ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 18 )

سفرنامہ دہلی /ہم اہل صفا مردود حرم  (3)-محمد ہاشم خان

اب ہم اہل صفا اور مردود حرم رام لیلا میدان میں رفوگرانِ شرع، خواجگانِ دین اور فروشگان ضمیر کی بارگاہ میں حاضری دینے جا رہے تھے اور عابد رفیق ہمارا خضرِ راہ تھا۔ عابد غالبؔ کے خضر کے برعکس زندہ←  مزید پڑھیے

بپسی سدھوا (1938-2024 ) عالمی ادب کی ایک انمول شخصیت/پروفیسر عامر زریں

بین الاقوامی انگریزی زبان کی شہرت یافتہ مصنفہ اور ادبی شخصیت بپسی سدھوا 25 دسمبر بروز بدھ کو ہیوسٹن، ٹیکساس میں وفات پاگئیں۔ وہ 86 برس کی تھیں۔بپسی سدھوا ایک پاکستانی ناول نگار تھیں جنہوں نے انگریزی زبان میں لکھا←  مزید پڑھیے

’’فریاد کی کوئی لے نہیں ہے‘‘: غالب انسٹی ٹیوٹ ،دہلی کا عالمی سیمینار/ناصر عباس نیّر

اس بار غالب انسٹی ٹیوٹ ، دہلی نے غالب ہی کے ایک مصرع کو اپنے سالانہ سیمینار کا عنوان بنایا۔برادرم سرورالہدیٰ ، اس شعر کی مشکلات کا ذکر اپنی تحریر میں کرچکے ہیں۔ حالاں کہ بہ ظاہر یہ آسان شعر←  مزید پڑھیے

ایک چراغ اور ایک کتاب / محمد ثاقب

معروف صحافی روف کلاسرا کہتے ہیں جو شخص کتابیں نہیں پڑھتا, اسے کوئی نئی بات سمجھاناانتہائی مشکل ہے۔ آسان الفاظ میں وہ شخص اختلاف رائے برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ پرنٹنگ پریس کی ایجاد ہی تھی جس نے عام لوگوں←  مزید پڑھیے

زہر صدیاں لیتا ہے/صادقہ نصیر

انسانوں کو انسانوں کے زہر سے آلودہ ہونے پر جسم نیلے نہیں ہوتے میلے نہیں ہوتے موت نہیں ہوتی ایک دن میں کچھ نہیں ہوتا یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کس نے کاٹا ہے کب دانت گاڑے ہیں اور کیوں←  مزید پڑھیے

مرقع چغتائی/عاصم کلیار

1928 میں پہلی بار شائع ہونے والا مرقع چغتائی طباعت و اشاعت کے حوالے سے اردو ادب میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔عبدالرحمٰن چغتائی نے اس کا اولین عکس کوچہ چابک سواراں لاہور ہندوستان سے پرائیوٹ طور پر←  مزید پڑھیے

جدید اُردو غزل کے ارتقامیں معتوب شاعر عدیم ہاشمی کا حصہ /محسن خالد محسنؔ

اُردو غزل نے گزشتہ آٹھ سو برس سے اپنا سفر کامیابی سے جاری رکھا ہوا ہے۔ قلی قطب شاہ سے لے کرولیؔ دکنی اور ولیؔ دکنی سے مرزا غالبؔ تک اُردو غزل کا سفر شاندر رہا ہے۔ مرزا داغ ؔسے←  مزید پڑھیے

پوہ ر / علی عبداللہ

گاؤں کے دامن میں ایک چھوٹا سا قدیم اور پراسرار میدان تھا، جسے لوگ “پوہ ر” کہتے تھے۔ اس میدان کا نام ہمیشہ سے ایک راز رہا، اور جو بھی اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا، یا تو←  مزید پڑھیے

خوشخبری/سیدہ گلونہ

مدتوں بعد ایک سرگوشی سنی میرے گھر کی چوکھٹ میرے کان میں بولی تیرا “گل دستار ” آیا تھا میں ہذیانی لہجے میں دھاڑی میرا کلیجہ چبانے کے لیے کیا تم رہتی تھیں؟ چوکھٹ مسکا کے گویا ہوئی اے باولی←  مزید پڑھیے

ترانوے ہزار پتلونیں/کامریڈ فاروق بلوچ

نوجوان سنجیدہ تاثرات کو قائم کرکے بولنے لگا. “لوہے اور پٹرولیم سمیت کئی دھاتوں اور قدرتی وسائل سے مالا مال مملکتِ خداداد اسلامی جمہوریہ موریطانیہ کی غربت زدہ بدحال عوام کو فقط زراعت َاور مویشیوں کا سہارا ہے”. زیرتعلیم نوجوان←  مزید پڑھیے

”کوثر مظہری : اسرار و آثار“:ایک مطالعہ/ڈاکٹر منصور خوشتر

(مشتاق صدف کی مرتب کردہ کتاب) کوثر مظہری ایک فکشن نگار ہیں ساتھ ہی ایک معتبر فکشن نقاد بھی ہیں۔ فکشن شعریات، اس کی تشکیل و تعبیر اور تنقید کی مختلف جہات پر ان کی بہترین تحریریں موجود ہیں۔ ”کوثر←  مزید پڑھیے

سیلون کے ساحل ۔ہند کے میدان( باب نمبر10)کولمبو/سلمیٰ اعوان

کولمبو گہرے سبز پردے کے تلے سانس لیتی سراندیب کی زمین سُورج فطرت کی پچی کاری پر خراج تحسین پیش کرتا ہے وہ اپنی دھرتی پر انسان اور چرند پرند کو محبت اور آتشی سے رہنے کا کہتی ہے گرچہ←  مزید پڑھیے

اَدبیات کے شناور :شمس الرحمٰن فاروقی/ملک شاہد عزیز انجمؔ

شمس الرحمٰن فاروقی ممتاز شاعر، ناول نگار، مترجم، منفر د دانشور اور نقاد کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں لیکن” شب خون “کے ابتدائی زمانے میں یہ محض شاعر تسلیم کیے جانے لگے تھے ۔ ”گنجِ سوختہ“ کی اشاعت سے←  مزید پڑھیے

لمبی عمر/منگلا رام چندرن/ہندی سے ترجمہ/وقار احمد

ڈاکٹر ماتھر کی نظریں اپنے کلینک میں داخل ہونے والے شریف بوڑھے آدمی پر پڑیں۔ وہ سمجھ گیا کہ اب اس کا بہت سا وقت اس بوڑھے آدمی کو سمجھانے میں گزر جائے گا۔ہر دوسرے یا تیسرے دن یہ شریف←  مزید پڑھیے

مقبرہ بی بی مائی صاحبہ- سابقہ ریاست بہاولپور کا ایک خوبصورت ورثہ/ڈاکٹر محمد عظیم شاہ بخاری

سابقہ ریاست بہاولپور کے تاریخی شہر خانپور میں تاریخی ورثے کے نام پہ ایک خوبصورت مقبرہ واقع ہے جو شہر کے سب سے قدیم قبرستان جٹکی بستی کے جنوبی سِرے پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس مقبرے کو ہم گمنام←  مزید پڑھیے

اس بستی سے کب باہر نکلوں گا از ناصر عباس نیر/ تبصرہ: علی عبداللہ

اس بستی سے کب باہر نکلوں گا از ناصر عباس نیر تبصرہ: علی عبداللہ کیا ہر بستی حقیقت میں وہ قید خانہ ہے جو ہماری سوچوں، خوابوں، اور آزادی کے راستوں پر پہرے بٹھا دیتی ہے؟ ہم اپنی زندگی کے←  مزید پڑھیے

تنہائی سے گفتگو/احتشام علی

یہ لگ بھگ سات برس پُرانا قصّہ ہے، جب گورنمنٹ کالج لاہور میں عاصم کلیار کا ظہورِ ثانی ہوا. میں ۲۰۱۷ء تک نہ اِن صاحب کے نام سے واقف تھا اور نہ ہی کبھی سرِراہ یا کسی ادبی محفل میں←  مزید پڑھیے

شہزادہ احتجاب/تبصرہ و انتخاب-مسلم انصاری

نہایت اہم کتاب : شہزادہ احتجاب مصنف : ہوشنگ گُلشیری (فارسی) اردو مترجم : اجمل کمال تبصرہ و انتخاب : مسلم انصاری تہران سے 1969 میں شائع ہونے والے اس مختصر ناول “شازدہ احتجاب” کے مصنف ممتاز ایرانی ادیب ہوشنگ←  مزید پڑھیے

جب تک ہے زمین از ناصر عباس نیّر /تعارف و تبصرہ: علی عبداللہ

افسانوی ادب پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے خوابوں کی گلیوں میں آوارہ گردی کرنا- جہاں حقیقت دھند کی مانند تحلیل ہو جاتی ہے اور ہر کہانی ایک دریچہ کھولتی ہے—روح کے ان گوشوں کی طرف، جنہیں ہم نے کبھی دیکھا←  مزید پڑھیے

خود کشی کی عالمی یکجہتی/صادقہ نصیر

نہ جانے کس کس کرب سے گزری ہے یہ انسانیت روز آفرینش سے اب تک کئی بار مرنے اور زندہ ہونے اور پھر زندہ رہنے کی اذیتوں کے بعد شنید ہے اب زندگانی جنگ کی گولیاں پھانک کر سب انسانوں←  مزید پڑھیے