اُٹھا لیا، اُٹھا لیا۔۔اعظم معراج

پاکستان کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں استعمال ہونے والے ایسے دو لفظ جنہوں نے اسٹیٹ ایجنٹس حضرات و پاکستانی معاشرے پر ایسے انمٹ نقوش چھوڑے کہ  نسلیں یاد کریں گی ۔ ان دو لفظوں کے عملی استعمال نے کئی لوگوں کو ککھ سے لکھ۔۔لکھ سے کروڑ ۔۔کروڑ سے ارب اور ارب سے کھرب پتی بنا دیا۔ اور جنہوں نے بندے اٹھا اٹھا کر امریکہ کو پیش کیے، ان کی کامیابیاں اس میں شامل نہیں۔لیکن وہ بھی تاریخ ہے۔ میری ذات پر بھی ان دو حروف نے اثرات مرتب کیے، کیونکہ یہ تحریر میری زندگی کی پہلی تحریر تھی۔جوکلفٹں ٹائمز میں 19اپریل 1998 کو چھپی۔ جس نے مجھے لکھنے کی چاٹ (پنجابی والی چاٹ)پر لگایا۔اور میں نے سیروں کے حساب سے ردی جمع کی۔
یہ تحریر میری پہلی کتاب “میں تو اسٹیٹ ایجنٹ ہوگیا “میں بھی چھپی تھی۔ پھر جب اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن کی بجائے اضافے کے ساتھ “پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار” کے نام سے چھپا تو یہ مضمون اس کتاب کا بھی حصہ تھا۔اسی طرح جب باقی رئیل اسٹیٹ کی دو کتب”رئیل اسٹیٹ مینجمنٹ نظری و عملی “،”اسٹیٹ ایجنٹ کا کتھارسس  “سمیت چاروں کتب کا مجموعہ جو اب اشاعت کے آخری مراحل میں ہے۔اس کتاب” پاکستان رئیل اسٹیٹ مارکیٹ (ماضی ،حال و مستقبل) میں بھی یہ مضمون شامل ہوگا۔ پڑھیںِ اور رائے دیں!

اُٹھالیا، اُٹھالیا!

tripako tours pakistan

اٹھالیا اٹھالیا، دوستو یہ نعرہ ہماری رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں عام ہے اور ہم میں سے اکثریت کے کانوں میں اکثر گونجتا ہے۔ آئیں دیکھیں اس کی شروعات کہاں سے ہوتی ہے۔ جب بھی کوئی شخص جائیداد بیچنے کے لئے نکلتا ہے، تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی ضرورت یا آگے کوئی بہتر سرمایہ کاری کا منصوبہ ہوتا ہے، یا وہ جائیداد بیچ کر اپنی ضرورت پوری کرلے گا ، یا یہاں سے اپنا سرمایہ نکال کر کسی بہتر منصوبے میں سرمایہ کاری کردے گا۔ جب وہ جائیداد بیچنے کے لئے کہتا ہے تو کچھ اسٹیٹ ایجنٹ اپنے کلائنٹ کو ا س پلاٹ کی خوبیاں بتاتے ہیں اور لینے کے لیے  مائل کرتے ہیں۔ جو کہ اسٹیٹ ایجنٹ کا اصل کام ہے۔ اسٹیٹ ایجنٹ یہ جائیداد اپنے کسی کلائنٹ کو بہتر Investmentکے لئے لے دیتا اور پُرسکون ماحول میں transaction مکمل ہو جاتی ہے۔ اور اسٹیٹ ایجنٹ اپنی feeعزت و احترام کے ساتھ لے لیتا ہے۔ اس پُرسکون عمل سے دونوں ایک دوسرے کے مشکور ہوتے ہیں۔ اور اگر کلائنٹ کو فائدہ ہوتا ہے تو وہ بھی اپنے اسٹیٹ ایجنٹ کی عزت ایک اچھے Investment Consultantکے طور پر کرتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس جب ایک دوسری طرز کا Investor طبقہ ہے، جو مختلف اسٹیٹ ایجنٹ سے مارکیٹ Trendاور Future Speculationsکے بارے میں سنتا ہے تو یہ اس ضرورت مند مالکِ پلاٹ سے ملتا ہے۔ اور مثال کے طور پر پچاس لاکھ قیمت طے کرکے ایک لاکھ Advanceدے دیتا ہے اور بیس سے تیس دن تک کا ادائیگی کا وقت لے لیتا ہے۔ اور اب رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں یہ نعرہ گونجنے لگتا ہے ، کہ فلاں Investorصاحب نے فلاں پلاٹ اٹھالیا  ہے۔
اب یہ Investorاس پلاٹ کو Advanceپر Profitمیں بیچنے کی کوشش کرتا ہے، اگر بک جائے تو بہت اچھا، لیکن مشکل یہ ہوتی ہے کہ ا س معاملے کی بنیاد ہی جھوٹ اور لالچ پر ہوتی ہے کیوں کہ ان صاحب کے پاس Balanceرقم ہوتی ہی نہیں۔ اب تصویر کا دوسرا رخ یہ ہوتا ہے کہ وہ صاحب جو اشد ضرورت کے تحت پلاٹ بیچ چکے ہوتے ہیں اور اپنی ضرورت کے مطابق آگے منصوبہ بندی کرچکے ہوتے ہیں۔ جب ان کو بیس یا تیس دن کے بعد بقایا 49لاکھ نہیں ملتے تو اس کی کیا حالت ہوتی ہے، ساری منصوبہ بندی غارت ہوجاتی ہے اور وہ ایک ذہنی انتشار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اب وہ شخص کبھی اپنے اسٹیٹ ایجنٹ سے لڑتا ہے تو کبھی ان Investorصاحب کو برا بھلا کہتا ہے کیوں کہ اب ان کا پلاٹ 50لاکھ میں بک بھی نہیں رہا۔ اور ایک مہینہ بھی ضائع ہوچکا ہوتا ہے۔ لہٰذا وہی کام جو بڑے اچھے ماحول میں شروع ہوا تھا بدمزگی پر ختم ہوجاتا ہے۔ اسٹیٹ ایجنٹ، بیچنے والا، حتی کہ Investorبھی نقصان میں ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ نقصان ان صاحب کو ہوتا ہے جو کہ کسی اشد ضرورت کے تحت پلاٹ بیچتے ہیں۔ وہ اپنی اور اپنے اسٹیٹ ایجنٹ کی لاعلمی کی وجہ سے ایک ایسے جوئے میں شامل ہوجاتے ہیں جس میں وہ جیت کر بھی (اگر انھوں نے ایڈوانس ضبط کرلیا ہو) ہار جاتے ہیں۔ اسٹیٹ ایجنٹ کے نقصانات ایسی صورت میں بے حساب ہوتے ہیں مثلاً ان Investorصاحب کا دباؤ کہ ادائیگی کا وقت اور لے کردے، بیچنے والے کا دبا ؤ کہ Paymentجلدی کرائے اس ساری صورت حال میں اسٹیٹ ایجنٹ اپنے ٹائم اور پیسے کا نقصان اور دوسرے کئی کاموں کا حرج کر رہا ہوتا ہے۔

مندرجہ بالا مختصر مدت سرمایہ کاری (Short-term Investment) کرنا یا کروانا کوئی بُری بات نہیں، بشرطیکہ آپ اپنے خریدار کو Transaction کے مکمل کرنے کے لیے  ذہنی طور پر تیار کرلیں کہ آپ کو بقایا رقم یا (Balance Payment)کا انتظام رکھنا ہوتا ہے اور مارکیٹ کا رجحان Trend اگر نیچے کی طرف (Downward)ہے تو بھی رقم (Payment)کے لئے تیار رہیں۔ ایسی صورت میں آپ کا وقار آپ کے دونوں Clientsکی نظر میں بڑھے گا اور آپ سکون کے ساتھ زیادہ بہتر طور پر اپنے کاروبار، اپنی ذات، اور اپنے ادارے کے لیے  کام کرسکیں گے۔

Advertisements
merkit.pk

تعارف:اعظم معراج کا تعلق رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے ہے۔ وہ ایک فکری تحریک تحریک شناخت کے بانی رضا  کار اور 18کتب کے مصنف ہیں۔جن میں “رئیل سٹیٹ مینجمنٹ نظری و عملی”،پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار”،دھرتی جائے کیوں پرائے”پاکستان کے مسیحی معمار”شان سبزو سفید”“کئی خط اک متن” اور “شناخت نامہ”نمایاں ہیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply