہ رویہ نے سوہنی← مزید پڑھیے
ادب انسان کے اظہارکا اعلیٰ شاہکار ہے۔ وہ ادب جو سماج میں مظلوموں کے دُکھوں اور مسائل کے حل کے لیے تبدیلی کی راہیں ہموار کرے۔ ایسے تخلیقی ادب کا سلسلہ آج پروان چڑھنا کم ہوگیا ہے۔ جب تک ترقی← مزید پڑھیے
اے خوشا نصیبا سن, میں تو پھر چلا مرنے تو نے غیر کو دیکھا, اب ملیں گے کیا کرنے اپنی اس مودت کو, تو نے جب کیا مسموم آؤ پھر کہ مل جائیں،اس کی فاتحہ پڑھنے جان! میں جو مر← مزید پڑھیے
چاند سے کم نہیں تو مہ لقا کیا کروں اب یہ مہ جبین بتا ہائے میں کیوں کبھی نہیں تھکتا چھیڑتا جب کوئی بھی ذکر تیرا لوحِ شمسی کا افتخار گیا چاند کی چاندنی سے ہار گیا تیری معصومیت،ادا جاناں← مزید پڑھیے
لنڈین میں ستر کی دہائی میں ایک شعری وبا ء سی انگلینڈ میں 1972-74کے برسوں میں پھیلی جب میں وہاں تھا۔نگریزی میں یہ نظمیں اس قدر مقبول ہوئیں کہ ”دی گارڈین“ سمیت کئی روزانہ اخباروں نے باقاعدگی سے اپنے میگزین← مزید پڑھیے
عہد میر تک فارسی شعر و ادب صدیوں کی منازل ارتقاء طے کر لینے ا ور آفاقی و ادبی شہرت کے حامل ادباء و شعراء وجود میں لانے کے بعد دنیا کے بہترین زبان و ادب کے زمرے میں ایک← مزید پڑھیے
یوسف حسین نے ایک جھٹکے سے سائیکل سٹینڈ پر کھڑی کی۔ دودھ کے دونوں ڈول اتار کر نیچے رکھے اور حاجی کے ہوٹل کے باہر لگی چارپائیوں میں سے ایک خالی چارپائی کی طرف بڑھنے لگا۔ اوئے پیجی چائے لے← مزید پڑھیے
وہ دوپہر سے ہی سر پکڑے روئے جا رہی تھی ابھی سرمد کے آنے میں خاصا وقت تھا۔ شاید اس کے آنے پر ہی معاملہ کچھ سلجھے۔۔۔۔ لیکن مسئلہ اس حد تک پریشان کن تھا کہ وہ ابھی سے خاصی← مزید پڑھیے
شازیہ ہونقوں کی طرح اپنے خاوند جاوید کا منہ دیکھتی رہ گئی، .حرافہ، سالی بازاری عورت کی بیٹی تیری ماں کی۔۔۔۔۔۔۔۔، میرے ساتھ تمسخر کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔ فاحشہ۔ جاوید۔۔۔۔ میں تو۔۔۔۔۔ آپ میری ماں کو۔۔۔۔۔۔ شازیہ کے منہ سے بس← مزید پڑھیے
“ارے۔۔۔ بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے؟۔ جب دیکھو اور جسے دیکھو بس نصیحت پہ نصیحیت کرنے پر تلا ہے۔۔۔ سب کا بس مجھ ہی پر کیوں چلتا ہے؟” جینا ، ان وقت ناوقت ملی نصیحتوں کی بھرمار سے بری← مزید پڑھیے
۱۹۵۵ء میں جب میں پہلی باران سے ملا تومیری عمر ۲۵ برس تھی اور میں جانتا تھا کہ وہ مجھ سے سترہ برس بڑی ہیں اور ان کی عمر بیالیس کے لگ بھگ ہے۔ لیکن ان کے چہرے مہرے سے← مزید پڑھیے
وہ غالباً 8 جنوری 2012 کی دھندلکی شام تھی۔ جب اچانک میرے موبائل پر اس کا میسیج آیا ” اگر تم فارغ ہو تو کال کرلوں؟” اس سے پہلے کہ میں رپلائی ٹائپ کرتی اس کا فون آگیا۔ حال احوال← مزید پڑھیے
’موت اک ماندگی کا وقفہ ہے یعنی آگے بڑھیں گے دم لے کر —میر تقی میرؔ میں اس پار دیکھ رہی ہوں … گہری دھند ہے — مگر صرف دھند کہاں ہے …؟ برف پوش وادیاں ہیں … لاتعداد گلیشیرز← مزید پڑھیے
کتاب: اشتعال کا دور مصنف : پنکج مشرا جدید مغربی دنیا کی تشکیل سیکولر اور پروگریسو نظریات پر ممکن ہوئی ہے جن کے احیا کا دور انقلاب فرانس کے دنوں میں دکھائی دیتا ہے ۔ جدید یورپی مفکرین نے بالعموم← مزید پڑھیے
میں نے کہا۔ “ساحل پہ چلتے ہیں ” اس نے کہا۔ ۔ “نہیں ۔ ۔ شاپنگ کرتے ہیں ” میں نے جیب سے سکّہ نکالا۔ ۔ “ہیڈ آر ٹیل؟” اس نے کہا۔ ۔ “ٹیل” میں نے سکّہ ہوا میں اچھالا۔← مزید پڑھیے
ہماری اردو میں انگریزی اس بُری طرح گُھسی ہوئی ہے کہ چاہیں بھی تو اُسے نکالا نہیں جا سکتا۔ لیکن بات یہ ہے کہ دراصل حکم (زبان) تو اُسی کا چلتا ہے کہ جو بالا دست ہو۔ انگریز نے جو← مزید پڑھیے