روئیت ہلال اور ایک نئی ٹرک کی بتی۔۔۔۔محمد احسین سمیع

وفاقی وزیر فواد چوہدری کی طرف سے قمری کلینڈر کا شوشہ محض قوم کی توجہ دیگر اہم مسائل سے ہٹانے کا ایک حربہ ہے۔ گویا یہ ایک نئی ٹرک کی بتی ہے جس کے ذریعے قوم ایک متفق علیہ شرعی مسئلہ کے بارے میں غیر ضروری الجھاؤ کا شکار کیا جارہا ہے۔ ملک میں دو عیدوں کا منایا جانا کسی طور بھی شرعی مسئلہ میں نعوذ باللہ کسی سقم کا نتیجہ نہیں۔ دنیا بھر میں، تمام ممالک کے مسلمانوں کا رمضان و عید کے تعین کے لئے بصری روئیت کے اہتمام پر اجماع ہے اور کہیں بھی محض کیلنڈر کی بنیاد پر رمضان و عید کا فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ سو ہماری سمجھ سے یہ بات بالاتر ہے کہ ایک اجماعی مسئلے کو آخر کیوں تشکیک کا شکار کیا جارہا ہے۔ وطن عزیر میں دو مختلف ایام پر عید منایا جانا سراسر حکومتوں کی انتظامی ناکامی کا مظہر ہے۔ یہ حکومت کی کمزوری ہے کہ وہ اپنی ہی مقرر کردہ کمیٹی کے فیصلے کو ملک بھر نافذ کروانے میں ناکام رہتی ہے، اور حسب معمول نزلہ علی الاطلاق دین اور مولویوں پر گرا کر اپنا دامن جھاڑ لیا جاتا ہے۔

یہ قمری کلینڈرز بھی کوئی آج کی ایجاد نہیں، کئی دہائیوں سے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ موجود ہیں۔ اور کوئی نہیں تو سعودی عرب میں مستعمل ام القریٰ والوں کا کلینڈر تو انتہائی معروف ہے، تاہم یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ بسا اوقات اس کلینڈر کے مطابق امکان روئیت موجود ہوتا ہے مگر بصری روئیت کسی دوسری وجہ سے ممکن نہیں ہوپاتی۔ سو فواد چوہدری صاحب کی جانب سے اس نام نہاد قمری کلینڈر کا اجراء محض پہیے کو دوبارہ ایجاد کرنے کے مترادف ہے۔ اسی طرح وہ فلک پر چاند کی موجودہ پوزیشن جاننے کے حوالے سے لانچ کی گئی ویب سائٹ اور موبائل ایپ کو بھی اپنا کوئی بہت ہی انقلابی قدم سمجھ رہے ہیں جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اس طرح کی ایپس گزشتہ کئی سالوں سے اینڈرائیڈ پلے اسٹور پر موجود ہیں جو کہ نا صرف چاند بلکہ رات کے آسمان پر نظر آنے والے تمام فلکیاتی اجسام کی درست پوزیشن بتا دیتی ہیں، آپ کو صرف موبائل فون کا رخ اس سمت کرنا ہوتا ہے۔

جب ان لوگوں کے سامنے شرعی مسئلہ بیان کیا جاتا ہے تو یہ فورا ًنماز اور گھڑی کے استعمال کا طعنہ مارنا شروع کردیتے ہیں کہ جب نماز کے اوقات کے تعین کے لئے گھڑی یعنی کے سائنس استعمال کررہے ہو تو چاند کے معاملے کیا قباحت ہے۔ یہ سطحی قسم کا اعتراض محض شرعی دلائل کی تفصیل سے ناواقفی کا شاخسانہ ہے۔ احادیث مبارکہ میں جہاں بھی نماز کے اوقات کے تعین کا ذکر ہوا ہے وہاں نبی کریم ﷺ نے انہیں بصری روئیت پر موقوف نہیں فرمایا ہے، بلکہ دن میں اوقات صلوٰۃ کو فلک پر سورج کی پوزیشن اور رات میں ساعتوں کے گزرنے سے متعین فرمایا ہے اور مزید یہ کہ بصری روئیت ممکن نہ ہونے کی صورت میں فلک پر سورج کے حالیہ پوزیشن کو اندازے متعین کرنے کی ترغیب بھی فرمائی ہے۔ دوسری جانب رمضان اور عید کے تعین کے لئے آنحضرت ﷺ نے صراحتاً روئیت بصری کا حکم فرمایا ہے اور روئیت بصری ممکن نہ ہونے کی صورت میں ۳۰ روزے پورے کرنے کا حکم دیا ہے۔ گویا یہاں فلک پر چاند کی ممکنہ پوزیشن کے معلوم کرنے کے لئے کوئی اندازہ قائم کرنے کے بجائے تاکید کی گئی ہے کہ رواں مہینے میں ایک دن مزید بڑھا کر ۳۰ کی گنتی پوری کرو۔

دنیا میں جتنے بھی ’’قمری کلینڈر‘‘ اس وقت مہیا ہیں وہ زمین، چاند اور سورج کے آربیٹل موشن کی بنیاد پر آنے والے دنوں میں امکان روئیت کی پیش گوئی کرتے ہیں، اور اگر کوئی دیگر امر مانع نہ ہو تو یہ پیش گوئیاں کافی حد تک درست بھی ہو سکتی ہیں۔ تاہم روئیت بصری کے لئے صرف اتنا کافی نہیں ہے۔ دنیا کا کوئی قمری کلینڈر آپ کو یہ نہیں بتا سکتا کہ فلک پر چاند نظر آنے کی پوزیشن میں ہونے کے باوجود بھی کیا بصری طور پر نظر آسکے گا یا نہیں۔ بالفرض چاند کی پوزیشن تو درست ہے مگر مطلع شدید ابرآلود ہے یا افق پر شدید گرد و غبار موجود ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ایسی صورتحال میں ہمیں حدیث مبارکہ سے یہی ہدایت ملتی ہے کہ اٹکل سے کام لینے کے بجائے ۳۰ کی گنتی پوری کی جائے۔

