کینسر (16) ۔ ایکسرے/وہاراامباکر

ہم نے ایکسرے کی صورت میں کینسر کا علاج تلاش کر لیا ہے”

لاس اینجلس ٹائمز ۔ چھ اپریل 1902

Advertisements
merkit.pk
tripako tours pakistan

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکتوبر 1895 میں جرمنی میں ولہلم رونٹگن الیکٹرون ٹیوب کے ساتھ کام کر رہے تھے جب انہوں نے عجیب مظہر دیکھا۔ کمرے کے بنچ پر اتفاق سے رہ جانے والی لیکج کے باعث، طاقتور اور نادیدہ انرجی سیاہ گتے کو پار کر کے بیریم کی سکرین پر سفید چمک بنا رہی تھی۔
رونٹگن اپنی بیوی اینا کو لیب میں لائے اور ان کا ہاتھ اس شعاع کی سورس اور فوٹوگرافک پلیٹ کے درمیان رکھا۔ ان کے ہاتھ سے گزرنے والی شعاعوں نے فوٹوگرافک پلیٹ پر ان کی ہڈیاں اور شادی کی انگوٹھی کا عکس بنا دیا تھا۔ یہ گویا جادوئی لینز تھا جس نے ان کے ہاتھ کی اندر سے خبر دے دی تھی۔ اینا کا کہنا تھا کہ “میں نے اپنی موت دیکھ لی” جبکہ ان کے شوہر نے کچھ اور دیکھا تھا۔ توانائی کی اس قدر طاقتور قسم جو زندہ ٹشوز میں سے گزر جاتی تھی۔ رونٹگن نے اس کا نام ایکسرے رکھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے چند ماہ بعد فرانس کے کیمیا دان ہینری بیکووریل نے دریافت کیا کہ کچھ قدرتی معدنیات (جیسا کہ یورنیم) ایسی شعاعیں خارج کرتے ہیں جن کی خاصیت ایکسرے کی طرح ہوتی ہے۔ پیرس میں ان کے دوست پئیر کیوری اور میری کیوری نے ایکسرے کے اس سے زیادہ طاقتور سورس ڈھونڈنے شروع کر دئے۔
موجودہ چیک ری پبلک کے جنگل سے ملنے والی سیاہ کچ دھات پچ بلینڈ تھی۔ یہاں پر کیوری ایک نیا عنصر ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئے جو یورینیم سے کئی گنا زیادہ تابکار تھا۔
کئی ٹن کچ دھات، چار سو ٹن پانی کی مدد سے انہوں نے اس نئے دریافت شدہ عنصر کا سو ملی گرام نکال لیا۔ یہ اس قدر شدت سے ایکسرے خارج کرتا تھا کہ اندھیرے میں نیلی روشنی دیتا تھا۔ مادے اور توانائی کا عجیب امتزاج ریڈیم تھا۔
ریڈیم نے ایکسرے کی نئی اور غیرمتوقع خاصیت بے نقاب کی۔ نہ صرف یہ انرجی کو انسانی ٹشو میں سے گزار سکتی تھی بلکہ یہ ٹشو کے اندر توانائی ذخیرہ بھی کر سکتی تھی۔ رونٹگن کی بیوی کے ہاتھ کا عکس پہلی خاصیت کی وجہ سے تھا جبکہ میری کیوری کے ہاتھوں پر دوسری خاصیت کا اثر تھا۔ ہفتوں تک پچ بلینڈ سے ریڈیم اخذ کرتے کرتے، ان کی ہتھیلیاں سیاہ ہو گئی تھیں اور اندر سے ٹشو جل گئے تھے۔ ریڈی ایشن نے میری کیوری کی ہڈی کے گودے کو ضرر پہنچایا اور اس کے نتیجے میں ان کو مستقل اینیما ہو گیا۔ اس سے ناخن جھڑ جاتے، ہونٹ پر چھالے نکل آتے۔ گال سوج جاتے۔
