عمیر اقبال کی تحاریر
عمیر اقبال
ابھی تعارف کے قابل نہیں ہوئے

سوشل میڈیا، تین چہرے اور دوغلہ پن۔۔۔عمیر اقبال

کہتے ہیں ایک انسان کے تین چہرے ہوتے ہیں ایک جو وہ اپنے گھر والوں کو دکھاتا ہے، دوسرا وہ اپنے دوست احباب کو دکھاتا ہے، تیسرا وہ چہرہ جو وہ کسی کو نہیں دکھاتا اور یہی اس کا اصلی←  مزید پڑھیے

آج کا مسلمان اور ہیروئنچی۔۔۔۔عمیر اقبال

شہر کے معروف پوش علاقے میں ایک ہیروئنچی گاڑی کی بیٹری چوری کرتا ہوا پکڑا گیا۔ گاڑی میں اس قدر اطمینان سے بیٹھا تھا کہ یوں لگ رہا تھا کوئی مکینک کار کی مرمت کررہا ہو۔ ساتھ والے گھر کو←  مزید پڑھیے

آزادی اک نعمت ہے اس کی قدر کیجیے۔۔۔۔عمیر اقبال

14،اگست 1947، دنیاء  تاریخ کا وہ دن جب مسلمانوں کی عظیم وفلاحی ریاست پاکستان کو اللہ قادر وقدیر نے وجود بخشا دریائے راوی ستلج جہلم چناب سندھ ان  پنجاب کی دندناتی موجیں اِنسانیت کٹے پِٹے چھلنی و جلے ہوئے لاشوں←  مزید پڑھیے

والدین کے لیے۔۔۔عمیر اقبال

بیٹے کی عمر بمشکل 6، 5 برس ہوگی اور وہ نرسری کلاس کا طالب علم لگتا تھا۔ باپ اپنے بچے کو اپنی کلاس میں فیل ہونے کی وجہ سے اسکول سے واپسی پر بری طرح ڈانٹ رہا تھا ۔اس سرزنش←  مزید پڑھیے

یہ مزدور کا عالمی دن نہیں۔۔۔ عمیر اقبال

 فیس بُک کھلتے ہی ہر جگہ مزدور مزدور کے اسٹیٹس دیکھ کر آنکھ و دل دونوں ہی اس مزدور کے لیے اشک بار ہوگئے جو صبح کے اندھیرے میں ہی روز مرہ کی طرح آج بھی اس ” مزدور ڈے←  مزید پڑھیے

پردہ کہاں چلا گیا!

جہاں اسلامی معاشرے میں عورت کے حقوق کی بات کی جائے تو وہاں عورت کے ساتھ پردے کو بهی لازم سمجها جائے کیونکہ ایک اسلامی معاشرہ عورت کے جو بنیادی حقوق بتاتا ہے شاید ہی کوئی دوسرا معاشرہ ایسے بنیادی←  مزید پڑھیے

پچاس لاکھ کی گاڑی اور 10 روپے کا سوال

صاحب جی 10 روپے دے دو روٹی کھانی ہے۔ سگنل بند ہوتے ہی وہ شیشے کی جانب لپکی، اسٹاپ پر کھڑی زمانے کی گرد کو اپنے چہرے پر سجائے اس لڑکی نے انگلی اپنے رب کی طرف اٹھاتے ہوئے بابو←  مزید پڑھیے

روناکس کس پر..؟؟

ابھی ابھی ایک دوست نے پیچھے سے آواز لگائی اور سلام کے بعد کہنے لگے: کیسے ہو بھائی، کہاں گم رہتے ہو، دکھائی ہی نہیں دیتے۔ پہلے تو مذاقاً عرض گزار ہوئے کہ جناب ہوں گے تو دکھائی دیں گے←  مزید پڑھیے

نہ باپ بڑا نہ بهیا سب سے بڑا روپیہ

نہ باپ بڑا نہ بهیا سب سے بڑا روپیہ عمیر اقبال سلام ہے حکومتِ پاکستان کو اس کی جی حضوری پر۔ میرے بس میں ہو تو میں اس حکومت کو ٢١ توپوں کی سلامی پیش کروں۔ افراط و تفریط کی←  مزید پڑھیے

میرے پیارے پڑوسی بابا

ہنستے مسکراتے میرے پڑوسی بابا انتہائی بردبار ، بااخلاق ، خوش طبع ، نور مجسم ، صوم صلواة کے پابند اور بچوں پر انتہائ درجے کی شفقت کرنے والے، میں اور مجھ سمیت اطراف کے تمام پڑوسیوں سے جو انکا←  مزید پڑھیے

وہ تھپکی یاد آتی ہے

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا واللہ اس حادثے کے بعد ان آنکھوں نے دو جهوٹے اشک بہائے نہ خود پر سوگ کی کیفیت طاری کی۔ یہ حادثہ←  مزید پڑھیے

دو رخ

ایک بیس بائیس سالہ شناسا طالب علم کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، لیکن اب عالم یہ ہے کہ کتابیں ایک طرف رکھ کر فاقوں سے بچنے کے لیے مجبورا ملازمت اختیار کرنا پڑی۔ مگر پھر بھی حالات اتنے←  مزید پڑھیے

مکالمہ ایک حسین وادی

مکالمہ" کی مثال اس حسین وادی کی طرح ہے جہاں بہت سے لوگ سیاحت کی غرض سے آتے ہیں۔ کچھ تو بس آئے گئے سے ہوتے ہیں اور کچھ اس وادی کی خوبصورتی میں کھو کر یہیں کے ہو رہتے←  مزید پڑھیے

دلیروں کی یاد میں چند آنسو

میں ہر مذہب اور مسلک کا جی جان سے احترام سے کرتا ہوں۔ تاہم مجھے اللہ تعالیٰ سے جس دین پر پیدا کیا ہے اس کی مکمل پاسداری کرتا ہوں۔ آزادی اظہار رائے کا نہ صرف حامی ہوں بلکہ اس←  مزید پڑھیے

مصیبتیں اور ہم۔۔ عمیر اقبال

دنيا ميں کون ايسا انسان ہے جسے تکليف نہ آتی ہو. جسے رنج وغم لاحق نہ ہوتا ہو. جو پریشانیوں اور مصائب میں گھرا ہوا نا ہو؟ يہ تو دنيا کی ريت ہے. يہاں رہنا ہے تو کبھی خوشی تو←  مزید پڑھیے

دوغلے لوگ—- عمیر اقبال

کہتے ہیں ایک انسان کے تین چہرے ہوتے ہیں ایک جو وہ اپنے گھر والوں کو دکھاتا ہے، دوسرا وہ اپنے دوست احباب کو دکھاتا ہے، تیسرا وہ چہرہ جو وہ کسی کو نہیں دکھاتا اور یہی اس کا اصلی←  مزید پڑھیے