ملک میں رائج روئیت ہلال کے نظام کو اگر دیکھا جائے تو مرکزی روئیت ہلال کمیٹی پہلے ہی ہر ممکن حد تک سائنس اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہے۔ مطلع پر چاند کی پوزیشن کے حوالے سے سپارکو اور محکمہ موسمیات سے مدد لی جاتی ہے اور وہی دوربینوں کا رخ متعین کرتے ہیں۔ اسی طرح ملک کے دیگر علاقوں سے موصول ہونے والی شہادتوں کی جانچ بھی مذکورہ محکموں کی جانب سے فراہم کردہ تکنیکی معلومات کی روشنی میں کی جاتی ہے سو یہ الزام ہی قطعاً غلط ہے کہ مولوی سائنس دشمنی میں قمری کلینڈر کا استعمال نہیں کرتے۔ درست بات یہ ہے کہ شریعت نے جس معاملے میں جتنی گنجائش دی ہے اتنی ہی دیگر ذرائع کی معاونت لی جاسکتی ہے۔ اوقات نماز کے تعین کے لئے شریعت نے اجازت دی بلاواسطہ مشاہدہ ممکن نہ ہونے کی صورت میں اندازے سے کام لیا جائے تو اس رخصت کے تحت سائنس کا استعمال کرکے اوقات نماز کے دائمی کیلنڈر عشروں پہلے ہی بنا کر رائج کر دیئے گئے۔ روئیت ہلال کے معاملے میں شریعت نے یہ رخصت نہیں دی تو اس وجہ سے علماء پر سائنس دشمنی کا الزام نہیں دھرا جاسکتا۔

دوسری طرف اگر سائنس کو ہی معیار بنانا ہے، تو یہ بات واضح ہے کہ مرکزی روئیت ہلال کمیٹی اعلان ہی عموماً سائنسی اعتبار سے درست ہوتا ہے، مشاہدے سے یہ بات ثابت ہے، جبکہ مسجد قاسم خان والوں کے اعلان کی سائنسی پیش گوئیوں سے تائید نہیں ہوتی۔ ایسے میں وزیر موصوف کی جانب سے مرکزی کمیٹی کو للکارے جانے کی سوائے علماء سے بغض کے اور کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔ یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ مرکزی روئیت ہلال کمیٹی بہرحال حکومت پاکستان کا نمائند ادارہ ہے۔ بجائے اس کے کہ اپنے نمائندہ ادارے کے فیصلوں کا نفاذ کروایا جائے، یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ مزید یہ کہ اگر آپ مسجد قاسم خان والوں سے ابھی اپنی ہی مرکزی کمیٹی کا فیصلہ تسلیم نہیں کروا پا رہے تو محض کلینڈر کے اجراء سے کیسے ان کو ہمنوا بنا کر ایک ہی دن عید منانے پر قائل کرلیں گے؟ اگر تو آپ کا جواب یہ ہے کہ کلینڈر رائج ہونے کے بعد اسے نا ماننے والوں سے جبراً یہ فیصلہ منوایا جائے گا تو بھائی ابھی ایسا کرنے سے آپ کو کون سا امر مانع ہے؟ جو آپ کرنا چاہتے ہیں اس سے دو عیدوں کا مسئلہ تو خیر کیا حل ہوگا، گلی گلی مزید نجی روئیت ہلال کمیٹیاں بن جائیں گی اور ساری اجتماعیت خاک میں مل کر رہ جائے گی۔ ویسے مذہب کے حوالے سے موصوف کے جو خیالات ماضی میں رہے ہیں، لگتا یہی ہے کہ جناب اصل مقصد بھی شاید یہی ہو!

حقیقت یہ ہے کہ فواد چوہدری جیسے لوگوں کی مذہب سے دلچسپی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور انہوں نے اپنی گھٹیا سیاست کی طرح دین کو بھی کھیل تماشہ سمجھا ہوا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وزرات سائنس و ٹیکنالوجی کے پاس اور کوئی کام نہیں ہے۔ ملکی جامعات میں فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث تحقیقاتی کام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے، اس جانب ان کی کوئی توجہ نہیں، اور شنید یہ ہے کہ آئندہ برس کے بجٹ میں جامعات اور اعلی تعلیمی اخراجات کی مزید قطع و برید کی جائے گی جس ملک میں سائنسی تحقیق کا کام عملاً مفلوج ہوکر رہ جائے گا۔ اس سنگین مسئلے کی جانب وزیر موصوف کی جانب سے کوئی بیان نہیں داغا جاتا۔ ویسے سستی شہرت کے متلاشی ایک سیاسی نوسر باز سے اور توقع بھی کیا رکھی جاسکتی ہے۔

محمد احسن سمیع
محمد احسن سمیع
جانتے تو ہو تم احسنؔ کو، مگر۔۔۔۔یارو راحلؔ کی کہانی اور ہے! https://facebook.com/dayaarerahil

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *