میڈیائی ڈرامے اور آپکا کردار۔۔عمیر اقبال

حالیہ واقعات کی حمایت اور مخالفت میں لوگوں کی ایک کثیر تعداد دو گروہوں میں منقسم نظر آئی۔ نہ صرف کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا گیا، بلکہ سادہ لوح عوام آپس میں بھی گتھم گتھا نظر آئی۔ یہ مزید آگے بھی یونہی چلتا رہے گا۔ چند لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس معاملے پر کوئی رائے ظاہر نہیں کی۔ تاہم خاکسار کا  ایک خیا ل ہے، جس میں حمایت اور مخالفت دونوں کا عنصر نمایاں ہے۔ لیکن اس کا اظہار یہاں ضروری نہیں۔

جس بات کا اظہار یہاں ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر پیش کیا جانے والا موضوع چاہے جتنا بھی متنازع کیوں نہ ہو، تو تکار اور گالی گلوچ کا باعث اس وقت تک نہیں بنتا جب تک اس میں مداخلت کا عمل دخل نظر نہ آئے۔ گفتگو میں مسلسل لقمہ دیتے رہنا وہ سنگین مسئلہ ہے جو ایک معمولی سے  مسئلے کو بھی جنگ و جدل کا میدان بنا دیتا ہے۔

تاہم اس میں ہمارے لیے بھی ایک بہت بڑی سیکھ ہے۔ جو عمومی قاعدہ سے ہٹ کر ہے۔ وہ یہ کہ در اندازی سے گریزاں رہنے کا اصول ٹاک شوز میں ہی اچھا لگتا ہے۔ خدارا اس کو ٹاک شوز اور سوشل میڈیا تک ہی رہنے دیجیے۔ ان کو اس پلیٹ فارم  سے کھینچ کر شد و مد کے ساتھ اپنی زندگیوں میں شامل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسا کرنے سے زندگی کی سادگی، بے تکلفی اور اس کا فطری حسن ماند پڑ جائے گا۔ اور ہم ایک مشینی اور روبوٹک زندگی میں داخل ہوجائیں گے۔

البتہ جہاں تک بات میڈیا کی ہے تو ایسے موضوعات میڈیا کے لیے نا گزیر ہیں۔ یہ تنازعے اور تماشے ان کی روز کی ضرورت ہیں۔ انہی چٹ پٹے ایشوز سے ان کا گھر چلتا ہے۔ چنانچہ ہم یہ نہیں کہیں گے کہ ان کی روزی روٹی ان سے چھین لی جائے۔ لیکن ہم یہ بھی نہیں کہیں گے کہ آپ خود کو اس کیچڑ میں لت پت ہونے کے لیے چھوڑ دیں۔

اس قسم کے واقعات ہوتے تھے، ہوتے ہیں اور آگے بھی ہوتے رہیں گے،اور چند روز بعد زمانے کی دھول انہیں اُڑا کر کہیں بہت دور لے جائے گی۔ اتنا دور کہ ہمارے حافظوں میں ان کے نقوش تک باقی نہ رہیں گے۔ اس لیے آپس میں دست و گریبان ہونے کے بجائے اپنی ذاتی زندگی اور اپنے سے متعلقہ لوگوں کی زندگی کے بگڑے ہوئے معاملات بنانے پر توجہ دیجیے۔ ہم کامل نہیں ہیں۔ اصلاح نفس کے ہم سب محتاج ہیں۔ بزرگوں کی ملفوظات پڑھیے، تعمیری اور تفریحی کتب کا مطالعہ کیجیے۔ ہمارے ارد گرد بے شمار بھوکے موجود ہیں انہیں کھانا کھلائیے، کسی مریض کا علاج کروائیے، کسی کی تعلیم کا بوجھ اٹھا لیجیے، اور دوسروں کے کردار کا فیصلہ کرنے کے بجائے اپنے کردار پر ہمیشہ ناقدانہ نگاہ دوڑاتے رہیے۔

یقین کیجیے ان آفاقی اصولوں پر جس دن ہم عمل پیرا ہوگئے اس دن یہ زمانی اختلافات خود ہی دم توڑ جائیں گے۔ فطرت کے ان قوانین کی پاسداری ہمارے دین کا مطالبہ ہے اور انسانیت کا تقاضا بھی۔ اب آپ جس کے نام لیوا ہیں اس کے احکامات بجا لائیے۔

Avatar
عمیر اقبال
حقیقت کا متلاشی، سیاحت میرا شوق، فوٹوگرافی میرا مشغلہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *