عزیزم! انسانی تہذیب کی تاریخ درحقیقت مکالمے کی تاریخ ہے۔ آغازِ آفرینش سے لے کر آج تک، انسان نے اپنی بقا، ارتقا، اور فکری بالیدگی کے لیے مکالمے کو وسیلہ بنایا۔ کبھی یہ مکالمہ فطرت سے تھا، کبھی دیوتاؤں سے،← مزید پڑھیے
زندگی ایک سفر ہے مجھےاپنے شوق خدمت انسانی حقوق و ترقی کے بارے سیکھنے سکھانے کے عمل میں تقریباً ڈیڑھ درجن کے قریب ممالک میں جانے کا موقعہ ملا جس بارے میں آپ سے یادیں، باتیں اور سوچیں شئیر کرونگا← مزید پڑھیے
ثمینہ نذیر صاحبہ کے والدین کا تعلق حیدرآباد دکن سے ہے۔ ثمینہ نے کراچی یونیورسٹی سے زولوجی میں بی ایس سی آنرز اور انیٹومولوجی میں ماسٹرز کیا۔ شادی کے بعد بڑا عرصہ بیرون ملک گزرا جن میں امریکہ ، یورپ← مزید پڑھیے
سو سوری یوسف میری آنکھیں ہی نہیں کھلیں! نمرہ نے جلدی جلدی اپنے بکھرے بالوں کو سمیٹ کر جوڑا بناتے ہوئے چولھے کا برنر آن کیا۔ رہنے دو نمرہ تم پریشان مت ہو میں نے انڈا ابال کر کھا لیا← مزید پڑھیے
وہ ہمیشہ آخری صف میں بیٹھتا تھا۔ نہ اتنا نمایاں کہ استاد کی نگاہیں اس پر ٹک جاتیں، نہ اتنا غیر اہم کہ مکمل فراموش کر دیا جاتا۔ وہ ایک درمیانی سا وجود تھا— بین السطور پڑھی جانے والی تحریر،← مزید پڑھیے
وہ ٹیوشن سے نکلا، کتابیں بغل میں دبائے سڑک پر آیا اور اپنے گھر کی جانب رواں ہوا ۔ ابھی اس نے تھوڑی ہی مسافت طے کی تھی کہ تین چار چرسی آپس میں جھگڑا کرتے ہوئے سامنے آن کھڑے← مزید پڑھیے
کمرے میں عارضی طور پر عدالت قائم کی گئی تھی۔اس میں میزیں اس انداز میں لگی تھیں کہ اگر ایک طرف سے چلیں تومیز بہ میز واپس اپنی جگہ پہنچ جائیں۔ سامنے میز پر جج بیٹھا تھا اور اس کی← مزید پڑھیے
اس برس سردی نہیں پڑ رہی تھی۔ لوگ روز اس امید پہ بستر سے نکلتے کہ شائد آج کچھ موسم بدلے گا لیکن چند ٹھنڈی ہوائیں چلنے کے علاوہ دور دور تک سردی کا نام و نشان نہیں تھا۔ ہر← مزید پڑھیے
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اے ابو عبداللہ محمد بن موسیٰ الخوارزمی! تمہیں مخاطب کرتے ہوئے مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میں وقت کے ایک روشن دریچے سے جھانک کر بغداد کے ان علمی مراکز کو دیکھ رہا ہوں جہاں← مزید پڑھیے
دفتر کی دیواریں ہمیشہ یکساں لگتی تھیں، جیسے صدیوں سے یہاں وقت رک گیا ہو۔ یہاں کام کرنے والے لوگ بھی ایک جیسے تھے—چپ چاپ، مشینی انداز میں چلتے پھرتے، اپنے چہروں پر مصنوعی مسکراہٹیں سجائے، جیسے وہ کسی نیم← مزید پڑھیے
(جاحظ) عجم (غیر عرب اقوام) اپنی یادگاروں کو عمارتوں، شہروں اور قلعوں کے ذریعے محفوظ کرتی تھیں، جیسے اردشیر کے قلعے، اصطخر، مدائن، سدیر اور دیگر شہروں اور قلعوں کی تعمیر۔ بعد ازاں عربوں نے بھی عمارتوں کی تعمیر میں← مزید پڑھیے
رات سیاّل ہے سیمگوں ظرف میں ہے انڈیلا اسے ایک جرعہ بھرا اور ستارہ ہوئی اندروں ہے نمی ایک سرخی اذیت بھری جھرجھری اک سفیدی کہ لذت سے آمیخت ہے زندگی کھل اٹھی اب ہے سجدہ فگن ایک نوخیزپن روح← مزید پڑھیے
ایک دن فیس بک پر محمد نصیر “زندہ” کی رباعی پڑھی تو دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ اگرچہ عصرِ حاضر کے شعرا اور ادیب دن رات اپنی تخلیقات یا دوسروں کے کلام سے صفحات بھرتے ہیں، مگر اس دورِ← مزید پڑھیے
کمرے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ صرف ایک میز لیمپ کی مدھم روشنی تھی جو کمرے کے ایک کونے میں رکھے دوسرے میز پر پڑ رہی تھی۔ میز پر ایک سفید کاغذ رکھا تھا اور اس کے قریب ایک قلم۔← مزید پڑھیے
اگر یہ کہا جائے کہ یہ عہد سعادت حسن منٹو کا عہد ہے تو کچھ بے جا نہ ہوگا۔آئے دن جس طرح معصوم لوگ مذہبی انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ اس عہد ایک منٹو← مزید پڑھیے
اشاعت سے قبل اس رزمیہ نظم کا نام “نئی آگ کا عہد نامہ” تھا۔ یہ نظم اٹھارہ الواح (ابواب، فصل یا حصوں) پر مشتمل ہے۔ راموز میں الواح کو ترتیب خالد احمد انصاری نے دی ہے اور مصوری دانش رضا← مزید پڑھیے
تھانے کا داخلی راستہ اسی طرح بھیڑ بھاڑ سے بھرا ہوا تھا جیسے ہمیشہ ہوتا تھا۔ لوگ اپنی اپنی فریادیں لیے قطار میں کھڑے تھے، اور ہر چہرے پر امید اور مایوسی کا ایک عجیب امتزاج تھا۔ میں بھی انہی← مزید پڑھیے
جناب عثمان قاضی گزشتہ برس نومبر میں ملتان لٹریری فیسٹیول کے مدعوین میں ایک اہم مقرر کے طور پر تشریف لائے۔ فیسٹیول تو دھند کے سبب نہ ہو سکا لیکن اس بہانے قاضی صاحب سے تا دیر گفتگو رہی۔ میں← مزید پڑھیے
کئی سال پہلے ایک کتاب پڑھی تھی Journal of a Solitude یہ بیلجیم امریکن ناول نگار اور یاد نگار مے سارٹن کی اچھی بری، ننگی اور ڈھکی ہوئی مگر انتہائی دلچسپ اور مسرت بخش یادوں کے بے باک اظہار پر← مزید پڑھیے
لازماں و لامکاں، عالمِ بہشت سے السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ! عالمِ بہشت کی بے طرح سکون و اطمینان میں بھی، مجھے آج یہ خط لکھتے ہوئے ایک شدید اضطراب، ناراضگی ، اور دکھ کا سامنا ہے۔ یہ← مزید پڑھیے