بائیولوجسٹ کو ان اثرات کی وجہ جاننے میں کئی دہائیاں لگیں۔ ریڈیم ڈی این اے پر حملہ آور تھا۔ ڈی این اے ایک تنہا مالیکیول ہے جو کیمیائی ری ایکشن نہیں کرتا۔ اس کا کام ہی جینیاتی انفارمیشن کو مستحکم رکھنا ہے۔ لیکن ایکسرے ڈی این اے کی لڑی توڑ دیتی تھیں یا زہریلے کیمیکل بناتی تھیں جو ڈی این اے کے لئے ضرر رساں تھے۔ خلیے اس کا مقابلہ کرنے کے لئے یا تو فوت ہو جاتے تھے یا تقسیم ہونا بند ہو جاتے تھے۔ ایکسرے تیزی سے بڑھنے والے خلیوں کو مارتی تھیں۔ جیسا کہ جلد، ناخن، خون اور مسوڑھے کے خلیے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب خلیوں کو مار دینے کی صلاحیت نے کینسر کے محققین کی طرف سے توجہ حاصل کی۔ ایکسرے کی دریافت کے صرف ایک سال بعد شکاگو کے اکیس سالہ میڈیکل کے طالبعلم ایمل گرب کے ذہن میں خیال آیا کہ اس سے کینسر کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ویکیوم ایکسرے ٹیوب بنانے والی فیکٹری میں کام کیا تھا اور اپنے تجربات کے لئے ایک ٹیوب بنائی تھی۔ انہوں نے فیکٹری کے مزدوروں پر اس کے اثرات دیکھے تھے۔ گرب کی توجہ فوراً کینسر کے ٹیومرز کی طرف گئی۔
انتیس مارچ 1896 کو گرب نے ایک معمر خاتون روز لی کے چھاتی کے کینسر پر پہلا تجربہ کیا۔ لی کا کینسر آپریشن کے بعد واپس آ گیا تھا اور یہ شدید تکلیف دہ تھا۔ ان کے پاس تجربے سے گزرنے کے سوا کوئی امید نہیں تھی۔ اگلے اٹھارہ روز تک اس ٹیومر پر ایکسرے کی بمباری کی۔ کسی حد تک کامیابی ہوئی۔ ٹیومر سخت اور چھوٹا ہو گیا۔ یہ ایکسرے تھراپی کی تاریخ کا پہلا مقامی ریسپانس تھا۔ اس سے کچھ ماہ بعد کینسر ریڑھ کی ہڈی اور جگر تک پھیل چکا تھا اور لی کا انتقال ہو گیا۔ اس سے گرب نے ایک اہم مشاہدہ کیا۔ ایکسرے سے صرف مقامی علاج کیا جا سکتا ہے اور ایسے ٹیومر جو میٹاسٹیسائز ہو چکے ہوں، ان پر اس کا خاص اثر نہیں۔
اگرچہ یہ ریسپانس عارضی تھا لیکن گرب کے لئے حوصلہ افزا تھا۔ انہوں نے اس کا استعمال مقامی ٹیومر والے دوسرے مریضوں پر کرنا شروع کر دیا۔ اور اس طرح ریڈی ایشن اونکولوجی کی پیدائش ہوئی۔
یہ کینسر میڈیسن کی نئی شاخ تھی۔ امریکہ اور یورپ میں کلینک کھلنے لگے۔ رونٹگن کی دریافت کے چند سال کے اندر ہی ڈاکٹر اس بارے میں بہت پرامید تھے کہ کینسر کا علاج ان کے پاس ہے۔ شکاگو کے ایک ڈاکٹر نے 1901 میں لکھا، “مجھے یقین ہے کہ یہ علاج ہر قسیم کے کینسر کا مکمل علاج ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس کی کوئی حد ہو گی”۔
(جاری ہے)

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply