یہ یومِ محبت نہیں۔۔عمیر اقبال

نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال قبل اللہ کے عطا کردہ علم کی روشنی میں آنے والے ایام کے بارے میں جو پیشنگوئیاں کیں تھیں وقتاً فوقتاً ان کا ظہور ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کے حکم سے قیامت برپا ہو جائے گی ، موجودہ دور میں امت ِ مسلمہ میں جو فتنے پیدا ہو رہے ہیں اور جو مستقبل قریب اور بعید میں جنم لیں گے ان کے متعلق آقائے نامدار ﷺ نے اپنے اصحاب رضوان اللہ علیہم کو آگاہ فرما دیا تھا ، آنے والے فتنوں کے بارے میں وارد بے شمار احادیث میں سے ایک حدیث کا مفہوم یہ بھی ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ میری امت کے گروہ اللہ کے شمنوں (یہود و نصاریٰ ) کی پیروی کرتے ہوئے ان کے طریقوں کو اپنا لیں گے ۔

دشمنان اسلام کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ مسلمان جب تک قرآن اور سنت سے جڑے ہوئے ہیں ان کو شکست دینا ممکن نہیں ہے ۔ اس محاذ پر انہوں نے ہمیشہ منہ کی کھائی ہے اور کھاتے رہیں گے ۔

انہوں نے روایتی جنگ کے ساتھ ثقافتی جنگ بھی مسلمانوں پر مسلط کر دی اور اس کے لیے کروڑوں اربوں ڈالر مختص کر کے جدید وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی مادر پدر آزاد ثقافت ، مذہبی تہواروں اور عبادات کو زیب و زینت کا لبادہ اوڑھا کر مسلم ممالک میں منتقل کر دیا اور ذرائع ابلاغ ، سیٹلائٹ چینلز اور انٹرنیٹ کے ذریعے مسلم معاشرے میں اپنی عریاں ثقافت کا طوفان کھڑا کر دیا رہی سہی کسر ان مسلم ممالک کے ٹی وی چینلز نے اس طرح پوری کر دی کہ ان اسلام دشمن ممالک کے پروگرام اپنے ممالک میں عام کر کے ہر دیکھنے والے کی ان تک رسائی کو آسان کر دیا ۔ ویلنٹائن ڈے کی مناسبت سے خصوصی پروگرام تیار کیے گئے ۔ تجارتی کمپنیوں نے اپنا منافع بڑھانے کی غرض سے ان چینلز پر اس مناسبت سے اشتہارات کی بھر مار کر دی اور ویلنٹائن ڈے کو یوم محبت کے طور پر فروغ دیا ۔ نوجوانوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ یہ محبت کرنے والوں کے لیے ایک ایسا دن ہے جس میں وہ اس ہستی کو تحفے ، کارڈز اور گلاب کے پھول پیش کر کے اپنی محبت اور چاہت کا اظہار کر سکتے ہیں جس سے وہ محبت کرتے ہیں ۔

لوگ ’’ ویلنٹائن ڈے‘‘ کے تاریخی پس منظر کو بتانے کیلئے بہت سی بدبودار کہانیاں نقل کرتے ہیں ۔ میرا قلم اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ باتیں میں یہاں لکھوں لیکن اتنا تو میں ضرور کہنا چاہوں  گا کہ جس نے بھی اس دن کو ’’یوم محبت‘‘ کا نام دیا ہے ‘ اس نے زبان و ادب پر ہی نہیں ‘ انسانیت پر بھی بہت بڑا ظلم کیا ہے ۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس مکر و فریب کا سب سے زیادہ نشانہ صنف ِ نازک بنی ۔ محبت کے نام پر اس کو ورغلایا گیا ۔ محبت کے عنوان سے اُسے بے آبرو کیا گیا اور محبت کے نام پر اس کے تقدس کی دھجیاں اڑائی گئیں لیکن یہ عورت سمجھتی رہی کہ شاید یہی میری عزت ہے ‘ یہی میرا کمال ہے اور اسی میں میری کامیابی ہے ۔

وہ عورت جسے اسلام نے نئی زندگی سے روشناس کروایا تھا ۔ عزت اور حیاء کی زندگی ، پاکیزگی اور کمال کی زندگی ، وقار اور باکردار زندگی ۔ لیکن جب یورپ نے اسے صرف ’’سراب‘‘ دکھایا ‘ جسے مسافر دور سے دیکھ کر پانی سمجھتا ہے اور پھر اس کی طلب میں دوڑ پڑتا ہے لیکن سراب صرف ایک سایہ اور فریب ہوتا ہے ۔ مسافر دوڑتے دوڑتے جان کی بازی ہار دیتا ہے لیکن کبھی اسے پانی نہیں ملتا ۔ یہ عورت یورپ کے دکھائے ہوئے سراب کے پیچھے ایسی دوڑی کہ سب کچھ ہی بھلا بیٹھی ۔

آج پاکستان میں جو خواتین اپنے لیے یورپ جیسے حقوق اور مغربی دنیا جیسی آزادی مانگتی ہیں ، کیا وہ بھول چکی ہیں کہ اسلام نے عورت کو کیا کچھ دیا تھا ؟ اور یورپ نے اس سے کیا کچھ لے لیا ہے؟ اسلام نے تو اس صنف ِ نازک کو ماں‘ بہن‘ بیوی اور بیٹی کا تقدس اور بلندی عطا کی تھی لیکن یورپ نے اسے سیلزگرل اور گرل فرینڈ کی ذلت اور پستی میں دھکیل دیا ۔

مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ؒ نے اپنی کتاب ’’کاروانِ مدینہ‘‘ میں خواتینِ اسلام کی طرف سے جو ہدیۂ تشکر ،بارگاہِ رسالت میں پیش کیا ہے ‘ وہ مغرب کی فریب زدہ مسلمان عورتوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں:

ہم آپ پر درود و سلام بھیجتی ہیں ۔ اے اللہ کے رسول! ایسے طبقے کا درود و سلام جس پر آپ کا بڑا احسان ہے ۔ آپ نے ہمیں خدا کی مدد سے ‘ جاہلیت کی بیڑیوں اور بندشوں‘ جاہلی عادات وروایات ‘ سوسائٹی کے ظلم اور مردوں کی زور دستی اور زیادتی سے نجات بخشی ۔ لڑکیوں کے زندہ درگور کرنے کے رواج کو ختم کیا ۔ ماؤں کی نافرمانی پر وعید سنائی ۔ آپ نے فرمایا کہ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے ۔ آپ نے وراثت میں ہم کو شریک کیا اور اس میں ماں‘ بہن ‘ بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے ہم کو حصہ دلایا ۔ یوم عرفہ کے مشہور خطبہ میں بھی آپ نے ہمیں فراموش نہیں کیا اور فرمایا :

’’ عورتوں کے بارے میں خدا سے ڈرو ۔ اس لیے کہ تم نے ان کو اللہ کے نام کے واسطے سے حلال کیا ہے‘‘۔

اس کے علاوہ بھی مختلف مواقع پر آپ نے مردوں کو عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک ، ادائیگی ء حقوق اور بہتر معاشرت کی ترغیب دی ۔

اللہ تعالیٰ آپ کو ہمارے طبقہ کی طرف سے وہ بہتر سے بہتر جزائے خیر دے ‘جو انبیاء و مرسلین اور اللہ کے نیک اور صالح بندوں کو دی جا سکتی ہے‘‘۔

یہ سچ ہے کہ آج وطن عزیز میں کئی جگہ عورت کو وہ مقام حاصل نہیں‘ جو مقام اسے قرآن وحدیث نے بخشا تھا ۔ کئی علاقوں میں قرآن مجید کے ساتھ شادی کے نام پر اسے عمر قید کی سزا دی جاتی ہے اور کئی مرتبہ درندگی کے ایسے واقعات بھی پیش آتے ہیں‘ جن کی وجہ سے ملک و ملت کی بد نامی ہوتی ہے لیکن اس سے بڑا سچ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی عورت کو جو عزت حاصل ہے ‘ وہ یورپ کی عورت کو شاید ایک ہزار سال بعد بھی نصیب نہ ہو ۔

آج بھی بہت سے گناہگار لوگ پرائی عورت کو دیکھ کر نگاہیں جھکالیتے ہیں ۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں احتراماً ان کیلئے نشست خالی کر دیتے ہیں ۔ ان کی موجودگی میں سگریٹ نہیں پیتے اور عزت و احترام سے بات کرتے ہیں ۔ آج بھی کئی لوگ اپنے گھر میں بیٹی پیدا ہونے پر شراب چھوڑ دیتے ہیں اور گناہوں کی زندگی سے تو بہ تائب ہو جاتے ہیں ۔ ہمارے ہاں آج بھی ’’بھائی‘‘ کا لفظ سن کر لوگوں کی آنکھوں میں شرم و حیا آجاتی ہے اور وہ اعلیٰ انسانی اقدار کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی ماں کے نافرمان کو برا سمجھا جاتا ہے اور عورت پر ہاتھ اٹھانے والے کو بزدل اور کمینہ ۔ جہیز کی جو لعنت ہمارے معاشرے پر مسلط ہے آج بھی اُس کے ناجائز تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے باپ کن کن آزمائشوں سے گزرتے ہیں ، یہ بھی ایک دکھ بھری داستان ہے ۔

یورپ کا مادر پدر معاشرہ کب کا ایسی دقیانوسی باتوں اور عادتوں سے محروم ہو چکا ہے ۔ صرف ایک عبرت انگیز واقعہ ملاحظہ فرمائیں:

مشہور عربی محلہ’ ’البحوث الاسلامیہ‘‘ کے چیف ایڈیٹر ، ڈاکٹر محمد بن سعد الشویعر نے لندن سے شائع ہونے والے عربی اخبار ’’المسلمون‘‘ میں بہت پہلے اپنے سفرِ امریکہ کا ایک روح فرسامشاہدہ تحریر کیا تھا ۔ وہ لکھتے ہیں:

’’ ۱۹۸۰ء میں سردیوں کے موسم میں ‘ اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ کلو راڈواسپرنگ میں مشرقی کھانوںکی تلاش میں گھوم رہا تھا ۔ سردی بہت شدید تھی اس لیے ہم جلدی جلدی چل رہے تھے ۔ راستے میں ہم نے ایک نوجوان لڑکی کو لب سڑک سردی سے کپکپاتے دیکھا ۔ وہ ہرگزرنے والے کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ ہمارے ایک دوست کو تجسس ہوا ۔ اس نے لڑکی کے قریب جا کر اس کا حال پوچھا تو پتہ چلا کہ بے چاری مجبوراً گھر سے نکلی ہے کیونکہ اس کا باپ اس سے مکان کا کرایہ اور ہفتہ وار اخراجات کی رقم مانگ رہا ہے ۔ لڑکی کی عمر چونکہ ۱۸ سال ہے ، اسی لیے قانونی طور پر اسے خود اپنی کفالت کرنی ہے ۔ اس لیے باپ اُسے مفت رہائش اور کھانے کی سہولت دینے سے انکار کر رہا ہے‘‘۔

پاکستان میں ہماری نئی نسل کو یورپ کی صرف خوبصورت تصویر دکھائی جاتی ہے اور وہاں کی تباہ کاریاں ان سے چھپائی جاتی ہیں ۔ اس خوفناک کوتاہی کا بھیانک انجام اب ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ۔ اگر وحیٔ الٰہی کی روشنی سے محروم اس معاشرے کی پوری تصویر سامنے رکھی جائے تو کوئی بھی شریف انسان ایک لمحے کیلئے بھی اسے قبول نہیں کر سکتا ۔

پاکستان کے ایک معروف صحافی پیرس گئے ۔ جہاں انہوں نے وہ اولڈ ہومز بھی دیکھے جہاں لوگ اپنے بوڑھے ماں باپ کو چھوڑ جاتے ہیں ۔ ایک جگہ اُن کی ملاقات ایک بابا جی سے ہوئی جنہوں نے ان سے پوچھا : ’’کیا تم لوگوں نے بھی بوڑھوں کیلئے اس طرح کے گھر بنائے ہوئے ہیں؟‘‘ بوڑھا ہنستے ہنستے اچانک خاموش ہوگیا اور اس نے کھڑکی سے باہر نگاہیں جماتے ہوئے پوچھا۔ باہر گھپ اندھیرا تھا اور بوڑھے درخت جھکی ہوئی ٹہنیوں کا بوجھ سنبھالنے ایک دوسرے کے سامنے ساکت کھڑے تھے۔

’’نہیں ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔ وہ شروع سے آخر تک ہمارے درمیان رہتے ہیں اور ہم ان کی خدمت کرتے ہوئے راحت محسوس کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسا نہیں کرتے، لیکن معاشرے میں انہیں بہرحال اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔‘‘

’’تم یقینا ً ہم سے زیادہ مہذب لوگ ہو۔‘‘ بوڑھے نے گلوگیر لہجے میں کہا۔ ’’تو کیا آپ کے بچے آپ سے ملنے کیلئے نہیں آتے؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’شروع شروع میں جب وہ ہمیں یہاں داخل کراتے ہیں تو ہر ویک اینڈ پر ملنے کیلئے آتے ہیں، اس کے بعد وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ گیپ ڈالنا شروع کردیتے ہیں، اور پھر ایک مہینہ کے بعد اپنی شکل دکھاتے ہیں۔ رفتہ رفتہ یہ عرصہ طویل ہوتا چلا جاتا ہے اور پھر ان سے صرف کرسمس کے موقع پر ملاقات ہوتی ہے۔ حتیٰ کہ ایک وقت آتا ہے کہ کرسمس پر ان کی بجائے ان کی طرف سے کرسمس کارڈ موصول ہوتا ہے اور پھر ایک دن اطلاع ملنے پر وہ میت وصول کرنے آجاتے ہیں، جس کی آنکھیں اپنے بیٹوں کے انتظار میں مرنے کے بعد بھی کھلی ہوتی ہیں۔‘‘

مجھے یوں لگا جسے کسی نے میرا کلیجہ مسل دیا ہو۔ میں یہ گفتگو آگے نہیں بڑھانا چاہتا تھا، لیکن بوڑھے نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:’’ہمیں گو یہاں ہر طرح کی سہولت اور آسائشیں حاصل ہیں، لیکن ہم اپنے بچوں کی شکلیں دیکھنے کو ترس جاتے ہیں۔ پہلے پالتو جانور رکھنے کی اجازت تھی، چنانچہ ہم لوگ بلیوں وغیرہ کو وہ محبت دے کر سکون حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے، جو ہمارے دلوں میں اپنی اولاد کیلئے ہے، لیکن اب انتظامیہ نے پالتو جانور رکھنے پر پابندی عائد کردی ہے۔ چنانچہ اب کئی مائیں یہاں رات کو اپنے ساتھ گڈیوں کو تھپکیاں دے دے کر سلاتی ہیں۔ ہم تمہیں ہنستے کھیلتے دکھائی دیتے ہیں، جب کہ ہمارے قہقہے کھوکھلے ہیں اور ہمارے سینوں میں چیخیں رکی ہوئی ہیں۔جب یہاں کسی کا کوئی ملاقاتی آتا ہے تو تھوڑی دیر کیلئے ہمارے چہروں پر رونق آجاتی ہے اور اس کے بعد ہم پھر غم کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتے ہیں۔‘‘اس لمحے مجھے بوڑھے کی آنکھوں میں ویرانیاں تیرتی نظر آئیں۔ اس نے اپنی کہنیاں میز پر ٹکاتے ہوئے میری طرف دیکھا اور کہا۔ ’’بیٹے اگر تم لوگ بھی صنعتی ترقی کے دور سے گزرو، تو اس کی نعمتوں سے ضرور بہرور ہونا، لیکن اس کیلئے ان نعمتوں کی قربانی نہ دینا جن کا کوئی بدل نہیں۔‘‘

یہ باتیں پڑھنے کے بعد ہر باشعور شخص یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کیا یہی وہ معاشرت اور طرزِ زندگی ہے ‘ جسے ہمارے وزیر اعظم ’’لبرل پاکستان‘‘ کے نام سے اور ہمارا میڈیا مختلف عنوانات سے ہم پر مسلط کرنا چاہتا ہے ۔

ویلنٹائن ڈے دنیا اسے محبت کا دن کہتی ہے لیکن درحقیقت یہ محبت جیسے پاکیزہ جذبہ کی بد ترین توہین ہے۔ بھلا کہاں محبت کا پاکیزہ اور پر خلوص جذبہ اور کہاں ہوش و عقل سے عاری ، غیرت و حمیت سے خالی ، حرص و ہوس کے مارے یہ ناپاک کرتوت۔ جیسے شراب کی بوتل پر روح افزاء کا لیبل لگا دینے سے وہ شربت نہیں بن جاتی اسی طرحی ہوسناکی کو ’’محبت ‘‘ کہہ دینے سے یہ گندے کام ‘ جائز نہیں ہو جاتے –

پوری دنیا میں چودہ فروری کو منایا جانے والا ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ بھی اسی مغربی ثقافت کا حصہ ہے ، جس کی بنیاد ہی بے شرمی اور بے حیائی پر رکھی گئی ہے ۔ یہ دن تو اس طرز زندگی کی نمائندگی کرتا ہے جس کا خمیر ہی ڈار ون کے نظریہ ارتقاء سے اٹھایا گیا ہے ۔ اس نظریہ کے مطابق چونکہ انسان اصل میں بند رتھا اس لیے اب بھی انسان کو جانوروں والے کا م کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور یہ اس کا بنیادی حق بھی ہے ، ان کی نظر میں شرم و حیاء غیرت و حمیت اب صرف ایسے الفاظ ہیں جن کا کوئی معنیٰ نہ ہو۔

اب ہر شخص فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی پاکیزہ تعلیمات پر چل کر انسان بننا چاہتا ہے یا مادر پدر آزادی حاصل کر کے ’’جانوروں‘‘ کے راستے پر چلنا چاہتا ہے ۔

اکبر الہ آبادی کیا خوب کہہ گئے:

آزاد سے دین کا گرفتار اچھا

شرمندہ ہو دل میں وہ گنہگار اچھا

ہر چند کہ اور بھی ہے اک خصلتِ بد
واللہ کہ بے حیاسے مکّار اچھا!

Avatar
عمیر اقبال
حقیقت کا متلاشی، سیاحت میرا شوق، فوٹوگرافی میرا مشغلہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *