جوابی بیانیے کی جنگ

حنا ربانی کھر کے ساتھ ملاقات کے بعد ہیلری کلنٹن نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سنہری جملہ کہا تھا۔
You can’t keep snakes in your backyard and expect them only to bite your .neighbors
کہ آپ اپنے گھر کے پچھلے حصے میں سانپ پال کر یہ امید نہی کرسکتے کہ وہ صرف آپکے ہمسایوں کو ہی کاٹینگے۔

ہمیں اس بات کا احساس ہوجانا چاہیے کہ جن لوگوں سے ہم نبرد آزما ہیں یہ ہماری کوکھ کی پیداوار ہیں۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ ہماری مقدس ہستیوں نے اپنی سرزمین کو ایک دوسرے ملک کی جنگ کے لئے استعمال کرنے کی پیش کش کرکے فاش غلطی کی تھی۔ جسکا خمیازہ ہم “کولیٹرل ڈیمج” کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔

بیس تیس سال قبل پالا گیا یہ سانپ اب بچے دے رہا ہے۔ ہم نے سوچا کہ چار لوگ مار کر ہم ڈرا دھمکا لینگے لیکن ہم بھول گئے کہ یہ تمام لوگ ایک بیانیے کی پیداوار ہیں۔ یاد کیجئے افغان جہاد کے دور میں ضیاء الحق سے لے کر عام آدمی تک قوم افغان جہاد کے وقت کی ضرورت ہونے پر متفق تھی۔ اور ہم نے اپنی سرزمین کو اور اپنے لوگوں کو فی سبیل اللہ امریکہ کی خدمت میں لگا دیا۔ بیانیے کی پیداور کو گولیوں اور تڑیوں سے ڈرایا اور دھمکایا نہی جاسکتا۔ اسکے لئے ایک جوابی بیانیے کی ضرورت ہے، اشد ضرورت ہے۔

اپنے فیصلوں کی قیمت تو بہرحال ہر قوم کو چکانی پڑتی ہے۔ وہ ہم چکا ہی رہے ہیں، لیکن اگر ہم چاہتے ہیں کہ ان سے جان چھڑائی جائے تو اب بھی وقت ہے ایک بیانیہ ترتیب دینا ہوگا۔ جوابی بیانیہ، اس جوابی بیانیہ کو اسی انداز میں زبان زد عام کرنا ہوگا جس انداز میں افغان جہاد کے وقت کے افغان جہاد کی ضرورت کے بیانیے کو کیا گیا تھا۔بلکل افغان جہاد کی طرح اسے دین اور دنیا کی پہلی ترجیح کے طور پر سامنے لانا ہوگا۔ صدر اور وزیر اعظم سے لے کر، میڈیا اور ایوانوں سے لے کر مدراس اور مساجد تک اسکی گونج پیدا کرنی ہوگی۔ ہمیں اب بآواز بلند یہ بات بتانا ہوگی کہ ہم بحثیت قوم ان ظالموں کی بات کو رد کرتے ہیں۔ اور ہم دین کے علماء بطور ذمہ دار عالم اس طریق اور اس استدلال کا رد کرتے ہیں۔اب وقت ہے کہ ہم رفع یدین اور آمین بالجہر کے مسائل کو کچھ دیر کے لئے اٹھا رکھیں۔ کیونکہ شیعہ کی امام بارگارہیں اور آپکی مساجد انکے نزدیک مرتدین کی اجتماع گاہوں سے زیادہ اہمیت نہی رکھتیں۔اور آپکے ادارے اب دشمنان اسلام کے ادارے ہیں۔

اب علماء کو آگے آنا چاہیے، اب وقت ہے کہ مولانا سمیع الحق سامنے آئیں اور حق ادا کریں۔ اب قوم کو یک زبان ہونا ہوگا، وگرنہ اسی تذذب کا فائدہ وہ پھر اٹھائینگے۔ کیونکہ اب بھی کہیں نہ کہیں اس قوم کے ایک طبقہ کو لگتا ہے کہ یہ لوگ صحیح کر رہے ہیں اور انکے مقاصد بڑے پاک اور صاف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان ظالموں کو ہماری صفوں میں غدار اور سہولت کار تلاشنے میں دیر نہی لگتی۔ کیونکہ ڈھال اسی بیانیہ کو بنایا جا رہا ہے جسے ہم نے اپنے ہاتھوں سے چند سال قبل ترتیب دیا تھا۔

یہ جنگ اب گولیوں اور ٹینکوں کی جنگ نہی جوابی بیانیے کی جنگ ہے۔ اور اسے اسی سطح پر لڑ کر ہی کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں وگرنہ، آپ کمر توڑینگے وہ رینگ کر آپکا جسم اڑا دینگے اور اسکا احساس انہوں نے ایک بار پھرملک کے بڑے حصوں کو پے در پے نشانہ بنا کر دلایا ہے کہ ابھی تک تو ہم انکی ہوا کو بھی نہی چھو پائے۔ یہ ایک کھلا چیلنج ہے، اسے ٹھنڈے دماغ سے قبولنا ہوگا، کیونکہ قوم وہ زبان نہی بول رہی جو اسے بولنا چاہیے۔ اب ہمیں بولنا ہوگا، رد کرنا ہوگا، وگرنہ مذمت تو ہم کر ہی رہے ہیں۔

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *