“جو لوگ کیمسٹری یا میڈیسن میں تربیت یافتہ نہیں، ان کو اس کا احساس نہیں ہوتا کہ کینسر کا علاج کس قدر دشوار ہے۔ یہ تقریباً اتنا مشکل ہے جیسے کوئی ایسی دوا کی تلاش ہو جو دائیں کان کو← مزید پڑھیے
“امریکہ میں میڈیکل ایکسرے لیبارٹری کے بانیوں میں سے ہر ایک کا انتقال ایکسرے برن کی وجہ سے ہونے والے کینسر کی سبب ہوا ہے” واشنگٹن پوسٹ ۔ 1945 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیسویں صدی کی ابتدا میں ریڈی ایشن تھراپی کے ذریعے← مزید پڑھیے
ہم نے ایکسرے کی صورت میں کینسر کا علاج تلاش کر لیا ہے” لاس اینجلس ٹائمز ۔ چھ اپریل 1902 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اکتوبر 1895 میں جرمنی میں ولہلم رونٹگن الیکٹرون ٹیوب کے ساتھ کام کر رہے تھے جب انہوں نے عجیب← مزید پڑھیے
“نئے ڈاکٹر کی حیثیت سے میں عہد کرتا ہوں کہ میں انسانیت کی خدمت کی پوری کوشش کروں گا۔ بیماروں کی دیکھ بھال کروں گا۔ ان کو تکلیف اور مصیبت سے نجات دلاوں گا”۔ ۔بقراط کا حلف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہالسٹیڈ نے← مزید پڑھیے
ولیم ہالسٹیڈ نے جب سرجری شروع کی تو یہ ایک الگ ہی فیلڈ تھا۔ سینگی یا پچھنا لگوانا، رگ زنی، فصد، جونک لگوانا ۔۔۔ لندن میں یہ کام کرنے والوں کی تنظیم “کمپنی آف باربر سرجن” تھی۔ حجام اور جراح← مزید پڑھیے
سکاٹ لینڈ کے سرجن جوزف لسٹر نے 1865 میں ایک غیرروایتی خیال پیش کیا۔ لسٹر نے ایک پرانا مشاہدہ اپنے اصول کے لئے استعمال کیا۔ ایسے زخم جو کھلے رہ جاتے ہیں، ان میں جلد گینگرین شروع ہو جاتی ہے← مزید پڑھیے
میتھیو بیلی نے ٹیومر کو جدید سرجری سے نکالنے کی انٹلکچویل بنیاد رکھی۔ اگر طبِ یونانی کا سیاہ سیال موجود نہیں تھا تو اس کا مطلب یہ تھا کہ جالینوس کا یہ کہنا کہ سرجری سے ٹیومر کو ہٹا کر← مزید پڑھیے
پیرس کی یونیورسٹی میں انیس سالہ ویسالئیس نے 1533 میں داخلہ لیا۔ وہ سرجن بننے کے خواہشمند تھے۔ اس وقت کی میڈیکل تعلیم میں طبِ یونانی کے خیالات مقبول تھے۔ ان کو مایوسی اس وقت ہوئی جب انہیں معلوم ہوا← مزید پڑھیے
بقراط نے سب سے پہلے 400 قبلِ مسیح میں کینسر کے لئے میڈیکل لٹریچر میں کارسینوس کا لفظ استعمال کیا۔ یہ لاطینی زبان میں کیکڑے کے لئے لفظ تھا۔ اس کا ٹیومر، جس میں پھولی ہوئی خون کی رگیں پھیلی← مزید پڑھیے
کوہِ اینڈیز کے سائے میں پیرو سے چلی تک چھ سو میل کا علاقہ پھیلا ہے جس میں عرصہ دراز میں بارش نہیں ہوئی۔ اٹاکاما صحرا کی گرم اور جھلسا دینے والی ہوا میں یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ← مزید پڑھیے
ایڈون سمتھ کو قدیم مصر کی چیزیں اکٹھی کرنے کا شوق تھا۔ 1862 میں انہوں نے مصر کے شہر الاقصر میں ایک نوادرات بیچنے والے سے پندرہ فٹ لمبا پیپرس خریدا جس پر قدیم مصری زبان میں لکھا گیا تھا۔← مزید پڑھیے
رابرٹ سینڈلر کی عمر دو سال تھی۔ 16 اگست 1947 کو اس کو بخار ہوا۔ کبھی ہلکا، کبھی تیز، تھکن اور غنودگی۔ دس روز بعد حالت بگڑنے لگی۔ اسے بچوں کے ہسپتال لایا گیا۔ اس کی تلی بڑھ چکی تھی۔← مزید پڑھیے
ممبئی برطانوی سلطنت کا حصہ تھا۔ یہاں پر کپڑے کی ملوں میں مزدوروں کے لئے حالات ابتر تھے۔ یہ شدید غربت میں اور بغیر میڈیکل کی سہولت کے رہتے تھے اور غذا کی کمی کا شکار تھے۔ جب برطانیہ سے← مزید پڑھیے
طب میں ہونے والی بے تحاشا ترقی کے باوجود کینسر کے معاملے میں خاص پیشرفت نہیں ہو پا رہی تھی۔ اگر کوئی ٹیومر مقامی ہے (کسی ایک عضو پر جسے سرجن نکال سکتا ہے) تو علاج کا امکان تھا۔ یہ← مزید پڑھیے
ادویات کی دریافت کے حوالے سے 1940 کی دہائی کا آخر تاریخ کا اہم وقت تھا۔ ایک کے بعد دوسری دریافت کی جا رہی تھی۔ ان میں سے سب سے اہم اینٹی بائیوٹکس تھیں۔ پینسلین ایک انتہائی مہنگا کیمیکل تھا۔← مزید پڑھیے
ورچو جب میڈیسن کے شعبے میں داخل ہوئے تھے، اس وقت ہر بیماری کا ذمہ دار کسی نہ نظر آنے والی فورس کو ٹھہرایا جاتا تھا۔ میاسما، نیوروسس، فاسد مادے، ہسٹیریا۔ ورچو نہ نظر آنے والی وضاحتوں سے مطمئن نہیں← مزید پڑھیے
دسمبر 1947 کی صبح بوسٹن کی ایک لیبارٹری میں سڈنی فاربر نیویارک سے آنے والے ایک پارسل کا انتظار کر رہے تھے۔ بچوں کے ہسپتال کے تہہ خانے میں اس لیبارٹری سے سو فٹ دور ہسپتال کے وارڈ میں سفید← مزید پڑھیے
“تین ہزار سال سے زیادہ ہو چکے جب سے ہم کینسر کو میڈیکل پیشے میں جانتے ہیں۔ تین ہزار سال سے زیادہ ہو چکے جب سے انسانیت میڈیکل کے پیشے کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہے کہ اس کا علاج مل← مزید پڑھیے
میں نے اپنے کیرئیر کا بڑا ایک حصہ لوپ کوانٹم گریویٹی پر لگایا ہے۔ یہ ابتدا میرے لئے بہت دلچسپ تھا۔ اس پر وقت اور توجہ دینے کی ضرورت تھی۔ ایک تہائی صدی گزر جانے کے بعد ابھی بھی یہ← مزید پڑھیے
“آخر میں، ہماری تلاش یہی ہے کہ ہم اس دنیا کو درست طور پر جان لیں۔ آخرکار، حقیقت کو سمجھنے کی جستجو ہی ایک اصل سائنسدان کی روح کو بے چین رکھتی ہے”۔ ۔لوسین ہارڈی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آئن سٹائن نے ہمیں← مزید پڑھیے